Wednesday, July 20, 2022

 MOTHER NATURE



 DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#06

اب آپ اپنی ہی خلق میں غور کریں اور دیکھیں کہ آپ کو کس نے خلق کیا، کون ہے جس نے آپ کو عدم سے وجود میں لایا اور پھر آپ کی ضروریات کیا ہیں اور کون ہے جو آپ کو آپ کی ضروریات خلق کر کے مہیا کر رہا ہے؟ جب آپ اپنی ہی خلق میں غوروفکر کریں تو آپ پر کھل کر واضح ہو جائے گا کہ یہ جو فطرت ہے یہی آپ کا ربّ ہے یعنی یہ فطرت ہی آپ کو عدم سے وجود میں لائی اور اسی میں آپ واپس پلٹائے جائیں گے، یہ فطرت ہی ہے جو آپ کو آپ کی تمام تر ضروریات خلق کر کے فراہم کر رہی ہے یعنی مخلوقات کا مجموعہ ہی اصل ربّ کے طور پر سامنے آئے گا جس سے یہ بھی کھل کر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو ہر طرف کھلم کھلا نظر آ رہا
ہے یہ اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے۔
مثلاً آپ اپنی ہی ذات میں غور کریں کہ آپ کو کس نے خلق کیا تو سب سے پہلے آپ کے والدین آپ کے سامنے آئیں گے کہ ایک مرد اور عورت نے آپ کو وجود دیا پھر اس کے پیچھے جائیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ پہلے آپ اپنے والد سے الگ ہوئے نطفے کی صورت میں اور پھر والدہ کے پیٹ میں جو والدہ نے کھایا اس سے وجود میں آئے ، ایسے ہی جس نطفے سے آپ وجود میں آئے وہ نطفہ اس سے وجود میں آیا جو آپ کے والد نے رزق کھایا اور پھر وہ رزق کیسے وجود میں آیا تو وہ رزق زمین سے نباتات کی صورت میں نکلا اور نباتات پانی ، زمین اور زمین کے عناصر سے مل کر وجود میں آئیں، پانی سمندروں سے بخارات بن کر بلندیوں پر گیا پھر بلندیوں سے پانی بارش کی صورت میں اترا اس پانی سے نباتات وجود میں آئیں ، زیر زمین طین ، نطفہ جسے آپ خام تیل کا نام دیتے ہیں اس سے نباتات وجود میں آئیں اور خام تیل پہاڑوں میں موجود زمین کے عناصر سے وجود میں آیا اور زمین کے عناصر اور پانی اس سے پیچھے خلا سے شہابیوں کی صورت میں آیا، ایسے ہی آپ کی ضروریات میں سے ایک آکسیجن ہے جس کے بغیر آپ زندہ نہیں رہ سکتے اور آکسیجن آپ کو درخت فراہم کر رہے ہیں اور پھر جب درختوں کی خلق میں غور کریں یا آسمانوں و زمین کی کسی بھی خلق میں غوروفکر کریں تو یہی وجود ہی آپ کے سامنے آئے گا جو ہر طرف آپ کو نظر آ رہا ہے یعنی جیسے جیسے آپ غوروفکر کرتے چلے جائیں گے تو یہی وجود ہی آپ کے ربّ کے طور پر آپ کے سامنے آئے گا جسے آپ کائنات کہتے ہیں یا جسے آپ فطرت کہتے
ہیں جو کہ فطرتی مخلوقات کا مجموعہ ہے ۔
اب جب یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ فطرت ہی وہ ذات ہے جو آپ کوعدم سے وجود میں لائی اور آپ کو آپ کا رزق یعنی تمام تر ضروریات خلق کر کے فراہم کر رہی ہے جیسے کہ آپ کے کھانے کے لیے ثمرات، پینے کے لیے پانی، سفر کے لیے گدھے، گھوڑے، خچر اور اونٹ وغیرہ تو پھر فتنہ الدجّال یعنی اصل ربّ کے مقابلے پر نقل ربّ فطرت کے مقابلے پر اس کی ضد مصنوعی مخلوقات ہیں یعنی انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کی جانے والے طرح طرح کی مخلوقات کا
مجموعہ ہے الدجّال ہے وہی الدجّال جو نہ صرف علامات و اشراط الساعت میں سے ہے بلکہ جسے قیام الساعت کے قریب نکلنا تھا۔
اب آئیں اس طرف کہ اللہ کس طرح کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں، تو اس کے لیے دیکھیں اگر آپ کو آکسیجن کی ضرورت ہے تو آپ آکسیجن کس سے حاصل کر رہے ہیں؟ کیا فطرت سے آکسیجن حاصل نہیں کر رہے؟ کیا فطرت آکسیجن فراہم نہیں کر رہی ذرا غور کریں اگر فطرت آکسیجن فراہم نہ کرے تو آپ زندہ رہ سکتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں ۔ اب آپ خود غور کریں کہ آپ کو کس نے کہا کہ آکسیجن درختوں سے حاصل کرنی ہے؟ یعنی فطرت جو کہ اللہ ہے اسے اپنا ربّ بناؤ؟ تو فطرت خود اپنے عمل سے دعویٰ کر رہی ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔ پھر اس کے علاوہ انسان چونکہ بشر ہیں تو اللہ یعنی فطرت یہ وجود انہی میں سے ان میں اپنا رسول بعث کرتا ہے جو انسانوں پر حق کھول کھول کر واضح کرتا ہے یعنی اللہ اپنے رسول کے ذریعے اپنے نبیوں کے ذریعے انسانوں کو کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں ، میں ہی ہوں جس نے تمہیں عدم سے وجود میں لایا، میں ہی ہوں جو موت کو حیاکر رہا ہوں یعنی دیکھو میں بارشیں برساتا ہوں ان بارشوں سے زمین سے ثمرات نکالتا ہوں ان سے تمہاری تمام تر ضروریات خلق کرتا ہوں مثلاً تمہارے کھانے کے لیے ، پینے کے لیے، سواری کے ذرائع سمیت تمہاری تمام تر ضروریات خلق کر رہا ہوں، تمہیں بیٹھنا کیسے ہے، اٹھنا کیسے ہے، کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا، کیا حلال ہے، کیا حرام ہے، کس میں تمہارے لیے فائدہ ہے کس میں تمہارے لیے فائدہ نہیں ہے، کون تمہارا دوست ہے اور کون تمہارا دشمن ہے تم پر کھول کھول کر واضح کر رہا ہوں تمہاری راہنمائی کر رہا ہوں یعنی میں تمہارا ربّ ہوں اس طرح اللہ اپنے ربّ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یعنی ایک طرف فطرت اپنے عمل سے ربّ ہونے کی دعویدار ہے اور دوسری طرف انسان چونکہ بشر ہیں تو
ان میں سے اپنے رسول کے ذریعے انہیں نبا دیتا ہے ان کو کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں ان کی راہنمائی کرتا ہے۔
یعنی اللہ اپنے نبیوں کے ذریعے کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں،نبی نبا سے ہے نبا کہتے ہیں اس علم کو جو اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں اور جب اللہ وہ علم انسانوں کو دیتاہے تو وہ نبا کہلاتا ہے نبا دینے والے کو عربوں کی زبان میں نبی کہا جاتا ہے یعنی وہ جو انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے جو کہتا ہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اور اسے پورا کیسے کرنا ہے تم کون ہو کیا ہو تمہاری حقیقت کیا ہے تمہارے لیے کیا فائدہ مند ہے کیا نقصان دہ ہے، کیا کھانا ہے اور کیا پینا ہے، کیسے کھانا ہے اور کیسے پینا ہے، کیا اگانا ہے اور کیسے اگانا ہے، معاش کیسا ہو گا اور طریقہ کیا ہو گا، حتیٰ کہ اٹھنے بیٹھے سمیت دنیا میں کس مقصد کے لیے بھیجے گئے سب کے سب کا علم سے راہنمائی کرے ، راہنمائی کرنے والے کو عربوں کی زبان میں نبی کہتے ہیں اور اردو میں نبی کے معنی راہنما کے ہیں وہ جو آپ کی راہنمائی کر رہا ہے جو انسانوں کی راہنمائی کا دعویدار ہے کہ کون تمہارا ربّ ہے کسے تم نے اپنا ربّ بنانا ہے یعنی کہ تمہارا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے تمہیں کیوں خلق کیا گیا وہ مقصد پورا کیسے ہو گا تمہارے لیے کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے ، تمہاری ضروریات کیا ہیں اور انہیں کیسے حاصل کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آپ پر مختلف پہلوؤں سے یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو گئی کہ اصل ربّ اللہ یعنی فطرت ہے جو کہ مخلوقات ہی ہیں لیکن ان کو وجود میں لانے والی فطرت ہے اور الدجّال جو ربّ ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ فطرت کے مقابلے پر فطرت کی ضد ہو گی ، وہ فطرت کے مقابلے پر انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ غیر فطرتی مصنوعی طرح طرح کی مخلوقات ہوں گی جو بالکل وہی کام کریں گے جو کام فطرت یعنی اللہ کر رہا ہے ۔ اب اللہ یعنی فطرت کے علاوہ کوئی بھی ایسی ذات جو ایسے کام کرتی ہے، کرے گی یا کر رہی ہے تو وہی الدجّال اکبر ہے کیونکہ جو صفات الدجّال اکبر کی ہیں وہ اس کے علاوہ باقی کسی دجّال میں نہیں ہیں۔
اب آج آپ اپنے ارد گرد دیکھیں کہ کیا جو کچھ بھی اپنا وجود رکھتا ہے وہ صرف اور صرف فطرت ہی ہے یا پھر فطرت کے مقابلے پر فطرت کی ضد انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ طرح طرح کی مخلوقات موجود ہیں ؟ کیا آج صرف اور صرف اصل ربّ فطرت ہی موجود ہے یا پھر اس کے علاوہ فتنہ الدجّال یعنی اصل کے مقابلے پر نقل ربّ مصنوعی مخلوقات بھی موجود ہیں جو کہ انسانوں کو اپنے دھوکے کا شکار کیے ہوئے ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان کے دھوکے کا شکار ہو کر انہیں اپنا ربّ بنائے ہوئے ہے؟ تو حق ہر لحاظ سے بالکل کھلم کھلا آپ کے سامنے ہے نہ صرف آج الدجّال یعنی فطرت کے مقابلے پر انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ فطرت کی ضد مشینیں اور مصنوعی مخلوقات پوری دنیا میں دھندنارہی ہیں بلکہ کوئی بھی انہیں الدجّال تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ الٹا ہر کوئی
انہیں اپنے لیے مسیحا سمجھتے ہوئے اپنا ربّ بنائے ہوئے ہے۔
یوں جس طرح اللہ یعنی فطرت عملاً ربکم الاعلیٰ ہونے کی دعویدار ہے ایسے ہی فطرت کے مقابلے پر اس کی ضد انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ مخلوقات یہ الدجّال ربکم الاعلیٰ ہونے کا دعویدار ہے پھر دیکھیں اسی کے بارے میں آج سے چودہ صدیاں قبل جو محمد علیہ السلام نے کہا تھابخاری میں محمد علیہ السلام کے فتنہ الدجّال کے بارے میں ایسے الفاظ موجود ہیں جو کہ بالکل واضح کر دیتے ہیں کہ الدجّال کیا ہے۔ الدجّال دنیا کے فتنے کا نام ہے یعنی دنیاوی مال و متاع جس کے دھوکے میں مبتلا ہو کر انسان آخرت سے غافل ہو جاتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اس سے بالکل غافل ہو جاتا ہے اور اس کے برعکس دنیاوی مال و متاع کو ہی اپنا مقصد ومشن بنا کر اس کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے جیسا کہ محمد علیہ السلام کے الفاظ درج ذیل روایت میں آپ کے
سامنے ہیں۔
(جاری ہے) 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...