Friday, January 13, 2023

 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#94

یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گا کہ یہ جو دخانٍ ہیں یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کا نتیجہ ہیں اور ان کی وجہ سے آج تمہیں جن جن ہلاکتوں کا سامنا ہے جیسے کہ طرح طرح کی بیماریاں، تکالیف، جنگیں، زلزلے، سیلاب، طوفان، آندھیاں وغیرہ یہ سب تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کے رد اعمال تمہارے لیے تمہاری سزا ہیں اور جب اللہ کا رسول یہ سب واضح کر دے گا تب الدجّال کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس کا سورۃ الدخان میں بھی ذکر کیا گیا اور محمد علیہ السلام نے بھی اس روایت میں یہ بات واضح کر دی تھی کہ اللہ نے الدجّال کا زمین پر ٹھہرنا کب تک قانون میں کر دیا اسی کا آگے محمد علیہ السلام نے جواب دیا ثم یجی ء عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام من قبل المغرب محمد علیہ السلام نے عیسیٰ کے آنے کا کہا اور یہاں دہلا کر اور چونکا کر رکھ دینے والی بات یہ ہے کہ محمد علیہ السلام نے کہا کہ ایک عیسیٰ نہیں ہے بلکہ دو عیسیٰ ہیں ان دو میں سے ایک عیسیٰ نے آنا ہے جب تک کہ وہ نہیں آتا تب تک الدجّال دنیا میں دھندناتا پھرے گا اور جب عیسیٰ آ جائے گا تب الدجّال
کے زمین پر ٹھہرنے کی مدت ختم ہو جائے گی عیسیٰ کی موجودگی میں الدجّال کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
اب جو کہ ہم نے کہا کہ یہاں محمد علیہ السلام نے ایک نہیں بلکہ دو عیسیٰ کا ذکر کیا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس روایت میں کہاں ایک نہیں بلکہ دو عیسیٰ کا ذکر ہے ؟ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے روایت میں محمد علیہ السلام کے الفاظ کو دیکھیں اور ان میں غور کریں محمد علیہ السلام نے کہا ’’عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام‘‘ اگر تو ’’علیہ‘‘ ہوتا تو اس کا مطلب تھا کہ ایک ہی عیسیٰ ہے جس کا ذکر کیاجا رہا ہے لیکن یہاں ’’علیہ‘‘ نہیں بلکہ چونکا دینے والی بات ہے کہ یہاں
’’علیھما‘‘ کا استعمال کیا گیا جو کہ دو یا دو سے زائد یعنی جمع کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے نہ کہ واحد کے لیے۔
پھر دیکھیں اسی بات کو ایک اور موقع پر محمد علیہ السلام نے بالکل دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا جو کہ درج ذیل روایت آپ کے سامنے ہے۔
ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: حیاۃ عیسیٰ ھذہ الآخرۃ لیست کحیاتہ الاولیٰ یلقی علیہ مھابۃ الموت یمسح
وجوہ رجال ویبشرھم بدرجات الجنۃ۔ نعیم بن حماد
حیاۃ۔ جسمانی وجود، جو زندگی دی گئی، جس مواد سے جسم وجود میں آتا ہے اس مواد سے وجود میں آنے والا جسمانی وجود
مھابۃ۔ اسے ایک مثال سے سمجھ لیجئے مثال کے طور پر اگر آپ کسی کو کسی مشن پر بھیجتے ہیں جو کہ بہت مشکل و کٹھن مشن ہے جسے پورا کرنا انتہائی غیر معمولی بہادری کا کام ہو تو آپ اس مشن کو پوری جوانمردی سے کر کے تمام تر مشکلات کا جوانمردی سے مقابلے کرتے ہوئے پورا کر کے واپس پلٹتے ہیں تو آپ کو اس مشن پر بھیجنے والے کی نظر میں آپ کا جو عزت و مقام ہو گا جو عظمت ہو گی جو شان و شوکت ہو گی ، جیسے آج کوئی بہت بڑا معرکہ سر انجام دے کر آتا ہے تو واپسی پر اس کے لیے دوسروں کی نظروں میں جو مقام ہوتا ہے اسے مھابۃ کہتے ہیں اور مھابۃ الموت کے معنی ہیں کہ جس مقصد و مشن کو پورا کرنے کے لیے زندگی دی گئی
اسے اسی طرح پورا کر کے پوری شان و شوکت سے موت کو جا ملنا۔
یمسح۔ اپنے عمل، اپنے قول و فعل یا کسی بھی طرح کسی پر اثر انداز ہونا۔
وجوہ رجال۔ بالغ با اختیار مردوں کا جس کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے اس کی طرف اپنا رخ کیے ہوئے ہونا یعنی جو کچھ بھی دیا گیا مال، اولاد، ذہانت، کچھ کرنے کی صلاحیتیں، کوئی عہدہ و رتبہ تو ان سب کا یا ان میں سے کسی کا جس کو مقصد بنائے ہوئے ان کا استعمال کر رہے ہونا، اپنی توجہ وغیرہ اس کی طرف کیے
ہوئے ہونا۔
یمسح وجوہ رجال ۔ اپنے عمل، اپنے قول و فعل یا کسی بھی ذریعے سے بالغ با اختیار مردوں کی سمت پر اثر انداز ہونا کہ ان کی زندگی کی سمت بدل دینا، پہلے وہ جس کسی کو بھی یا جو بھی اپنا مقصد و مشن بنا کر اپنی تمام تر توجہ یا جو کچھ بھی دیا گیا اس کا اسی کی طرف رخ کیے ہوئے استعمال کر رہے ہوں تو اپنے عمل، قول، فعل یا
کسی بھی طریقے سے ان کی ڈائریکشن ان کے زندگی کے مقصد پر اثر انداز ہو جانا اسے بدل دینا۔
ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: حیاۃ عیسیٰ ھذہ الآخرۃ لیست کحیاتہ الاولیٰ یلقی علیہ مھابۃ الموت یمسح
وجوہ رجال ویبشرھم بدرجات الجنۃ۔ نعیم بن حماد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے النبی یعنی اللہ کے رسول نبی ﷺ سے سنا رسول اللہ ﷺ نے کہا: کہ اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ وہ عیسیٰ نہیں ہو گا جو پہلے آیا تھا، پہلے جو بنی اسرائیل میں عیسیٰ آیا تھا وہ الگ جسمانی وجود تھا اور اس امت کے آخر میں آنے والے عیسیٰ کا الگ جسمانی وجود ہو گا دونوں الگ الگ ہیں، پہلے یعنی بنی اسرائیل میں جو عیسیٰ آیاتھا اسے جس مقصد کے لیے دنیامیں بھیجا گیا تھا اس نے اس انتہائی مشکل و کٹھن مقصد کو پوری جوانمردی سے ڈٹ کر پورا کیا اور اس عظیم مقصد و مشن کو پوری ہمت، جذبے اور جوانمردی سے پورا کر کے ہی اس پر عظمت و جلال والی اور عالی شان عظیم موت ڈالی گئی۔ اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ ہرگز پہلے والا عیسیٰ نہیں ہو گا اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ اپنے کردار سے اپنی دعوت سے اپنے عمل سے اس کی دعوت کو تسلیم کرنے والے بالغ بااختیار مردوں کی زندگیوں پر ایسا اثر انداز ہو گا کہ انہوں نے اس سے پہلے جو اپنی ڈائریکشن طے کی ہوئی گی جو سمت طے کی ہوئی گی اور جو کچھ بھی انہیں دیا گیا اسی مقصد کی طرف رخ کر کے استعمال کر رہے تھے ااپنی تمام تر توجہ اسی کی طرف کی ہوئی ہو گی عیسیٰ ان کی سمت بدل دے گا ان کا رخ اللہ کی
طرف کر دے گا کہ وہ اس کا ساتھ دیکر اللہ کی نصرت کر کے درجات میں بلند ہوں گے عیسیٰ انہیں آگاہ کر دے گا کہ جنت میں ان کے درجات کیا ہیں۔

یہ روایت نہ صرف چونکا اور دہلا کر رکھ دینے والی ہے بلکہ اس میں بالکل واضح اور دو ٹوک الفاظ میں محمد علیہ السلام نے یہ بات واضح کر دی کہ عیسیٰ ایک نہیں بلکہ دو ہیں اوردونوں الگ الگ ہیں پھر یہ بات بھی واضح کر دی کہ وہ عیسیٰ جو پہلے آیا تھا یعنی جسے بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا اسے جس عظیم مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا اس نے انتہائی شاندار طریقے سے اس مقصد کو پورا کیا اس پر عظیم ، عالی شان، عظمت و جلال والی موت ڈالی گئی یعنی اس کی موت ہو چکی اور اس امت کے آخر
میں آنے والا عیسیٰ الگ ہوگا ، دوسرا ہو گا اور اس کی پہچان بھی واضح کر دی۔
اس کے علاوہ بھی ایسے ناقابل تردید اور لاجواب دلائل ہیں کہ عیسیٰ ایک نہیں بلکہ دو ہیں اور نہ صرف امت بنی اسرائیل کی طرف بھیجے جانے والے عیسیٰ ابن مریم کی موت ہو چکی بلکہ اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ الگ ہو گا جو کہ ابن مریم کی مثل ہو گا جب آگے بڑھیں گے تو عیسیٰ کے موضوع پر تفصیل کیساتھ بات کی جائے گی اور دنیا کی کوئی طاقت چاہ کر بھی اس کا رد نہیں کر سکے گی یعنی اس کو غلط ثابت نہیں کر سکے گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے اور ہر ایک پر کھل کھل کر
واضح ہو جائے گا کہ حق کیا ہے۔
اب آتے ہیں واپس اسی روایت کی طرف جس پر بات کی جا رہی تھی بات ہو رہی تھی الدجّال کے زمین پر ٹھہرنے کی کہ وہ زمین میں کب تک رہے گا تو اس کا جواب یوں دیا گیا تھا کہ جب تک کہ اس کا زمین پر ٹھہرنا اللہ نے قانون میں کر دیا پھر سوال یہ تھا کہ کب تک الدجّال کا زمین پر ٹھہرنا اللہ نے قانون میں کیا تو آگے اسی سوال کا جواب دیا گیا ثم یجی ء عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام من قبل المغرب پھر ٓائیں گے عیسیٰ علیہ السلام اور وہ عیسیٰ نہیں جو ابن مریم تھے جو پہلے آئے تھے جنہیں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا ان کی تو موت ہو چکی اس امت کے آخر میں دوسرے عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ، عیسیٰ ایک نہیں بلکہ دو ہیں ایک عیسیٰ ابن مریم یعنی جو مریم کا بیٹا تھا جو کہ سلف ہو چکا اور دوسرا ابن مریم کی مثل عیسیٰ جو اس امت کے آخر میں آئے گا ۔
جب تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں آ جاتے تب تک الدجّال زمین میں ٹھہرے گا زمین میں رہے گا اور جب عیسیٰ علیہ السلام آ گئے ان کی بعثت ہو گئی تو الدجّال کے زمین پر ٹھہرنے کا وقت ختم ہو جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے من قبل المغرب یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو ان کے آگے صرف اور صرف المغرب ہو گی۔ مغرب یوم کے اختتام کے بعد دوسرے یوم کی ابتداء کو کہتے ہیں مغرب سے پہلے یوم کے اختتام کا وقت ہوتا ہے۔
امت محمد کو جو مدت دی گئی تھی اسے ایک یوم کہا گیا اس یوم یعنی اس مدت کی مغرب سے پہلے جس کا مطلب ہے کہ جو مدت اس امت کو دی گئی تھی اس کے بالکل آخر پر عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ان کے بعد جو ہو گا وہ اس مدت کا خاتمہ ہو گا جو مدت دی گئی تھی یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بعد الساعت قائم ہو گی جو کہ ایک عظیم زلزلہ ہو گا جس میں کوئی ایک بھی انسان نہیں بچے گا سب کے سب مارے جائیں گے۔ پھر آگے محمد علیہ السلام نے کہا مصدقاً بمحمد ﷺ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وہ محمد علیہ السلام کی ایک ایک بات کی تصدیق کریں گے انہی سے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی ایک پہچان یہ بھی ہو گی کہ وہ جب آئیں گے تو وہ محمد
علیہ السلام کی ایک ایک بات کی انہی کے کئی صدیوں قبل کہے ہوئے الفاظ سے ان کی تصدیق کریں گے۔
عیسیٰ علیہ السلام سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کو کھول کھول کر واضح کریں گے اور پھر محمد علیہ السلام کے صدیوں قبل کہے ہوئے الفاظ سے ہی ان کی تصدیق کریں گے خود کو امت محمد کہنے والوں پر واضح کریں گے کہ دیکھو یہی تو محمد علیہ السلام نے آج سے صدیوں قبل کہا تھا جو تمہیں آج تک نظر ہی نہ آیا، رات دن محمد محمد کی گردان کر رہے ہو ورد جپ رہے ہو محمد کے اللہ کا رسول ہونے کی گواہیاں دے رہے ہو رات دن محمد پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے زبانی دعوے کر رہے ہو اور یہ کہہ رہے ہو کہ جو محمد علیہ السلام نے کہا تھا وہ ایک ایک حرف سچ ہے اور ہم اسی کو مانیں گے تو لو یہ دیکھو یہی تو محمد نے کہا تھا جو آج میں تم پر کھول کھول کر
واضح کر رہا ہوں،۔
عیسیٰ علیہ السلام یاجوج اور ماجوج، الدجّال، النار،الدابۃ الارض، الدخانٍ، غزوہ ہند، فتح قسطنطنیہ، عربوں کی فتح، غزوہ اعماق اور دابق، روم کی فتح، مہدی، ذی القرنین، گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کیسے ہلاک ہوئی، الساعت کیا ہے، القارعہ، الحاقہ، التکویر وغیرہ سمیت جو کچھ بھی ہو گا سب کا سب کھول کھول کر واضح کر دیں گے، تمام تر علامات و اشراط الساعت کو کھول کھول کر واضح کر دیں گے اس طرح واضح کر دیں گے کہ دنیاکی کوئی طاقت ان کی کسی ایک بات کو بھی غلط ثابت نہیں کر سکے گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے اور پھر وہ محمد کے ہی صدیوں قبل کہے ہوئے الفاظ کیساتھ محمد کی تصدیق کریں گے کہ اے خود کو مسلمان کہلوانے والو، اے امت محمد ہونے کے دعویدارو دیکھو یہی سب تو محمد نے کہا تھا یوں محمد کے کہے ہوئے ایک ایک لفظ سے عیسیٰ رسول اللہ کی تصدیق ہو گی کہ یہی اللہ کا وہ رسول
ہے جس کے بارے میںمحمد علیہ السلام نے چودہ صدیاں قبل بشارت دی تھی ۔ (جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...