Thursday, August 18, 2022

                WARNING FROM MOTHER NATURE     

قسط نمبر#21

الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً سُبْحٰنَکَ
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ آل عمران ۱۹۱
ایسے جو غوروفکر کر کے اسے یاد کر رہے ہیں جو انہیں بھلا دیا گیا تھا جسے وہ ایسے بھول چکے ہوئے ہیں جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں جسے ایسے ہی بھولے ہوئے خلق کیے گئے تھے جو بھولے ہوئے خلق کیے گئے جسے بھول چکے ہوئے ہیں جسے یاد کرنا ہے اور یاد کر رہے ہیں اللہ تھا اللہ کو یاد کر رہے ہیں حالت قیام میں جھکی ہوئی حالت میں اور جس حالت پر بھی ہوتے ہیں اور خود ہی جو کر رہے ہیں سوچ و بچار کر رہے ہیں آسمانوں اور زمین کی خلق میں، یہ ہمارا ربّ ہے جس نے ہمیں خلق کیا اور خلق کر کے جو ہماری ضروریات ہیں انہیں بھی خلق کر کے فراہم کر رہا ہے جب ہمارا وجود نہیں تھا ہمیں وجود میں لایا ہمیں خلق کیاتو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا اور جس مقصد کے لیے خلق کیا اجل آنے کے بعد اس کے بارے میں سوال کرنے والے، نہیں خلق کیا یہ سب تو نے باطل یعنی بغیر کسی مقصد کے، یا اگر ان میں چھیڑ چھاڑ کی جائے تو ان میں خرابی نہ ہو ایسا ممکن نہیں ہے۔ تُو سبحان ہے یعنی کہ تو بغیر کسی مقصد کے خلق کرنے سے پاک ہے تو ایسا نہیں کرتا اور تو ہر قسم کی خامی ، خرابی ، نقص اور نفی وغیرہ سے پاک ہے جو عیوب غورو فکر کرنے سے نظر آئے تو اس سے پاک ہے ان کی ذمہ داری تجھ پر نہیں اوروں پر ہے جنہوں نے تیری ہدایات کے خلاف عمل کیا ، ان میں چھیڑ چھا ڑکی جو بھی مفسد اعمال کیے ہم بھی حق کو پانے سے پہلے جب تک ضلالٍ مبینٍ میں تھے یہی کر
رہے تھے پس بچا ہمیں آگ کی سزا سے۔
یعنی کہ جتنا یہ پیچیدہ ترین نظام ہے اور جو آج حالات ہو چکے ہیں زمین میں فساد سے اس میں خالص تیرا غلام بن کر رہنا ناممکن ہو چکا ہے کہیں نہ کہیں نہ چاہتے ہوئے بھی تیری مخلوقات میں فساد کا موجب بن جاتے ہیں اور آج جب غوروفکر کرنے پر حق واضح ہوا تو پتہ چلا کہ آج سے پہلے ہم بھی آسمانوں اور زمین میں فساد ہی کر رہے تھے اس لیے اس کے نتیجے میں آگ کی سزا سے بچانا کیونکہ پہلے تو ضلالٍ مبینٍ میں ہونے کی وجہ سے ہم بھی فساد کرتے رہے اور آج جب سب واضح ہو چکا تو اس کے باوجود اگر تھوڑا بہت کر رہے ہیں یا اس کا سبب بن رہے ہیں تو ایسا اس لیے کہ ہم سے ایسا حالت اضطراب ، مجبوری میں نہ چاہتے ہوئے کر
رہے ہیں یا ہم سے ہو رہا ہے۔
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔الانبیاء ۱۶
اور نہیں خلق کیا ہم نے آسمان کو اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے کھیلنے کے لیے، ان میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے، اندھوں کی طرح ان کے پیچھے پڑکر ان
میں خرابیاں و فساد کرنے کے لیے، ان سے پنگے لینے کے لیے، ان میں چھیڑ چھاڑ کر کے وقت اور جو صلاحیتیں دی گئیں ان کو ضائع کرنے کے لیے وغیرہ۔
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا بَاطِلاً ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَوَیْل’‘ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ ۔ ص ۲۷
اور نہیں خلق کیا ہم نے آسمان کو اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے باطل یعنی بغیر کسی مقصد کے اور ایسا بھی نہیں کہ ان میں چھیڑ چھاڑ کرنے یا ان میں مخلوقات کو ان کے مقام سے ہٹا دینے یا ہٹ جانے سے کوئی خرابی نہ ہو بلکہ ایسا ہونے سے ضرور خرابی ہو گی اور تباہی آئے گی۔ وہ ظن ہے ان کاجنہوں نے کفر کیا یعنی جنہوں نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا اس کو پورا کرنے کے لیے ان کو ان کے مقام پر رکھ دیا ان کی لائن پر لگا دیا جب تک وہ اپنے مقام پر رہیں گی اپنی ذمہ داری پوری کریں گی تب تک میزان قائم رہے گا کوئی خرابی اور کوئی تباہی نہیں آئے گی جنہوں نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان مخلوقات کو ان کے مقام سے ہٹا دیا کہ اس سے کچھ نہیں ہوتا یا خو داس لائن پر قائم ہو کر وہ مقصد پورا نہ کیا جس کے لیے انہیں خلق کیا گیا تو پس ویل ہے ان کے لیے جنہوں نے انکار کیا النار سے یعنی ان پر کھول کھول کر واضح کر دیا گیا تھا کہ آسمانوں و زمین میں چھیڑ چھاڑ کرو گے ان میں پنگے لو گے ترقی و خوشحالی کے نام پر ان میں فساد کرو گے مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹاؤ گے تو یہ زمین النار بن جائے گی وہی النار جس کا تم سے وعدہ کیا گیا اور اگر تم نے انکار کر دیا یہ ماننے سے تو ظاہر ہے تم نے النار سے انکار کیا کہ نہیں زمین میں فساد کرنے سے زمین النار نہیں بنے گی ایسا کرنے والوں کا
انجام النار میں ایک مخصوص مقام ہے۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...