Wednesday, August 17, 2022

                  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#20

وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ۔ الرحمٰن ۹
اورکیا قائم کر رہے ہو الوزن قسط کیساتھ؟ یہ جو بھی تم اعمال کر رہے ہو جو کچھ بھی استعمال کر رہے ہو جو وزن یعنی اشیاء استعمال کر رہے ہو تو کیا قسط کیساتھ واپس بھی اتنا وزن رکھ رہے ہو کہ المیزان قائم رہے؟ نہیں تم ایسا نہیں کر رہے تم اپنے اعمال کو دیکھو تم المیزان میں خسارہ کر رہے ہو تم وزن گھٹا رہے ہو جس سے
المیزان میں بگاڑ پیدا ہو رہاہے اور نہ کرو جو تم کر رہے ہو جو تمہارے اعمال ہیں یہ تم خسارہ کر رہے ہو المیزان میں۔
قِسْط: مثال کے طور پر ایک ترازوکے دونوں جانب ایک ہی مقدار میں اشیاء موجود ہیںجس سے دونوں پلڑے متوازن ہیںاب آپ ایک طرف سے اگر کچھ
اٹھائیں تو اس کے متبادل اتنے ہی وزن کی اشیاء وہاں رکھ دیں تا کہ توازن برقرار رہے۔
اور قائم کرو وزن قسط کے ساتھ یعنی اس میں سے جو بھی استعمال کرو جس کے استعمال کی اجازت دی ہے تو صرف ایسا نہیں کرنا کہ بس استعمال کرتے جاؤ بلکہ جتنا استعمال کرنا ہے اتنا ہی اس کا متبادل بھی رکھنا ہے تا کہ میزان میں کوئی خسارہ نہ ہو یعنی اگر توازن بگڑ گیا تو پھر جسم یا کوئی بھی خلق تباہی سے دوچار ہو گی۔
یہ ہے حق کیساتھ خلق کرنا کہ اللہ نے ہمارے جسم میں موجود لاتعداد مخلوقات میں سے ہر کسی کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا، جس مقصد کے لیے خلق کیا اسے پورا کرنے کے لیے اس کے مقام پر ایک لائن پر لگا دیا جب تک ہر خلق اس مقام پر رہتے ہوئے اپنی لائن پر قائم رہتے ہوئے جس مقصد کے لیے اسے وجود میں لایا اس مقصد کو پورا کرے گی تب تک جسم میں توازن قائم رہے گا اس میں کوئی خرابی نہیں ہو گی لیکن جب بھی کسی مخلوق نے کوئی کمی، کجی، کوتاہی ، لاپرواہی کی یا اپنے مقام میں تبدیلی کی تو جسم میں توازن بگڑ جائے گا جس سے تباہی آئے گی اور یہ میزان صرف اور صرف تب تک قائم رہ سکتا ہے جب تک کہ ہر مخلوق خالق
کی ہدایات پر مخلص ہو کر عمل کرے رائی برابر بھی اس میں کوئی رد و بدل نہ کرے۔
جسم میں ہر عضو کسی دوسرے کا محتاج ہے یعنی اگر دل کام کرنا چھوڑ دے تو باقی تمام اعضاء بھی کام کرنا چھوڑ دیں گے ہر ایک کی ذمہ داری کسی نہ کسی سے مشروط ہے سب کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق ہے اور یہ نظام یہ میزان تب تک قائم رہے گا جب تک خالق کی ہدایات پر عمل ہو گا۔ پھر یہ کہ پورا جسم ہمارے اختیار میں ہے یعنی جسم کے اوپر اور اندر لا تعداد مخلوقات ہماری محتاج ہیں اگر ہم ان کی ضروریات اوران کے معیار اور مقدار کا خیال رکھیں گے تو توازن قائم رہے گا ورنہ اگر ہم انہیں کچھ ایسا مہیا کریں گے یعنی ان کی ضروریات میں کمی یا زیادتی کریں گے تو وہ مجبور و بے بس ہوں گی اور پھر نتیجتاً میزان میں خسارہ یعنی فساد ہو گا اور پھر تباہی کی صورت میں نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا یہ ہے حق کیساتھ خلق کرنا۔ بالکل یہی مثال آسمانوں ، زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب
کی ہے۔
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ جسم میں چھیڑ چھاڑ کی جائے ، جسم میں مخلوقات کو ان کے مقام سے ہٹایا جائے یا ان میں تبدیلی کی جائے تو کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ نقصان ہو گا تباہی آئے گی بالکل اسی طرح اگر آسمانوں اور زمین یعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہوں میں جو کہ سات آسمان ہیںان میں چھیڑ چھاڑ کی جائے اللہ کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹایا جائے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے جس کی اللہ نے سرے سے اجازت ہی نہیں دی بلکہ الٹا سختی سے منع کیا ہے اور ایمان لانے کا حکم دیا ہے پھر بھی اگر چھیڑ چھاڑ کی جائے گی تو تباہی آئے گی، زلزلے آئیں گے، طوفان آئیں گے، سمندروں کا نظام درہم برہم ہو جائے گا، مخلوقات عیب دار ہو جائیں گی، بیماریاں ہی بیماریاں ہوں گی، نسلیں مفلوج ہو جائیں گی حتیٰ کہ بچے پیدا ہی عیب دار ہوں گے،موسم تبدیل ہو جائیں
گے یعنی ہر سطح پر فساد ہی فساد ہو جائے گا اور بالآخریہ زمین جہنم بن جائے گی یہی اللہ کا قانون ہے یہ ہے حق کیساتھ خلق کرنا۔
اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ۔الحجر ۸۶
اس میں کچھ شک نہیں تیرا ربّ ھُوَ ہے ھُوَ یعنی جو کچھ بھی موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے تو جو وجود سامنے آئے گا نہ صرف ایک ہی وجود ہے اس کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں بلکہ یہی وجود ہی وہ ذات ہے جو تیرا ربّ ہے یہی ذات ہے جس نے سب کے سب کو خلق کیا جب اسی نے
سب کے سب کو خلق کیا تو ظاہر ہے اسے ہی سب کا سب علم ہے العلیم ہے۔
یعنی پہلی بات یہ کہ تیرا ربّ کون ہے؟ کون ہے جس نے تجھے وجود دیااور تیری تمام تر ضروریات خلق کر کے تجھے فراہم کر رہا ہے اور تجھے اس نے کیسے کتنا پیچیدہ ترین خلق کیا جب اپنی ہی ذات میں غوروفکر کیا جائے گا تو نہ صرف جسم کی خلق کھل کر واضح ہو جائے گی بلکہ خالق بھی بالکل کھل کر سامنے آ جائے گا جو کہ یہی وجود ہے جو ہر طرف نظر آ رہا ہے یعنی فطرت اور یہی کہا کہ جس ذات نے تجھے خلق کیا اسی نے ہی باقی تمام کی تمام مخلوقات کو خلق کیا یعنی ان کا خالق کوئی اور نہیں ہے ان کا خالق بھی یہی ذات ہے جب ان کو بھی اسی نے خلق کیا تو پھر ظاہر ہے ان کی خلق تجھ سے کوئی مختلف نہیں بلکہ جیسے تجھے انتہائی پیچیدہ اور حساس ترین خلق کیا جیسے تجھ میں المیزان قائم ہے ایسے ہی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے انہیں خلق کیا ان میں المیزان قائم ہے اور جب خالق یہی ذات ہے توپھر ظاہر ہے اسے ہی علم ہے کہ اس نے کیسے خلق کیا ، ان کی کیا کیا ضروریات ہیں، ان کا معیار کیا ہے، مقدار کیا ہے سمیت ہر قسم کا علم اسی ہی کو ہے اس کے علاوہ کسی کو علم نہیں اس لیے اگر کوئی آسمانوں و زمین میں یا کسی بھی خلق میں چھیڑ چھاڑ کرتا ہے مداخلت کرتا ہے تو فساد ہی ہو گا المیزان میں خسارہ ہو کر تباہیاں ہی آئیں گی۔ جیسے
تجھے خلق کیا بالکل یہی مثال باقی تمام مخلوقات کی بھی ہے۔
مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَآاِلَّا بِالْحَقِّ۔ الروم ۸
نہیں خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو بھی ان کے درمیان ہے مگر حق کیساتھ۔
کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کے سب کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا اور جس جس مقصد کے لیے خلق کیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہر ایک کو اس کے مقام پر اس کی لائن پر لگا دیا جس سے ایک المیزان وضع ہو گیااگر ان میں کوئی ایک بھی خلق اس مقام سے ہٹے گی یا اس میں تبدیلی کی جائے گی تو آسمانوں و زمین میں فساد ہو گا کیونکہ ظاہر ہے جب المیزان وضع کیا ہے تو پھر ہدایات کے خلاف عمل کرنے سے المیزان میں خسارہ ہی ہو
گا اور اسی کا سورۃ الرحمٰن میں ذکر بھی کر دیا۔
وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔ الرحمٰن ۷
اور وضع کر دیاالمیزان۔
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بالکل ایک انسانی جسم کی طرح ہے یا ایک گاڑی کے انجن کی مانند ہے یا کسی بھی ایک مشین کی مانند ۔ ہر مخلوق کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا ہر ایک کا دوسری مخلوقات سے بہت گہرا تعلق ہے۔ جیسے دل کام کرے گا تو جسم کے باقی اعضاء کام کر پائیں گے اگر دل نے کام کرنا چھوڑ دیا تو اس سے مشروط باقی تمام اعضاء بھی کام کرنے سے قاصر ہو جائیں گے اور پھر میزان میں خسارہ ہو گا جس کا نتیجہ تباہی کی صورت یعنی موت کی صورت میں نکلے گابالکل یہی مثال آسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان کی ہے جب ایک مخلوق اپنی ذمہ داری پوری کرے گی تو باقی مخلوقات اپنی ذمہ داری کو پورا کر پائیں گی جس سے میزان قائم رہے گا اس میں خسارہ نہیں ہو گا اور اگر کوئی بھی مخلوق اپنی ذمہ داری ترک کر دیتی ہے تو اس سے میزان میں خسارہ ہو گا جس سے تباہی آئے گی اس تباہی سے اس مخلوق کا اپنا بھی نقصان ہو گا اور باقی بہت سی مخلوقات کا بھی ان کی ذمہ داری اور مقام کی نوعیت کے اعتبار سے
نقصان ہو گا انہیں تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی کو سمجھنے کے لیے اللہ قرآن میں سب سے زیادہ زور اپنی آیات میں غورو فکر کرنے پر دیتا ہے کہ جب تک اللہ کی آیات میں غوروفکر نہیں کیا جائے گا تب تک حق کو نہیں پہچان سکتے اور آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ سب کا سب اللہ ہی کی آیات ہیںجب تک ان میں غوروفکر نہیں کیا جاتا تب تک نہ ہی حق واضح ہو گا اور نہ ہی آپ پر دنیا میں آنے کا مقصد واضح ہو سکے گا یوں جب تک اللہ کی آیات میں غوروفکر کر کے حق کو نہیں جان لیا جاتا تب تک شیطان کے لیے آپ کو گمراہ کرنا بہت آسان ہو گا۔ اسی ضمن میں چند آیات درج ذیل ہیں جن پر ہم زیادہ بات نہیں کریں گے ان کا یہاں بیان کرنا صرف اور صرف اس لیے ہے کہ آپ
خود اللہ کی آیات میں غورو فکر کریں۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ
لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔ البقرۃ ۱۶۴
اس میں کچھ شک نہیں آسمانوں اور زمین کی خلق میں اور رات اور دن کا اختلاف ، اور بڑے سمندری جہاز جو بہتے ہیں سمندر میں جس سے نفع ہوتا ہے لوگوں کو اور جو اتارا اللہ نے بلندی سے پانی پس حیا کیا اس کے ساتھ الارض کو اس کی موت کے بعد اور پھیلا دیئے اس میں تمام کے تمام دابہ سے یعنی تیر کر رینگ کر چل کر اور اڑ کر حرکت کرنے والی مخلوقات ، اور الٹ پلٹ کر پھیرنے والی ہوا اور بادل جو مسخر ہیں آسمان اور زمین کے درمیان، اللہ کی آیات ہیںان لوگوں کے لیے جو خود ہی غوروفکر کر کے سمجھ رہے ہیںجوعقل رکھ رہے ہیںجو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے ہیںاور اس کے برعکس ان کے لیے آیات نہیں ہیں جو عقل نہیں
رکھ رہے جو سمجھ نہیں رہے ۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ۔آل عمران ۱۹۰
اس میں کچھ شک نہیں آسمانوں اور زمین کی خلق میں اور رات اور دن کا اختلاف اللہ کی آیات ہیں اولی الالباب کے لیے یعنی ان کے لیے جو اپنے مقصد و مشن حق کو سمجھنے کے لیے ہر لمحے ہر وقت اپنے کانوں اور آنکھوںکو کھلا رکھے ہوئے ہیں جو ہر لمحے غوروفکر کرنے والے ہیںجو کسی بھی بات کو کُل یا آخر سمجھ کر اسے دماغ میں ڈال کر اس پر تالا نہیں لگا دیتے یعنی دماغ کے دروازے آنکھیں اور کان بند نہیں کر لیتے بلکہ کسی بھی نتیجہ کو وقتی طور پر دماغ میں داخل کرتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ غلط ثابت ہو جائے یا ا سمیں کوئی خامی و نقص سامنے آ جائے تو وہ اس پر خاموش نہیں بیٹھتے بلکہ پہلے سے موجود بات کو دماغ سے نکال دیتے ہیں اور اس کے برعکس سامنے آنے والے حق کو دماغ میں داخل کرتے ہیںاور ان کے برعکس ان کے لیے اللہ کی آیات نہیں ہیں جو اولی الباب نہیں بلکہ اس کی ضد اہل العقائد ہیں وہ اسی کو اصل اور مکمل حقیقت سمجھ رہے ہیں جو سامنے نظر آ رہا ہے انہیں علم ہی نہیں کہ یہی سب کا سب جو آسمانوں و زمین میں نظر آ رہا ہے یہ اللہ کی آیات ہیں
یعنی یہ اللہ ہی کا وجود ہے جو نظرآ رہا ہے۔
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابِ مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ
یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ۔ یونس ۵
ھُوَ یعنی جو کچھ بھی موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے تو جو وجود سامنے آئے گا یہی وجود یہی ذات ہے کر دیا شمس کو ضیاء یعنی آگ کی طرح جل کر روشنی دینے والا اور چاند کو نور اور پورے علم و حکمت سے حساب کتاب کے مطابق منزلیں ، ان کے ذریعے جان لیں سالوں کی گنتی اور حساب، نہیں خلق کیا اللہ نے وہ مگر حق کیساتھ،آسان ہیں آیات ان لوگوں کے لیے جو خود سے غوروفکر کرکے جان رہے ہیں علم حاصل کر رہے ہیںاور جو غوروفکر کر کے علم
حاصل نہیں کر رہے ان کے لیے آیات نہیں ہیں بلکہ وہ انہیں اصل اور مکمل حقیقت سمجھتے ہیں اور پھر اسی کے مطابق عمل کررہے ہیں۔
اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ۔ یونس ۶
اس میں کچھ شک نہیں رات اور دن کے اختلاف میں اور جو بھی خلق ہے اللہ ہے آسمانوں اور زمین میں اللہ کی آیات ہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے بچ رہے ہیںاور ان کے برعکس ان کے لیے اللہ کی آیات نہیں ہیں جو نہیں بچ رہے بلکہ وہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ محض الگ الگ مخلوقات ہیں اس لیے ان کو جیسے چاہے استعمال کرو ان کیساتھ دشمنی کرو کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ یہ اللہ ہی کا وجود ہر طرف نظر آ رہا ہے یوں ایسے لوگ
اللہ سے نہیں بچ رہے بلکہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔
خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ العنکبوت ۴۴
خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کیساتھ، اس میں کچھ شک نہیں ان میں یعنی آسمانوں اور زمین میںاگر وہ بالحق خلق ہیں توآیات ہیں اللہ کی مومنین کے لیے یعنی اللہ کی طرف آنے والی بات کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے فوراًاس پراسی طرح عمل کرنے والوں کے لیے جس طرح عمل کرنے کا کہا گیا اور جو مومنین
نہیں ہیں ان کے لیے ایک بھی آیت نہیں ہے اللہ کی بلکہ وہ جو سامنے نظر آ رہا ہے اسے ہی اصل اور مکمل حقیقت سمجھ رہے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...