WARNING FROM MOTHER NATURE
روایات کی روشنی میں یاجوج اور ماجوج
قال رسول اللہ ﷺ : الجن والانس عشرۃ أجزائٍ، فتسعۃ أجزائٍ یأجوج و مأجوج۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، الدر المنثور
رسول اللہ ﷺ نے کہا: جن اور انس یعنی انسان دس حصے ہیں پس نو حصے یاجوج اور ماجوج ہیں۔
اس روایت میں آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ ہر دس انسانوں میں نو یاجوج اور ماجوج ہیں یعنی نوے فیصد انسان یاجوج اور ماجوج ہیں اور ظاہر ہے جب آپ پر یہ واضح کیا جا چکا کہ یاجوج اور ماجوج ان کو کہا گیا جو زمین میں فساد کرتے ہیں یعنی زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے بدل رہے
ہیں فطرت میں تبدیلیاں کر رہے ہیں توانسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو زمین میں فساد کر رہی ہے اس لیے اکثریت یاجوج اور ماجوج ہے۔
قال رسول اللہ ﷺ : ولو أرسلو الأ فسدوا علی الناس معایشھم۔ طبرانی، بیھقی، ابن المنذر، ابن عساکر، ابن مردویہ، الدر المنثور
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اور اگر انہیں بھیجا جائے مگر فساد کر دیں انسانوں کے معاش پر۔
اللہ نے معاش کا کیا نظام بنایا اور یاجوج اور ماجوج نے کیسے فساد کر دیا اس کی وضاحت تفصیل کیساتھ پیچھے گزر چکی بہر حال یہاں ایک بار پھر ایک دوسرے رخ
سے اور مختصراً بیان کرتے ہیں۔
ہم نے پیچھے جان لیا تھا کہ اللہ خالق ہے توکس طرح خالق ہے۔ مثلاً سبزیوں کا خالق اللہ ہے اللہ نے ایک نظام قائم کر دیا جس کے ذریعے اللہ ٰ خلق کرتا ہے۔ اس میں لاتعداد مخلوقات کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے جیسے انسان کے جسم کا توازن تب تک قائم رہے گا جب تک جسم میں موجود تمام اعضاء اپنا اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے رہیں گے بالکل اسی طرح اللہ نے سبزیوں کو خلق کرنے کے لیے مختلف مخلوقات کو خلق کر کے ان کے مقام پر رکھتے ہوئے ان پر ان کی ذمہ داری واضح کر دی۔ اس میں ملائکہ کی ذمہ داری الگ ہے، ہواؤں کی الگ، سمندروں کی الگ، سورج کی الگ، زمین کی الگ اور اسی طرح زمین کے اندر اور باہر لاتعداد مخلوقات جب اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرتی ہیں تو سبزیاں خلق ہوتی ہیں۔ اس سارے عمل میں تمام مخلوقات ایک مشین کے مختلف پرزوں کی طرح کام کرتی ہیں اور اس مشین یعنی نظام کا ایک پرزہ یہ بشر بھی ہیں۔ سبزیوں یا زمین سے نبات کے خلق کرنے کے لیے اللہ نے انسان کو بھی ایک ذمہ داری دی ہے یعنی انسان بھی مشین میں ایک پرزے کی مانند ہے انسان کا کام یہ ہے کہ اس نے اللہ کی متعین حدود میں رہتے ہوئے فطرت کیمطابق زمین میں ہل چلا کراس
میں بیج بونا ہے فصل کی دیکھ بھال اور جب تیار ہو جائے تو کاٹ کر محفوظ کر لینا ہے اور اسے استعمال کرنا ۔
بالکل اسی طرح اللہ نے زمین پر انسان کوالصلاۃ کے قیام کا حکم دیایعنی انسانوں کو ان کے مقام پر رکھا جائے۔ اللہ نے انسانوں کو قبیلوں میں تقسیم کیا ان کی پہچان کے لیے یعنی انسانوں میں مختلف قبیلے اپنے معاش کے ذریعے پہچانے جائیں گے۔ ایک قبیلہ کاشتکاری کرے گا جس کی پہچان کسان کے نام سے ہو گی تو دوسرا برتن بنائے گا جس کی پہچان کمہار کے نام سے ہو گی وہیں تیسرا تعمیراتی کام کرے گا جسے راج کہا جائے گا ، چوتھا لکڑی کا کام کرے گا اسے ترکھان کہا جائے گا، پانچواں کپڑا بنے گا اسے جولاہا کہا جائے گا۔ اسی طرح اللہ نے انسان کی جن ضروریات کا تعین کر دیا ان ضروریات کو پیدا کرنے کا کام کسی نہ کسی قبیلے کا ہو گا۔ پھر تمام کے تمام قبائل آپس میں انہی اشیاء کے ذریعے لین دین کریں۔ اللہ نے اسطرح انسانوں کو ایک دوسرے کا محتاج بنا دیا اس سے انہیں ایک دوسرے کا احساس بھی ہو گاکہ اگر کوئی بیمار ہو گا کوئی پریشانی یا مشکل میں ہو گا تو سب کو اس کی فکر لاحق ہو جائے گی کیونکہ انہیں علم ہو گا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پائے گا اور یوں معاشرے میں اس ضروری شئے کی قلت ہو جائے گی جس پر وہ معمور ہے جو اس کا ذریعہ معاش اور دوسروں کی
ضرورت ہے۔
یہ انسانوں کے وہ معاش کے ذرائع ہیں جن کا تعین اور طریقہ اللہ نے وضع کر دیااور اسی طرح سب کچھ فطرت پر ہو گا، اسی طرح انسان اس مقصد کو باآسانی پورا کر سکتے تھے جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہیں زمین پر ایک محدود مدت تک کا موقع دیا گیا۔ انسان کے لیے اللہ کے وضع کردہ ذریعہ معاش میں ہر انسان کے لیے کام کرنا لازم تھا یعنی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر انسان کا کوئی نہ کوئی کام کرنا لازم تھا اگر کوئی انسان کام کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کے ذمے کا کام نہیں ہو گا تو معاشرے میں خامی پیدا ہو جائے گی اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب کسی انسان کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے یعنی وہ دوسروں کا محتاج ہی نہ
رہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اللہ نے ربا جسے سود کہا جاتا ہے کو حرام قرار دیا۔
کہ اگر ایک کسان جس نے فصل بو دی لیکن ابھی تیار نہیں ہوئی اور اسے ضروریات حاصل کرنی ہیں جن کے لیے اس کے پاس سرمایہ نہیں ہے تو کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ اسے اس شرط پر مہیا کرے کہ جب اس کی فصل تیار ہو جائے تو اسے سود کے ساتھ واپس کر دے یعنی قیمت سے زیادہ فراہم کرے۔ اس سے ہو گا یہ کہ کسان جو سود میں ادا کرے گا وہ اتنا ہی پیچھے چلا جائے گا اور آئندہ اسے محنت بھی زائد کرنا پڑے گی اور جس کو سود حاصل ہوا اس کے پاس اتنا مال بغیر کسی محنت کے اضافی آجائے گا جس وجہ سے اسے اتنی مدت کام کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور جب وہ اتنی مدت کے لیے کام چھوڑ دے گا تو جو کام اس نے کرنا تھا
معاشرے میںوہ نہیں ہو گا یوں معاشرے میں فساد کا آغاز ہو جائے گا۔
جب جن کے پاس مال ہے وہ دوسرے کو سود پر دیں گے تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا کہ سود دینے والے دن بہ دن غریب سے غریب تر اور لینے والے دن بہ دن امیر تر ہوتے چلے جائیں گے۔ جو غریب تر ہو جائیں گے ان کے لیے اپنی وسعت سے زیادہ کام کرنا مجبوری بن جائے گا اور جو امیر تر ہوتے جائیں گے انہیں کام کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی اس طرح انسان دو طبقات میں تقسیم ہو جائیں گے ایک طبقہ غریب جو کہ غلام بن جائے گا اور دوسرا امیر جو مالک بن جائے گا اسے اپنے ہاتھوں سے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یوں الصلاۃ اللہ کا انسان کو دیا ہوا نظام درہم برہم ہو جائیگا۔ غریب انسان
دنیا میں آنے کے مقصد کو بھول کر مجبوراً انسانوں کی ہی غلامی میں دھنس جائیں گے اور امیر مالک بن کر عیاش بن کر دنیا میں آنے کے مقصد کو بھول جائیں گے۔
اسے ایک مثال سے سمجھ لیں۔ ایک فرد کی مجموعی طور پردس ضروریات ہیں اور دس افراد ہیں۔ سب الگ الگ صلاحیت کے حامل ہیں سب اپنی اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کرتے ہیں اور اس سے انہیں جو حاصل ہوتا ہے وہ ان کی ضرورت سے نو گنا زائد ہے۔ سب کو ااپنی اپنی الگ صلاحیت کی وجہ سے الگ الگ شئے حاصل ہوتی ہے اب سب کو سارا دن کام کر کے ایک ایک ضرورت تو حاصل ہو گئی لیکن سب باقی نو ضروریات سے محروم ہیں۔ اب انہیں یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے پاس جو ان کی ضرورت سے نوگنا زائد ہے اسے نو حصوں میں تقسیم کریں۔ ہر شخص ان نو حصوں کو باقی نو افراد کو دے کر ان سے اپنی ضرورت کی شئے جو ان کے پاس ان کی ضرورت سے زائد ہے وہ حاصل کر لے یوں سب کو دس دس ضروریات حاصل ہو جائیں گی اور وہ ضروریات کے نہ حاصل ہونے کی وجہ سے پیش آنے والے نقصان، تکلیف یا مصیبت وغیرہ سے محفوظ ہو جائیں گے۔ اب سب کو علم ہے کہ ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں جب تک ان میں یہ احساس موجود رہے گا کہ وہ ایک دوسرے کے محتاج ہیں تو وہ ایک دوسرے کی نہ صرف قدر کریں گے بلکہ ہر دکھ سکھ میں اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے بالکل یہی مثال دنیا میں تمام لوگوں کی ہے اللہ نے الرحمٰن ہونے کے ناطے قدر میں ایسا کر دیا کہ ہر شخص اگر اپنی ذمہ د اری ادا کرے گا تو تمام لوگ بالکل اسی طرح
رہیں گے جیسے ان دس افراد کی مثال ہے ۔
جب تمام افراد اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنے اپنے ذریعہ معاش کیساتھ جڑے رہیں گے تو سب ایک دوسرے کے محتاج بھی رہیں گے اور ایک متوازن نظام قائم رہے گا یہی اللہ کی غلامی تھی اور ہے جسے عربوں کی زبان میں عبادۃ کہتے ہیں۔ اب اگر ایک کسان کی فصل تیار نہیں اور اسے اوزار وں کی ضرورت ہے ، کپڑے کی یا کسی بھی شئے کی تو متعلقہ قبیلے کے افراد پر فرض ہے کہ وہ اسے اس کی ضرورت مہیا کریں اور جب کسان کی فصل تیار ہو جائے تو کسان یا تو فصل سے انہیں معاوضہ دے دے یا فصل بیچ کر اس کی قیمت انہیں لوٹا دے جیسا ان کے درمیان طے ہو اس طرح کریں۔ بالکل اسی طرح تمام انسان آپس میں لین دین کریں گے یہ تھا اللہ کا وضع کردہ انسانوں کا ذریعہ معاش جب وہ جنت سے نکل چکے تب۔ اس میں فساد کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ کسی کو اس کی ضرورت قیمت سے زائد واپس کرنے کی شرط پر دی جائے یا کسی بھی شخص کے پاس اس کی محنت سے زائد مال آ جائے جس کی وجہ سے اسے محنت کرنے کی
حاجت نہ رہے اور یوں اس کے کام نہ کرنے سے معاشرے میں خلا آجائے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے۔
کسی کے پاس اس کی محنت سے زائد یا بغیر محنت کیے بغیر ضرورت کی حاجت کے مال کا آ جاناربا کہلاتا ہے جسے سود کا نام دے دیا گیا یعنی جب اس کو ضروریات کی حاجت نہ ہو اسے اس کی ضروریات مہیا ہوں اور ایسی صورت میں بغیر محنت کے اس کے پاس مال آجائے جس پر اس کوخرچ کرنے کا اختیار حاصل ہو وہ مال ربا کہلائے گا۔ اگر دنیا میں اللہ کا دین قائم ہویعنی الصلاۃ قائم ہو تو مذکورہ معاشرہ ہو گا اور اس کو تباہ کرنے کے لیے یہی صورت پیش آسکتی ہے اور اسی تباہی سے
بچانے کے لیے اللہ نے انسان کو اس کی محنت سے زائد وصول کرنے یا دینے سے سختی سے منع کر دیا جو کہ ربا کہلاتا ہے۔
آج یاجوج اور ماجوج نے بینکنگ نظام کے ذریعے دنیا کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا جس میں ایک گروہ چند خاندانوں پر مشتمل پوری دنیا کی دولت کا مالک اور باقی انسان ان کی غلامی پر مجبور ہیں۔ اسی طرح انسان کو انسان کا غلام بنانے کے لیے یہی بینک قرضے جاری کرتے ہیں کہ ایک انسان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتاکہ وہ فیکٹری لگا کر لوگوں کو اپنا غلام بنائے اگر وہ فیکٹری لگانے کا خواب پال بھی لے تو ساری زندگی بھی اگر محنت کرتا رہے تو اس قابل نہیں ہو گا کہ فیکٹری لگا
سکے لیکن یہی بینک اسے راتوں رات اتنا سرمایہ فراہم کرتے ہیں کہ وہ مالک بن کر کئی انسانوں کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔
اگر کوئی شخص تجارت کے نام پر دوسروں سے محنت کرواتا ہے اور ان کی محنت کا مال کھاتا ہے تو وہ ربا کھا رہا ہوتا ہے مثلاً آپ ایک کام کاٹھیکہ لیتے ہیں جس کی مالیت ایک کروڑ ہے وہ کام آپ کچھ لوگوں سے کرواتے ہیں جب کام مکمل ہوتا ہے تو اس میں سے پچاس لاکھ انہیں فراہم کرتے ہیں جن سے کام لیا اور پچاس لاکھ کو منافع کا نام دے کر اپنی جیب میں بھرتے ہیں تو یہ ربا ہے اور اس کی نوبت تو تب آئے گی جب آپ موجودہ دنیا کے نظام میں تجارت کریں گے اور قرآن
تو اسے آسمانوں و زمین میں فساد قرار دے رہا ہے نہ صرف قرار دے رہا ہے بلکہ لاتعداد ناقابل تردید دلائل بھی دے رہا ہے۔
اس لیے جو بھی ذریعہ معاش ہو اگر تو وہ فطرت پر ہو گا اور اس میں صرف اپنی محنت کا بدل ہی حاصل کیا جائے گا تو ایسا رزق حلال ہو گا ورنہ دین الاسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اور یہ بات کسی بھی مادہ پرست کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی نہ ہی وہ تسلیم کرے گا لیکن عنقریب وہ حقیقت کو جان لے گا جب محشر کے
میدان میں کھڑا ہو گا اس کے لیے صرف اس دنیا میں آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے جو کہ کسی بھی وقت ہو سکتی ہیں۔
آج آپ دیکھیں تو پوری دنیا میں لوگوںکے معاش میں یاجوج اور ماجوج نے فساد کر دیا۔ بینکوں، تجارت، فیکٹریوں، انڈسٹریوں ، جدت، آسانی ، تیزرفتاری وغیرہ کے نام پر۔ لوگوں کی جگہ الدجّال یعنی ٹیکنالوجی مشینوں نے لے لی اور انسان بے کار ہو گیا اس کو سمجھ ہی نہیں آ رہاکہ وہ کیا کرے اور کہاں سے پیٹ پالے جس سے پوری دنیا میں بے چینی، افراتفری اور انتشار کی کیفیت ہے۔ لاکھوں لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں اور طرح طرح کے جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آخر ت سے بالکل غافل اور دنیا میں صرف اپنا پیٹ پالنے کی تگ و دو میں ساری زندگی غلاموں سے بد تر گزارنے پر مجبور ہیںجو کہ آج آپ
کے سامنے ہے کسی کو کسی کا احساس تک نہیں رہا۔
پیچھے جو دس افراد کی مثال بیان کی تھی اسے دوبارہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کو دیکھیں۔
لیکن اگر یہ کیا جائے کہ ان میں سے کسی ایک ، ایک سے زائد یا سب کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ وہ ایسا کام کرے جس سے جو اس کے پاس ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ جائے اور باقیوں کا بھی اس کے ہاتھ آ جائے تو وہ دس دن کی تھکا دینے والی محنت سے بچ جائے گا اور ان دس دنوں یا نو دنوں میں وہ آئندہ ایک ماہ کا سامان اکٹھا کر سکتا ہے اسی طرح وہ بہت جلد اپنی نسلوں تک کے لیے مال جمع کر سکتا ہے تو ان میں فساد ہو جائے گا یہاں تک کہ اسی لالچ میں وہ ایک دوسرے کے قتل پر بھی اتر آئیں گے اور اسی طرح کے خیالات اور آئیڈیاز کو انسانوں میں داخل کرنے کے لیے کھیلوں کے نام پر ایسے ذرائع عام کیے جاتے ہیں جس سے انسان کے اندر ایسی باتیں ایسے خیالات پیدا ہوں ایسی باتوں کو سیکھے جیسے مثلاً شطرنج ہو یا تاش وغیرہ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اللہ نے جوئے کو بھی قرآن میں حرام قرار دیا۔ تاش اور شطرنج یااسطرح کا جو کچھ بھی ہے یہ سب اسی لیے ہے کہ انسان کے دماغ میں ان کے ذریعے ایسے خیالات پیدا ہوں انسان کے اند ر ایسے ارادے پنپنا شروع کریں کہ اس میں مقابلہ پرستی پروان چڑھے کیونکہ انسان کے سیکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہی ایسے حادثات و واقعات ہوتے ہیں جو اس کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو انسان کے دماغ میں مستقل ٹھکانہ کر لیتی ہے اور انسان میں منفی یا مثبت تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اسی وجہ سے اللہ نے بار بار اپنی آیات میںجو کہ آسمانوں ، زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کی سب اللہ کی
آیات ہیں میں غوروفکر کرنے کاحکم دیا ہے۔
یوں آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یاجوج اور ماجوج نے لوگوں کے معاش میں فسادکر دیا ، افراد کی جگہ مشینوں نے لے لی اور لوگ ایک دوسرے
کی بجائے اکثریت چند سرمایہ داروں کی محتاج بن گئی جس کی وجہ سے دنیا میں بد ترین حالات پیدا ہو چکے ہیں۔
قال رسول اللہ ﷺ: ھؤلاء الذین لا یقوم لھم جبل ولا حدید۔ ابن ابی حاتم، ابن النجار، ابن عدی، ابن مردویہ، ابن عساکر
رسول اللہ ﷺ نے کہا: یاجوج اور ماجوج وہ لوگ ہوں گے جن کے لیے پہاڑ قائم نہیں رہیں گے اور نہ ہی لوہا۔
آج یاجوج اور ماجوج کو جدید ٹیکنالوجی کے نام پر اتنی قوت حاصل ہو چکی ہے کہ ان کے سامنے پہاڑ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور نہ رہے یہ ان مشینوں کے ذریعے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر رہے ہیں جو کچھ پہاڑوں میں موجود ہے اسے نکالنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور لوہا جو ایک ایسی دھات تھی جس کی سختی کا قرآن میں اللہ نے ذکر کیا ہے آج ان کے سامنے لوہا بھی قائم نہیں رہا جو ٹیکنالوجی اور بارود یہ حاصل کر چکے ہیں۔ جیسا کہ آپ درج ذیل تصاویر میں دیکھ سکتے
ہیں کہ کیسے کئی کئی کلو میٹر لمبے پتھریلے پہاڑوں میں سرنگیں نکال لی گئیں پہاڑوں کو کاٹ کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اور یہ سب آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام کے کہے ہوئے الفاظ کے مطابق یاجوج اور ماجوج نے کرنا تھا۔
جب پہاڑوں کو کاٹا جا رہا ہے ان میں چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے تو کیا زمین کا توازن برقرار رہے گا؟ اللہ قرآن میں بار بار کہہ رہا ہے کہ پہاڑوں کو زمین میں ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ زمین ڈول نہ جائے کہ زمین کا بیلنس کر دیا اور جب آپ پہاڑوں کو تباہ کریں گے، انہیں کاٹیں گے، انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو پھر زمین ہلے گی نہیں یہ کہاں لکھا ہے؟ جب کہ اللہ قرآن میں واضح کہہ رہا ہے تو پھر زلزلے کیوں نہ آئیں؟ زلزلے تو آئیں گے جو کہ آ رہے ہیں اور یہ دن بہ دن بڑھتے ہی چلے جائیں گے یہاں تک کہ ایک ایک دن میں کئی کئی زلزلے آئیں گے اور بالآخر ایک بہت بڑا زلزلہ زمین کو اپنی لپیٹ
میں لے لے گا جو کہ دور نہیں۔
یوں آپ نے دیکھ لیا کہ آج سے چودہ صدیاں قبل کہے گئے محمد علیہ السلام کے الفاظ کے عین مطابق یاجوج اور ماجوج نہ صرف کب کے کھل چکے بلکہ یاجوج اورماجوج نے آسمانوں و زمین میں ہر سطح پر فساد کر دیا۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔


