Saturday, August 13, 2022

                WARNING FROM MOTHER NATURE



قسط نمبر#18

اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْب’‘۔ الشوریٰ ۱۷
اَللّٰہُ اللہ ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کیا ہے تو آگے اسی سوال کا جواب موجود ہے الَّذِیْٓ یہ ذات ہے اللہ اَنْزَلَ کیا ہے جو زل ہوا یعنی ایک طرف سے دوسری طرف آیا ہم ہیں یعنی اللہ ہے الْکِتٰبَ الکتاب یعنی آسمان اور زمین یہ اللہ ہی کا وجود ہے یہی زل ہوئے بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ حق کیساتھ اور المیزان یعنی ہر شئے میں توازن وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْب’‘ اور کیا تُو ادراک کر رہا ہے کہ الساعت کہاں پر ہے ؟ الساعت بالکل قریب آ گئی
ہے ۔
وَالسَّمَآئَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَان۔ الرحمٰن ۷
اور آسمان رفع ہوا اور وضع ہوا المیزان۔
اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَان۔ الرحمٰن ۸
جان لو یہ جو تم کر رہے ہو نہ ہدایات کے خلاف عمل کرو المیزان میں یعنی یہ جو اللہ نے ہر شئے میں توازن قائم کیا ہوا ہے یہ جو اعمال تم کر رہے ہو تم ہدایات کے
خلاف کر رہے ہو جس سے ہر شئے میں قائم توازن بگڑ رہا ہے لہذا ایسا مت کرو ہدایات کے خلاف اعمال مت کرو۔
وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ۔ الرحمٰن ۹
اورکیا قائم کر رہے ہو الوزن قسط کیساتھ؟ یہ جو بھی تم اعمال کر رہے ہو جو کچھ بھی استعمال کر رہے ہو جو وزن یعنی اشیاء استعمال کر رہے ہو تو کیا قسط کیساتھ واپس بھی اتنا وزن رکھ رہے ہو کہ المیزان قائم رہے؟ نہیں تم ایسا نہیں کر رہے تم اپنے اعمال کو دیکھو تم المیزان میں خسارہ کر رہے ہو تم وزن گھٹا رہے ہو جس سے
المیزان میں بگاڑ پیدا ہو رہاہے اور نہ کرو جو تم کر رہے ہو جو تمہارے اعمال ہیں یہ تم خسارہ کر رہے ہو المیزان میں۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔ الحدید ۲۵
تحقیق کہ یعنی تم اپنی تحقیق کر لو اپنے گھوڑے دوڑالو کیا کرتے ہیں ہم؟ ہم بھیجتے ہیں اپنے رسولوں کو البیّنات کیساتھ یعنی جو ہمارے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہوتے ہیں جو البیّنات کیساتھ آتے ہیں یعنی ایسے بشر جو آ کر حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر دیتے ہیں جو ہر بات ہر شئے کھول کھول کر رکھ دیتے ہیں، جو آیات کو کھول کھول کر واضح کر دیتے ہیں ان سے پہلے جو کچھ بھی لوگ کر رہے ہوتے ہیں ان کے اعمال کو آ کر کھول کھول کر ان پر واضح کر دیتے ہیں وہ ہمارے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہمارے رسول ہوتے ہیں وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ اور کیا ہے ہم جو اتارتے ہیں ان کیساتھ؟ الکتاب تھی اور المیزان جو ہم ان کیساتھ اتارتے ہیں لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ لوگوں کو قائم کرنے کے لیے قسط کیساتھ یعنی اس لیے رسولوں کو البیّنات کیساتھ بھیجا جاتا ہے الکتا ب اور المیزان کیساتھ تا کہ لوگوں پر جب سب کچھ کھل کر واضح ہو جائے لوگوں پر سب کچھ کھول کھول کر واضح کر دیا جائے تو لوگ قسط کیساتھ قائم کریں المیزان۔
ان آیات سے واضح ہو گیا کہ اللہ نے المیزان قائم کیا ہوا ہے یعنی آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کے سب میں بہترین توازن قائم کیا ہوا ہے اور اس میزان میں خسارہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے اگر اس میزان میں خسارہ کیا گیا تو فساد ہو گا۔ جو فساد کرنے والے ہوں گے وہ یاجوج اور ماجوج ہوں گے اور پھر فساد کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ سب کچھ اللہ نے واضح کر دیا۔ اب آپ کے لیے لازم ہے کہ سب سے پہلے میزان کو سمجھیں کیونکہ جب تک المیزان کو نہ سمجھا گیا تب تک فساد کو نہیں سمجھ پائیں گے اور پھر باقی سوالات کے جوابات حاصل ہونا ناممکن ہو جائے گا اس کے علاوہ جو سب سے بڑا نقصان ہو گا وہ یہ کہ آپ میزان میں خسارے کے ذریعے آسمانوں اور زمین میں فساد کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے اور جو زمین میں فساد کررہے ہیں وہی یاجوج اور ماجوج ہیں یوں آپ کا شمار بھی یاجوج اور ماجوج میں ہی ہو گا۔ المیزان کی وضاحت اور اس میں خسارہ کر کے فساد کیسے کیا جاتا ہے اب اسے اللہ کے کلام سے تفصیل
کیساتھ ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کرتے ہیں۔
وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۔ الانعام ۷۳
اورجو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا تو جو وجود سامنے آئے گا یہی وجود ہی وہ ذات ہے آسمانوں اور زمین کی خلق اگر
حق کیساتھ ہے تو وہی ذات ہے ورنہ جو حق کیساتھ نہیں وہ اس کا شریک ہونے کی دعویدار ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۔ ابراہیم ۱۹
کیا نہیں دیکھا کہ اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا آسمانوں اور زمین کی خلق بالحق ہے تو اللہ ہے ورنہ اللہ نہیں بلکہ اس کا شریک دوسرا وجود ہے۔
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ ۔ الحجر ۸۵
اور نہیں خلق کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے مگر حق کیساتھ۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۔ النحل ۳
خلق کیا آسمانوں اور زمین کو حق کیساتھ۔
خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ۔ العنکبوت ۴۴
خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کیساتھ، آسمانوں اور زمین کی خلق بالحق ہے یعنی حق کیساتھ ہے تو اللہ ہے اگر بالحق نہیں تو اللہ نہیں بلکہ اس کا شریک
ہونے کی دعویدارہے۔
مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَآاِلَّا بِالْحَقِّ۔ الروم ۸
نہیں خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو بھی ان کے درمیان ہے مگر حق کیساتھ۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۔ الزمر ۵
خلق کیا آسمانوں اور زمین کو حق کیساتھ۔
مَا خَلَقْنٰھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ ۔ الدخان ۳۹
نہیں خلق کیا ہم نے انہیں (آسمانوں اور زمین کو)مگر حق کیساتھ۔
وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۔ الجاثیہ ۲۲
اور خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کیساتھ۔
مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ ۔ الاحقاف ۳
نہیں خلق کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو بھی ان کے درمیان ہے مگر حق کیساتھ۔
قرآن میں اللہ نے ان مقامات پر بیان کیا کہ اس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کا سب نہیں خلق کیا کسی کا بھی کوئی وجود نہیں ہے مگر جب کہ حقیقت یہ نہیں ہے آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے نزدیک توان سب کا وجود ہے تویہی اللہ کہہ رہا ہے کہ اگر ہم نے انہیں خلق کیا ہے تو صرف اور صرف حق کیساتھ۔ حق کیساتھ خلق کرنے سے مراد کیا ہے اس کے معنی کیا ہیں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور اس سوال کا جواب بھی اللہ کے کلام قرآن سے ہی حاصل
کریں گے کہ حق کیساتھ خلق کرنے کا مطلب کیا ہے۔
جب قرآن پر یہ سوال پیش کریں تو قرآن اس کا جواب یوں دیتا ہے۔
اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَآاِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآیِٔ رَبِّھِمْ
لَکٰفِرُوْنَ ۔ الروم ۸
کیا اور نہیں خود ہی تفکر کر رہے غور و فکر، سوچ و بچارکر رہے اپنی ہی ذاتوں میں، نہیں خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو بھی ان کے درمیان ہے مگر حق کیساتھ اورخلق کی ہم نے ان سب کی اجل مسمیٰ، اور اس میں کچھ شک نہیں ایک بڑی تعداد لوگوں سے اپنے ربّ سے ملنے یعنی جس سے وجود میں آئے واپس
اسی میں ملنے سے جو ان کا ربّ ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔
اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے حق کیساتھ خلق کیا حق کیساتھ خلق کرنے کا کیا مطلب ہے اس کا جواب اللہ نے آپ کی اپنی ہی ذات میں رکھ دیا کہ جب تک آپ اپنی ہی ذات میں غورو فکر نہیں کریں گے آپ کو اس کا جواب نہیں ملے گا اس لیے اگر آپ اس کا جواب چاہتے ہیں کہ حق کیساتھ خلق کرنے کا مطلب کیا ہے تو آپ کو اللہ کے حکم کے مطابق اپنی ہی ذاتوں میں غوروفکر کرنا پڑے گا کیونکہ آپ کو بھی اسی نے ہی خلق کیا اور آپ کا وجود بھی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے ان میں سے ہے اس لیے آپ کوبھی اللہ نے حق کیساتھ خلق کیااور حق کیساتھ خلق کرنا کیا ہے اس کا جواب قرآن یوں دے رہا ہے کہ غورو فکر کرو اپنی ہی ذاتوں میں۔
(جاری ہے)۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature Kalki Avatar Krishna The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں Part 1 https://lnkd.in/gM4QHnrd Part 2 https://lnkd.in/gHdHQuJm Part 3 https://lnkd.in/gvr7KhMT Part 4 https://lnkd.in/g2fv5fPx Part 5 https://lnkd.in/gK4APFry Part 6 https://lnkd.in/gm3ZMm86 Part 7 https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...