Wednesday, January 11, 2023

 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#93

ویقول للناس أنا ربکم۔ اور کہہ رہا ہے لوگوں کو اس میں کچھ شک نہیں کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔
یہاں یہ بات ذہن میں ہونا بہت ضروری ہے کہ وہ کہے گا میں تمہارا ربّ ہوں اگر کوئی ربّ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ زبان سے یہ
کہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں بلکہ لفظ ربّ کے معنی سامنے ہوں گے تو بات بالکل واضح ہو جائے گی۔
ربّ کہتے ہیں ایسی ذات جو نہ صرف عدم سے وجود میں لائے بلکہ عدم سے وجود میں لا کر یعنی خلق کر کے مخلوق کا رزق یعنی جو جو بھی اس کی ضروریات ہیں اس کے کھانے ، پینے، پہننے، رہن سہن کی اشیائ، سفر کرنے کے ذرائع سمیت جو بھی ضروریات ہیں وہ خلق کر کے اسے فراہم کرے اور پھر اس پر واضح کرے کہ تمہیں وجود میں لانے کا مقصد کیا ہے یعنی تم نے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا، جو ذات بھی ایسا کر رہی ہو وہ اپنے عمل سے یہ اعلان کر رہی ہے کہ میں ربّ ہوں اور جن کے لیے وہ ذات ضروریات خلق کر رہی ہوتی ہے اپنے عمل سے انہیں یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں یعنی میں وہ ذات ہوں جس نے تمہیں وجود میں لایا اور میں ہی وہ ذات ہوں جسے علم ہے کہ تمہاری ضروریات کیا ہیں اور میں انہیں تمہارے لیے وجود میں لا رہا ہوں انہیں استعمال کرو اور میں تم پر واضح کر رہا ہوں کہ دنیا میں تمہاری موجودگی کا مقصد کیا ہے تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنااورپھر اس کے جواب میں جو لوگ اس کی خلق کردہ ضروریات کو استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے اسے اپنا ربّ تسلیم کر لیتے ہیں ان کا ربّ وہی ذات کہلائے گی خواہ وہ اپنی زبان سے رات دن کسی اور کے ربّ ہونے کے رٹے لگاتے رہیں۔ یعنی جس کی خلق کردہ ضروریات پر انحصار کیا جائے گا ، ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے جس پر انحصار کیا جائے گا جس پر توکل کیا جائے گاوہی آپ کا ربّ کہلائے گا اگر آپ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فطرت پر انحصار کرتے ہیں تو آپ کا ربّ فطرت یعنی اللہ ہے اور اگر اس کے علاوہ کسی اور پر انحصار کرتے ہیں تو جس پر انحصار کریں گے وہ آپ کا ربّ کہلائے گا اور اس کا آپ کی ضروریات خلق کر کے فراہم کرنا ہی اس کا یہ کہنا ہے کہ
میں تمہارا ربّ ہوں۔
الدجّال انسانوں کی تمام ضروریات خلق کرے گا ، انسان کے لیے خوراک وہ خلق کرے گا، پہننے کے لیے ، پینے کے لیے، سواری کے ذرائع نیز تمام کی تمام ضروریات زندگی خلق کرے گا اور انہیں دعوت دے گا کہ یہ ہیں تمہاری ضروریات انہیں استعمال کرو اور تمہارا دنیامیں وجود کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان ضروریات کو حاصل کرو اور ان سے مزے لوٹو ، جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا انہی کے پیچھے انہی کے حصول میں استعمال کرو یہی تمہاری زندگی کا مقصد ہے اور جو انسان اللہ کے علاوہ کسی اور کی خلق کردہ ضروریات کو اختیار کرے تو جس کی خلق کردہ ضروریات کو اختیار کرے وہی اس کا ربّ کہلائے گا اس کے لیے ضروری نہیں کہ زبان سے کہا جائے کہ فلاں میرا ربّ ہے بلکہ ربّ اس ذات کو کہتے ہیں جس کی خلق کردہ ضروریات کو استعمال کر کے زندگی گزاری جائے۔ تو آج پوری دنیا میں ٹیکنالوجی سے انسان کی تمام کی تمام ضروریات نہ صرف اللہ کے مقابلے پر خلق کی جا رہی ہیں بلکہ یہی ٹیکنالوجی میڈیا کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے انسانوں کو دعوت دے رہی ہے کہ مجھے اپنا ربّ بناؤ اور جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا مال ہو، اولاد ہو، ذہانت ہو، صلاحیتیں ہوں یا کوئی عہدہ و رتبہ وغیرہ ہو سب کا اسی الدجّال کے حصول کے لیے استعمال کرو اور آج تقریباً تمام انسانوں نے اللہ کے مقابلے پر اسی ٹیکنالوجی کو اپنا ربّ بنایا ہوا ہے اور کسی کو اس کا ادراک تک نہیں۔
فمن قال: انت ربی، فقد فتن۔ پس جس نے جواب دیا تُو ہی میرا ربّ ہے پس تحقیق وہ فتنے میں پڑ گیا۔
پھر وہی بات ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کوئی آ کر زبان سے یہ کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں تو آگے سے زبان سے جواب دیا جائے گا ہاں یا ناں۔ اکثریت زبان سے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے تو کیا کبھی ایسا ہوا کہ اللہ نے سامنے آ کر یا زبان سے کبھی کسی کو یہ کہا ہو کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ اور اگر کہا تو کیسے کہا؟
پہلی بات کہ سب سے پہلے تو یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ ہے کیا اس کا ربّ ہونا کیا ہے وہ کیسے ربّ ہے؟ جب یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کیا ہے جو کہ یہی وجود جو کچھ بھی آپ کو نظر آ رہا ہے یہ اللہ ہی کا وجود ہے یہی آپ کا ربّ ہے یعنی ذرا غور کریں کیا یہی وجود جسے آپ کائنات کا نام دیتے ہیں یہی آپ کو عدم سے وجو د میں نہیں لایا؟ کیا یہی آپ کی تمام تر ضروریات خلق کر کے مہیا نہیں کر رہا؟ اسی نے آپ کو تمام اعضاء نہیں دیئے؟ یہی وجود آپ کو آکسیجن فراہم نہیں کر رہا؟ کیا یہی وجود آپ کوآپ کا رزق فراہم نہیں کر رہا؟ کیا یہی وجود بارشیں نہیں برساتا؟ یعنی جب یہی وجود یہ سب کر رہا ہے تو پھر ربّ کون ہوا؟ اللہ کون ہوا؟
بالکل واضح ہے کہ یہی وجود جو نظر آ رہا ہے یہ اللہ ہی کا وجود ہے یہ اللہ ہی کی ذات نظر آ رہی ہے ۔ جہاں تک بھی آپ کی رسائی ہے اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ہے
ہی نہیں ایک ہی وجود ہے اور جو وجود ہے اللہ کا وجود ہے۔
اب ذرا غورکریں کہ اس وجود نے آپ کو کیسے کہا کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ یعنی پیچھے ماضی میں چلے جائیں جب انسان صرف اور صرف اسی وجود اللہ یعنی فطرت کے محتاج تھے تو کیا کوئی آواز آ رہی تھی کہ میں تمہارا ربّ ہوں یا پھر یہ وجود اپنے عمل سے آپ کا ربّ ہونے کا دعویدار ہے اور آپ اسے اپنا ربّ بنائے
ہوئے تھے۔
اور اس کے علاوہ آپ کی زبان میں بھی اس وجود نے آپ کو کہا آپ کو دعوت دی کہ میں تمہارا ربّ ہوں جب انسانوں نے اللہ کے مقابلے پر کسی کو اس کا شریک مقرر کرتے ہوئے اسے اپنا ربّ بنایا تب اللہ اپنی زبان یعنی یہ جو وجود ہے انسان چونکہ بشر ہیں تو انہی میں سے ایک بشر کے ذریعے ان کی اپنی زبان میں کہتا
ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔
تو جیسے اصل ربّ اپنے ربّ ہونے کا دعویدار ہے ایسے ہی نقل ربّ الدجّال نے اپنے ربّ ہونے کا دعویٰ کرنا تھا ایک عمل سے اور دوسرا اپنے نمائندوں یعنی اپنے
رسولوں کے ذریعے انسانوں کو اپنے ربّ ہونے کی دعوت دینا تھی۔
اللہ کو ربّ تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ہر لحاظ سے اللہ پر ہی توکل کیا جائے فطرت پر قائم ہوا جائے یعنی جو ضروریات اللہ نے آپ کے لیے خلق کیں جب صرف اور صرف انہی کو استعمال کیا جائے گا تو یہ آپ کا اپنے عمل سے اللہ کو اپنا ربّ تسلیم کرنا ہو گا اور اللہ کے علاوہ جو بھی ربّ ہونے کا دعویدار ہو گا اس کا کفر ہو گا ورنہ جس کا خلق کردہ یا مہیا کردہ اختیار کیا جائے گا وہی ربّ کہلائے گا خواہ زبان سے دعویٰ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
اللہ کے مقابلے پر ایک ہی ایسی ذات ہے جو پوری دنیا میں انسان کی تمام کی تمام ضروریات خلق کر رہی ہے اور وہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے وجود سے پہلے صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات ایسی تھی جو واحد خالق تھا لیکن ابھی اللہ کے ساتھ اس کے تمام کاموں میں اس ٹیکنالوجی کیساتھ شریک ہوا جا رہا ہے۔
تقریباً دنیا کے تمام انسانوں نے اسے اپنا ربّ بنایا ہوا ہے لیکن کوئی بھی غورو فکر کرنے کو تیار ہی نہیں۔
آج یہ ٹیکنالوجی اپنے عمل کے ذریعے انسانوں کا ربّ ہونے کی دعویدار ہے اور پھر انسانوں کی اپنی زبان میں اپنے نبیوں یعنی میڈیا کے ذریعے اسے ربّ بنانے کی دن رات دعوت دے رہی ہے اور انسانوں کی کثیر تعداد اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسے اپنا ربّ تسلیم کر چکی ہے۔
ومن قال: اللہ ربی، حتی یموت علی ذلک فقد عصم من فتنۃ الدجال ولا فتنۃ بعدہ علیہ ولا عذاب۔ اور جس نے کہا اللہ میرا ربّ ہے یعنی جس نے صرف اور صرف اللہ ہی کی خلق کردہ ضروریات کو اختیار کیا یعنی فطرت پر قائم ہو گیا ہر لحاظ سے فطرت پر ہی انحصار کیا یہاں تک کہ اس کی اسی پر موت ہو گئی پس تحقیق وہ بچ گیا فتنہ الدجّال سے، الدجّال کو اپنا ربّ تسلیم کرنے سے یعنی امتحان سے اور نہ ہی اس کے بعد اس پر کوئی امتحان ہو گا اور نہ ہی
عذاب یعنی سزا۔
آج موجودہ دور میں صرف اور صرف اللہ کو اپنا ربّ بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ آج الدجّال پوری زمین پر دھندناتا پھر رہا ہے ہر طرف الدجّال کی ہی آیات نظر آ رہی ہیں یعنی غیر فطرتی اشیائ، اب ایسی صورت حال میں ایسے میں اگر اللہ کو اپنا ربّ بنایا جائے گا تو زندگی قید خانے سے بھی بد تر ہو جائے گی کیونکہ باقی ضروریات تو بعد کی بات ہے ایک مومن کے لیے کچھ بھی کھانے کو طیب نہیں رہا۔ آج تقریباً پوری زمین پر ساری کی ساری خوراک اسی الدجّال کے قبضے میں ہے یعنی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی اگائی اور تیار کی جا رہی ہے انسانوں کا رزق یعنی تمام کی تمام ضروریات اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی وجود میں لائی جا رہی ہیں سب کا سب مصنوعی ہے غیر فطرتی اور اسی وقت کے لیے آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ ایک مومن کے لیے کھانے کو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اگر کوئی مومن ہو تو اسے اندازہ ہو گا کہ ہاںمحمد علیہ السلام نے بالکل سچ کہا تھا آج مومن کے لیے کھانے کو کچھ بھی نہیں بچا، مومن کہتے ہیں وہ جو دل سے اللہ کے احکامات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل کرتا ہے ہر کام وہی اور ویسے ہی کرتا ہے جیسے اس کے ربّ اللہ کا اسے حکم ہے اب اللہ نے حکم دیا کہ تمہارے لیے طیبات کو حلال کیا یعنی تمہارا رزق طیبات ہیں اگر شئے طیب ہے تو حلال ہے یعنی اس کے استعمال کی اجازت ہے اگر طیب نہیں تو حرام ہے یعنی اس کے استعمال
کی اجازت نہیں دی گئی۔
آج پوری دنیا میں کچھ بھی طیب نہیں رہا ہر طرف خبائث ہی خبائث ہیں یعنی یا تو مصنوعی ہے غیر اللہ کا یا پھر فطرت میں چھیڑ چھاڑ کر کے اس میں پنگے لیکر اسے خراب کر دیا گیا اسے ایسا بنا دیا گیا کہ اس کے استعمال سے فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔ اب ایسی صورت حال میں ایک مومن ہی جانتا ہے کہ اس وقت دنیامیں زندہ رہنا ، دین پر ڈٹ جانا کتنا عظیم امتحان ہے اور جو نہ صرف الدجّال کے ربّ ہونے کا عملاً کفر کرتے ہوئے یعنی انکار کرتے ہوئے اللہ کو اپنا ربّ بنائے گا بلکہ اس پر ڈٹ جائے گا تو نہ صرف وہ فتنہ الدجّال سے بچ گیا بلکہ اس کے بعد نہ ہی اس کو کسی اور فتنے میں ڈالا جائے گا یعنی اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جائے گا اور پھر نہ ہی اسے آخرت میں کوئی عذاب یعنی سزا دی جائے گی کیونکہ اللہ کو ربّ بنانے اور اس پر ڈٹ جانے سے وہ عفو و غفر ہو جائے گا اس کے ماضی
کے جتنے بھی جرائم تھے وہ ختم ہو جائیں گے۔
آج جو حالات ہیں کہ الدجّال پوری دنیا میں دھندناتا پھر رہا ہے یہ حالات دنیا کے تب تک رہیں گے جب تک اللہ کے قانون میں ہو گا جیسا کہ محمد علیہ السلام نے کہا فیلبث فی الأرض ما شاء اللہ پس رہے گا زمین میں جو اللہ کا قانون ہے یعنی الدجّال کا زمین میں ٹھہرنا اللہ کے قانون میں متعین ہے جب تک اس کا زمین پر ٹھہرنا کیا جا چکا تب تک رہے گا اور جب وہ وقت ختم ہو جائے گا تو الدجّال کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اسے ختم کر دیا جائے گا۔
یہ دجل اس وقت تک زمین میں رہے گا زمین کے حالات اس وقت تک ایسے رہیں گے جب تک کہ اللہ کے قانون میں ایسا رہنا ممکن ہے اور اس کا جواب قرآن میں سورت الدخان میں بھی موجود ہے یہ حالات اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ آسمان یعنی زمین کے گرد فضا انسان کے اپنے ہی اعمال کے سبب دخانٍ یعنی طرح طرح کی زہریلی گیسوں سے نہ بھر جائے جو انسانوں کو ڈھانپ لے اور اس کی وجہ سے انسان طرح طرح کی ہلاکتوں کا سامنا کریں۔ جب دنیا میں ایسے حالات ہوں گے جو کہ آج یہ سب حالات ہو چکے ہیں تو تب اللہ ان میں انہی سے اپنا رسول بعث کرے گا جیسے کہ اس کا قانون ہے اور اللہ اپنے اس رسول کے ذریعے سب کچھ کھول کھول کر واضح کر دے گا جیسے ہی رسول کھول کھول کر سب کچھ واضح کر دے گا تو الدجّال کے زمین پر ٹھہرنے کی مدت ختم ہو
جائے گی۔ (جاری ہے)۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...