WARNING FROM MOTHER NATURE
ویحی الموتی۔
قرب قیام الساعت اشراط الساعت میں سے ایک بڑی شرط الدجّال حی کر رہا ہے موت کو ۔
اس کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلا دی جا چکی ہے کہ الدجّال وفات شدہ لوگوں کو جو وفات پاکر گڑھوں میں جا چکے ہیں جنہیں زمین میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا جاتا ہے ان کو ان گڑھوں سے نکال کر بالکل پہلے جیسے جیتا جاگتا زندہ کرے گا۔ یہ بات بالکل غلط ، بے بنیاد اور باطل ہے جس کا حقیقت کیساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں نہ ہی محمد علیہ السلام نے کسی ایک بھی موقع پر ایسا کہا یہاں تک کہ کوئی ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہا کہ جس سے ایسا کوئی تاثر ملتا ہو بلکہ یہ
سب کا سب علماء کے نام پر جہلاء کے کارنامے ہیں جو انہوں نے خوب جہالت پھیلائی۔
موت کو حی کرنے سے مراد یہ کہ الدجّال وفات شدگان کو زندہ یعنی جیتا جاگتا کرے گا ایسی کوئی بات نہ توذخیرہ روایات میں ہے جنہیں یہ لوگ احادیث کا نام دیتے ہیں اور نہ ہی قرآن میں آپ کوکہیں ملے گی بلکہ روایات میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں ’’یحی الموتی‘‘ جس کے معنی ہیں موت کا حیات کیا جا رہا ہونا ۔ جو الفاظ الدجّال کے بارے میں کہے گئے بالکل وہی الفاظ قرآن میں اللہ نے کئی مقامات پر اپنے لیے استعمال کیے جنہیں آپ درج ذیل آیات میں
دیکھ سکتے ہیں۔
ھُوَ الْحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی۔ الحج ۶
ھُوَ الحق ہے یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے تو جو وجود سامنے آئے یہی وجود اللہ کی ذات ہے یہی وجود حق ہے اگر کوئی اس وجود کا انکار کرتا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو اللہ قرار دیتا ہے یا اس وجود کے علاوہ کسی اور وجود کا دعویدار ہے تو اس کا کوئی وجود نہیں وہ حق نہیں وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی اور اس میں کچھ شک نہیں یہ جو وجود موجود ہے یعنی ھُوَ یہی حی کر رہا ہے موت کو۔
موت۔ موت کہتے ہیں اس مواد کو جس سے مخلوقات کو وجود میں لایا جا تا ہے جو کہ چھوٹے چھوٹے ذرات میں پوری دنیا میں بکھرا پڑا ہے اور اس سے بھی پیچھے
وہ گیسوں کی صورت میں کائنات میں موجود ہے۔
حی۔ حی کہتے ہیں مواد کو یعنی ان ذرات کو کوئی نہ کوئی صورت دینا انہیں جمع کرتے ہوئے ان سے کوئی وجود وجود میں لے آنا ، انہیں کسی خلق میں بدل دینا۔
وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی اور اس میں کچھ شک نہیں یہ جو وجود موجود ہے یعنی ھُوَ یہی حی کر رہا ہے موت کو یعنی اس میں کچھ شک نہیں یہ جو وجود موجود ہے جو کچھ بھی موجود ہے یہی وجود ہے جو موت کو یعنی چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل مواد کو مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے انہیں کسی نہ کسی مخلوق کی شکل میں ڈھال رہا ہے
انہیں کوئی نہ کوئی صورت دے رہا ہے۔
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی۔ یٰس ۱۲
اس میں کچھ شک نہیں ہم ہی ہیں ہم حی کر رہے ہیں موت کو۔
وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی۔ الشوریٰ ۹
اور ھُوَ حی ہو رہا ہے جو موت تھی، اور ھُوَ حی کر رہا ہے موت کو ، اور ھُوَ تھا موت جو حی ہو رہا ہے۔
یعنی دیکھو تمہارے علاوہ اور کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو وجود سامنے آئے اللہ ہی سامنے آئے گا یہی ذات ہے یہی وجود ہے جو خالق، مخلوق اور جس سے خلق کیا جا رہا ہے تینوں صورتوں میں سامنے آئے گا، تینوں کو ایک کرو گے تو اللہ ہے اگر
الگ کرو گے تو خلق، خالق اور مخلوق بن جائے گی۔
آپ نے دیکھا ان آیات میں اللہ نے وہی الفاظ اپنے لیے استعمال کیے جو محمد علیہ السلام نے الدجّال کے لیے استعمال کیے اور اللہ نے نہ صرف قرآن میں ان
الفاظ کا استعمال کیا بلکہ ابالکل کھول کھول وضاحت بھی کر دی کہ اللہ کیسے یحی الموتی کر رہا ہے؟
وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۔ البقرۃ ۱۶۴
اور جو اتارا کیا ہے؟ اللہ ہے آسمان یعنی فضا سے پانی سے پس اس پانی کیساتھ حیا کیا زمین کو اس کی موت کے بعد اور اس کیساتھ پھیلائے اس میں تمام کے تمام
دابہ سے یعنی جتنی بھی حرکت کرنے والی مخلوقات ہیں جو تیر کر، رینگ کر، چل کر اور اڑ کر حرکت کرتی ہیں۔
وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا۔ النحل ۶۵
اور اللہ ہے کیا ہے جو اتارا آسمان سے پانی سے پس اس کیساتھ حیا کی زمین کو اس کی موت کے بعد۔
یہ دو آیات ہیں ان کے علاوہ اسی بات کو درجنوں آیات میں مختلف پہلوؤں سے پھیر پھیر کر سامنے لایا گیا کہ فضا سے خلا سے پانی زمین پر اترتا ہے اس پانی کیساتھ زمین میں مختلف مخلوقات جو اپنی موت یعنی ذرات کی صورت میں بکھری پڑی ہوتی ہیں جو کہ ان کی موت ہے یعنی مخلوقات اپنی حالت موت میں ہوتی ہیں انہیں حی کیا یعنی ان ذرات کو پانی کیساتھ مختلف مراحل سے گزار کر مخلوقات کی صورت میں وجود دے دیا ان کے اجسام کا حصہ بنا دیا۔ جیسے ہی آسمان سے پانی اترا تو اس پانی کیساتھ زمین میں وہ عناصر مختلف کیمیائی عوامل سے گزر کر نباتات کی صورت اختیار کرتے ہیں جیسے کہ طرح طرح کے پھل ، سبزیاں، اناج وغیرہ جو کہ مخلوقات کا رزق ہوتا ہے آپ کا رزق ہوتا ہے ان نباتات یعنی اس رزق سے پھر جاندار وجود میں آتے ہیں جن میں بذات خود یہ بشر بھی ہے یعنی آپ
بھی ہیں۔ اس کا ذکر بھی اللہ نے قرآن میں کر دیا جیسا کہ آپ درج ذیل آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ۔ البقرۃ ۲۲
اور کیا اتارا آسمان سے یعنی خلا سے؟ پانی اتارا پس اس پانی کیساتھ نکالے زمین سے ثمرات یعنی طرح طرح کی فصلیں، پھل، سبزیاں ، اناج وغیرہ جو کہ رزق
ہے تم کا یعنی وہ مواد جس مواد کی تمہارے اجسام کو ضرورت ہوتی ہے جن عناصر پر مشتمل مواد سے تمہارا جسم بن رہا ہے۔
یہ بالکل مختصراً آپ کے سامنے رکھا گیا کہ اللہ کیسے موت کو حیا کر رہا ہے اور یہ ہے موت کو حیا کرنا۔
یہی اللہ نے انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سورۃ الروم کی آیت نمبر ۵۰ میں کہا۔
فَانْظُرْ اِلٰٓی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔ الروم ۵۰
سورۃ الروم کی اس آیت میں اللہ کا یہی کہنا ہے کہ پس کیا دیکھا؟ زمین میں جو بھی قیمتی ترین عناصر ہیں جیسے کہ لوہا، تانبہ، گندھک وغیرہ سمیت جو بھی زمین کے عناصر ہیں جنہیں تم معدنیات کا نام دیتے ہو یا زمین کے عناصر کا نام دیتے ہو اللہ کی رحمت ہے یعنی ان سے ہی تمہیں ہر طرح کی تکالیف سے محفوظ رکھا جا رہا ہے انہی سے نہ صرف تمہیں خلق کیا جا رہا ہے بلکہ انہی سے تمہاری تمام تر ضروریات وجود میں لائی جا رہی ہیں جیسے کہ تمہیں سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے، تمہارا جسم انہی عناصر سے وجود میں لایا گیا تو تمہارے جسم کو انہی عناصر کی ضرورت ہے اگر وہ عناصر تمہارے جسم کو نہ ملیں تو تمہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا ان کے عدم سے ممکنہ تمام تر تکالیف سے انہی کے ذریعے تمہیں محفوظ کیا گیا، تو کیا دیکھا ؟ یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ یہ جو ہو رہا ہے جیسے ہو رہا ہے یعنی زمین کے عناصر جن جن مراحل سے گزر کر مختلف مخلوقات کی صورت اختیار کر رہے ہیں بذات خود تم وجود میں آ رہے ہویہ ہے اللہ کا ارض کی موت کے بعد اسے حیا کرنا کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا دیکھا کیسے اللہ حی کر رہا ہے ارض کو اس کی موت کے بعد یعنی یہ جو تم نے دیکھا اس طرح اللہ موت کا حی کر رہا
ہے یہ ہے موت کا حی ہونا۔
یعنی آپ کو اپنی ہی ذات میں غوروفکر کا بار بار کہا گیا کہ غور کرو تمہیں کیسے خلق کیا گیا؟ تمہیں کیسے خلق کیا جا رہا ہے؟ جب آپ غور کریں گے تو آپ پر ساری
حقیقت کھل کر واضح ہو جائے گی کہ اللہ کیسے موت کو حیاکر رہا ہے۔
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ البقرۃ ۲۸
آپ پہلے اموات تھے یعنی آپ کو جن عناصر پر مشتمل مواد سے وجود میںلایا گیا جن عناصر پر مشتمل مواد کو آپ کی صورت میں ڈھالا گیا وہ عناصر آپ کو وجود میں لانے سے پہلے ذرات کی صورت میں پوری دنیا میں بکھرے پڑے تھے اور پھر کیسے انہیں مختلف مراحل سے گزار کر تمہاری صورت میں وجود دیا جا رہاہے پھر
موت کیا جا رہا ہے پھر حیا کیا جا رہا ہے پھر اسی وجود میں واپس پلٹایا جا رہا ہے جس سے وجود میں لائے گئے ۔
آپ کو جتنی بھی جاندار مخلوقات نظر آ رہی ہیں یہ سب کی سب زمین کی حیات ہے جن میں آپ بھی آتے ہیں آپ سمیت یہ تمام کی تمام جاندار مخلوقات پہلے موت تھیں یعنی جس مواد سے انہیں وجود میں لایا گیا وہ مواد جن عناصر پر مشتمل ہے وہ عناصر ذرات کی صورت میں پوری زمین میں بکھرے پڑے تھے پھر ان ذرات پر مشتمل عناصر کو کیسے مختلف مراحل سے گزار کر انہیں کسی نہ کسی مخلوق کی صورت میں ڈھالا جا رہا ہے یعنی حیا کیا گیا اور حیا کیا جا رہا ہے؟ یہ ہے موت کو حیا کرنا نہ
کہ گڑھوں میں مدفون وفات شدگان کو گڑھوں سے نکال کر پہلے جیسا جیتا جاگتا زندہ کرنا حی کرنا کہلاتا ہے موت کو۔
اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی
اس میں کچھ شک نہیں وہ تھا اللہ کا موت کو حیا کرنا یعنی جو آپ نے غوروفکر کرنے سے دیکھا جو آپ کے سامنے آیا وہ تھا اللہ کا موت کو حی کرنا نہ کہ گڑھوں میں
مدفون وفات شدہ لوگوں کو گڑھوں سے نکال کر انہیں پہلے جیسا جیتا جاگتا کر دینا۔
اور ایسے ہی الدجّال نے حی کرنا تھا موت کو، الدجّال نے بھی آسمان سے پانی برسانا تھا یعنی بارشیں برسانا تھیں ، اوپر سے زمین پر پانی چھڑکنا تھا پھر اس پانی سے زمین سے نباتا ت نے نکلنا تھا ان نباتات نے نکلنا تھا وہ نباتات انسانوں کا رزق ہونا تھا اس رزق سے لوگوں نے اپنے اجسام بنانا تھے، اس کے علاوہ جیسے اللہ ان عناصر کو مختلف مراحل سے گزار کر رزق بناتا ہے جسے مخلوقات استعمال کرتی ہیں بالکل ایسے ہی الدجال نے بھی زمین کے عناصر کو مختلف مراحل سے گزار کر اس سے رزق وجود میں لانا تھا تو ذرا غور کریں کیا آج ایسا ہو رہا ہے؟ اگر تو نہیں ہو رہا تو ابھی الدجّال نہیں نکلا اور اگر ایسا ہو رہا ہے اور جس کیساتھ کیا جا رہا ہے وہ الدجّال ہے اور جو رزق ہے وہ بھی الدجّال ہے ایسا سب کا سب جو غیر فطرتی ہے وہ الدجال ہے اور جب غور کیا جائے اپنے ارد گرد دیکھا جائے تو ہاں
بالکل آج ایسا سب کچھ ہو رہا ہے۔
الدجّال جو کہ انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے ترقی و خوشحالی کے نام پر خلق کردہ طرح طرح کی مخلوقات ہیں یعنی مشینیں ہیں ، ایجادات ہیں مصنوعات ہیں ٹیکنالوجی ہے ان سے بارشیں برسائی جا رہی ہیں، بلندی سے زمین پر بارشوں کی مانند پانی اتارا جا رہا ہے جس سے نباتات نکلتی ہیں وہ نباتات رزق ہوتا ہے
لوگوں کا اور لوگ اسے اپنا رزق بناتے ہیں۔
ایسے ہی وہ عناصر جن سے آپ کو وجود میں لایا گیا انہیں الدجّال سے ہی زمین سے نکال کر مختلف مراحل سے گزار کر آپ کا رزق وجود میں لایا جا رہا ہے آپ کی ضرورت کی اشیاء وجود میں لائی جا رہی ہیں، زمین سے طرح طرح کے عناصر کو نکالا جاتا ہے جو کہ موت ہوتی ہے پھر ان عناصر کو مختلف مراحل سے گزار کر انہیں کوئی نہ کوئی خلق کی شکل دے دی جاتی ہے یعنی موت کو اللہ کے مقابلے پر حی کیا جا رہاہے، یہ سب کا سب آج آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔
اپنے ارد گرد دیکھیں کہ ایک طرف فطرت ہے اور دوسری طرف فطرت کی ضد، فطرت میں تبدیلی کر کے مخلوقات کو وجود میں لایا گیا اب جو فطرت نہیں ہے تو وہ کیا
ہے؟ وہ کس کا ہے؟ ظاہر ہے یہی تو الدجّال ہے ، یہی تو الدجّال رزق ہے۔
آج یہ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور یہ سب ٹیکنالوجی سے ممکن ہوا، ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف طریقوں سے بارشیں برسائی جا رہی ہیں
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment