WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE
قسط نمبر#04
علامات و اشراط الساعت میں سے قرب قیام الساعت نکلنے والا الدجّال
قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والے الدجّال اکبر کو سمجھنے کے لیے آپ کومحمد علیہ السلام کی اس راہنمائی کو نہ صرف قبول کرنا ہو گا بلکہ اس پر عمل کرنا ہو گا۔
رسول اللہ ﷺنے کہا: تحقیق کہ دجّال کھانا کھا چکا اور بازاروں میں گھوم پھر چکا۔ مسند احمد
یعنی وہ دجّال جو کھاتے پیتے تھے پھرجب کھاتے تھے تو کھانے سے جو حاجات لاحق ہوتی ہیں انہیں بھی پورا کرتے تھے، بازاروں میں تمہاری ہی طرح گھومتے پھرتے وہ دجّال گزر چکے اب ایسا ہرگز نہیں کہ تم آج بھی اسی دجّال کی صفات کو سامنے رکھ کر الدجّال کو سمجھنے اور پہچاننے میں لگے رہو۔ جان لو اگر تم نے ایسا کیا تو تم الدجّال کو نہ صرف کبھی بھی جان اور پہچان نہیں پاؤ گے بلکہ الٹا اس کو اپنا ربّ بنالو گے اور تمہیں اس کا شعورتک بھی نہیں ہو گا زبان سے تو تم مومن ہونے کے دعویدار ہو گے لیکن حقیقت میں تم منافق و مشرک ہو گے بد تر کافر ہو گے، زبان سے تو تم الدجّال کو برا بھلا کہو گے لیکن عملاً تم اسے اپنا ربّ بنائے ہوئے
ہوگے۔
رسول اللہ ﷺ قال: الدجّال لا یولد لہ۔ مسند احمد
رسول اللہ ﷺ نے کہا: الدجّال یعنی مخصوص دجّال ہے نہیں ہے جنم دینا اس کے لیے۔ یعنی نہ تو اس کو جنم دیا جائے گا اور نہ ہی وہ کسی کو جنم دے گا۔
وہ دجّال جو کسی کی اولاد تھے اور خود ان کی بھی اولاد تھی وہ گزر چکے لیکن جو الدجّال اکبر ہے جس کی وجہ سے الساعت آئے گی جو اللہ یعنی فطرت کے مقابلے پر اس
کی ضد مصنوعی ربّ ہو گا اورلوگوں کو اپنی غلامی کی دعوت دے گا وہ نہ جنم دینے والا ہو گا نہ ہی اسے جنم دیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ قال: لیس الدجال انسان، انما ھو شیطان۔ نعیم بن حماد
رسول اللہ ﷺ نے کہا ہرگز نہیںمخصوص دجّال انسان، اس میں کچھ شک نہیں جوکچھ بھی شیطان موجود ہے وہ مخصوص دجّال ہے۔
رسول اللہ ﷺ قال: لیس ھو انسان، انما ھو شیطان۔ نعیم بن حماد
رسول اللہ ﷺ نے کہا وہ یعنی مخصوص دجّال جو قرب قیام الساعت ظاہر ہونا ہے ہرگز انسان نہیں ہو گا، اس میں کچھ شک نہیں جو ہو گا وہ شیطان ہو گا یعنی جو
کچھ بھی شیطان موجود ہو گا وہی قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والا دجال ہو گا۔
بہت سی روایات میں ملتا ہے کہ محمد علیہ السلام نے ہر اس شئے کو شیطان قرار دیا جو انسان کی ضرورت سے زائد ہے اور محمد علیہ السلام نے انسان کی ضرورت صرف اور صرف سر ڈھانپنے کے لیے چھت اور زندہ رہنے کے لیے یعنی زندگی گزارنے کے لیے کھانے اور ستر ڈھانپنے کے لیے ضرورت کیمطابق کپڑے کو قرار دیا اس
کے علاوہ جو کچھ بھی انسان کی ضرورت سے زائد اس کے پاس ہے وہ شیطان ہے۔
اور قرآن میں اللہ نے کئی مقامات پرشیطان کے بارے میں کہا ’’انہ لکم عدو مبین‘‘ اس میں کچھ شک نہیں جو کچھ بھی تمہارے ارد گرد ہر طرف ہر لحاظ سے کھلم کھلاموجود ہے وہ شیطان ہے تمہارے ساتھ دشمنی کر رہا ہے۔ مبین۔مبین جملہ ہے جو کہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے ان میں پہلا لفظ ’’م‘‘ ہے جو کہ موجودگی کا اظہار کرتا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں وہ یا جو وغیرہ اور اگلا لفظ ہے ’’بیّن‘‘ جس کے معنی ہیں شئے کایا بات کا ہر لحاظ سے پر پہلو سے کھلم کھلا ہوا ہونا بالکل واضح ہونا بالکل سامنے ہونا یوں لفظ مبین کے معنی بنتے ہیںوہ جو کچھ بھی ہر لحاظ سے ہر پہلو سے ہر طرف کھلم کھلا موجود ہے ایسی شئے کو جو ہر طرف موجود ہو جدھر بھی نگاہ دوڑائی جائے موجود ہو ۔ جو کچھ بھی آپ کے ارد گرد موجود ہے سب کا سب جو بھی اس وقت دنیا میں موجود ہے آپ کا دشمن ہے آپ کیساتھ دشمنی کر رہا ہے یہ سب کا سب شیطان ہے۔ اور شیطان بھی جملہ ہے جو کہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے ان میں پہلا لفظ ’’شیئ‘‘ جو کہ کسی بھی شئے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دوسرا لفظ ’’طان‘‘ ہے جس کے معنی ہیں کسی کو اس کے اصل مقصد اس کے مشن اس کی منزل کی طرف جانے سے روک دینا۔ اور روکا کئی طریقوں سے جاتا ہے مثلا ً کسی کو اپنی طرف متوجہ کر کے اسے اس کی منزل و مقصد سے غافل کر کے روک دینا، پیار سے ، سختی سے یا قوت سے روک دینا، کسی کو کسی لالچ کا شکار کر کے روک
دینا وغیرہ۔
یہی خصوصیات دنیاوی مال و متاع میں پائی جاتی ہیں دنیاوی مال و متاع انسانوں کو ان کے مقصد ان کی منزل ان کے مشن سے انہیں روک دیتا ہے انہیں ان کی اصل کی طرف جانے سے روک دیتا ہے انہیں اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے یہی وجہ ہے جس وجہ سے اللہ نے جو کچھ بھی کھلم کھلا موجود ہے یعنی دنیاوی مال و متاع
اسے شیطان کہا ۔
انسانوں کی اکثریت لفظ شیطان کو گالی یا پھر برا لفظ سمجھتی ہے حالانکہ یہ کوئی گالی یا برا لفظ نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے ہر وہ شئے جو کسی کو اس کے مقصد و منزل کی
طرف جانے سے روک دے خواہ اپنی طرف متوجہ کر کے ، کسی کو اپنے پیچھے لگا کر، پیار سے، سختی یا پھر قوت سے روک دے۔
مثال کے طور پر آپ کہیں کسی مقصد کے لیے جا رہے ہیں آپ اپنی منزل کی طرف جا رہے ہیں اور رستے میں کوئی مداری والا مداری دکھا رہا ہے اور آپ اس کی طرف متوجہ ہو کر اپنے مقصد و مشن سے اپنی منزل سے غافل ہو جاتے ہیں کہ وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے وہ مداری والا آپ کے لیے شیطان کہلائے گا یہاں تک
کہ اسے خود بھی علم نہیں ہو گا کہ وہ آپ کے لیے شیطان ثابت ہوا۔ اسی طرح آپ رستے میں کوئی خوبصورت شئے دیکھتے ہیں یا کچھ عجیب و غریب دیکھتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں کہ اپنے مقصد و مشن سے غافل ہو جاتے ہیں تو وہ شئے آپ کے لیے شیطان کہلائے گی حالانکہ اس شئے کا اس میں کوئی قصور
نہیں ہو گا نہ ہی اسے اس بات کا شعور ہو گا کہ وہ آپ کے لیے شیطان ثابت ہو چکی ہے۔
اسی قرآن میں اللہ نے بیوی بچوں مال و اولاد تک کو شیطان کہا ہے اگر وہ بھی آپ کو اللہ کی طرف جانے سے جو کہ اصل مقصد ہے اس سے روکتے ہیں یا رکاوٹ
بنتے ہیں۔
ان روایات سے یہ بات تو بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والا الدجّال انسان تو ہرگز نہیں ہوگا اور اس کے بالکل برعکس دنیاوی مال و متاع ہی الدجّال ہو گا ایسی اشیاء ہوں گی جو پوری دنیا کے انسانوں کو ان کے دنیا میں آنے کے مقصد سے غافل کر دیں گی انہیں اللہ کی طرف جانے سے روک
دیں گی اپنی طرف متوجہ کر لیں گی جو کہ پوری دنیامیں ہر طرف کھلم کھلا موجود ہوں گی۔
رسول اللہ ﷺ قال: (الدجّال) مختلف الخلق۔ نعیم بن حماد
رسول اللہ ﷺ نے کہا الدجّال ہو گا مختلف الخلق یعنی الدجّال طرح طرح کی مخلوقات ہوں گی ۔ طرح طرح کی مخلوقات الدجّال ہوں گی۔ (جاری ہے)
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:
Post a Comment