WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#05
یہاں تک بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ قرب قیام الساعت نکلنے والا الدجّال انسان نہیں ہو گا بلکہ وہ مختلف مخلوقات ہوں گی جو انسان کے لیے شیطان ہوں گی اور شیطان ہر وہ شئے کہلاتی ہے جو انسان کی ضرورت سے زائد ہو۔ انسان کی ضرورت زندہ رہنے کے لیے کھانا اور سر ڈھانپنے کے لیے چھت ہے اور ستر ڈھانپنے
کے لیے ضرورت کیمطابق کپڑا ہے اس کے علاوہ جو کچھ بھی انسان کی ضرورت سے زائد ہے وہ انسان کے لیے شیطان ہے۔
شیطان یعنی وہ تمام کی تمام اشیاء وہ سب کا سب جو انسان کو دنیا میں آنے کے مقصد کو پہچاننے اور اس کو پورا کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ وہ سب کا سب دنیاوی مال و متاع ہے یوں یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ دنیاوی مال و متاع جو کہ طرح طرح کی مخلوقات ہوں گی وہ ہے الدجّال
اکبر۔ اور الدجّال اکبر فتنہ ہے ، فتنہ کہتے ہیں اصل کے مقابلے پر نقل شئے جس کی موجودگی میں اصل اور نقل میں پہچان ناممکن حد تک مشکل ہو جائے جس کی وجہ سے انسان نقل کا شکار ہو جائے یعنی قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والا الدجّال اکبر فطرت نہیں بلکہ فطرت کے مقابلے پر غیر فطرتی طرح طرح کی مصنوعی
مخلوقات ہوں گی جوکہ انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ فتنہ ہو گا۔
رسول اللہ ﷺ قال: اللھم انی اعوذبک من فتنۃ الدنیا یعنی فتنۃ الدجال۔ بخاری
رسول اللہ ﷺ نے کہا: جواللہ ہے اس میں کچھ شک نہیں میں اللہ کیساتھ بچ رہا ہوں مخصوص دنیا کے فتنے سے یعنی فتنہ الدجّال سے ۔
اس روایت میں محمد علیہ السلام نے بالکل واضح الفاظ میں دو ٹوک فتنہ الدجّال دنیا کے فتنے کو قرار دیا۔ دنیاوی مال و متاع، حیات الدنیا ہی الدجّال ہے بالکل قرآن کے عین مطابق جس کو اللہ نے قرآن میں بار بار شیطان کہا یعنی جو کچھ بھی آپ کے ارد گرد ہر طرف کھلم کھلاموجود ہے دنیاوی حیات، دنیا کا مال و متاع وہ شیطان ہے اور شیطان انسان کا دشمن ہے جسے اللہ نے انسان کا دشمن قرار دیا اللہ کے رسول محمدعلیہ السلام نے اسے قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والا علامات و
اشراط میں سے الدجّال کہا۔
یقول انا ربکم الاعلیٰ۔ ابن کثیر
الدجّال کہہ رہا ہے اس میں کچھ شک نہیں میں ربّ ہوں تمہارا سب سے اوپر۔
الدجّال کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوںسب سے اوپر والا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیسے کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں اور پھر اس پر ایمان کیسے لایا
جائے گا یا اس کے ربّ ہونے کا کفر کیسے کیا جائے گا اور اللہ کے ربّ ہونے پر ایمان کیسے لایا جائے گا؟
اس میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے وہ کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا اصل ربّ کون ہے؟ جب تک آپ کو آپ کے اصل ربّ کا علم نہیں ہو جاتا جب تک آپ اپنے اصل ربّ کو نہیں جان لیتے تب تک آپ الدجّال کو نہیں جان پائیں گے اور نہ ہی یہ سمجھ سکیں گے کہ الدجّال ربّ ہونے کا دعویٰ کیسے کرے گا کیونکہ الدجّال فتنہ ہے اور فتنہ کہتے ہیں اصل کے مقابلے پر نقل کو ، الدجّال اصل ربّ اللہ کے مقابلے پر نقل ربّ ہے
اس لیے جب تک اصل ربّ اللہ کو نہیں جان لیا جاتا تب تک آپ نقل ربّ یعنی اصل کے مقابلے پر نقل ربّ فتنہ الدجّال کو نہیں جان سکتے۔
اب سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ آپ کا ربّ کون ہے؟ توہر کوئی اس کا جواب یہی دیتا ہے کہ ہمارا ربّ اللہ ہے لیکن اگر کسی سے سوال کیا جائے کہ اللہ کیا ہے اللہ کون ہے اللہ کے بارے میں کچھ بتائیں تو کسی کے پاس بھی اللہ کے بارے میں جواب موجود نہیں ہے اور آپ اگر اپنی زندگی میں غورو فکر کریں کیا کبھی ایسا ہوا ہو کہ اللہ نے آپ کو براہ راست آپ کی زبان میں یہ کہا ہو کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ کبھی آپ کو ایسی آواز سنائی دی ہو کہ میں اللہ بول رہا ہوں اور میں تمہارا ربّ ہوں؟ کیا کبھی ایسا ہوا؟ ایسا کبھی نہیں ہوا اور اگر ہوا بھی تو اس کا بھی کسی کو شعور ہی نہیں کیونکہ جہالت اس قدر پھیل چکی ہے کہ جب کبھی بھی اللہ کسی بشر کی صورت میں بشری آواز میں کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں تو کوئی بھی اسے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا کہ یہ اللہ کی آواز ہے۔ کسی کو بھی نہیں علم کہ اللہ کیاہے ان کا ربّ کون ہے کیا ہے اس کے برعکس اللہ کے بارے میں نسل در نسل منتقل ہونے والے بے بنیاد و باطل عقائد ونظریات موجود ہیں ۔ اب جب آپ کو اللہ جو کہ آپ کا اصل ربّ ہے اس کا ہی علم نہیں توپھر ظاہر ہے آپ اس کی نقل کو یعنی فتنہ الدجّال کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟ آپ اس وقت تک فتنہ الدجّال کو نہیں جان اور پہچان سکتے جب تک کہ آپ اصل ربّ اللہ کو نہیں جان لیتے، اس لیے آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہے کہ اللہ آپ کا ربّ ہے تو کس طرح ، اللہ کا اپنے ربّ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس کے لیے لفظ ربّ کے معنی آپ پر کھول کر واضح کرتے ہیں کیونکہ جب تک لفظ ربّ کے معنی کا ہی علم نہیں ہو گا تب تک آپ اس بات کو
نہیں سمجھ سکیں گے اور اللہ کو بھی اپنا ربّ نہیں بنا پائیں گے اور الٹا الدجّال کو اپنا ربّ بنا بیٹھیں گے اور آپ کو اس کا شعور تک نہیں ہو گا۔
اگر آپ یہ جان لیں کہ آپ کا ربّ کون ہے تو نہ صرف کھل کر واضح ہو جائے گا کہ اللہ کیا ہے بلکہ اصل ربّ اللہ کے مقابلے پر نقل ربّ فتنہ الدجّال بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا اور آپ پر یہ بھی کھل کر واضح ہو جائے گا کہ اللہ کس طرح کہتا ہے کہ میں تمہاراربّ ہوں اور پھر الدجّال کس طرح ربکم الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا ربّ کون ہے؟ آپ کا ربّ کیا ہے؟ تو ا سکا جواب بہت آسان ہے اگر آپ لفظ ربّ کو جان لیں اور اس کے بعد اپنی خلق میں غوروفکر کریں تو آپ پر بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا کہ ربّ کیا ہے اوریہی بات قرآن میں بار بار کہی گئی کہ تم اپنی ہی خلق میں ، آسمانوں و زمین
کی خلق میں کیوں نہیں غوروفکر کرتے اگر تم اپنی ہی خلق میں ، آسمانوں اور زمین میں غوروفکر کرو گے تو تم پر بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا کہ تمہارا ربّ کون ہے۔
ربّ: ربّ کہتے ہیں ایسی ذات جو خلق کرے یعنی عدم سے وجود میں لائے ، خلق کر کے مخلوق کو اس کی تمام ضروریات بھی خلق کر کے مہیا کرے اور اسے پروان چڑھا کر اس مقام پر لے کر آئے جس مقام پر آ کر وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے قابل ہو جائے جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے خلق کیا گیا یعنی اسے وجود میںلایا گیا اور جس مقصد کے لیے اسے خلق کیا اس پر وہ مقصد واضح کرے اسے جس مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے جو راہنمائی درکار ہے اس کی راہنمائی کرے اور اگر مخلوق وہ مقصد پورا کرے تو اس کو اس کا بدلہ حسن دے اور اگر اس میں کوئی کمی، کوتاہی، سستی، لاپرواہی کرے یا
سرے سے ہی انکار کر دے تو اس کو اس کی سزا بھی دے۔ (جاری ہے)
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:
Post a Comment