WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#08
لفظ الدجّال کے معنی:
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دجّال کسی کی کنیت نہیں جسے اردو میں نام کہا جاتا ہے جس سے کسی کو جانا پہچانا یا پکارا جاتا ہے بلکہ لفظ دجّال اسم ہے اور اسم کے اردو میں معنی صفت ، صلاحیت کے ہوتے ہیں حالانکہ اردو میں اسم کا ترجمہ نام کیا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط العام ہے۔ نام کو عربی میں کنیہ کہتے ہیں کنیہ کے معنی ہیں جس سے کسی کو جانا پہچانا جائے یا جس سے کوئی مشہورو معروف ہو اور اس کے برعکس اسم کہتے ہیں صفت کو یعنی کسی کے اندر خوبیوں و کچھ کرنے کی صلاحیتوں کو اسم کہتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے اس فرق کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ آپ علم کی بجائے ظن سے کام لیتے ہوئے اس بہت ہی اہم موضوع کو دیو مالائی کہانیوں میں تبدیل کر دیں گے جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہو گا جس سے سوائے گمراہی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
لفظ ’’اللہ‘‘ جو کہ اصل میں جملہ ہے اور لفظ ’’دجّٰل، دجّال‘‘ دونوں میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے دونوں میں ’’ الف لام‘‘ مشترک ہے۔ لفظ اللہ کیسے بنا ہے سب سے پہلے اس لفظ پر غور کر لیں اس کے بعد آگے بڑھیں گے۔ عربی دنیا کی واحد ایسی زبان ہے جس کا ترجمہ دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں کیا جا سکتا عربی کا ترجمہ کرنا نا ممکن ہے البتہ اس کے معنی بیان کیے جا سکتے ہیں دنیا کی تمام زبانوں میں ایسے الفاظ موجود ہیں یا ایسے اصول موجود ہیں جو عربی
میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔
عربی میں جہاں بھی ’’ ّ ‘‘ شد کا استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دو الفاظ آپس میں جڑ رہے ہیں جن میں دو مشترک حروف ضم ہو کر ایک میں تبدیل ہو کر ایک لفظ بن رہا ہے اور جب اسے پڑھا جائے گا تو جھٹکے سے پڑھا جائے گا۔ مثلاً لفظ اللہ کو ہی لے لیں جو کہ اصل میں جملہ ہے اور دو الفاظ کے مجموعے سے بنا ہے ’’ ال جمع الٰہ‘‘ ان میں دونوں ’’الف‘‘ ضم ہو کر ایک ’’الف‘‘ میں تبدیل ہو گیا اور ’’شد‘‘ دونوں ’’الف‘‘ کی وضاحت کر رہی
ہے اور دوسرے لفظ ’’الٰہ‘‘ کا الف کھڑی زبر کے طور پر شد کے اوپر آ گیا اور لفظ اللہ بن گیا۔
الٰہ میں اصل لفظ ’’ال‘‘ ہے جس کے معنی کو سمجھنے کے لیے قرآن سے راہنمائی بہت ضروری ہے اوراسے سمجھنے کے لیے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے جو
یہاں ممکن نہیں اس لیے ہم موضوع کا احاطہ کر تے ہوئے الف لام کا آسان سے آسان معنی یہاں بیان کرتے ہیں۔
ال اگر کسی بھی لفظ کے شروع میں الگ سے استعمال ہوتا ہے جو کہ اس لفظ کے اصلی حروف میں سے نہ ہو تو ال مخصوص کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اسکے علاوہ ’’الف لام یعنی ال یا ایل ‘‘ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عربی میں ربّ کے ہیں اور آپ اس ذات کو اللہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ جیسے عبرانی کا لفظ ہے دانی ایل یعنی دانیال یہ بنی اسرائیل میں ایک نبی گزرے ہیں ان کا اسم ہے جو عبرانی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’ دانی جمع ایل یا ال‘‘ عبرانی کے لفظ دانی کو عربی میں حکمہ اور ایل یا ال کو ربّ کہتے ہیں اور آپ اپنے ربّ کو اللہ نام سے پکارتے ہیںیوں دانیال کے معنی اللہ کی حکمت بنتے ہیں جیسے عربوں کی زبان اور
اردو یا فارسی میں حکمت اللہ اور اسے عبرانی میںدانی ایل یا دانیال کہتے ہیں۔
مختصراًعبرانی زبان میں ’’ ال یا ایل‘‘ ربّ کوکہا جاتا ہے جس کے معنی جو خلق کرے، خلق کر کے پروان چڑھانے کے لیے تمام طرح کی ضروریات خلق کر کے مہیا کرے، جس مقصد کے لیے خلق کیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس لائن کی طرف راہنمائی کرے جس پر قائم ہو کر وہ مقصد پورا کیا جا سکے جس مقصد کے
لیے خلق کیا، اطاعت و فرمانبرداری کا اچھا بدل اور نا فرمانی کی سزا دے۔ عربی میں ال کے معنی ربّ اور ربّ اللہ ہے۔
اب آتے ہیں لفظ دجّال کی طرف، یہ بھی دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’ دجل اور الف لام یعنی ال‘‘ ’’ دجل‘‘ کے معنی دھوکے میں ڈال دینے، عقل پر پردہ ڈال دینے، حقیقت کو ڈھانپ یا چھپا لینے، اصل کو نقل اور نقل کو اصل دکھا دینے، باطل کو حق اور حق کو باطل بنا کر پیش کرنے کے ہیں کسی شئے کی اصل حقیقت کو چھپا کر جو اس کی اصل حقیقت نہیں وہ سامنے پیش کرنے یا دکھانے کے ہیںاور ’’ال‘‘ کے معنی تو آپ پہلے ہی جان چکے ہیں یوں اگر دجل اور ال دونوں الفاظ کے معنوں کو سامنے رکھیں تو آپ پر لفظ ’’دجّال ‘‘ کے معنی بالکل واضح ہو جاتے ہیں یعنی ایک ایسا ربّ جس کے دھوکے کا شکار ہو کر انسان اپنے اصل ربّ کا کفر کرے، فتنے کا شکار ہو کر اس فتنے کو ہی اپنا ربّ تسلیم کر لے یعنی اصل کی نقل آ جائے جس کی موجودگی میں اصل اور نقل کی پہچان مٹ جائے یہاں تک کہ نقل کی موجودگی
میں اصل پس پردہ چلا جائے اور اکثریت نقل کو ہی اصل سمجھ کر اس کا شکار ہو جائے ۔
اس کے علاوہ دجل کسی بھی ایک شئے یا ایک سے زائد ان اشیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی نشان دہی کی جائے ۔ ’’د‘‘ کے بعد جیم پر شد اور لام کے درمیان الف آ جانے سے لفظ دجّال بن جاتا ہے جس میں کل کا مادہ شامل ہو جاتا ہے اسے یوں بھی لکھا جا سکتا ہے ’ ’دجّٰل‘‘ لیکن عربی میں اسے لکھنا اور پڑھنا زیادہ آسان اس طرح لکھنے سے ہے دجّال۔ یوں دجّال کے معنی ہیں ہر وہ شئے جو حقیقت کو ڈھانپ کر دھوکے میں مبتلا کر دے، نقل کو اصل دکھائے یا عقل پر پردہ ڈال دے یا ہر وہ شئے جو اپنی حقیقت کے برعکس جو اس کی حقیقت نہیں ہے وہ نظر آئے اور لوگ اسے جو نظر آ رہی ہے اس کا شکار ہو جائیں اسے ہی اصل اورحقیقت تسلیم کر لیں۔
(جاری ہے)۔۔۔
لفظ الدجّال کے معنی:
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دجّال کسی کی کنیت نہیں جسے اردو میں نام کہا جاتا ہے جس سے کسی کو جانا پہچانا یا پکارا جاتا ہے بلکہ لفظ دجّال اسم ہے اور اسم کے اردو میں معنی صفت ، صلاحیت کے ہوتے ہیں حالانکہ اردو میں اسم کا ترجمہ نام کیا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط العام ہے۔ نام کو عربی میں کنیہ کہتے ہیں کنیہ کے معنی ہیں جس سے کسی کو جانا پہچانا جائے یا جس سے کوئی مشہورو معروف ہو اور اس کے برعکس اسم کہتے ہیں صفت کو یعنی کسی کے اندر خوبیوں و کچھ کرنے کی صلاحیتوں کو اسم کہتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے اس فرق کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ آپ علم کی بجائے ظن سے کام لیتے ہوئے اس بہت ہی اہم موضوع کو دیو مالائی کہانیوں میں تبدیل کر دیں گے جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہو گا جس سے سوائے گمراہی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
لفظ ’’اللہ‘‘ جو کہ اصل میں جملہ ہے اور لفظ ’’دجّٰل، دجّال‘‘ دونوں میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے دونوں میں ’’ الف لام‘‘ مشترک ہے۔ لفظ اللہ کیسے بنا ہے سب سے پہلے اس لفظ پر غور کر لیں اس کے بعد آگے بڑھیں گے۔ عربی دنیا کی واحد ایسی زبان ہے جس کا ترجمہ دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں کیا جا سکتا عربی کا ترجمہ کرنا نا ممکن ہے البتہ اس کے معنی بیان کیے جا سکتے ہیں دنیا کی تمام زبانوں میں ایسے الفاظ موجود ہیں یا ایسے اصول موجود ہیں جو عربی
میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔
عربی میں جہاں بھی ’’ ّ ‘‘ شد کا استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دو الفاظ آپس میں جڑ رہے ہیں جن میں دو مشترک حروف ضم ہو کر ایک میں تبدیل ہو کر ایک لفظ بن رہا ہے اور جب اسے پڑھا جائے گا تو جھٹکے سے پڑھا جائے گا۔ مثلاً لفظ اللہ کو ہی لے لیں جو کہ اصل میں جملہ ہے اور دو الفاظ کے مجموعے سے بنا ہے ’’ ال جمع الٰہ‘‘ ان میں دونوں ’’الف‘‘ ضم ہو کر ایک ’’الف‘‘ میں تبدیل ہو گیا اور ’’شد‘‘ دونوں ’’الف‘‘ کی وضاحت کر رہی
ہے اور دوسرے لفظ ’’الٰہ‘‘ کا الف کھڑی زبر کے طور پر شد کے اوپر آ گیا اور لفظ اللہ بن گیا۔
الٰہ میں اصل لفظ ’’ال‘‘ ہے جس کے معنی کو سمجھنے کے لیے قرآن سے راہنمائی بہت ضروری ہے اوراسے سمجھنے کے لیے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے جو
یہاں ممکن نہیں اس لیے ہم موضوع کا احاطہ کر تے ہوئے الف لام کا آسان سے آسان معنی یہاں بیان کرتے ہیں۔
ال اگر کسی بھی لفظ کے شروع میں الگ سے استعمال ہوتا ہے جو کہ اس لفظ کے اصلی حروف میں سے نہ ہو تو ال مخصوص کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اسکے علاوہ ’’الف لام یعنی ال یا ایل ‘‘ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عربی میں ربّ کے ہیں اور آپ اس ذات کو اللہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ جیسے عبرانی کا لفظ ہے دانی ایل یعنی دانیال یہ بنی اسرائیل میں ایک نبی گزرے ہیں ان کا اسم ہے جو عبرانی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’ دانی جمع ایل یا ال‘‘ عبرانی کے لفظ دانی کو عربی میں حکمہ اور ایل یا ال کو ربّ کہتے ہیں اور آپ اپنے ربّ کو اللہ نام سے پکارتے ہیںیوں دانیال کے معنی اللہ کی حکمت بنتے ہیں جیسے عربوں کی زبان اور
اردو یا فارسی میں حکمت اللہ اور اسے عبرانی میںدانی ایل یا دانیال کہتے ہیں۔
مختصراًعبرانی زبان میں ’’ ال یا ایل‘‘ ربّ کوکہا جاتا ہے جس کے معنی جو خلق کرے، خلق کر کے پروان چڑھانے کے لیے تمام طرح کی ضروریات خلق کر کے مہیا کرے، جس مقصد کے لیے خلق کیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس لائن کی طرف راہنمائی کرے جس پر قائم ہو کر وہ مقصد پورا کیا جا سکے جس مقصد کے
لیے خلق کیا، اطاعت و فرمانبرداری کا اچھا بدل اور نا فرمانی کی سزا دے۔ عربی میں ال کے معنی ربّ اور ربّ اللہ ہے۔
اب آتے ہیں لفظ دجّال کی طرف، یہ بھی دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’ دجل اور الف لام یعنی ال‘‘ ’’ دجل‘‘ کے معنی دھوکے میں ڈال دینے، عقل پر پردہ ڈال دینے، حقیقت کو ڈھانپ یا چھپا لینے، اصل کو نقل اور نقل کو اصل دکھا دینے، باطل کو حق اور حق کو باطل بنا کر پیش کرنے کے ہیں کسی شئے کی اصل حقیقت کو چھپا کر جو اس کی اصل حقیقت نہیں وہ سامنے پیش کرنے یا دکھانے کے ہیںاور ’’ال‘‘ کے معنی تو آپ پہلے ہی جان چکے ہیں یوں اگر دجل اور ال دونوں الفاظ کے معنوں کو سامنے رکھیں تو آپ پر لفظ ’’دجّال ‘‘ کے معنی بالکل واضح ہو جاتے ہیں یعنی ایک ایسا ربّ جس کے دھوکے کا شکار ہو کر انسان اپنے اصل ربّ کا کفر کرے، فتنے کا شکار ہو کر اس فتنے کو ہی اپنا ربّ تسلیم کر لے یعنی اصل کی نقل آ جائے جس کی موجودگی میں اصل اور نقل کی پہچان مٹ جائے یہاں تک کہ نقل کی موجودگی
میں اصل پس پردہ چلا جائے اور اکثریت نقل کو ہی اصل سمجھ کر اس کا شکار ہو جائے ۔
اس کے علاوہ دجل کسی بھی ایک شئے یا ایک سے زائد ان اشیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی نشان دہی کی جائے ۔ ’’د‘‘ کے بعد جیم پر شد اور لام کے درمیان الف آ جانے سے لفظ دجّال بن جاتا ہے جس میں کل کا مادہ شامل ہو جاتا ہے اسے یوں بھی لکھا جا سکتا ہے ’ ’دجّٰل‘‘ لیکن عربی میں اسے لکھنا اور پڑھنا زیادہ آسان اس طرح لکھنے سے ہے دجّال۔ یوں دجّال کے معنی ہیں ہر وہ شئے جو حقیقت کو ڈھانپ کر دھوکے میں مبتلا کر دے، نقل کو اصل دکھائے یا عقل پر پردہ ڈال دے یا ہر وہ شئے جو اپنی حقیقت کے برعکس جو اس کی حقیقت نہیں ہے وہ نظر آئے اور لوگ اسے جو نظر آ رہی ہے اس کا شکار ہو جائیں اسے ہی اصل اورحقیقت تسلیم کر لیں۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment