WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#17
تُفْسِدُوْا: یہ جملہ ہے جو کہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے ان میں پہلا لفظ ت پر پیش ہے ’’تُ‘‘ جو کہ جن سے خطاب کیا جارہا ہے یعنی اس وقت جو بھی انسان موجود ہیں ان کے کیے جانے والے اعمال کا اظہار کر رہا ہے دوسرا لفظ ’’فسد‘‘ ہے جس کیساتھ آگے ’’و‘‘ کا اضافہ ہے جس سے لفظ ’’فسدو ‘‘ حال کا صیغہ بن جاتا ہے اور آخر میں الف ہے جو کہ ماضی کا صیغہ بھی بنا دیتا ہے تُفْسِدُوْا یہ جملہ بیک وقت نہ صرف ماضی بلکہ حال کا بھی ذکر کر رہا ہے یعنی ماضی اور
حال دونوں کی بات کر رہا ہے اس میں اصل لفظ ہے ’’فسد‘‘ جو کہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے پہلا لفظ ’’فس ‘‘ اور دوسرا لفظ ’’سد‘‘ ہے ۔
’’فس‘‘ اسی سے فسق، فاسق،فاسقین اور فاسقو ن وغیرہ جیسے الفاظ بنے ہیں اور ’’فس‘‘ کے معنی ہیں کسی شئے کو اس کے مقام سے ہٹا دینا یا اس کے مقام میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی کر دینا خواہ کمی یا زیادتی کی صورت میں حتیٰ کہ کسی بھی لحاظ سے کسی شئے کے مقام میں کوئی تبدیلی کرنا یا تبدیلی کا ہونا اور ’’سد‘‘ کے
معنی ہیں رکاوٹ۔
اب دونوں الفاظ کو جمع کریں تو جملہ ’’فسد‘‘ وجود میں آئے گا جس کے معنی بنیں گے شئے میں یعنی جس کے بارے میں ذکر کیا جا رہا ہے اس میں کسی بھی قسم کی
تبدیلی کرنا اس میں اشیاء کو ان کے مقام سے ہٹا دینا خواہ کسی بھی سطح پر جس سے اس میں قائم نظم میں تسلسل میں ربط میں رکاوٹ پیدا ہو جائے۔
اِصْلَاحِ۔ اس کا مادہ ’’صل‘‘ ہے جس کی ضد ’’ضل‘‘ ہے۔
صل کے معنی ہیں شئے کا اس کے اصل مقام پر رہنا جس سے ’’صلح‘‘ یعنی اصلاح ہوتی ہے یعنی اگر کہیں خرابی ہو کوئی خامی و نقص وغیرہ ہو تو وہ دور ہو کر شئے بالکل ٹھیک ہو جاتی ہے اس میں ٹوٹا ہوا ربط دوبارہ بحال ہو جاتا ہے اور اس کی ضد ’’ضل‘‘ کے معنی ہیں شئے کا اپنے اصل مقام سے ہٹ جانا ، رستے سے گم ہو جانا یعنی رستے سے اپنے اصل مقام سے ہٹ جانا جس سے فساد ہوتا ہے یعنی شئے میں قائم ربط ٹوٹ کر اس میں تسلسل و نظم میں رکاوٹ ہو جاتی ہے جس سے
شئے خراب ہو جاتی ہے اور بالآخر تباہ ہو جاتی ہے ۔
’’صل‘‘ کی ضد ’’ضل‘‘ اور ’’صلح‘‘ کی ضد ’’فسد‘‘ ہے یا آپ صل کی ضد براہ راست ’’فسد‘‘ کو بھی کہہ سکتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
سوائے یہ کہ آپ ایک قدم آگے کی بات کر رہے ہیں۔
’’فسد‘‘ ’’صل‘‘ اور اسی سے ’’صلح‘‘ کی ضد ہے۔ صل کے معنی ہیں ہر شئے کو اس کے مقام پر رکھنا جس سے شئے میں ربط،نظم تسلسل قائم ہو جائے اگر اس میں رکاوٹ ہے تو وہ دور ہو جائے یعنی کہ اگر کسی شئے کا اصل مقام تبدیل ہو چکا ہے خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو یعنی کمی یا زیادتی کی صورت میں، خرابی کی صورت میں مقام تبدیل ہوا ہو یا کسی بھی وجہ سے مقام تبدیل ہوا ہو تو اس شئے میں اس کمی ، زیادتی یا خرابی کو دور کر کے شئے کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر
لے آنا یا اس کو اس کے اصل مقام پر ہی رہنے دینا۔
جب کسی بھی شئے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا جائے گا تو اس میں خرابی پیدا ہو جائے گی جسے فساد کہتے ہیں اور اس فساد کو ختم کرنا یعنی شئے میں خرابی وغیرہ کو دور کر کے شئے کو دوبارہ اصل حالت میں لوٹا دینا یہ اصلاح کہلاتا ہے جو کہ صل کرنے سے ہوتی ہے یعنی ہر شئے کو اس کے اصل مقام پر رکھنے اسے رستے پر لانے سے
ہوتی ہے۔
جب شئے کے مقام میں تبدیلی یعنی اسے ضل کیا جاتا ہے تو فساد ہوتا ہے یعنی اس میں قائم توازن بگڑ جاتا ہے اور پھر اگر دوبارہ توازن میں کیے گئے خسارے کو ختم
نہ کیا جائے یعنی توازن میں کیے گئے بگاڑ کو دور نہ کیا جائے تو بالآخر شئے تباہ ہو جاتی ہے۔
بالکل آسان الفاظ میں اصلاح اور فساد کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے ہر سطح پر ہر شئے میں میزان یعنی توازن قائم کیا ہوا ہے اگر اس میزان میں کوئی خسارہ کیا جائے گا جس سے میزان یعنی قائم کردہ توازن بگڑ جائے گا یہ فساد کہلاتا ہے اور اس خسارے یعنی فساد کو ختم کر دینا جس سے دوبارہ میزان یعنی توازن قائم ہو جائے یہ
اصلاح کہلاتا ہے۔ فساد یا اصلاح میزان میں کیا جاتا ہے۔ اللہ نے ہر سطح پر نہ صرف میزان قائم کیا ہوا ہے بلکہ اس میزان کو قائم رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔
جیسا کہ ان آیات میں اللہ نے واضح کر دیا۔
وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ ۔ الانعام ۱۵۲
اور کیا کر رہے ہو ؟ کیا پورا کر رہے ہو معیار اورالمیزان قسط کیساتھ یعنی اللہ نے جوآسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ہر شئے میں توازن قائم کیا ہوا ہے کیا تم ایسے اعمال کر رہے ہو کہ ان سے قسط کیساتھ میزان یعنی توازن قائم رہ رہا ہے یا پھر تمہارے اعمال ایسے ہیں کہ تم اللہ کے قائم کردہ توازن میں خسارہ کر
رہے ہو؟
وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ قَدْ جَآئَ تْکُمْ بَیِّنَۃ’‘ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ذٰلِکُمْ خَیْر’‘ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنْیْنَ ۔ الاعراف ۸۵
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب، شعیب نے کہا اے میری قوم کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ یعنی جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا مال، اولاد، ذہانت یا کچھ بھی کرنے کی صلاحیتیں دی گئیں ان کا کس کے پیچھے کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہو؟ اللہ تھا یعنی اللہ تھا جس نے تمہیں یہ سب عطا کیا اور اللہ ہی کے لیے ان سب کا استعمال کرو یہ ہے اللہ کی عبادۃ ، اللہ کی عبادۃ کرو، نہیں تمہارے لیے الہٰوں سے کوئی الٰہ یعنی ایسی ذات جس کی غلامی کی جائے جس کے لیے ان سب کا استعمال کیا جائے جو کچھ بھی عطا کیا گیا اس کے علاوہ قَدْ جَآئَ تْکُمْ بَیِّنَۃ’‘ مِّنْ رَّبِّکُمْ تم اپنی تحقیق کر لو اپنے گھوڑے دوڑا لویہی تمہارے سامنے آئے گا جو کہ حق ہے جو قدر میں کر دیا گیا جس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا جسے ہر حال میں ہو کر رہنا تھا کہ تمہارے پاس تمہارے ربّ سے بیّنات آ گئیں یعنی تم میں تمہی سے ایک بشر آگیا جس نے آکر سب کچھ کھول کھول کر رکھ دیا تمہارے ربّ سے فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ اور کیا کر رہے ہو ؟ کیا پورا کر رہے ہو معیار اورالمیزان یعنی اللہ نے جو زمین آسمانوں میں ہر شئے میں توازن قائم کیا ہوا ہے کیا تم ایسے اعمال کر رہے ہو کہ ان سے قسط کیساتھ میزان یعنی توازن قائم رہ رہا ہے یا پھر تمہارے اعمال ایسے ہیں کہ تم اللہ کے قائم کردہ توازن میں خسارہ کر رہے ہو ؟ تم المیزان میں خسارہ کر رہے ہو اس لیے ایسا مت کرو اور پس اشیاء کا معیار پورا کرو اور المیزان قائم کرو وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ اور نہ کرو جو تم کر رہے ہو لوگوں کی اشیاء یعنی لوگوں کے استعمال کی جو اشیاء ہیں ان میں جو خسارہ کر رہے ہو ان میں ملاوٹیں کر رہے ہو ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو لوگوں کے استعمال کی اشیاء جو کہ ان کا رزق ہے ان میں خرابیاں کر رہے ہو ان میں پنگے لے رہے ہو ان کو خراب کر رہے ہو ان میں مداخلت کر رہے ہو جس سے ان اشیاء کا معیار تباہ کر کے رکھ دیا ہے انہیں خبائث میں بدل دیا ہے یہ سب نہ کرو یہ سب کا سب فساد ہے جو تم کر رہے ہو وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا اور نہ کرو جو اعمال تم کر رہے ہو یہ فساد کر رہے ہو زمین میں یعنی یہ جو تمہارے اعمال ہیں جو کچھ بھی تم کر رہے ہو یہ تم زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا رہے ہو ان میں تبدیلیاں کر رہے ہو جس سے زمین میں سوائے ہلاکتوں و تباہیوں کے کچھ نہیں آئے گا اس کے بعد کے زمین کی اصلاح کر دی گئی ذٰلِکُمْ خَیْر’‘ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنْیْنَ اُسی میں خیر ہے یعنی فائدے ہی فائدے ہیں تمہارے لیے اگر تم ہو مومنین یعنی اگر تم تمہارے ربّ کی طرف سے آنے والے اس حق کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے والے ہو اور فساد کو ترک کرنے والے ہو تو تمہارے لیے اس میں خیر ہے فائدے ہی فائدے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ تمہارے لیے خیر نہیں بلکہ شر ہے یعنی
نقصان ہی نقصان ہے نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی۔
وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِنِّیْٓ اَرٰئکُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْٓ اَخَافُ
عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ۔ ھود ۸۴
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب، شعیب نے کہا اے میری قوم کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ یعنی جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا مال، اولاد، ذہانت یا کچھ بھی کرنے کی صلاحیتیں دی گئیں ان کا کس کے پیچھے کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہو؟ اللہ تھا یعنی اللہ تھا جس نے تمہیں یہ سب عطا کیا اور اللہ ہی کے لیے ان سب کا استعمال کرو یہ ہے اللہ کی عبادۃ ، اللہ کی عبادۃ کرو، یہ جو تم آسمانوں و زمین کی مخلوقات میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو یہ اللہ تھا جس کیساتھ دشمنی کر رہے ہو، نہیں تمہارے لیے الہٰوں سے کوئی الٰہ یعنی ایسی ذات جس کی غلامی کی جائے جس کے لیے ان سب کا استعمال کیا جائے جو کچھ بھی عطا کیا گیا اس کے علاوہ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اور نہ کرو یہ جو تم کر رہے ہو جو تمہارے اعمال ہیں جو کچھ بھی تم کر رہے ہو یہ تم المکیال میں یعنی زمین کی مخلوقات میں لوگوں کے استعمال کی جو اشیاء ہیں جو ان کا رزق ہے ان میں نقائص پیدا کر رہے ہو اورالمیزان میں یعنی اللہ نے جو ہر شئے میں بہترین توازن قائم کیا ہوا ہے اس میں خسارہ کر رہے ہو یہ سب نہ کرو اگر تم اپنے مفسد اعمال کو ترک کرتے ہو یہ سب نہیں کرتے تو اِنِّیْٓ اَرٰئکُمْ بِخَیْرٍ اس میں کچھ شک نہیں میں کیا دیکھ رہا ہوں میںدیکھ رہا ہوں تمہیں ہر لحاظ سے ہر طرف سے فائدوں ہی فائدوں میں اور اگر تم اپنے مفسد اعمال کو ترک نہیں کرتے اور جو کر رہے ہو یہی کرتے ہو تو
وَّ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مجھے خوف ہے تم پر تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے ان مفسد اعمال کے رداعمال بطور سزا جو ایک لمبی مدت ہو گی تمہارا احاطہ کر لے گی یعنی طرح طرح کی بیماریاں، مصیبتیں، تکالیف، تباہیاں تمہیں ہر طرف سے گھیر لیں گی جو
تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے انہی مفسد اعمال کے رد اعمال ہوں گے۔
وَ ٰیقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ ھود ۸۵
اور اے میری قوم یعنی اے وہ لوگو جن کی طرف میں بھیجا گیا ہوں جن کو میں یہ دعوت دے رہا ہوں جن پر میں یہ سب کھول کھول کر واضح کر رہا ہوں کیا کر رہے ہو؟ کیا پورا کر رہے ہو معیار اورالمیزان قسط کیساتھ یعنی اللہ نے جو آسمانوں و زمین میں ہر شئے میں توازن قائم کیا ہوا ہے کیا تم ایسے اعمال کر رہے ہو کہ ان سے قسط کیساتھ میزان یعنی توازن قائم رہ رہا ہے یا پھر تمہارے اعمال ایسے ہیں کہ جو کچھ بھی زمین میں ہے انہیں صرف استعمال پر استعمال ہی کیے جا رہے ہو اور ان کی جگہ واپس ان مخلوقات کو قسط کیساتھ نہیں رکھ رہے یعنی جیسے اگر ایک درخت کاٹا جائے تو قسط کے ساتھ توازن قائم کرنا ہے درخت کاٹا تو وہاں واپس بھی رکھنا ہے جو کہ ایک ہی بار میں ممکن نہیں بلکہ آہستہ آہستہ کچھ مدت میں وہاں واپس لایا جائے گا ایک پودا لگا کر جو آہستہ آہستہ اقساط میں ایک وقت آئے گا جب ویسا ہی درخت بن جائے گا جیسا کاٹا تھا یوں پھر سے توازن قائم ہو جائے گا تو کیا تم جو کچھ بھی استعمال کر رہے ہو کیا وہ سب کا سب واپس اقساط میں واپس بھی رکھ رہے ہو تا کہ المیزان یعنی توازن قائم رہے یا پھرتم اللہ کے قائم کردہ توازن میں خسارہ کر رہے ہو؟ یہ خسارہ نہ کرو بلکہ قسط کیساتھ توازن کو پورا کرو
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ اور نہ کرو جو تم کر رہے ہو لوگوں کی اشیاء یعنی لوگوں کے استعمال کی جو اشیاء ہیں ان میں جو خسارہ کر رہے ہو ان میں ملاوٹیں کر رہے ہو ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو لوگوں کے استعمال کی اشیاء جو کہ ان کا رزق ہے ان میں خرابیاں کر رہے ہو ان میں پنگے لے رہے ہو ان کو خراب کر رہے ہو ان میں مداخلت کر رہے ہو جس سے ان اشیاء کا معیار تباہ کر کے رکھ دیا ہے انہیں خبائث میں بدل دیا ہے یہ سب نہ کرو یہ سب کا سب فساد ہے جو تم کر رہے ہو تم ہر طرف ہر شئے میں تباہیاں کر رہے ہو ہر شئے کو تباہ برباد کر رہے ہو وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ اور نہ کرو جو بھی اعمال تم کر رہے ہو تم زمین میں ہر طرف ہر شئے کو تباہ و برباد کر رہے ہو زمین کی مخلوقات کو اشیاء کو ان کے مقامات سے ہٹاتے ہوئے ان میں تبدیلیاں کرتے ہوئے ، یہ تبدیلیاں کرنا چھوڑ دو مخلوقات میں چھیڑ چھاڑ کرنے ان میں پنگے لینے سے باز آ جاؤ، زمین کی تمام مخلوقات کو ان کے مقام سے نہ ہٹاؤ، لوگوں کے استعمال کی اشیاء میں دخل
اندازی کر کے ان کا معیار خراب نہ کرو، جیسے آج سائنسی طریقوں سے بیجوں سمیت ہر کھانے کی شئے میں فساد کیا جا رہا ہے۔
(جاری ہے)۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:
Post a Comment