Saturday, August 20, 2022

               WARNING FROM NATURE KRISHNA

                                         

قسط نمبر#22

جب ہم نے قرآن پر یہ سوال پیش کیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں تو قرآن نے ہمیں درج ذیل جواب دیا۔
اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ۔ الکہف ۹۴
اس میں کچھ شک نہیں یاجوج تھے اور ماجوج تھے وہ جو اس وقت ارض میں فساد کر رہے ہیں وہ ہیں یاجوج اور ماجوج اور جو ماضی میں ارض میں فساد کر رہے تھے وہ
تھے یاجوج اور ماجوج۔
الْاَرْضِ: ارض زمین پر موجود اوپر والی مکمل تہہ کو کہتے ہیں جسے انگلش میں ارتھ کرسٹ بھی کہا جا تا ہے۔ ’’ ض‘‘ کے نیچے زیر ہے جو مکمل ارض پر دلالت کرتی ہے اگر زبر ہوتی تو زمین کے اوپر موجود مخلوقات وغیرہ میں سے کسی میں یا کچھ میں فساد مراد ہوتا لیکن ’’ ض‘‘ کے نیچے زیر کے آ جانے سے معنی بنتے ہیں کہ ارض کی ابتداء سے اس کی انتہاء تک جس میں ارض کے اوپر تمام کی تمام مخلوقات بھی آ جاتی ہیں اس کے علاوہ ارض کے اندر موجود تمام کی تمام مخلوقات کا بھی شمار ہو جاتا ہے یعنی زمین کے گہرایوں سے لیکر زمین کے گرد بچھی ہوئی گیس کی سات تہوں تک ۔ بہر حال زمین کی گہرائیوں سے لے کراس کے گرد موجودگیسوں کی تہوں تک جو کچھ بھی درمیان میں آتا ہے ان سب میں جو فساد کریں گے یعنی ان میں موجود مخلوقات کے اللہ کے تعین شدہ مقامات میں تبدیلیاں کریں گے خواہ ان کی ذات کا مقام تبدیل کریںیا ان کے معیار میں کمی کریں گے یا کسی بھی قسم کی تبدیلی کریں گے ان میں چھیڑ چھاڑ کریں گے ان میں پنگے لیں گے ان میں تبدیلیاں
کریں گے ، انہیں اللہ کے خلق کردہ مقصد کے برعکس، برخلاف استعمال کریں گے وہ یاجوج اور ماجوج کہلائیں گے۔
قرآن نے بہت ہی آسان جواب دے دیا کہ یاجوج اور ماجوج وہ ہیں جو ارض میں فساد کرتے ہیں۔ الحمد للہ آپ نے ارض کو سمجھ لیا اور اس سے پہلے آپ نے فساد کو بھی سمجھ لیا۔ اب ارض میں فساد کرنے کے معنی ہیں کہ ارض میں اللہ کی تمام کی تمام مخلوقات کو ان کے مقام سے ہٹانا یا ان کے مقام میں کسی بھی قسم کی کوئی
تبدیلی ، کمی یا زیادتی کر دینے کے ہیں۔
ارض میں فساد کو سمجھنے کے لیے پہلے مختصراً کچھ مخلوقات اور ان کے مقامات کو سمجھنا پڑے گا تب ہی آپ یاجوج اور ماجوج کو ایسے پہچان سکیں گے کہ آپ کے لیے
کسی بھی قسم کے شک و شبے کی گنجائش نہیں رہے گی۔
جیسا کہ آپ نے جان لیا تھا کہ ہمارے اپنے جسم میں بھی اللہ کی بعض آیات تو محکم ہیں اور اکثریت آیات یعنی اعضاء کی ایسی ہے جنہیں یا تو اللہ نے چھپا کر رکھ دیا جو کہ بالکل واضح اللہ کا غیب ہے اور پھر جو سامنے ہیں ان میں سے بھی جن کے بارے میں واضح علم نہیں دیا یعنی کہ ان کا استعمال کیا ہے، ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے وہ متشابہات ہیں اور متشابہات کا بھی غیب میں شمار ہوتا ہے۔ بالکل یہی مثال اللہ نے کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی ہے۔ تو پھر ہمیں یاجوج اور ماجوج کو جاننے کے لیے پہلے ارض کے بارے میں جاننا ہو گا کہ ارض میں اللہ کی محکم آیات کون سی ہیں اور متشابہات و غیب کون سا
ہے پھر انہیں کس کس مقام پر رکھا ہے ۔
سب سے پہلے ارض کے اوپر کی مخلوقات کو لے لیتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ ان مخلوقات کو سامنے رکھا جائے جن کے بارے میں ہر خاص وعام شخص سمجھ سکے
ان کے علاوہ باقی مخلوقات میں غورو فکر کرنے کے لیے آپ پر دروازے کھلے ہیں۔
ارض پر انسانوں کے علاوہ مختلف جانور، چرند،پرند، سمندری مخلوقات، پھل، سبزیاں، فصلیں،درخت، پانی، ہوا، بادل، سمندر، دریا وغیرہ موجود ہیں اور جیسا کہ پیچھے بہت ہی تفصیل کیساتھ یہ واضح کر دیا گیااور آپ جان چکے ہیں کہ اللہ کی ہر خلق کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہر ایک
کا کوئی نہ کوئی مقام بھی ہے تو ہمیں ان سب کے مقاصد اور مقام کے بارے میں علم حاصل کرنا ہے جس کے لیے ہمیں مزید غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
بشر کو خلق کرنے کا مقصد کیا ہے اس پر آگے چل کر ہر لحاظ سے ہر پہلو سے تفصیل کیساتھ بات آئے گی لیکن یہاں ایک پہلو سے مختصراً بات کرتے ہیں۔
اللہ نے بشرکو اپنا نائب بنانے کے لیے خلق کیا یعنی آسمانوں اور زمین میں اپنا خلیفہ نائب بنانے کے لیے۔ اسے ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ آپ کا ایک کارخانہ ہو اور آپ کو کوئی ایسا شخص چاہیے جو اس کارخانے کو چلا سکے اس کی دیکھ بھال کر سکے جس کے لیے آپ اعلان کریں اور کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اس کا اہل ہے یعنی وہ اس ذمہ داری کو اٹھا سکتا ہے آپ اس شخص کو کارخانہ چلانے کی غرض سے لائیں جو کہ بالکل نیا ہو اس کے پاس کارخانے کے بارے میں کچھ بھی علم نہ
ہو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ وہ کارخانہ اس کے اختیار میں دے دیں گے کہ وہ اس کو چلائے اس کی دیکھ بھال کرے؟
یقیناً نہیں ۔ اس وقت تک نہیں جب تک کہ اس کو کارخانے کے بارے میں مکمل علم نہ دے دیا جائے۔ پھر جب مکمل علم دے دیا جائے گا تو تب بھی ایسا ہرگز نہیں کہ فوراً کارخانہ اس کے حوالے کر دیا جائے گا بلکہ اسی کارخانے کے کسی ایک چھوٹے سے شعبے میں اس کی آزمائش کے لیے وہ شعبہ اس کے حوالے کیا جائے گا تا کہ یہ پتہ چل سکے کہ آیا وہ اس قابل ہے یا صرف محض ایک جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ نے آسمانوں اور زمین میں اپنے نائب کے لیے ذمہ
داری کسی کو دینے کا اعلان کیا تو انسان نے اس کی حامی بھر لی کہ وہ اس کا اہل ہے جس کا ذکر قرآن یوں کرتا ہے۔
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا۔
الاحزاب ۷۲
اس میں کچھ شک نہیں پیش کیا ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوںپر پس انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا کہ وہ اسے اٹھاتے اور وہ اس سے ڈر گئے یہ ان کے بس کا کام ہے ہی نہیں اورجو انسان ہے اس نے اٹھا لیا، اس میں کچھ شک نہیںجو انسان ہے انسان تو طے شدہ ہے کمی کر رہا ہے جہل کر رہا ہے
یعنی بغیر علم کے آسمانوں اور زمین میں ان پر اثر انداز ہونے والے اعمال کیے جا رہا ہے۔
اللہ نے آسمانوں اور زمین کا نظام چلانے ، ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اپنے نائب کے طور پر ذمہ داری اٹھانے کے لیے تمام مخلوقات سے پوچھا، سب ڈر گئیںکیونکہ انہیں علم ہے کہ یہ اتنا پیچیدہ ترین نظام اللہ کے علاوہ کوئی اور چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا الا یہ کہ وہ خود کسی کو یہ ذمہ داری دے اور ظاہر ہے جب خود کسی کو ذمہ داری دی جائے گی تو تمام اختیارات و اسباب کے ساتھ دی جائے گی کہ وہ اس پر پورا اترنے کے قابل ہولیکن انسان نے اس امانت کو اٹھانے کی حامی بھر لی کہ میں اس قابل ہوں کہ آسمانوں اور زمین کا نظام چلا سکوں اب ظاہر ہے اللہ براہ راست تو یہ ذمہ داری نہیں دے گا بلکہ اس کے لیے پہلے اسے علم دیا
جائے گا اس کے بعد امتحان لیا جائے گا اگر اس امتحان میں کامیاب ہو گا تو تب اسے مکمل ذمہ داری دی جائے گی۔
اور اگر وہ امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو پھر سزا و جزا بھی دی جائے گی کیونکہ اس نے خود ہی دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس کام کا اہل ہے پھر اگر وہ نقصان کرتا ہے تو سزا کا
حق دار تو لازمی ٹھہرے گا اور اگر کامیاب ہوا تو احسن بدلہ بھی دیا جائے گا اور اسے اس ذمہ داری پر معمور کر دیا جائے گا۔
اب انسان کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس دنیا میں اسے جو زمین پر اختیار دیا گیا ہے اس کے ذریعے سے اپنے مقام کا خود ہی تعین کر لے یعنی اگر تو وہ نظام چلا کر خود کو اس کا اہل ثابت کر دیتا ہے تو بلا شک و شبہ اس کا آخرت میں وہی مقام ہے جیسے جسم میں دماغ نظام چلاتا ہے ایسے ہی آخرت میں ایسے دماغ کے مقام پر فائز ہوں گے اور اگر نظام چلانے کی بجائے آسمانوں اور زمین میں فساد کرتا ہے جہل کا ہی مظاہرہ کرتا ہے یعنی بغیر علم کے اندھوں کی طرح ہی عمل کرتا ہے تو
آخر میں اسے وہی مقام دیا جائے گا اسی مقام پر فائز کیا جائے گا جس مقام کا اس نے خود اپنے لیے تعین کر لیا۔
اس مقصد کے لیے اللہ اپنے رسولوں کے ذریعے حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر دیتا ہے اللہ انسان کو علم دے دیتاہے اس کے بعد انسان پر ہے کہ وہ اپنے
لیے کیا کماتا ہے اور آخرت میں وہی مقام بدلے میں پاتا ہے۔
بنیادی طور پر مختصراً الفاظ میںیہ ہے انسان کا اس دنیا میں اصل مقصد ۔ اب اگر انسان اپنے مقصد کو جان کر خود اپنی ہی حقیقت کو پہچان کر اس پر پورا نہیں اترتا اور اس کے برعکس زمین میں فساد کرتا ہے تو ایسا کرنے والوں کو ہی یاجوج اور ماجوج کہا گیا اس کے علاوہ مزید انسانوں میں فساد کی تفاصیل آگے آئیں گی۔
پھل، سبزیاں،دالیں، فصلیں، بیج اور درخت وغیرہ۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...