WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#13
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کو یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کے لیے اتارا گیا ؟
کیا محمد رسول اللہ کی بعثت کا مقصد یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کرنا تھی؟
کیونکہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر اپنا یہ قانون واضح کر دیا کہ اللہ رسول کو صرف اور صرف اسی وقت بعث کرتا ہے جب دنیا میں سو فیصد ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیاں ہوتی ہیں جب انسان سو فیصد ہی گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی حق کی ایک رائی بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود ہر کوئی حق کا
دعویدار ہوتا ہے حالانکہ کسی ایک کو بھی حق کا علم نہیں ہوتا۔
جیسا کہ ذیل میں آپ کوسورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۶۴ نظر آ رہی ہے
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْامِنْ
قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ آل عمران ۱۶۴
تحقیق کہ یہ بات طے شدہ ہے یعنی تمہیں سننے کے لیے کان دیئے گئے دیکھنے کے لیے آنکھیں اور جو سنائی اور دکھائی دے رہا ہے اسے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے دی گئی جو کہ تمہیں کہا جا رہا ہے اسے سنو اور سمجھو جب تم اسے سمجھو گے تو تمہارے سامنے وہی آئے گا جو کہ طے شدہ ہے جو قدر میں کر دیا گیاجو اللہ ہے مومنین پر تب بعث کرتا ہے رسول ان میں انہی میں سے جو تلاوہ کر رہا ہے ان پر اس کی آیات کی اور تزکیہ کر رہا ہے ان کا اور سکھا رہا ہے الکتاب اور الحکمہ اور اگر ہو رہے ہوں اس سے پہلے جو قدر میں کر دیا گیا ضلالٍ مبینٍ میں یعنی ہر لحاظ سے سو فیصد گمراہیوں میںہو رہے ہو جب نور کی ایک کرن بھی نہ ہو۔
اس آیت میں اللہ کا کہنا ہے کہ مومنین کے حوالے اسے اللہ پر جو ذمہ داری ہے وہ یہ ہے کہ جب دنیا سو فیصد گمراہیوں میں ہونور کی ایک کرن بھی نہ ہو تمام کے تمام انسان سو فیصد ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں ہوں بالخصوص جن میں یعنی امیّن میں رسول بعث کیا جاتا ہے تو امیّن سو فیصد کھلم کھلا گمراہیوں میں ہوں تب ہی اللہ ان میں انہی سے رسول بعث کرتا ہے جو آ کر ان پر اللہ کی آیات کی تلاوہ کرتا ہے یعنی وہ انتہائی ترتیب کیساتھ حق کھول کھول کر واضح کر تا ہے اللہ کی آیات کو حکمہ کیساتھ کھول کھول کر واضح کرتا ہے جس سے ان کاتزکیہ کرتا ہے ان میں جو ملاوٹیں ہوتی ہیں انہیں ہر لحاظ سے پاک صاف کر کے خالص اللہ کا غلام بناتا
ہے اور الکتاب سکھاتا ہے یعنی زمین و آسمانوں کا علم سکھاتا ہے اور اس علم کا صحیح استعمال بھی سکھاتا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا قانون واضح کر دیا کہ اللہ صرف اور صرف اسی وقت رسول بعث کرتا ہے جب انسان سو فیصد کھلم کھلا ہر لحاظ سے گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی حالانکہ اس کے باوجود ہر کوئی خود کو اہل حق اور ہدایت یافتہ سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ کسی
ایک کو بھی حق کا علم نہیں ہوتا سب کے سب سو فیصد گمراہیوں میں ہوتے ہیں۔
یعنی اگر دنیا میں نور کی ایک کرن بھی ہو رائی برابر بھی ہدایت موجود ہو تو اللہ رسول کو بعث نہیں کرتا اور یہی بات اللہ نے سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر دو میں بھی کہی جیسا کہ ذیل میں آیت آپ کے سامنے ہے۔
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ۔ الجمعہ ۲
وہی ہے ذات امیّن میں بعثت کیا رسول انہی میں سے، تلاوہ کررہاہے ان پر اس کی آیات کی اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور علم سکھاتا ہے الکتاب کا اور حکمت ،اور
اگر ہو رہے ہیں اس سے پہلے جو کہ قدر میں کر دیا گیا ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں کہ نور کی ہدایت کی ایک کرن بھی نہیں۔
حسب سابق اللہ نے آیت کے آخری حصے میں یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ اگر تھے اس سے پہلے کھلم کھلا ہر لحاظ سے سو فیصدگمراہیوں میں یعنی اگر وہ ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں نہ ہوتے تو اللہ رسول بعث نہ کرتا جس سے یہ بات کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ جب اللہ نے اپنے رسول محمد کو بعث کیا تب پوری دنیا ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہی میں تھی ان کے عقائد و نظریات جاہلانہ ، بے بنیاد اور محض ظن پر مبنی تھے نہ کہ علم پر مبنی اور قرآن میں جس موضوع کو بھی زیر بحث لایا گیا تو اس موضوع پر قرآن سے پہلے جو بھی عقائد و نظریات عام تھے وہ سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ تھے۔ یوں قرآن نے اس حوالے سے اس کے نزول سے پہلے پائے جانے والے تمام کے تمام عقائد ونظریات کا رد کرتے ہوئے ان کے برعکس حق بیان کیااس لیے اب آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جانی چاہیے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق جو یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں ان کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں
وہ محض بے بنیاد قصے و کہانیاں ہیں اور اس کے برعکس حق اللہ نے قرآن میں بیان کر دیا۔
آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات قرآن سے اخذ کردہ نہیں بلکہ بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے ہی عقائد و نظریات ہیں۔ یاجوج اور ماجوج سے متعلق مسلمانوں میں پائے جانے والے عقائد ونظریات قرآن کے پیش کردہ نہیں بلکہ بائبل سے اخذ کیے گئے۔ اب اگر اس کے باوجود کوئی اپنے سابقہ بائبلی یہودی و عیسائی عقائد ونظریات پر ڈٹا رہتا
ہے تو ایسا شخص اپنے عمل سے یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ نہ تو محمد اللہ کا رسول تھا اور نہ ہی قرآن اللہ کی طرف سے اتارا ہوا۔
کیونکہ اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ رسول کو صرف اور صرف تب بعث کرتا ہے جب دنیا سو فیصد ہر لحاظ سے گمراہیوں میں ہوتی ہے نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی لیکن ایسے شخص کا کہنا ہے کہ جب محمد کو بعث کیا گیا تب ہدایت موجود تھی لوگ حق پر تھے نور موجود تھا اب اگر حق تھا ہدایت تھی لوگ ضلالٍ مبینٍ میں نہیں تھے تو اس کا مطلب کہ محمد اللہ کا رسول نہیں تھا کیونکہ رسول کی بعثت ہوتی ہی تب ہے جب انسان سو فیصد گمراہیوں میں ہوں نور کی ایک کرن بھی نہ ہو اور جو ایسی حالت میں آئے کہ نور موجود ہو لوگ ہدایت یافتہ ہوں یا ان کے پاس کچھ نہ کچھ حق موجود ہو تو وہ رسول کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا شخص یاجوج اور ماجوج کے متعلق بائبلی عقیدے پر بھی ڈٹا رہے اور یہ بھی کہے کہ محمد اللہ کا رسول تھا تو اس کا مطلب کہ وہ اپنے عمل سے دعویٰ کر رہا ہے کہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ اللہ نے دو
ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں اختلافاً کثیراً پاتے جیسا کہ آپ آیت دیکھ رہے ہیں۔
اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ النساء ۸۲
کیا پس نہیں تدبر کررہے القرآن یعنی جو بھی تم پر قرا کیا جا رہا ہے تمہاری ہدایت کے لیے تم پر پڑھا جا رہا ہے تمہیں سنایا جا رہا اور اگر تھا کسی اور کے ہاں سے
اللہ کے علاوہ کہ تم پارہے ہو اس میں کثیر اختلاف یعنی ایک مقام پر کچھ کہا جا رہا ہے اور دوسرے مقام پر کچھ اور کہا جا رہا ہے۔
اب قرآن ایک طرف یہ کہے کہ رسول تب بعث کیا جاتا ہے جب انسان سو فیصد گمراہیوں میں چلے جائیں اور دوسری طرف اللہ اپنے دعوے کے بالکل برعکس تب رسول بعث کر دے جب حق موجود ہو نور موجود ہو ہدایت موجود ہو انسان ہدایت پر ہوں تو ظاہر ہے قرآن میں اختلاف ثابت ہو کر غیر اللہ کے ہاںسے
ثابت ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی دل سے نہ صرف محمد کو اللہ کا رسول بلکہ قرآن کو اللہ کی طرف سے اتارا ہوا تسلیم کرتا ہے تو اسے اپنے عمل سے بھی ثابت کرنا ہو گا اسے یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے بائبلی عقیدے کا انکار کرتے ہوئے اسے دماغ سے نکالتے ہوئے اس کے برعکس اللہ نے جو قرآن میں اس حوالے سے راہنمائی کی اسے تسلیم کرنا ہو گا ورنہ وہ نہ صرف اپنے عمل سے محمد کے اللہ کا رسول ہونے کا کفر کررہا ہے بلکہ اس کا عملاً دعویٰ ہے قرآن میں اختلافات پائے جاتے ہیں
یوں قرآن اللہ کے ہاں سے نہیں بلکہ غیر اللہ کے ہاں سے ہے۔
ویسے بھی اگر تو اللہ اس قرآن کے برعکس غیر قرآن سے راہنمائی لینے کی اجازت دے تو بلا شک و شبہ غیر قرآن سے نہ صرف ہدایت لی جا سکتی ہے بلکہ ہدایت مل بھی سکتی ہے لیکن جب اللہ اس کی اجازت ہی نہیں دیتا الٹا انتہائی سختی کے ساتھ غیر قرآن کی طرف رجوع کرنے سے منع کرتا ہے تو پھر غیر قرآن کی بات کیسے حق
ہو سکتی ہے؟ غیر قرآن آپ کی راہنمائی کیسے کر سکتا ہے؟ ایسا ممکن ہی نہیں کہ غیر قرآن آپ کی راہنمائی کر سکے۔
(جاری ہے)۔۔۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کو یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کے لیے اتارا گیا ؟
کیا محمد رسول اللہ کی بعثت کا مقصد یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کرنا تھی؟
کیونکہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر اپنا یہ قانون واضح کر دیا کہ اللہ رسول کو صرف اور صرف اسی وقت بعث کرتا ہے جب دنیا میں سو فیصد ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیاں ہوتی ہیں جب انسان سو فیصد ہی گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی حق کی ایک رائی بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود ہر کوئی حق کا
دعویدار ہوتا ہے حالانکہ کسی ایک کو بھی حق کا علم نہیں ہوتا۔
جیسا کہ ذیل میں آپ کوسورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۶۴ نظر آ رہی ہے
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْامِنْ
قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ آل عمران ۱۶۴
تحقیق کہ یہ بات طے شدہ ہے یعنی تمہیں سننے کے لیے کان دیئے گئے دیکھنے کے لیے آنکھیں اور جو سنائی اور دکھائی دے رہا ہے اسے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے دی گئی جو کہ تمہیں کہا جا رہا ہے اسے سنو اور سمجھو جب تم اسے سمجھو گے تو تمہارے سامنے وہی آئے گا جو کہ طے شدہ ہے جو قدر میں کر دیا گیاجو اللہ ہے مومنین پر تب بعث کرتا ہے رسول ان میں انہی میں سے جو تلاوہ کر رہا ہے ان پر اس کی آیات کی اور تزکیہ کر رہا ہے ان کا اور سکھا رہا ہے الکتاب اور الحکمہ اور اگر ہو رہے ہوں اس سے پہلے جو قدر میں کر دیا گیا ضلالٍ مبینٍ میں یعنی ہر لحاظ سے سو فیصد گمراہیوں میںہو رہے ہو جب نور کی ایک کرن بھی نہ ہو۔
اس آیت میں اللہ کا کہنا ہے کہ مومنین کے حوالے اسے اللہ پر جو ذمہ داری ہے وہ یہ ہے کہ جب دنیا سو فیصد گمراہیوں میں ہونور کی ایک کرن بھی نہ ہو تمام کے تمام انسان سو فیصد ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں ہوں بالخصوص جن میں یعنی امیّن میں رسول بعث کیا جاتا ہے تو امیّن سو فیصد کھلم کھلا گمراہیوں میں ہوں تب ہی اللہ ان میں انہی سے رسول بعث کرتا ہے جو آ کر ان پر اللہ کی آیات کی تلاوہ کرتا ہے یعنی وہ انتہائی ترتیب کیساتھ حق کھول کھول کر واضح کر تا ہے اللہ کی آیات کو حکمہ کیساتھ کھول کھول کر واضح کرتا ہے جس سے ان کاتزکیہ کرتا ہے ان میں جو ملاوٹیں ہوتی ہیں انہیں ہر لحاظ سے پاک صاف کر کے خالص اللہ کا غلام بناتا
ہے اور الکتاب سکھاتا ہے یعنی زمین و آسمانوں کا علم سکھاتا ہے اور اس علم کا صحیح استعمال بھی سکھاتا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا قانون واضح کر دیا کہ اللہ صرف اور صرف اسی وقت رسول بعث کرتا ہے جب انسان سو فیصد کھلم کھلا ہر لحاظ سے گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی حالانکہ اس کے باوجود ہر کوئی خود کو اہل حق اور ہدایت یافتہ سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ کسی
ایک کو بھی حق کا علم نہیں ہوتا سب کے سب سو فیصد گمراہیوں میں ہوتے ہیں۔
یعنی اگر دنیا میں نور کی ایک کرن بھی ہو رائی برابر بھی ہدایت موجود ہو تو اللہ رسول کو بعث نہیں کرتا اور یہی بات اللہ نے سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر دو میں بھی کہی جیسا کہ ذیل میں آیت آپ کے سامنے ہے۔
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ۔ الجمعہ ۲
وہی ہے ذات امیّن میں بعثت کیا رسول انہی میں سے، تلاوہ کررہاہے ان پر اس کی آیات کی اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور علم سکھاتا ہے الکتاب کا اور حکمت ،اور
اگر ہو رہے ہیں اس سے پہلے جو کہ قدر میں کر دیا گیا ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں کہ نور کی ہدایت کی ایک کرن بھی نہیں۔
حسب سابق اللہ نے آیت کے آخری حصے میں یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ اگر تھے اس سے پہلے کھلم کھلا ہر لحاظ سے سو فیصدگمراہیوں میں یعنی اگر وہ ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں نہ ہوتے تو اللہ رسول بعث نہ کرتا جس سے یہ بات کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ جب اللہ نے اپنے رسول محمد کو بعث کیا تب پوری دنیا ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہی میں تھی ان کے عقائد و نظریات جاہلانہ ، بے بنیاد اور محض ظن پر مبنی تھے نہ کہ علم پر مبنی اور قرآن میں جس موضوع کو بھی زیر بحث لایا گیا تو اس موضوع پر قرآن سے پہلے جو بھی عقائد و نظریات عام تھے وہ سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ تھے۔ یوں قرآن نے اس حوالے سے اس کے نزول سے پہلے پائے جانے والے تمام کے تمام عقائد ونظریات کا رد کرتے ہوئے ان کے برعکس حق بیان کیااس لیے اب آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جانی چاہیے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق جو یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں ان کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں
وہ محض بے بنیاد قصے و کہانیاں ہیں اور اس کے برعکس حق اللہ نے قرآن میں بیان کر دیا۔
آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات قرآن سے اخذ کردہ نہیں بلکہ بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے ہی عقائد و نظریات ہیں۔ یاجوج اور ماجوج سے متعلق مسلمانوں میں پائے جانے والے عقائد ونظریات قرآن کے پیش کردہ نہیں بلکہ بائبل سے اخذ کیے گئے۔ اب اگر اس کے باوجود کوئی اپنے سابقہ بائبلی یہودی و عیسائی عقائد ونظریات پر ڈٹا رہتا
ہے تو ایسا شخص اپنے عمل سے یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ نہ تو محمد اللہ کا رسول تھا اور نہ ہی قرآن اللہ کی طرف سے اتارا ہوا۔
کیونکہ اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ رسول کو صرف اور صرف تب بعث کرتا ہے جب دنیا سو فیصد ہر لحاظ سے گمراہیوں میں ہوتی ہے نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی لیکن ایسے شخص کا کہنا ہے کہ جب محمد کو بعث کیا گیا تب ہدایت موجود تھی لوگ حق پر تھے نور موجود تھا اب اگر حق تھا ہدایت تھی لوگ ضلالٍ مبینٍ میں نہیں تھے تو اس کا مطلب کہ محمد اللہ کا رسول نہیں تھا کیونکہ رسول کی بعثت ہوتی ہی تب ہے جب انسان سو فیصد گمراہیوں میں ہوں نور کی ایک کرن بھی نہ ہو اور جو ایسی حالت میں آئے کہ نور موجود ہو لوگ ہدایت یافتہ ہوں یا ان کے پاس کچھ نہ کچھ حق موجود ہو تو وہ رسول کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا شخص یاجوج اور ماجوج کے متعلق بائبلی عقیدے پر بھی ڈٹا رہے اور یہ بھی کہے کہ محمد اللہ کا رسول تھا تو اس کا مطلب کہ وہ اپنے عمل سے دعویٰ کر رہا ہے کہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ اللہ نے دو
ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں اختلافاً کثیراً پاتے جیسا کہ آپ آیت دیکھ رہے ہیں۔
اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ النساء ۸۲
کیا پس نہیں تدبر کررہے القرآن یعنی جو بھی تم پر قرا کیا جا رہا ہے تمہاری ہدایت کے لیے تم پر پڑھا جا رہا ہے تمہیں سنایا جا رہا اور اگر تھا کسی اور کے ہاں سے
اللہ کے علاوہ کہ تم پارہے ہو اس میں کثیر اختلاف یعنی ایک مقام پر کچھ کہا جا رہا ہے اور دوسرے مقام پر کچھ اور کہا جا رہا ہے۔
اب قرآن ایک طرف یہ کہے کہ رسول تب بعث کیا جاتا ہے جب انسان سو فیصد گمراہیوں میں چلے جائیں اور دوسری طرف اللہ اپنے دعوے کے بالکل برعکس تب رسول بعث کر دے جب حق موجود ہو نور موجود ہو ہدایت موجود ہو انسان ہدایت پر ہوں تو ظاہر ہے قرآن میں اختلاف ثابت ہو کر غیر اللہ کے ہاںسے
ثابت ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی دل سے نہ صرف محمد کو اللہ کا رسول بلکہ قرآن کو اللہ کی طرف سے اتارا ہوا تسلیم کرتا ہے تو اسے اپنے عمل سے بھی ثابت کرنا ہو گا اسے یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے بائبلی عقیدے کا انکار کرتے ہوئے اسے دماغ سے نکالتے ہوئے اس کے برعکس اللہ نے جو قرآن میں اس حوالے سے راہنمائی کی اسے تسلیم کرنا ہو گا ورنہ وہ نہ صرف اپنے عمل سے محمد کے اللہ کا رسول ہونے کا کفر کررہا ہے بلکہ اس کا عملاً دعویٰ ہے قرآن میں اختلافات پائے جاتے ہیں
یوں قرآن اللہ کے ہاں سے نہیں بلکہ غیر اللہ کے ہاں سے ہے۔
ویسے بھی اگر تو اللہ اس قرآن کے برعکس غیر قرآن سے راہنمائی لینے کی اجازت دے تو بلا شک و شبہ غیر قرآن سے نہ صرف ہدایت لی جا سکتی ہے بلکہ ہدایت مل بھی سکتی ہے لیکن جب اللہ اس کی اجازت ہی نہیں دیتا الٹا انتہائی سختی کے ساتھ غیر قرآن کی طرف رجوع کرنے سے منع کرتا ہے تو پھر غیر قرآن کی بات کیسے حق
ہو سکتی ہے؟ غیر قرآن آپ کی راہنمائی کیسے کر سکتا ہے؟ ایسا ممکن ہی نہیں کہ غیر قرآن آپ کی راہنمائی کر سکے۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment