Monday, July 18, 2022

WARNING FROM MOTHER NATURE


DOWNLOAD MOTHER NATURE
قسط نمبر#03
جب انہیں اس بات کا علم تھا کہ الدجّال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتا حالانکہ ابن صیاد تو مدینے میں ہی پیدا ہوا اور وہیں موجود تھا اور اس کے باوجودوہ ابن صیاد ہی کو دجّال کہتے اور اس پر قسمیں کھاتے تو ایسا کیوں؟ اس سوال کا جواب بھی روایات کا بغور مطالعہ کرنے سے مل جاتا ہے کہ عمربن الخطاب کو اس وقت اس بات کا علم نہیں تھا کیونکہ اگر اس وقت اس بات کا علم ہوتا تو محمد علیہ السلام ایسا ہرگز نہ کہتے کہ اگر یہ وہی ہے تو اسے عیسیٰ رسول اللہ کے ہاتھوں ہی قتل ہونا ہے تم اس پر مسلط نہیں ہو سکتے۔ اور اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ محمد علیہ السلام کو اس وقت یہ علم تھا کہ الدجّال کون ہے اور کیا ہے اسی لیے تو محمد علیہ السلام نے ایسا کہا کہ قرب قیام الساعت نکلنے والے الدجّال پر صرف عیسیٰ رسول اللہ ہی مسلط ہوں گے نہ کہ ان کے علاوہ کوئی اور۔ لیکن اس علم کے باوجود جو اصحاب محمد ابن صیاد کے دجّال ہونے کی قسمیں کھاتے تو اس سے مراد وہ قرب قیام الساعت والا الدجّال نہیں بلکہ اس وقت کا دجّال ابن صیاد تھا جس کا شمار ان دجّالوں میں تھا جو قرب قیام الساعت کے الدجّال سے پہلے ظاہر ہونا تھے کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ اصحاب محمد ابن صیاد کو قرب قیام الساعت والا الدجّال ہی سمجھتے تھے
تو کیا اس سے پہلے، تیس، ستر، چھہتر، چالیس، تین یا اس سے زائد دجّال ظاہر ہو چکے تھے؟
اگرنہیں تو پھر وہ کیسے ابن صیاد کو قرب قیام الساعت والا الدجّال کہہ سکتے تھے؟ کیونکہ جب انہیں اس بات کا علم تھا کہ قرب قیام الساعت نکلنے والے الدجّال سے پہلے بہت سے انسان دجّال آئیں گے اور اگر وہ سب آئے ہی نہیں تو پھر اصحاب محمد ابن صیاد کو کسی بھی صورت قرب قیام الساعت والا الدجّال نہیں کہتے تھے اور نہ ہی سمجھتے تھے بلکہ اگر وہ اسے دجّال کہتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ابن صیاد قرب قیام الساعت نکلنے والے الدجّال اکبر جو کہ علامات و اشراط الساعت
میں سے ہے سے پہلے آنے والے انسان دجالوں میں سے ایک تھا۔
بات کو مختصر کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ہر وقت کا دجّال الگ تھا اس وقت کے تقاضے کے مطابق ابن صیاد دجّال تھا لیکن ابن صیاد وہ الدجّال نہیں تھا جو قرب قیام الساعت والا الدجّال اکبر ہے۔ اس وقت کے تقاضے کے مدنظر اگر کسی میں ایسی صلاحیت تھی جو انہیں آخرت سے غافل کر کے دنیا میں مگن کر دے تو وہ ابن صیاد میں موجود تھی۔ اس وقت کا غیر معمولی ذہانت کا حامل انسان ابن صیاد ایسی باتیں بتاتا تھا کہ سامنے والے جن کو علم نہ ہوتا ان کو بہکانا، گمراہ کرنا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔ آج ہی کی مثال لے لیتے ہیں آج جو کچھ بھی نہیں کر سکتے ان کے بارے میں یہ مشہور کر دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص بہت پہنچا ہوا ہے فلاں پیر صاحب بہت کامل ہیں تو جاہل تو دور کی بات خود کو پڑھے لکھے کہلوانے والے دور جدید کے بڑے بڑے عقل مند بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ جب موجودہ دور میں بڑے بڑے پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو ابن صیاد کا تو معاملہ ہی بالکل الگ تھا وہ اپنی چالاکی اور مکاری کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ان کے اکیلے انفرادی کیے جانے والے کاموں کے بارے میں بتا دیتا اور اگر آپ نے کوئی کام کیا ہو یا جس کا آپ کے علاوہ انسانوں میں سے کسی کو علم نہیں اور کوئی انسان آپ کو بتا دے کہ آپ نے فلاں وقت ایسا کام کیا تو یہ غیر معمولی بات ہو جاتی ہے حالانکہ بتانے والا انتہائی چالاکی اور ہوشیاری سے آپ سے ہی اگلوا کر آپ کو بتا دیتا ہے اور آپ کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔ ابن صیاد کی یہی غیر معمولی ذہانت اور چالاکی ہی اسے دوسروں سے ممتاز کرتی تھی اس وقت کے
تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کی یہ آیت بہت صراحت سے اس کا ذکر کرتی ہے۔
وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ ۔ الانعام ۱۲۱
اور اس میں کچھ شک نہیں شیاطین وحی کررہے ہیں اپنے اولیاء یعنی جو ان کے مشن میں ان کے معاونین ہیںکی طرف۔
قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والے الدجّال اکبر سے پہلے ظاہر ہونے والے دجّالوں کے بارے میں محمد علیہ السلام نے کیا کہا اسے آپ درج ذیل روایات
سے بھی جان سکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کہا: الدجّال کے خروج سے پہلے ستر سے اوپر دجّال نکلیں گے۔ الدر المنثور، نعیم بن حماد، سنن الواردہ، ابو یعلی
رسول اللہ ﷺ نے کہا: میری امت میں ستائیس کذاب اور دجّال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہوں گی۔ مسند احمد، الضیائ، طبرانی، کنز العمال
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اور نہیں قائم ہو گی الساعت حتیٰ کہ کھڑے ہوں تیس سے قریب دجّال۔ مسند احمد، مسلم ، بخاری، ابو داؤد، ترمذی، کنزالعمال
رسول اللہ ﷺ نے کہا: نہیں قائم ہو گی الساعت حتیٰ کہ نہ نکلیں تیس دجّال کذاب۔ ابن ابی شیبہ، کنز العمال
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اس میں کچھ شک نہیں کہ الساعت سے پہلے الدجّال ہے اور الدجّال سے پہلے کذاب ہوں گے تیس یا زیادہ۔ طبرانی، کنز العمال
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اس میں کچھ شک نہیں الدجّال سے پہلے چھہتر دجّال ہوں گے۔ الدر المنثور، ابن ابی شیبہ
اسی طرح وقت گزرتا گیا ہر وقت کے تقاضے کے مطابق دجّال بھی گزرتے رہے وہ چھہتر تھے، ستر تھے، چالیس تھے، تیس تھے ، تین تھے ،اس سے زائد یا اس سے کم وہ سب گزر چکے۔ آج آپ اس وقت میں موجود ہیں جس وقت میں اس الدجّال کی موجودگی ناگزیر ہے جس سے تمام کے تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو
اور محمد علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کوڈرایا اور متنبہ کیا جس کی وجہ سے اس سے پہلے تمام قومیں ہلاک ہوئیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ (جاری ہے)
 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y



No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...