Friday, January 13, 2023

 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#94

یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گا کہ یہ جو دخانٍ ہیں یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کا نتیجہ ہیں اور ان کی وجہ سے آج تمہیں جن جن ہلاکتوں کا سامنا ہے جیسے کہ طرح طرح کی بیماریاں، تکالیف، جنگیں، زلزلے، سیلاب، طوفان، آندھیاں وغیرہ یہ سب تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کے رد اعمال تمہارے لیے تمہاری سزا ہیں اور جب اللہ کا رسول یہ سب واضح کر دے گا تب الدجّال کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس کا سورۃ الدخان میں بھی ذکر کیا گیا اور محمد علیہ السلام نے بھی اس روایت میں یہ بات واضح کر دی تھی کہ اللہ نے الدجّال کا زمین پر ٹھہرنا کب تک قانون میں کر دیا اسی کا آگے محمد علیہ السلام نے جواب دیا ثم یجی ء عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام من قبل المغرب محمد علیہ السلام نے عیسیٰ کے آنے کا کہا اور یہاں دہلا کر اور چونکا کر رکھ دینے والی بات یہ ہے کہ محمد علیہ السلام نے کہا کہ ایک عیسیٰ نہیں ہے بلکہ دو عیسیٰ ہیں ان دو میں سے ایک عیسیٰ نے آنا ہے جب تک کہ وہ نہیں آتا تب تک الدجّال دنیا میں دھندناتا پھرے گا اور جب عیسیٰ آ جائے گا تب الدجّال
کے زمین پر ٹھہرنے کی مدت ختم ہو جائے گی عیسیٰ کی موجودگی میں الدجّال کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
اب جو کہ ہم نے کہا کہ یہاں محمد علیہ السلام نے ایک نہیں بلکہ دو عیسیٰ کا ذکر کیا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس روایت میں کہاں ایک نہیں بلکہ دو عیسیٰ کا ذکر ہے ؟ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے روایت میں محمد علیہ السلام کے الفاظ کو دیکھیں اور ان میں غور کریں محمد علیہ السلام نے کہا ’’عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام‘‘ اگر تو ’’علیہ‘‘ ہوتا تو اس کا مطلب تھا کہ ایک ہی عیسیٰ ہے جس کا ذکر کیاجا رہا ہے لیکن یہاں ’’علیہ‘‘ نہیں بلکہ چونکا دینے والی بات ہے کہ یہاں
’’علیھما‘‘ کا استعمال کیا گیا جو کہ دو یا دو سے زائد یعنی جمع کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے نہ کہ واحد کے لیے۔
پھر دیکھیں اسی بات کو ایک اور موقع پر محمد علیہ السلام نے بالکل دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا جو کہ درج ذیل روایت آپ کے سامنے ہے۔
ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: حیاۃ عیسیٰ ھذہ الآخرۃ لیست کحیاتہ الاولیٰ یلقی علیہ مھابۃ الموت یمسح
وجوہ رجال ویبشرھم بدرجات الجنۃ۔ نعیم بن حماد
حیاۃ۔ جسمانی وجود، جو زندگی دی گئی، جس مواد سے جسم وجود میں آتا ہے اس مواد سے وجود میں آنے والا جسمانی وجود
مھابۃ۔ اسے ایک مثال سے سمجھ لیجئے مثال کے طور پر اگر آپ کسی کو کسی مشن پر بھیجتے ہیں جو کہ بہت مشکل و کٹھن مشن ہے جسے پورا کرنا انتہائی غیر معمولی بہادری کا کام ہو تو آپ اس مشن کو پوری جوانمردی سے کر کے تمام تر مشکلات کا جوانمردی سے مقابلے کرتے ہوئے پورا کر کے واپس پلٹتے ہیں تو آپ کو اس مشن پر بھیجنے والے کی نظر میں آپ کا جو عزت و مقام ہو گا جو عظمت ہو گی جو شان و شوکت ہو گی ، جیسے آج کوئی بہت بڑا معرکہ سر انجام دے کر آتا ہے تو واپسی پر اس کے لیے دوسروں کی نظروں میں جو مقام ہوتا ہے اسے مھابۃ کہتے ہیں اور مھابۃ الموت کے معنی ہیں کہ جس مقصد و مشن کو پورا کرنے کے لیے زندگی دی گئی
اسے اسی طرح پورا کر کے پوری شان و شوکت سے موت کو جا ملنا۔
یمسح۔ اپنے عمل، اپنے قول و فعل یا کسی بھی طرح کسی پر اثر انداز ہونا۔
وجوہ رجال۔ بالغ با اختیار مردوں کا جس کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے اس کی طرف اپنا رخ کیے ہوئے ہونا یعنی جو کچھ بھی دیا گیا مال، اولاد، ذہانت، کچھ کرنے کی صلاحیتیں، کوئی عہدہ و رتبہ تو ان سب کا یا ان میں سے کسی کا جس کو مقصد بنائے ہوئے ان کا استعمال کر رہے ہونا، اپنی توجہ وغیرہ اس کی طرف کیے
ہوئے ہونا۔
یمسح وجوہ رجال ۔ اپنے عمل، اپنے قول و فعل یا کسی بھی ذریعے سے بالغ با اختیار مردوں کی سمت پر اثر انداز ہونا کہ ان کی زندگی کی سمت بدل دینا، پہلے وہ جس کسی کو بھی یا جو بھی اپنا مقصد و مشن بنا کر اپنی تمام تر توجہ یا جو کچھ بھی دیا گیا اس کا اسی کی طرف رخ کیے ہوئے استعمال کر رہے ہوں تو اپنے عمل، قول، فعل یا
کسی بھی طریقے سے ان کی ڈائریکشن ان کے زندگی کے مقصد پر اثر انداز ہو جانا اسے بدل دینا۔
ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: حیاۃ عیسیٰ ھذہ الآخرۃ لیست کحیاتہ الاولیٰ یلقی علیہ مھابۃ الموت یمسح
وجوہ رجال ویبشرھم بدرجات الجنۃ۔ نعیم بن حماد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے النبی یعنی اللہ کے رسول نبی ﷺ سے سنا رسول اللہ ﷺ نے کہا: کہ اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ وہ عیسیٰ نہیں ہو گا جو پہلے آیا تھا، پہلے جو بنی اسرائیل میں عیسیٰ آیا تھا وہ الگ جسمانی وجود تھا اور اس امت کے آخر میں آنے والے عیسیٰ کا الگ جسمانی وجود ہو گا دونوں الگ الگ ہیں، پہلے یعنی بنی اسرائیل میں جو عیسیٰ آیاتھا اسے جس مقصد کے لیے دنیامیں بھیجا گیا تھا اس نے اس انتہائی مشکل و کٹھن مقصد کو پوری جوانمردی سے ڈٹ کر پورا کیا اور اس عظیم مقصد و مشن کو پوری ہمت، جذبے اور جوانمردی سے پورا کر کے ہی اس پر عظمت و جلال والی اور عالی شان عظیم موت ڈالی گئی۔ اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ ہرگز پہلے والا عیسیٰ نہیں ہو گا اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ اپنے کردار سے اپنی دعوت سے اپنے عمل سے اس کی دعوت کو تسلیم کرنے والے بالغ بااختیار مردوں کی زندگیوں پر ایسا اثر انداز ہو گا کہ انہوں نے اس سے پہلے جو اپنی ڈائریکشن طے کی ہوئی گی جو سمت طے کی ہوئی گی اور جو کچھ بھی انہیں دیا گیا اسی مقصد کی طرف رخ کر کے استعمال کر رہے تھے ااپنی تمام تر توجہ اسی کی طرف کی ہوئی ہو گی عیسیٰ ان کی سمت بدل دے گا ان کا رخ اللہ کی
طرف کر دے گا کہ وہ اس کا ساتھ دیکر اللہ کی نصرت کر کے درجات میں بلند ہوں گے عیسیٰ انہیں آگاہ کر دے گا کہ جنت میں ان کے درجات کیا ہیں۔

یہ روایت نہ صرف چونکا اور دہلا کر رکھ دینے والی ہے بلکہ اس میں بالکل واضح اور دو ٹوک الفاظ میں محمد علیہ السلام نے یہ بات واضح کر دی کہ عیسیٰ ایک نہیں بلکہ دو ہیں اوردونوں الگ الگ ہیں پھر یہ بات بھی واضح کر دی کہ وہ عیسیٰ جو پہلے آیا تھا یعنی جسے بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا اسے جس عظیم مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا اس نے انتہائی شاندار طریقے سے اس مقصد کو پورا کیا اس پر عظیم ، عالی شان، عظمت و جلال والی موت ڈالی گئی یعنی اس کی موت ہو چکی اور اس امت کے آخر
میں آنے والا عیسیٰ الگ ہوگا ، دوسرا ہو گا اور اس کی پہچان بھی واضح کر دی۔
اس کے علاوہ بھی ایسے ناقابل تردید اور لاجواب دلائل ہیں کہ عیسیٰ ایک نہیں بلکہ دو ہیں اور نہ صرف امت بنی اسرائیل کی طرف بھیجے جانے والے عیسیٰ ابن مریم کی موت ہو چکی بلکہ اس امت کے آخر میں آنے والا عیسیٰ الگ ہو گا جو کہ ابن مریم کی مثل ہو گا جب آگے بڑھیں گے تو عیسیٰ کے موضوع پر تفصیل کیساتھ بات کی جائے گی اور دنیا کی کوئی طاقت چاہ کر بھی اس کا رد نہیں کر سکے گی یعنی اس کو غلط ثابت نہیں کر سکے گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے اور ہر ایک پر کھل کھل کر
واضح ہو جائے گا کہ حق کیا ہے۔
اب آتے ہیں واپس اسی روایت کی طرف جس پر بات کی جا رہی تھی بات ہو رہی تھی الدجّال کے زمین پر ٹھہرنے کی کہ وہ زمین میں کب تک رہے گا تو اس کا جواب یوں دیا گیا تھا کہ جب تک کہ اس کا زمین پر ٹھہرنا اللہ نے قانون میں کر دیا پھر سوال یہ تھا کہ کب تک الدجّال کا زمین پر ٹھہرنا اللہ نے قانون میں کیا تو آگے اسی سوال کا جواب دیا گیا ثم یجی ء عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام من قبل المغرب پھر ٓائیں گے عیسیٰ علیہ السلام اور وہ عیسیٰ نہیں جو ابن مریم تھے جو پہلے آئے تھے جنہیں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا ان کی تو موت ہو چکی اس امت کے آخر میں دوسرے عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ، عیسیٰ ایک نہیں بلکہ دو ہیں ایک عیسیٰ ابن مریم یعنی جو مریم کا بیٹا تھا جو کہ سلف ہو چکا اور دوسرا ابن مریم کی مثل عیسیٰ جو اس امت کے آخر میں آئے گا ۔
جب تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں آ جاتے تب تک الدجّال زمین میں ٹھہرے گا زمین میں رہے گا اور جب عیسیٰ علیہ السلام آ گئے ان کی بعثت ہو گئی تو الدجّال کے زمین پر ٹھہرنے کا وقت ختم ہو جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے من قبل المغرب یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو ان کے آگے صرف اور صرف المغرب ہو گی۔ مغرب یوم کے اختتام کے بعد دوسرے یوم کی ابتداء کو کہتے ہیں مغرب سے پہلے یوم کے اختتام کا وقت ہوتا ہے۔
امت محمد کو جو مدت دی گئی تھی اسے ایک یوم کہا گیا اس یوم یعنی اس مدت کی مغرب سے پہلے جس کا مطلب ہے کہ جو مدت اس امت کو دی گئی تھی اس کے بالکل آخر پر عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ان کے بعد جو ہو گا وہ اس مدت کا خاتمہ ہو گا جو مدت دی گئی تھی یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بعد الساعت قائم ہو گی جو کہ ایک عظیم زلزلہ ہو گا جس میں کوئی ایک بھی انسان نہیں بچے گا سب کے سب مارے جائیں گے۔ پھر آگے محمد علیہ السلام نے کہا مصدقاً بمحمد ﷺ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وہ محمد علیہ السلام کی ایک ایک بات کی تصدیق کریں گے انہی سے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی ایک پہچان یہ بھی ہو گی کہ وہ جب آئیں گے تو وہ محمد
علیہ السلام کی ایک ایک بات کی انہی کے کئی صدیوں قبل کہے ہوئے الفاظ سے ان کی تصدیق کریں گے۔
عیسیٰ علیہ السلام سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کو کھول کھول کر واضح کریں گے اور پھر محمد علیہ السلام کے صدیوں قبل کہے ہوئے الفاظ سے ہی ان کی تصدیق کریں گے خود کو امت محمد کہنے والوں پر واضح کریں گے کہ دیکھو یہی تو محمد علیہ السلام نے آج سے صدیوں قبل کہا تھا جو تمہیں آج تک نظر ہی نہ آیا، رات دن محمد محمد کی گردان کر رہے ہو ورد جپ رہے ہو محمد کے اللہ کا رسول ہونے کی گواہیاں دے رہے ہو رات دن محمد پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے زبانی دعوے کر رہے ہو اور یہ کہہ رہے ہو کہ جو محمد علیہ السلام نے کہا تھا وہ ایک ایک حرف سچ ہے اور ہم اسی کو مانیں گے تو لو یہ دیکھو یہی تو محمد نے کہا تھا جو آج میں تم پر کھول کھول کر
واضح کر رہا ہوں،۔
عیسیٰ علیہ السلام یاجوج اور ماجوج، الدجّال، النار،الدابۃ الارض، الدخانٍ، غزوہ ہند، فتح قسطنطنیہ، عربوں کی فتح، غزوہ اعماق اور دابق، روم کی فتح، مہدی، ذی القرنین، گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کیسے ہلاک ہوئی، الساعت کیا ہے، القارعہ، الحاقہ، التکویر وغیرہ سمیت جو کچھ بھی ہو گا سب کا سب کھول کھول کر واضح کر دیں گے، تمام تر علامات و اشراط الساعت کو کھول کھول کر واضح کر دیں گے اس طرح واضح کر دیں گے کہ دنیاکی کوئی طاقت ان کی کسی ایک بات کو بھی غلط ثابت نہیں کر سکے گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے اور پھر وہ محمد کے ہی صدیوں قبل کہے ہوئے الفاظ کیساتھ محمد کی تصدیق کریں گے کہ اے خود کو مسلمان کہلوانے والو، اے امت محمد ہونے کے دعویدارو دیکھو یہی سب تو محمد نے کہا تھا یوں محمد کے کہے ہوئے ایک ایک لفظ سے عیسیٰ رسول اللہ کی تصدیق ہو گی کہ یہی اللہ کا وہ رسول
ہے جس کے بارے میںمحمد علیہ السلام نے چودہ صدیاں قبل بشارت دی تھی ۔ (جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Wednesday, January 11, 2023

 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#93

ویقول للناس أنا ربکم۔ اور کہہ رہا ہے لوگوں کو اس میں کچھ شک نہیں کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔
یہاں یہ بات ذہن میں ہونا بہت ضروری ہے کہ وہ کہے گا میں تمہارا ربّ ہوں اگر کوئی ربّ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ زبان سے یہ
کہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں بلکہ لفظ ربّ کے معنی سامنے ہوں گے تو بات بالکل واضح ہو جائے گی۔
ربّ کہتے ہیں ایسی ذات جو نہ صرف عدم سے وجود میں لائے بلکہ عدم سے وجود میں لا کر یعنی خلق کر کے مخلوق کا رزق یعنی جو جو بھی اس کی ضروریات ہیں اس کے کھانے ، پینے، پہننے، رہن سہن کی اشیائ، سفر کرنے کے ذرائع سمیت جو بھی ضروریات ہیں وہ خلق کر کے اسے فراہم کرے اور پھر اس پر واضح کرے کہ تمہیں وجود میں لانے کا مقصد کیا ہے یعنی تم نے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا، جو ذات بھی ایسا کر رہی ہو وہ اپنے عمل سے یہ اعلان کر رہی ہے کہ میں ربّ ہوں اور جن کے لیے وہ ذات ضروریات خلق کر رہی ہوتی ہے اپنے عمل سے انہیں یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں یعنی میں وہ ذات ہوں جس نے تمہیں وجود میں لایا اور میں ہی وہ ذات ہوں جسے علم ہے کہ تمہاری ضروریات کیا ہیں اور میں انہیں تمہارے لیے وجود میں لا رہا ہوں انہیں استعمال کرو اور میں تم پر واضح کر رہا ہوں کہ دنیا میں تمہاری موجودگی کا مقصد کیا ہے تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنااورپھر اس کے جواب میں جو لوگ اس کی خلق کردہ ضروریات کو استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے اسے اپنا ربّ تسلیم کر لیتے ہیں ان کا ربّ وہی ذات کہلائے گی خواہ وہ اپنی زبان سے رات دن کسی اور کے ربّ ہونے کے رٹے لگاتے رہیں۔ یعنی جس کی خلق کردہ ضروریات پر انحصار کیا جائے گا ، ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے جس پر انحصار کیا جائے گا جس پر توکل کیا جائے گاوہی آپ کا ربّ کہلائے گا اگر آپ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فطرت پر انحصار کرتے ہیں تو آپ کا ربّ فطرت یعنی اللہ ہے اور اگر اس کے علاوہ کسی اور پر انحصار کرتے ہیں تو جس پر انحصار کریں گے وہ آپ کا ربّ کہلائے گا اور اس کا آپ کی ضروریات خلق کر کے فراہم کرنا ہی اس کا یہ کہنا ہے کہ
میں تمہارا ربّ ہوں۔
الدجّال انسانوں کی تمام ضروریات خلق کرے گا ، انسان کے لیے خوراک وہ خلق کرے گا، پہننے کے لیے ، پینے کے لیے، سواری کے ذرائع نیز تمام کی تمام ضروریات زندگی خلق کرے گا اور انہیں دعوت دے گا کہ یہ ہیں تمہاری ضروریات انہیں استعمال کرو اور تمہارا دنیامیں وجود کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان ضروریات کو حاصل کرو اور ان سے مزے لوٹو ، جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا انہی کے پیچھے انہی کے حصول میں استعمال کرو یہی تمہاری زندگی کا مقصد ہے اور جو انسان اللہ کے علاوہ کسی اور کی خلق کردہ ضروریات کو اختیار کرے تو جس کی خلق کردہ ضروریات کو اختیار کرے وہی اس کا ربّ کہلائے گا اس کے لیے ضروری نہیں کہ زبان سے کہا جائے کہ فلاں میرا ربّ ہے بلکہ ربّ اس ذات کو کہتے ہیں جس کی خلق کردہ ضروریات کو استعمال کر کے زندگی گزاری جائے۔ تو آج پوری دنیا میں ٹیکنالوجی سے انسان کی تمام کی تمام ضروریات نہ صرف اللہ کے مقابلے پر خلق کی جا رہی ہیں بلکہ یہی ٹیکنالوجی میڈیا کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے انسانوں کو دعوت دے رہی ہے کہ مجھے اپنا ربّ بناؤ اور جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا مال ہو، اولاد ہو، ذہانت ہو، صلاحیتیں ہوں یا کوئی عہدہ و رتبہ وغیرہ ہو سب کا اسی الدجّال کے حصول کے لیے استعمال کرو اور آج تقریباً تمام انسانوں نے اللہ کے مقابلے پر اسی ٹیکنالوجی کو اپنا ربّ بنایا ہوا ہے اور کسی کو اس کا ادراک تک نہیں۔
فمن قال: انت ربی، فقد فتن۔ پس جس نے جواب دیا تُو ہی میرا ربّ ہے پس تحقیق وہ فتنے میں پڑ گیا۔
پھر وہی بات ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کوئی آ کر زبان سے یہ کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں تو آگے سے زبان سے جواب دیا جائے گا ہاں یا ناں۔ اکثریت زبان سے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے تو کیا کبھی ایسا ہوا کہ اللہ نے سامنے آ کر یا زبان سے کبھی کسی کو یہ کہا ہو کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ اور اگر کہا تو کیسے کہا؟
پہلی بات کہ سب سے پہلے تو یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ ہے کیا اس کا ربّ ہونا کیا ہے وہ کیسے ربّ ہے؟ جب یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کیا ہے جو کہ یہی وجود جو کچھ بھی آپ کو نظر آ رہا ہے یہ اللہ ہی کا وجود ہے یہی آپ کا ربّ ہے یعنی ذرا غور کریں کیا یہی وجود جسے آپ کائنات کا نام دیتے ہیں یہی آپ کو عدم سے وجو د میں نہیں لایا؟ کیا یہی آپ کی تمام تر ضروریات خلق کر کے مہیا نہیں کر رہا؟ اسی نے آپ کو تمام اعضاء نہیں دیئے؟ یہی وجود آپ کو آکسیجن فراہم نہیں کر رہا؟ کیا یہی وجود آپ کوآپ کا رزق فراہم نہیں کر رہا؟ کیا یہی وجود بارشیں نہیں برساتا؟ یعنی جب یہی وجود یہ سب کر رہا ہے تو پھر ربّ کون ہوا؟ اللہ کون ہوا؟
بالکل واضح ہے کہ یہی وجود جو نظر آ رہا ہے یہ اللہ ہی کا وجود ہے یہ اللہ ہی کی ذات نظر آ رہی ہے ۔ جہاں تک بھی آپ کی رسائی ہے اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ہے
ہی نہیں ایک ہی وجود ہے اور جو وجود ہے اللہ کا وجود ہے۔
اب ذرا غورکریں کہ اس وجود نے آپ کو کیسے کہا کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ یعنی پیچھے ماضی میں چلے جائیں جب انسان صرف اور صرف اسی وجود اللہ یعنی فطرت کے محتاج تھے تو کیا کوئی آواز آ رہی تھی کہ میں تمہارا ربّ ہوں یا پھر یہ وجود اپنے عمل سے آپ کا ربّ ہونے کا دعویدار ہے اور آپ اسے اپنا ربّ بنائے
ہوئے تھے۔
اور اس کے علاوہ آپ کی زبان میں بھی اس وجود نے آپ کو کہا آپ کو دعوت دی کہ میں تمہارا ربّ ہوں جب انسانوں نے اللہ کے مقابلے پر کسی کو اس کا شریک مقرر کرتے ہوئے اسے اپنا ربّ بنایا تب اللہ اپنی زبان یعنی یہ جو وجود ہے انسان چونکہ بشر ہیں تو انہی میں سے ایک بشر کے ذریعے ان کی اپنی زبان میں کہتا
ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔
تو جیسے اصل ربّ اپنے ربّ ہونے کا دعویدار ہے ایسے ہی نقل ربّ الدجّال نے اپنے ربّ ہونے کا دعویٰ کرنا تھا ایک عمل سے اور دوسرا اپنے نمائندوں یعنی اپنے
رسولوں کے ذریعے انسانوں کو اپنے ربّ ہونے کی دعوت دینا تھی۔
اللہ کو ربّ تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ہر لحاظ سے اللہ پر ہی توکل کیا جائے فطرت پر قائم ہوا جائے یعنی جو ضروریات اللہ نے آپ کے لیے خلق کیں جب صرف اور صرف انہی کو استعمال کیا جائے گا تو یہ آپ کا اپنے عمل سے اللہ کو اپنا ربّ تسلیم کرنا ہو گا اور اللہ کے علاوہ جو بھی ربّ ہونے کا دعویدار ہو گا اس کا کفر ہو گا ورنہ جس کا خلق کردہ یا مہیا کردہ اختیار کیا جائے گا وہی ربّ کہلائے گا خواہ زبان سے دعویٰ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
اللہ کے مقابلے پر ایک ہی ایسی ذات ہے جو پوری دنیا میں انسان کی تمام کی تمام ضروریات خلق کر رہی ہے اور وہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے وجود سے پہلے صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات ایسی تھی جو واحد خالق تھا لیکن ابھی اللہ کے ساتھ اس کے تمام کاموں میں اس ٹیکنالوجی کیساتھ شریک ہوا جا رہا ہے۔
تقریباً دنیا کے تمام انسانوں نے اسے اپنا ربّ بنایا ہوا ہے لیکن کوئی بھی غورو فکر کرنے کو تیار ہی نہیں۔
آج یہ ٹیکنالوجی اپنے عمل کے ذریعے انسانوں کا ربّ ہونے کی دعویدار ہے اور پھر انسانوں کی اپنی زبان میں اپنے نبیوں یعنی میڈیا کے ذریعے اسے ربّ بنانے کی دن رات دعوت دے رہی ہے اور انسانوں کی کثیر تعداد اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسے اپنا ربّ تسلیم کر چکی ہے۔
ومن قال: اللہ ربی، حتی یموت علی ذلک فقد عصم من فتنۃ الدجال ولا فتنۃ بعدہ علیہ ولا عذاب۔ اور جس نے کہا اللہ میرا ربّ ہے یعنی جس نے صرف اور صرف اللہ ہی کی خلق کردہ ضروریات کو اختیار کیا یعنی فطرت پر قائم ہو گیا ہر لحاظ سے فطرت پر ہی انحصار کیا یہاں تک کہ اس کی اسی پر موت ہو گئی پس تحقیق وہ بچ گیا فتنہ الدجّال سے، الدجّال کو اپنا ربّ تسلیم کرنے سے یعنی امتحان سے اور نہ ہی اس کے بعد اس پر کوئی امتحان ہو گا اور نہ ہی
عذاب یعنی سزا۔
آج موجودہ دور میں صرف اور صرف اللہ کو اپنا ربّ بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ آج الدجّال پوری زمین پر دھندناتا پھر رہا ہے ہر طرف الدجّال کی ہی آیات نظر آ رہی ہیں یعنی غیر فطرتی اشیائ، اب ایسی صورت حال میں ایسے میں اگر اللہ کو اپنا ربّ بنایا جائے گا تو زندگی قید خانے سے بھی بد تر ہو جائے گی کیونکہ باقی ضروریات تو بعد کی بات ہے ایک مومن کے لیے کچھ بھی کھانے کو طیب نہیں رہا۔ آج تقریباً پوری زمین پر ساری کی ساری خوراک اسی الدجّال کے قبضے میں ہے یعنی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی اگائی اور تیار کی جا رہی ہے انسانوں کا رزق یعنی تمام کی تمام ضروریات اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی وجود میں لائی جا رہی ہیں سب کا سب مصنوعی ہے غیر فطرتی اور اسی وقت کے لیے آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ ایک مومن کے لیے کھانے کو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اگر کوئی مومن ہو تو اسے اندازہ ہو گا کہ ہاںمحمد علیہ السلام نے بالکل سچ کہا تھا آج مومن کے لیے کھانے کو کچھ بھی نہیں بچا، مومن کہتے ہیں وہ جو دل سے اللہ کے احکامات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل کرتا ہے ہر کام وہی اور ویسے ہی کرتا ہے جیسے اس کے ربّ اللہ کا اسے حکم ہے اب اللہ نے حکم دیا کہ تمہارے لیے طیبات کو حلال کیا یعنی تمہارا رزق طیبات ہیں اگر شئے طیب ہے تو حلال ہے یعنی اس کے استعمال کی اجازت ہے اگر طیب نہیں تو حرام ہے یعنی اس کے استعمال
کی اجازت نہیں دی گئی۔
آج پوری دنیا میں کچھ بھی طیب نہیں رہا ہر طرف خبائث ہی خبائث ہیں یعنی یا تو مصنوعی ہے غیر اللہ کا یا پھر فطرت میں چھیڑ چھاڑ کر کے اس میں پنگے لیکر اسے خراب کر دیا گیا اسے ایسا بنا دیا گیا کہ اس کے استعمال سے فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔ اب ایسی صورت حال میں ایک مومن ہی جانتا ہے کہ اس وقت دنیامیں زندہ رہنا ، دین پر ڈٹ جانا کتنا عظیم امتحان ہے اور جو نہ صرف الدجّال کے ربّ ہونے کا عملاً کفر کرتے ہوئے یعنی انکار کرتے ہوئے اللہ کو اپنا ربّ بنائے گا بلکہ اس پر ڈٹ جائے گا تو نہ صرف وہ فتنہ الدجّال سے بچ گیا بلکہ اس کے بعد نہ ہی اس کو کسی اور فتنے میں ڈالا جائے گا یعنی اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جائے گا اور پھر نہ ہی اسے آخرت میں کوئی عذاب یعنی سزا دی جائے گی کیونکہ اللہ کو ربّ بنانے اور اس پر ڈٹ جانے سے وہ عفو و غفر ہو جائے گا اس کے ماضی
کے جتنے بھی جرائم تھے وہ ختم ہو جائیں گے۔
آج جو حالات ہیں کہ الدجّال پوری دنیا میں دھندناتا پھر رہا ہے یہ حالات دنیا کے تب تک رہیں گے جب تک اللہ کے قانون میں ہو گا جیسا کہ محمد علیہ السلام نے کہا فیلبث فی الأرض ما شاء اللہ پس رہے گا زمین میں جو اللہ کا قانون ہے یعنی الدجّال کا زمین میں ٹھہرنا اللہ کے قانون میں متعین ہے جب تک اس کا زمین پر ٹھہرنا کیا جا چکا تب تک رہے گا اور جب وہ وقت ختم ہو جائے گا تو الدجّال کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اسے ختم کر دیا جائے گا۔
یہ دجل اس وقت تک زمین میں رہے گا زمین کے حالات اس وقت تک ایسے رہیں گے جب تک کہ اللہ کے قانون میں ایسا رہنا ممکن ہے اور اس کا جواب قرآن میں سورت الدخان میں بھی موجود ہے یہ حالات اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ آسمان یعنی زمین کے گرد فضا انسان کے اپنے ہی اعمال کے سبب دخانٍ یعنی طرح طرح کی زہریلی گیسوں سے نہ بھر جائے جو انسانوں کو ڈھانپ لے اور اس کی وجہ سے انسان طرح طرح کی ہلاکتوں کا سامنا کریں۔ جب دنیا میں ایسے حالات ہوں گے جو کہ آج یہ سب حالات ہو چکے ہیں تو تب اللہ ان میں انہی سے اپنا رسول بعث کرے گا جیسے کہ اس کا قانون ہے اور اللہ اپنے اس رسول کے ذریعے سب کچھ کھول کھول کر واضح کر دے گا جیسے ہی رسول کھول کھول کر سب کچھ واضح کر دے گا تو الدجّال کے زمین پر ٹھہرنے کی مدت ختم ہو
جائے گی۔ (جاری ہے)۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Sunday, January 8, 2023

WARNING FROM MOTHER NATURE



قسط نمبر#92

ویحی الموتی۔
قرب قیام الساعت اشراط الساعت میں سے ایک بڑی شرط الدجّال حی کر رہا ہے موت کو ۔
اس کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلا دی جا چکی ہے کہ الدجّال وفات شدہ لوگوں کو جو وفات پاکر گڑھوں میں جا چکے ہیں جنہیں زمین میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا جاتا ہے ان کو ان گڑھوں سے نکال کر بالکل پہلے جیسے جیتا جاگتا زندہ کرے گا۔ یہ بات بالکل غلط ، بے بنیاد اور باطل ہے جس کا حقیقت کیساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں نہ ہی محمد علیہ السلام نے کسی ایک بھی موقع پر ایسا کہا یہاں تک کہ کوئی ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہا کہ جس سے ایسا کوئی تاثر ملتا ہو بلکہ یہ
سب کا سب علماء کے نام پر جہلاء کے کارنامے ہیں جو انہوں نے خوب جہالت پھیلائی۔
موت کو حی کرنے سے مراد یہ کہ الدجّال وفات شدگان کو زندہ یعنی جیتا جاگتا کرے گا ایسی کوئی بات نہ توذخیرہ روایات میں ہے جنہیں یہ لوگ احادیث کا نام دیتے ہیں اور نہ ہی قرآن میں آپ کوکہیں ملے گی بلکہ روایات میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں ’’یحی الموتی‘‘ جس کے معنی ہیں موت کا حیات کیا جا رہا ہونا ۔ جو الفاظ الدجّال کے بارے میں کہے گئے بالکل وہی الفاظ قرآن میں اللہ نے کئی مقامات پر اپنے لیے استعمال کیے جنہیں آپ درج ذیل آیات میں
دیکھ سکتے ہیں۔
ھُوَ الْحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی۔ الحج ۶
ھُوَ الحق ہے یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے تو جو وجود سامنے آئے یہی وجود اللہ کی ذات ہے یہی وجود حق ہے اگر کوئی اس وجود کا انکار کرتا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو اللہ قرار دیتا ہے یا اس وجود کے علاوہ کسی اور وجود کا دعویدار ہے تو اس کا کوئی وجود نہیں وہ حق نہیں وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی اور اس میں کچھ شک نہیں یہ جو وجود موجود ہے یعنی ھُوَ یہی حی کر رہا ہے موت کو۔
موت۔ موت کہتے ہیں اس مواد کو جس سے مخلوقات کو وجود میں لایا جا تا ہے جو کہ چھوٹے چھوٹے ذرات میں پوری دنیا میں بکھرا پڑا ہے اور اس سے بھی پیچھے
وہ گیسوں کی صورت میں کائنات میں موجود ہے۔
حی۔ حی کہتے ہیں مواد کو یعنی ان ذرات کو کوئی نہ کوئی صورت دینا انہیں جمع کرتے ہوئے ان سے کوئی وجود وجود میں لے آنا ، انہیں کسی خلق میں بدل دینا۔
وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی اور اس میں کچھ شک نہیں یہ جو وجود موجود ہے یعنی ھُوَ یہی حی کر رہا ہے موت کو یعنی اس میں کچھ شک نہیں یہ جو وجود موجود ہے جو کچھ بھی موجود ہے یہی وجود ہے جو موت کو یعنی چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل مواد کو مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے انہیں کسی نہ کسی مخلوق کی شکل میں ڈھال رہا ہے
انہیں کوئی نہ کوئی صورت دے رہا ہے۔
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی۔ یٰس ۱۲
اس میں کچھ شک نہیں ہم ہی ہیں ہم حی کر رہے ہیں موت کو۔
وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی۔ الشوریٰ ۹
اور ھُوَ حی ہو رہا ہے جو موت تھی، اور ھُوَ حی کر رہا ہے موت کو ، اور ھُوَ تھا موت جو حی ہو رہا ہے۔
یعنی دیکھو تمہارے علاوہ اور کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو وجود سامنے آئے اللہ ہی سامنے آئے گا یہی ذات ہے یہی وجود ہے جو خالق، مخلوق اور جس سے خلق کیا جا رہا ہے تینوں صورتوں میں سامنے آئے گا، تینوں کو ایک کرو گے تو اللہ ہے اگر
الگ کرو گے تو خلق، خالق اور مخلوق بن جائے گی۔
آپ نے دیکھا ان آیات میں اللہ نے وہی الفاظ اپنے لیے استعمال کیے جو محمد علیہ السلام نے الدجّال کے لیے استعمال کیے اور اللہ نے نہ صرف قرآن میں ان
الفاظ کا استعمال کیا بلکہ ابالکل کھول کھول وضاحت بھی کر دی کہ اللہ کیسے یحی الموتی کر رہا ہے؟
وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۔ البقرۃ ۱۶۴
اور جو اتارا کیا ہے؟ اللہ ہے آسمان یعنی فضا سے پانی سے پس اس پانی کیساتھ حیا کیا زمین کو اس کی موت کے بعد اور اس کیساتھ پھیلائے اس میں تمام کے تمام
دابہ سے یعنی جتنی بھی حرکت کرنے والی مخلوقات ہیں جو تیر کر، رینگ کر، چل کر اور اڑ کر حرکت کرتی ہیں۔
وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا۔ النحل ۶۵
اور اللہ ہے کیا ہے جو اتارا آسمان سے پانی سے پس اس کیساتھ حیا کی زمین کو اس کی موت کے بعد۔
یہ دو آیات ہیں ان کے علاوہ اسی بات کو درجنوں آیات میں مختلف پہلوؤں سے پھیر پھیر کر سامنے لایا گیا کہ فضا سے خلا سے پانی زمین پر اترتا ہے اس پانی کیساتھ زمین میں مختلف مخلوقات جو اپنی موت یعنی ذرات کی صورت میں بکھری پڑی ہوتی ہیں جو کہ ان کی موت ہے یعنی مخلوقات اپنی حالت موت میں ہوتی ہیں انہیں حی کیا یعنی ان ذرات کو پانی کیساتھ مختلف مراحل سے گزار کر مخلوقات کی صورت میں وجود دے دیا ان کے اجسام کا حصہ بنا دیا۔ جیسے ہی آسمان سے پانی اترا تو اس پانی کیساتھ زمین میں وہ عناصر مختلف کیمیائی عوامل سے گزر کر نباتات کی صورت اختیار کرتے ہیں جیسے کہ طرح طرح کے پھل ، سبزیاں، اناج وغیرہ جو کہ مخلوقات کا رزق ہوتا ہے آپ کا رزق ہوتا ہے ان نباتات یعنی اس رزق سے پھر جاندار وجود میں آتے ہیں جن میں بذات خود یہ بشر بھی ہے یعنی آپ
بھی ہیں۔ اس کا ذکر بھی اللہ نے قرآن میں کر دیا جیسا کہ آپ درج ذیل آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ۔ البقرۃ ۲۲
اور کیا اتارا آسمان سے یعنی خلا سے؟ پانی اتارا پس اس پانی کیساتھ نکالے زمین سے ثمرات یعنی طرح طرح کی فصلیں، پھل، سبزیاں ، اناج وغیرہ جو کہ رزق
ہے تم کا یعنی وہ مواد جس مواد کی تمہارے اجسام کو ضرورت ہوتی ہے جن عناصر پر مشتمل مواد سے تمہارا جسم بن رہا ہے۔
یہ بالکل مختصراً آپ کے سامنے رکھا گیا کہ اللہ کیسے موت کو حیا کر رہا ہے اور یہ ہے موت کو حیا کرنا۔
یہی اللہ نے انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سورۃ الروم کی آیت نمبر ۵۰ میں کہا۔
فَانْظُرْ اِلٰٓی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔ الروم ۵۰
سورۃ الروم کی اس آیت میں اللہ کا یہی کہنا ہے کہ پس کیا دیکھا؟ زمین میں جو بھی قیمتی ترین عناصر ہیں جیسے کہ لوہا، تانبہ، گندھک وغیرہ سمیت جو بھی زمین کے عناصر ہیں جنہیں تم معدنیات کا نام دیتے ہو یا زمین کے عناصر کا نام دیتے ہو اللہ کی رحمت ہے یعنی ان سے ہی تمہیں ہر طرح کی تکالیف سے محفوظ رکھا جا رہا ہے انہی سے نہ صرف تمہیں خلق کیا جا رہا ہے بلکہ انہی سے تمہاری تمام تر ضروریات وجود میں لائی جا رہی ہیں جیسے کہ تمہیں سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے، تمہارا جسم انہی عناصر سے وجود میں لایا گیا تو تمہارے جسم کو انہی عناصر کی ضرورت ہے اگر وہ عناصر تمہارے جسم کو نہ ملیں تو تمہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا ان کے عدم سے ممکنہ تمام تر تکالیف سے انہی کے ذریعے تمہیں محفوظ کیا گیا، تو کیا دیکھا ؟ یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ یہ جو ہو رہا ہے جیسے ہو رہا ہے یعنی زمین کے عناصر جن جن مراحل سے گزر کر مختلف مخلوقات کی صورت اختیار کر رہے ہیں بذات خود تم وجود میں آ رہے ہویہ ہے اللہ کا ارض کی موت کے بعد اسے حیا کرنا کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا دیکھا کیسے اللہ حی کر رہا ہے ارض کو اس کی موت کے بعد یعنی یہ جو تم نے دیکھا اس طرح اللہ موت کا حی کر رہا
ہے یہ ہے موت کا حی ہونا۔
یعنی آپ کو اپنی ہی ذات میں غوروفکر کا بار بار کہا گیا کہ غور کرو تمہیں کیسے خلق کیا گیا؟ تمہیں کیسے خلق کیا جا رہا ہے؟ جب آپ غور کریں گے تو آپ پر ساری
حقیقت کھل کر واضح ہو جائے گی کہ اللہ کیسے موت کو حیاکر رہا ہے۔
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ البقرۃ ۲۸
آپ پہلے اموات تھے یعنی آپ کو جن عناصر پر مشتمل مواد سے وجود میںلایا گیا جن عناصر پر مشتمل مواد کو آپ کی صورت میں ڈھالا گیا وہ عناصر آپ کو وجود میں لانے سے پہلے ذرات کی صورت میں پوری دنیا میں بکھرے پڑے تھے اور پھر کیسے انہیں مختلف مراحل سے گزار کر تمہاری صورت میں وجود دیا جا رہاہے پھر
موت کیا جا رہا ہے پھر حیا کیا جا رہا ہے پھر اسی وجود میں واپس پلٹایا جا رہا ہے جس سے وجود میں لائے گئے ۔
آپ کو جتنی بھی جاندار مخلوقات نظر آ رہی ہیں یہ سب کی سب زمین کی حیات ہے جن میں آپ بھی آتے ہیں آپ سمیت یہ تمام کی تمام جاندار مخلوقات پہلے موت تھیں یعنی جس مواد سے انہیں وجود میں لایا گیا وہ مواد جن عناصر پر مشتمل ہے وہ عناصر ذرات کی صورت میں پوری زمین میں بکھرے پڑے تھے پھر ان ذرات پر مشتمل عناصر کو کیسے مختلف مراحل سے گزار کر انہیں کسی نہ کسی مخلوق کی صورت میں ڈھالا جا رہا ہے یعنی حیا کیا گیا اور حیا کیا جا رہا ہے؟ یہ ہے موت کو حیا کرنا نہ
کہ گڑھوں میں مدفون وفات شدگان کو گڑھوں سے نکال کر پہلے جیسا جیتا جاگتا زندہ کرنا حی کرنا کہلاتا ہے موت کو۔
اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی
اس میں کچھ شک نہیں وہ تھا اللہ کا موت کو حیا کرنا یعنی جو آپ نے غوروفکر کرنے سے دیکھا جو آپ کے سامنے آیا وہ تھا اللہ کا موت کو حی کرنا نہ کہ گڑھوں میں
مدفون وفات شدہ لوگوں کو گڑھوں سے نکال کر انہیں پہلے جیسا جیتا جاگتا کر دینا۔
اور ایسے ہی الدجّال نے حی کرنا تھا موت کو، الدجّال نے بھی آسمان سے پانی برسانا تھا یعنی بارشیں برسانا تھیں ، اوپر سے زمین پر پانی چھڑکنا تھا پھر اس پانی سے زمین سے نباتا ت نے نکلنا تھا ان نباتات نے نکلنا تھا وہ نباتات انسانوں کا رزق ہونا تھا اس رزق سے لوگوں نے اپنے اجسام بنانا تھے، اس کے علاوہ جیسے اللہ ان عناصر کو مختلف مراحل سے گزار کر رزق بناتا ہے جسے مخلوقات استعمال کرتی ہیں بالکل ایسے ہی الدجال نے بھی زمین کے عناصر کو مختلف مراحل سے گزار کر اس سے رزق وجود میں لانا تھا تو ذرا غور کریں کیا آج ایسا ہو رہا ہے؟ اگر تو نہیں ہو رہا تو ابھی الدجّال نہیں نکلا اور اگر ایسا ہو رہا ہے اور جس کیساتھ کیا جا رہا ہے وہ الدجّال ہے اور جو رزق ہے وہ بھی الدجّال ہے ایسا سب کا سب جو غیر فطرتی ہے وہ الدجال ہے اور جب غور کیا جائے اپنے ارد گرد دیکھا جائے تو ہاں
بالکل آج ایسا سب کچھ ہو رہا ہے۔
الدجّال جو کہ انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے ترقی و خوشحالی کے نام پر خلق کردہ طرح طرح کی مخلوقات ہیں یعنی مشینیں ہیں ، ایجادات ہیں مصنوعات ہیں ٹیکنالوجی ہے ان سے بارشیں برسائی جا رہی ہیں، بلندی سے زمین پر بارشوں کی مانند پانی اتارا جا رہا ہے جس سے نباتات نکلتی ہیں وہ نباتات رزق ہوتا ہے
لوگوں کا اور لوگ اسے اپنا رزق بناتے ہیں۔
ایسے ہی وہ عناصر جن سے آپ کو وجود میں لایا گیا انہیں الدجّال سے ہی زمین سے نکال کر مختلف مراحل سے گزار کر آپ کا رزق وجود میں لایا جا رہا ہے آپ کی ضرورت کی اشیاء وجود میں لائی جا رہی ہیں، زمین سے طرح طرح کے عناصر کو نکالا جاتا ہے جو کہ موت ہوتی ہے پھر ان عناصر کو مختلف مراحل سے گزار کر انہیں کوئی نہ کوئی خلق کی شکل دے دی جاتی ہے یعنی موت کو اللہ کے مقابلے پر حی کیا جا رہاہے، یہ سب کا سب آج آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔
اپنے ارد گرد دیکھیں کہ ایک طرف فطرت ہے اور دوسری طرف فطرت کی ضد، فطرت میں تبدیلی کر کے مخلوقات کو وجود میں لایا گیا اب جو فطرت نہیں ہے تو وہ کیا
ہے؟ وہ کس کا ہے؟ ظاہر ہے یہی تو الدجّال ہے ، یہی تو الدجّال رزق ہے۔
آج یہ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور یہ سب ٹیکنالوجی سے ممکن ہوا، ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف طریقوں سے بارشیں برسائی جا رہی ہیں
اور زمین کو اس کی موت کے بعد حیا کیا جا رہا ہے۔ (جاری ہے)۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Friday, January 6, 2023

 WARNING FROM MOTHER NATURE



قسط نمبر#91

رسول اللہ ﷺ قال: انہ فی بحر الشام أو بحر الیمن۔ لا، بل من قبل المشرق ما ھو من قبل المشرق ما ھو من قبل المشرق ما
ھو وأومأ بیدہ الی المشرق۔ مسند احمد
رسول اللہ ﷺ نے کہا : اس میں کچھ شک نہیں وہ یعنی الدجّال شام کے سمندر میںہے، اور کہاں ہے یمن کے سمندر میں ہے۔ نہیںبلکہ مشرق کی سمت سے، نہیں جو کچھ بھی الدجّال ہے وہ مشرق کی سمت سے ، نہیں جو کچھ بھی الدجّال ہے وہ مشرق کی سمت سے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
آج اگر آپ بحر شام یعنی شام کے سمندر کو دیکھیں تو وہاں ٹیکنالوجی سے لیس الدجّال کے حمار یعنی بڑے بڑے بحری جہاز جو کہ الدجّال ہے کھڑے ہیں اور بحر یمن یعنی یمن کے سمندر میں بھی اور جیسا کہ پیچھے یہ بات بھی واضح ہو چکی کہ الدجّال یعنی ٹیکنالوجی مشرق سے ہی نکل رہی ہے یوں اس روایت میں محمد علیہ
السلام کا ایک ایک لفظ سچا ثابت ہوتا ہے۔
محمد علیہ السلام کا یہ کہنا کہ وہ بحر شام میں ہے پھر بحر یمن میں کہنا اور پھر کہنا کہ نہیں بلکہ مشرق سے نکلے گا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ محمد علیہ السلام خود ہی ایک بات کر کے اس کی تردید کر رہے ہیں بلکہ یہ وقت پر منحصر ہے کہ ایک وقت میں ایک جگہ سے نکل رہا ہے پھر دوسرے وقت میں دوسری جگہ اسی طرح کسی تیسری جگہ
سے بھی۔ عربی کا اسلوب ہی یہی ہے کہ جب ایسا معاملہ ہو تو بات ایسے ہی کی جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ قال: بل ھو فی بحر العراق، یخرج حین یخرج من بلدۃ یقال لھا اصبہان ۔کنزالعمال
رسول اللہ ﷺ نے کہا: بلکہ جو کچھ بھی الدجّال ہے عراق کے سمندر میں ہے نکلنے کے وقت نکلے گا کہا جاتا ہے اس کو اصبھان۔
رسول اللہ ﷺ قال: یخرج الدجال من العراق۔ نعیم بن حماد
رسول اللہ ﷺ نے کہا: الدجّال نکلے گا عراق سے۔
روایات میں ان مقامات کے علاوہ بھی کچھ مقامات کا ذکر آیا ہے اور جن جن مقامات کا ذکر آیا ہے بالکل انہی مقامات سے آج خام تیل نکل رہا ہے جس سے دنیا آج جنت اور جہنم کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اسی خام تیل سے تمام کی تمام مصنوعات بن رہی ہیں اور اسی خام تیل سے آگ و بارود بن رہا ہے۔ جو اس ٹیکنالوجی کو یعنی الدجّال کو اپنا ربّ بناتے ہیںان کے لیے دنیا جنت بن چکی ہے اور جو اس کے ربّ ہونے کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے ربّ ہونے کا کفر کرتے ہوئے اللہ کو اپنا ربّ بناتے ہیں تو ان کے لیے اس دنیا میں کچھ بھی نہیں سوائے آگ و بارود کے۔ یہی الدجّال ہے اور یہی اس کی جنت و جہنم ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Wednesday, January 4, 2023

WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#90

رسول اللہ ﷺ قال: انہ فی بحر الشام أو بحر الیمن۔ لا، بل من قبل المشرق ما ھو من قبل المشرق ما ھو من قبل المشرق ما
ھو وأومأ بیدہ الی المشرق۔ مسند احمد
رسول اللہ ﷺ نے کہا : اس میں کچھ شک نہیں وہ یعنی الدجّال شام کے سمندر میںہے، اور کہاں ہے یمن کے سمندر میں ہے۔ نہیںبلکہ مشرق کی سمت سے، نہیں جو کچھ بھی الدجّال ہے وہ مشرق کی سمت سے ، نہیں جو کچھ بھی الدجّال ہے وہ مشرق کی سمت سے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
آج اگر آپ بحر شام یعنی شام کے سمندر کو دیکھیں تو وہاں ٹیکنالوجی سے لیس الدجّال کے حمار یعنی بڑے بڑے بحری جہاز جو کہ الدجّال ہے کھڑے ہیں اور بحر یمن یعنی یمن کے سمندر میں بھی اور جیسا کہ پیچھے یہ بات بھی واضح ہو چکی کہ الدجّال یعنی ٹیکنالوجی مشرق سے ہی نکل رہی ہے یوں اس روایت میں محمد علیہ
السلام کا ایک ایک لفظ سچا ثابت ہوتا ہے۔
محمد علیہ السلام کا یہ کہنا کہ وہ بحر شام میں ہے پھر بحر یمن میں کہنا اور پھر کہنا کہ نہیں بلکہ مشرق سے نکلے گا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ محمد علیہ السلام خود ہی ایک بات کر کے اس کی تردید کر رہے ہیں بلکہ یہ وقت پر منحصر ہے کہ ایک وقت میں ایک جگہ سے نکل رہا ہے پھر دوسرے وقت میں دوسری جگہ اسی طرح کسی تیسری جگہ
سے بھی۔ عربی کا اسلوب ہی یہی ہے کہ جب ایسا معاملہ ہو تو بات ایسے ہی کی جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ قال: بل ھو فی بحر العراق، یخرج حین یخرج من بلدۃ یقال لھا اصبہان ۔کنزالعمال
رسول اللہ ﷺ نے کہا: بلکہ جو کچھ بھی الدجّال ہے عراق کے سمندر میں ہے نکلنے کے وقت نکلے گا کہا جاتا ہے اس کو اصبھان۔
رسول اللہ ﷺ قال: یخرج الدجال من العراق۔ نعیم بن حماد
رسول اللہ ﷺ نے کہا: الدجّال نکلے گا عراق سے۔
روایات میں ان مقامات کے علاوہ بھی کچھ مقامات کا ذکر آیا ہے اور جن جن مقامات کا ذکر آیا ہے بالکل انہی مقامات سے آج خام تیل نکل رہا ہے جس سے دنیا آج جنت اور جہنم کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اسی خام تیل سے تمام کی تمام مصنوعات بن رہی ہیں اور اسی خام تیل سے آگ و بارود بن رہا ہے۔ جو اس ٹیکنالوجی کو یعنی الدجّال کو اپنا ربّ بناتے ہیںان کے لیے دنیا جنت بن چکی ہے اور جو اس کے ربّ ہونے کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے ربّ ہونے کا کفر کرتے ہوئے اللہ کو اپنا ربّ بناتے ہیں تو ان کے لیے اس دنیا میں کچھ بھی نہیں سوائے آگ و بارود کے۔ یہی الدجّال ہے اور یہی اس کی جنت و جہنم ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...