WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#19
اب اپنی ہی ذات میں مختصراً غورو فکر کرتے ہیں تا کہ آپ پر حق کیساتھ خلق کرنا واضح ہو جائے۔ آپ کا جسم بہت سے اعضاء کا مجموعہ ہے بنیادی طور پر آپ کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہے ایک بیرونی ظاہری حصہ اور دوسراندرونی باطنی حصہ۔ بیرونی ظاہری حصہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہے جن میں ایک حصے میں وہ اعضاء آجاتے ہیں جن کا استعمال کیا ہے بالکل واضح ہے ۔ جیسے ہاتھ، پاؤں، ناک ، کان، آنکھیں، منہ وغیرہ اس کے علاوہ دوسرا حصہ جس میں کچھ اعضاء بالکل ظاہر تو ہیں لیکن ان کا استعمال کیا ہے اس کا علم اللہ نے آپ کو نہیں دیا یا اگر علم دیا ہے تو کم۔ جیسے کہ ناخن، بال وغیرہ ہیںلیکن ایسا ہرگز نہیں کہ یہ بے کار یا فضول ہیں بلکہ
ان کو خلق کرنے کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے خواہ آپ کو اس کا علم دیا ہو یا نہ دیا ہو۔
بیرونی حصے میں وہ تمام اعضاء جن کی تخلیق کا مقصد بالکل واضح ہے وہ محکم حصہ کہلائے گا یعنی بشر کے تمام اعضاء بھی اللہ کی آیات ہیں اور یہ محکم آیات ہیں لیکن ان کے برعکس جو اعضاء ظاہر تو ہیں لیکن ان کے بارے میں علم نہیں دیا گیا کہ ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے یہ سب آیات متشابہات کہلائیں گی اور متشابہات غیب کا حصہ ہیں یعنی اللہ کے غیب میں سے ہیں۔
اب جسم کا اندرونی حصہ جو کہ بالکل پوشیدہ ہے یعنی چھپا ہوا ہے جس میں بھی بہت سارے اعضاء ہیں یہ بشری جسم میں اللہ کا غیب ہیں۔
پھر جب مزید غورو فکر کریں تو جسم میں کوئی ایک بھی عضو ایسا نہیں جس کے وجود کا کوئی نہ کوئی مقصد نہ ہو مثلاً اگر ہاتھوں کی ہی مثال لے لیں کہ اگر ہاتھ نہ ہوں تو انسان کن تکالیف و مصائب سے دوچار ہو گا اسی طرح اگر پاؤں نہ ہوں تو انسان چلنے پھرنے سے قاصر ہو جائے گا اور مختلف تکالیف و مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا تصور کرنا بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے اسی طرح آنکھیں اگر نہ ہوں، کان، یا ناک نہ ہو تو کن کن تکالیف و مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے یعنی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان سب کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے ان کا تو ہمیں واضح علم ہے لیکن ان کے علاوہ جن کا ہمیں
علم نہ ہو ان سب کی تخلیق کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے۔
پھر اسی طرح وہ اعضاء جو جسم میں اللہ نے چھپا کر رکھ دیئے یعنی دل، گردے، پھیپھڑے، خون وغیرہ سمیت سب کے سب اگر ان میں غور کریں کہ اگر دل نہ ہو تو انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یعنی کہ دل کے بغیر تو جسم کے وجود کا ہی تصور ناپید ہو جاتا ہے ایسے ہی اگر جسم میں خون نہ ہو یا پھر اگر جسم سے خون نکال لیا جائے تو جسم کانپ اٹھے گا اور بالآخر موت سے دوچار ہو گا بالکل اسی طرح گردوں، پھیپھڑوں وغیرہ سمیت باقی جتنے بھی اندرونی اعضاء ہیں ان کے عدم وجود سے بھی کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ان کا اندازہ لگانا آج ہمارے لیے بالکل بھی مشکل نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے بغیر بھی زندگی کا تصور ختم ہو جاتا ہے جس سے اللہ کا ایک قانون ہم پر واضح ہوتا ہے کہ ہمارے جسم میں جتنی بھی مخلوقات ہیں یعنی جتنے بھی اعضاء ہیں خواہ ہمیں کسی کے بارے میں علم دیا گیا یا نہ دیا گیا، خواہ جو ظاہر ہیں یا وہ بھی جو پوشیدہ ہیں سب کے سب کو اللہ نے کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا پھرتمام کے تمام اعضاء کو اللہ نے احسن خلق کیا اور خلق کرکے ہر ایک کوجس مقصد کے لیے خلق کیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس کے مقام پر لگا دیا جس سے ایک توازن قائم ہو گیا اور جب تک تمام کے تمام اعضاء اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے اور کسی بھی قسم کی کوئی کمی، کجی یا لاپرواہی نہیں کریں گے تب تک جسم میں یہ توازن یعنی میزان قائم رہے گا اور جب بھی کسی عضو نے کام کرنا یعنی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ترک کر دیا یا کمی، کوتاہی کی، کوئی عضو اپنے مقام سے ہٹ گیا اس میں تبدیلی ہوئی تو جسم میں توازن یعنی میزان میں بگاڑ آ جائے گا جس کی وجہ سے جسم میں خرابی ہو گی جسے آپ بیماری یا بیماریوں کا نام دیتے ہیںاسے قرآن میں اللہ نے اجل کہا ہے اور اگر جسم میں قائم میزان میں بگاڑ ہونے سے پیدا ہونے والی خرابی یعنی بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو وہ بیماری بڑھتے بڑھتے ایک دن اس مقام پر
پہنچ جاتی ہے کہ پورے کا پورا جسم ہی بے کار ہو کر خاتمے سے دوچار ہو جاتا ہے جسے اللہ نے اجل مسمیٰ کہا ہے۔
جیسے اگر دل کام کرنا چھوڑ دے تو موت ہو جائے گی لیکن اگر دل اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں کوئی کمی واقع کر دے تو جسم پر اسی نوعیت کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اگر دل کو دوبارہ واپس اسی مقام پر نہ لایا جائے جو مقام اللہ نے اس کا مقرر کیا تو جسم میں منفی اثرات بڑھتے بڑھتے ایک دن بڑے نقصان کی دہلیز پر لا کھڑا کرتے ہیںایسے ہی جسم میں ہر عضو یہاں تک کہ چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا معاملہ ہے اس طرح اللہ نے جسم میں میزان قائم کر دیا جس کا ذکر اللہ اس
آیت میں کر رہا ہے۔
وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔ الرحمٰن ۷
اور وضع کر دیا میزان۔
سورۃ الرحمٰن کی اس آیت میں اللہ نے جس المیزان کی بات کی اصل میں وہ صرف یہی میزان نہیں جو میزان صرف انسان کے جسم میں قائم کیا بلکہ وہ آسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان سمیت پورے کے پورے وجود میں قائم کیے گئے میزان کا ذکر ہے جو کچھ بھی نظر آ رہاہے جو وجود ہے پورے کے پورے وجود میں ہر سطح پر میزان قائم کیاگیا۔ آیات میں اللہ نے المیزان کے ساتھ اس کی مزید وضاحت نہ کر کے یہ واضح کر دیا المیزان کل کے کل پورے وجود میں
قائم ہے ۔ اب جب اس المیزان کو سمجھیں گے تو آپ پر بہت سے حقائق اور رازوں سے پردہ اٹھے گا۔
جب ہم نے مختصراً اپنی ہی ذات میں غورو فکر کیا تو ہم پر اللہ نے جن حقائق اور رازوں سے پردہ اٹھایا وہ یہ ہیں کہ اللہ نے ہمارا جسم خلق کیا جو کہ ایک خلق ہے لیکن یہ ایک خلق لاتعداد مخلوقات کے مجموعے سے وجود میں آئی،پورا جسم ایک خلق،عالم ہے جب اس میں غور کریں تو پتہ چلتا ہے جسم کا ہر عضو اپنے آپ میںایک الگ الگ مخلوق ، عالم ہے پھر ہر عضولاتعداد مخلوقات کے مجموعے سے وجود میں آتا ہے اسی طرح بتدریج ہر مخلوق کئی مخلوقات کا مجموعہ ہے یہاں تک کہ ایک ذرے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان تمام مخلوقات کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا اور خلق کر کے جس مقصد کے لیے خلق کیا اسے پورا کرنے کے لیے ہر مخلوق کو اس کے مقام یعنی کسی نہ کسی لائن پر لگا دیا جب تک تمام کی تمام مخلوقات اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں گی تب تک جسم کے تمام
اعضاء ٹھیک سے اپنی ذمہ داری پوری کر سکیں گے جس سے جسم میں میزان یعنی توازن قائم رہے گا۔
جسم میں تمام کی تمام مخلوقات تب تک اپنی ذمہ داری ٹھیک سے پوری کریں گی جب تک کہ ان کو ان کی ضروریات خالص اور جو معیار درکار ہے اس کے مطابق ہوں گی کیونکہ اگر ہم غور کریںکہ ہم کوئی ایسی شئے کھائیں جو فائدہ مند نہیں تو اس کے جسم پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے جسم کے کچھ اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیںیا لاپرواہی کرتے ہیں جس سے پیدا ہونے والے ردعمل کو ہم بیماری کا نام دیتے ہیں بالکل اسی طرح جسم میں ہر مخلوق کو جیسی ضروریات مہیا ہوں گی ویسے ہی ان پر اثرات مرتب ہوں گے اور ویسا ہی وہ رد عمل کا اظہار کریں گی۔ جیسے زیادہ زہر کھانے سے موت واقع ہوجاتی ہے اور کم کھانے سے بھی نقصان ہوتا ہے بالکل اسی طرح اگر جسم کو کوئی ایسی شئے مہیا کی جاتی ہے جو نقصان دہ ہے تو وہ جسم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے جسم میں بہت سی مخلوقات کی یا تو موت ہوجاتی ہے یا پھر بہت سی مخلوقات کو ان کی ضروریات معیار کے مطابق نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کر پاتیں جس کا نتیجہ جسم میں میزان یعنی توازن بگڑنے کی صورت میں سامنے آتا ہے جسے بیماری کا نام دیا جاتا ہے اور پھر ایسا جسم جس مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا وہ مقصد بھی
پورا نہیں ہوتا جس سے آسمانوں و زمین میں قائم المیزان میں بھی خسارے کا سبب بنتا ہے۔
جسم میں تمام مخلوقات کی ضروریات کیا ہیں ان کی مقدار اور معیار کیا ہے اس کا علم صرف اور صرف اسی کو ہو سکتا ہے جس کے پاس جسم کے بارے میں مکمل علم ہو اور وہ خالق کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اللہ یعنی جو وجود موجود ہے ایک ہی وجود ہے یہی وہ ذات ہے جس نے ہمیں خلق کیا یہ وجود جو موجود ہے یہ اللہ ہے اللہ نے ہمیں خلق کیا اس لیے پھر جسم میں تمام کی تمام مخلوقات کی ضروریات کیا ہیں ، ان کا معیاراور مقدار کیا ہے اس کا علم صرف اور صرف اللہ ہی کوہے اس کے علاوہ اور کسی کو نہیں اس لیے جب تک ہم خالق کی ہدایات پر مکمل عمل کریں گے تو جسم میں تمام کی تمام مخلوقات اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی لائن پر قائم رہ کر اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرتی رہیں گی جس سے جسم میں توازن قائم رہے گا اور اگر ہم نے خالق کی ہدایات کو ترک کر دیا یا ان میں کوئی کمی یا زیادتی کی تو ان مخلوقات کی ضروریات کا توازن بگڑ جائے گا جس سے وہ ٹھیک سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پائیں گی یعنی اپنے اس مقام سے ہٹ جائیں گی جو مقام خالق نے ان کے لیے تجویز کیا تو اس سے جسم میں قائم توازن یعنی میزان بھی بگڑ جائے گا جس سے پیدا ہونے والے نقصان کو ہم بیماری کا نام دیتے ہیں۔
پھر اسی طرح ہم اگر مزید غورو فکر کریں تو جسم میں ہاتھ کی جگہ پاؤں نہیں لے سکتے یعنی جس مقصد کے لئے ہاتھوں کو خلق کیا گیا پاؤ ں اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتے، دل گردوں کی جگہ نہیں لے سکتا، آنکھیں کانوں کی جگہ نہیں لے سکتیں بتدریج اسی طرح کو ئی بھی عضو کسی دوسرے عضو کے مقام کا متحمل نہیں ہو سکتا ہر لحاظ سے ہر
سطح پراللہ نے جسم میں میزان یعنی توازن قائم کیا ہوا ہے۔
اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ۔ الرحمٰن ۸
جان لو یہ جو تم کر رہے ہو نہ ہدایات کے خلاف عمل کرو المیزان میں یعنی یہ جو اللہ نے ہر شئے میں توازن قائم کیا ہوا ہے یہ جو اعمال تم کر رہے ہو تم ہدایات کے خلاف کر رہے ہو جس سے ہر شئے میں قائم توازن بگڑ رہا ہے لہذا ایسا مت کرو ہدایات کے خلاف اعمال مت کرو، فطرت میں چھیڑ چھاڑ مت کرو۔
اللہ نے حکم دے دیا کہ جان لو تم نے میری دی ہوئی ہدایات کے خلاف بالکل کچھ بھی نہیں کرناالمیزان میں یعنی اگر تم نے کوئی ایک بھی ایسی حرکت کی کوئی ایسا عمل کیا جس سے میں نے تمہیں روک دیا یا جس کی اجازت نہیں دی یا پھر جس کا حکم نہیں دیا تو اس سے یہ توازن یعنی المیزان بگڑ جائے گا جس کا نتیجہ سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں نکلے گاکیونکہ اللہ نے ہر ایک کی اجل بھی خلق کر دی ہے کوئی بھی عمل کیا جائے گا تو اس کا رد عمل اللہ نے خلق کر دیا جو کہ ضرور آئے گا۔
(جاری ہے)۔۔۔
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:
Post a Comment