Friday, December 9, 2022

                                   WAENING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#83

فیاتی علی القوم فید عوھم فیومنون بہ ویستجیبون لہ، فیامر السماء فتمطر والارض فتنبت،

پس آئے گا ایک قوم پر یعنی لوگوں پر پس انہیں دعوت دے گا پس وہ دعوت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کیساتھ یعنی الدجّال کیساتھ اپنے کام کریں گے اپنے اعمال انجام دیں گے اور جو حاصل ہو گا اس سے یعنی الدجّال سے اسے قبول کر رہے ہوں گے پس حکم دیا جائے گا الدجّال کیساتھ آسمان کو پس آسمان اس کے حکم سے
بارش برسائے گا اور زمین اس کے حکم سے اُگائے گی۔
اس کی دعوت کیا ہے ؟ اور دعوت کیسے دیتا ہے؟ اس کا ذکر الدجّال کے راس والی روایت میں گزر چکا اور اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے الدجّال کیساتھ ہی اپنے اعمال کو بھی انجام دیا جا رہا ہے اسی سے اگایا جا رہا ہے اسی سے ہر کام کیا جا رہا ہے اور جو کچھ اس کیساتھ کام کرنے سے حاصل ہو رہا ہے اسے قبول کیا جا رہا ہے اور جو اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں یعنی اللہ پر توکل کی بجائے ٹیکنالوجی پر توکل کرتے ہیں تو ان کے لیے آسمان کو کیسے حکم دیتا ہے بارش کا اور کیسے برستی
ہے اس کا جواب جاننے کے لیے آپ پرپہلے ایک بنیادی بات کھول کر واضح کرتے ہیں۔
اللہ قرآن میں بار بار اپنی آیات میں غورو فکر کرنے کا حکم دیتا ہے اور قرآن کھول کھول کر واضح کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کا سب اللہ کی آیات ہیں ان سب میں غوروفکر کرنے کا حکم دیا۔ جب تک آپ اللہ کی آیات میں یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے ان میں غورو فکر نہیں کریں گے تب تک آپ پر یہ واضح نہیں ہو گا کہ اگر الدجّال آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو کیسے دے گااور پھر جب آپ کے پاس علم نہیں ہو گا تو آپ کے لیے سوائے گمراہی کے اور کوئی رستہ نہیں ہو گا اور کوئی بھی راہنمائی کے لبادے میں راہزن آپ کو اپنی چرب زبانی کا شکار کرتے ہوئے گمراہیوں میں لے جائے گا۔
آپ لاکھ یہ دعوے کریں کہ ہم الدجّال کی غلامی نہیں کریں گے ہم اسے ربّ تسلیم نہیں کریں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے زبان سے لاکھ دعوؤں کے باوجود آپ اسے اپنا ربّ بنا چکے ہوں گے اس کی غلامی اختیار کر چکے ہوں گے اور آپ کو اس کا شعور تک بھی نہیں ہو گا اس کا علم بھی نہیں ہو گا، آپ کے لاکھ دعوؤں کے باوجود آپ میں ایمان کی رائی بھی نہیںہو گی اور آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہو گا الٹا آپ خود کو قوی مومن سمجھ رہے ہوں گے۔ علم نہ ہونے کی وجہ سے بے بنیاد اور باطل عقائد کو اپنے دماغ میں محفوظ رکھ کر نہ صرف خود گمراہ ہوں گے بلکہ دوسروں کی گمراہی کا بھی سبب بنیں گے۔ اس لیے اگرآپ چاہتے ہیں کہ ہم حقیقتاً ایسے مومن بنیںجیسا کہ مومن بننے کا حق ہے تو آپ کو اللہ کی آیات میں غورو فکر کرنا پڑے گا یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے ان میں اور اپنی ہی ذات میں غورو فکر کرنا ہو گا اور جب آپ آسمانوں و زمین میں اور جو کچھ بھی ان میں ہے اور اپنی ہی ذات میں غوروفکر کریں گے تو آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی کس کو کیسے حکم دیا جائے گا حکم دینے کا ذریعہ کیا ہوگا وغیرہ مثلاً جیسے کہ اگر انسان کو حکم دیا جاتا ہے تو انسان کو کوئی کام کرنے کا حکم کیسے دیا جائے گا؟
اس کے لیے جو بات کھل کر واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر انسان کو کسی کام کا حکم دینے کے لیے تین طریقے ہیں۔
۱۔ زبان سے حکم دینا یعنی آواز کی صورت میں۔
۲۔ لکھ کر حکم دینا۔
۳۔ اشارے کے ذریعے حکم دینا۔
ان کے علاوہ کوئی چوتھا ذریعہ ایسا نہیں کہ جو تمام انسانوں میں مشترک ہو۔ چوتھا یا اس سے بھی زائد ہو تو سکتے ہیں لیکن وہ صرف انہی کے لیے ہوں گے جن میں
وہ قابلیت ہو گی اور انہوں نے محنت سے وہ قابلیت حاصل کی ہو گی جیسے کہ اللہ کا قانون ہے۔
اب اگر آواز کی صورت میں یا لکھ کر کسی انسان کو کوئی حکم دیا جائے گا تو وہ بھی صرف اسی زبان میں ہی دیا جا سکتا ہے جو زبان وہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ آپ کو جو زبان آتی ہی نہیں جس زبان کو آپ سمجھتے ہی نہیں اس زبان میں آپ کو حکم دیا جائے ۔ پھر بھی اگر ایسا کیا جائے گا تو اس حکم کا کوئی فائدہ نہیں
ہو گا اس کی حیثیت ایسے ہی ہو گی کہ گویا کوئی حکم دیا ہی نہیں گیا۔
مثال کے طور پر اگر آ پ کی زبان اردو ہے تو آپ کو اردو میں ہی حکم دیا جائے گا اور اگرحکم دینے والے کو اردو نہیں آتی تو پھر اس کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسا ذریعہ حاصل کرے جس میں اس کی بات سمجھ کر آپ تک پہنچانے کی صلاحیت ہوکہ وہ اس کی زبان بھی سمجھتا ہو اور آپ کی بھی اور وہ ذات اس کے
ذریعے آپ کو حکم دے گی۔
ایسے ہی مثال کے طور پر اگر آ پ کو چینی زبان نہیں آتی اور آپ کو چینی میں حکم دیا جائے گا تو کیا آپ سمجھ سکیں گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح آپ کسی جانور کو کوئی حکم دینا چاہتے ہیں تو اسی ذریعے سے حکم دیں گے جس ذریعے سے وہ جانور آپ کا حکم سمجھ سکے ۔ جب وہ آپ کا حکم سمجھے گا تو وہ اس پر عمل کر پائے گا ورنہ عمل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ آپ زبان سے کسی جانور کو کچھ کہیں تو وہ فوری اس پر عمل کرے گا نہیں بلکہ جو بھی جانور ہے وہ جس طرح حکم سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے اسی طریقے سے حکم دیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح اللہ کی تمام مخلوقات کا معاملہ ہے اللہ نے یہ قانون بنا دیا اوراسی قانون کیمطابق اللہ نظام چلاتا ہے اور چلا رہا ہے۔ اسی قانون کے مطابق اللہ تمام مخلوقات کو حکم دیتا ہے یہی اللہ کا قانون و طریقہ ہے اور اللہ خود بھی اپنی سنت کے خلاف کام نہیں کرتا۔
الدجّال آسمان کو حکم دے گا تو آسمان بارش برسائے گا تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ؟ الدجّال کیسے یا الدجّال کیساتھ انسان آسمان کو کیسے بارش برسانے کا حکم دیں گے؟ کیا اپنی زبان سے کہا جائے گا کہ اے آسمان بارش برسا اور آسمان بارش برسانا شروع کر دے گا؟ یا پھر اس طریقے سے حکم دیا جائے گا جو طریقہ
اللہ نے قدر میں کر دیا اس زبان میں آسمان کو حکم دیا جائے گا جو زبان آسمان سمجھتا ہے؟
آسمان فضا کو کہتے ہیں۔ اگر وہ اس فضا کو حکم دے گا جس فضاسے اللہ بارشیں برساتا ہے تو اسے اسی طرح امر کرنا پڑے گا جیسے اللہ امر کرتا ہے یعنی اگر آپ کی زبان اردو ہے اور آپ اردو کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں سمجھتے تو کوئی بھی ہو اسے اگر آپ کو کوئی کام کہنا ہے تو اردو میں ہی کہا جائے گا ورنہ اگر کسی اور زبان میں یا کسی اور طریقے سے حکم دیا جائے گا یا کوئی بات کہی جائے گی تو عمل کرنا تو دور کی بات وہ سمجھ میں ہی نہیں آئے گی ایسے ہی الدجّال اگر آسمان یعنی اس فضا کو بارشیں برسانے کا حکم دیتاہے تو ویسے ہی دے گا جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا اور اللہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دیتا ہے ۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھی تب تک آسمان کو بارش کا حکم نہیں دے سکتا جب تک کہ اس کے پاس علم اور اسی طرح امر کرنے کی صلاحیت موجود نہ ہو یا وہ صلاحیت حاصل نہ کر لے۔ یہاں ایک بات جو قابل غور ہے محمد علیہ السلام نے کہا کہ الدجّال امر کرے گا آسمان کو بارش برسانے کا اس امر کے پیچھے کون ہو گا وہ الگ بات ہے لیکن جو براہ راست آسمان کو
بارش کا امر کرے گا وہی الدجّال ہو گا۔
آسمان کو بارش کا حکم دینا ہے تو پہلے وہ علم ہونا لازم ہے کہ کس طرح آسمان کو بارش کا حکم دیا جاتا ہے اور اللہ نے بارش برسانے کا جو قانون بنا دیا اسی کے مطابق ہی بارش برسائی جا سکتی ہے ورنہ ایسا ہرگز نہیں کہ کوئی انسان یا کوئی بھی ہو وہ آسمان کو اللہ کے قانون کے علاوہ کسی اور طریقے سے حکم دے اور آسمان بارش برسائے ایسا ممکن ہی نہیں ۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو انسان جب اس معاملے میں اللہ کا محتاج تھا وہ اللہ سے دعائیں کرنے کی بجائے خود ہی اپنی زبان سے کہتا کہ اے آسمان بارش برسا اور آسمان بارش برسانا شروع کر دیتا جو کہ آپ جانتے ہیںکہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔ اب جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جانی چاہیے کہ کوئی بھی ہو وہ اگر آسمان کو بارش کا حکم دے گا تو زبان سے نہیں بلکہ اسی طریقے سے دے گا جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا۔
البتہ یہ بات الگ ہے کہ اللہ نے قدر میں آسمان کو کب کب اور کتنی کتنی بارش برسانے کا قانون وضع کیا جس سے آسمانوں و زمین میں قائم میزان برقرار رہے گاجس کا علم صرف اللہ کو ہی ہے اس کے علاوہ اور کسی کو نہیں ۔ البتہ اس کے پاس ہو سکتا ہے جس کے پاس آسمانوں و زمین کا مکمل علم آجائے یا حاصل کر لے اور
ایسا اللہ نے قانون میں رکھا ہی نہیں۔
اب اللہ کے علاوہ جو کوئی بھی یہ صلاحیت حاصل کر لے گا جس سے بارش برسائی جائے تو جب وہ اپنی مرضی سے آسمان کو جب چاہے بارش کا حکم دے گا تو اس سے ایسا قطعاً نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی خرابی یا خامی نہ ہو بلکہ ان میں قائم توازن بگڑ جائے گا ، بادلوں کا نظام ، آب و ہوا اور موسموں کا نظام بگڑ جائے گا
پھر طوفان، آندھیاں، بغیر وقت کے بارشیں اور موسموں میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔

آج آسمان کو حکم دیا جا رہا ہے اور بارشیں برسائی جا رہی ہیں اورپھر یہ کیسے ممکن ہو؟ کون ہے جو آسمان کو بارش برسانے کا حکم دیتا ہے؟ تو اس کا نہ صرف جواب بالکل واضح ہے بلکہ آج آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی ہے یہ مشینیں ہیں جن کے ذریعے نہ صرف آسمان کو بارشوں کا امر کیا جا رہا ہے بلکہ آج آسمان بارشیں برسا رہے ہیں اس لیے یہ ٹیکنالوجی و مشینیں ہی وہی الدجّال ہے جس کے بارے میں آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے
آگاہ کیا تھا۔
جیسے جسے آج ہارپ کا نام دیا جاتا ہے جس پر پیچھے بات کی جا چکی اس کے علاوہ ایک دوسرا طریقہ ہے جو بارشیں برسانے کے لیے تقریباً دنیا میں عام ہو چکا ہے اسے کلاؤڈ سیڈنگ یعنی بادلوں کی بوائی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے آج پوری دنیا میں بارشیں برسائی جا رہی ہیںاور مصنوعی طریقے سے بارش برسانے کا یہ نہایت آسان اور سستا طریقہ ہے۔ تین اشیاء ’’سلو ر آئیوڈائڈ، نمک، ڈرائی آئس یعنی جمی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس‘‘ کے مرکب کو بذریعہ پمپ یا جہاز فضا میں بلندی پر بادلوں کے مقام پر چھڑکا جاتا ہے جس سے اس جگہ پر درجہ حرارت اتنا کم ہو جاتا ہے کہ وہاں بخارات پانی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سلور آئیوڈائڈ اور نمک ان ٹھنڈے بخارات کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں جن سے قطرہ وجود میں آتا ہے اور زمین کی کشش ثقل اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے
جس سے بارش ہوتی ہے یوں آج پوری دنیا میں بارشیں برسائی جا رہی ہیں۔
الدجّال یعنی ٹیکنالوجی آسمان کو بارشیں برسانے کا امر کرتی ہے... (جاری ہے)۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...