Friday, September 30, 2022

                             WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#53

روایات کی روشنی میں یاجوج اور ماجوج

قال رسول اللہ ﷺ : الجن والانس عشرۃ أجزائٍ، فتسعۃ أجزائٍ یأجوج و مأجوج۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، الدر المنثور
رسول اللہ ﷺ نے کہا: جن اور انس یعنی انسان دس حصے ہیں پس نو حصے یاجوج اور ماجوج ہیں۔
اس روایت میں آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ ہر دس انسانوں میں نو یاجوج اور ماجوج ہیں یعنی نوے فیصد انسان یاجوج اور ماجوج ہیں اور ظاہر ہے جب آپ پر یہ واضح کیا جا چکا کہ یاجوج اور ماجوج ان کو کہا گیا جو زمین میں فساد کرتے ہیں یعنی زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے بدل رہے
ہیں فطرت میں تبدیلیاں کر رہے ہیں توانسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو زمین میں فساد کر رہی ہے اس لیے اکثریت یاجوج اور ماجوج ہے۔
قال رسول اللہ ﷺ : ولو أرسلو الأ فسدوا علی الناس معایشھم۔ طبرانی، بیھقی، ابن المنذر، ابن عساکر، ابن مردویہ، الدر المنثور
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اور اگر انہیں بھیجا جائے مگر فساد کر دیں انسانوں کے معاش پر۔
اللہ نے معاش کا کیا نظام بنایا اور یاجوج اور ماجوج نے کیسے فساد کر دیا اس کی وضاحت تفصیل کیساتھ پیچھے گزر چکی بہر حال یہاں ایک بار پھر ایک دوسرے رخ
سے اور مختصراً بیان کرتے ہیں۔
ہم نے پیچھے جان لیا تھا کہ اللہ خالق ہے توکس طرح خالق ہے۔ مثلاً سبزیوں کا خالق اللہ ہے اللہ نے ایک نظام قائم کر دیا جس کے ذریعے اللہ ٰ خلق کرتا ہے۔ اس میں لاتعداد مخلوقات کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے جیسے انسان کے جسم کا توازن تب تک قائم رہے گا جب تک جسم میں موجود تمام اعضاء اپنا اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے رہیں گے بالکل اسی طرح اللہ نے سبزیوں کو خلق کرنے کے لیے مختلف مخلوقات کو خلق کر کے ان کے مقام پر رکھتے ہوئے ان پر ان کی ذمہ داری واضح کر دی۔ اس میں ملائکہ کی ذمہ داری الگ ہے، ہواؤں کی الگ، سمندروں کی الگ، سورج کی الگ، زمین کی الگ اور اسی طرح زمین کے اندر اور باہر لاتعداد مخلوقات جب اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرتی ہیں تو سبزیاں خلق ہوتی ہیں۔ اس سارے عمل میں تمام مخلوقات ایک مشین کے مختلف پرزوں کی طرح کام کرتی ہیں اور اس مشین یعنی نظام کا ایک پرزہ یہ بشر بھی ہیں۔ سبزیوں یا زمین سے نبات کے خلق کرنے کے لیے اللہ نے انسان کو بھی ایک ذمہ داری دی ہے یعنی انسان بھی مشین میں ایک پرزے کی مانند ہے انسان کا کام یہ ہے کہ اس نے اللہ کی متعین حدود میں رہتے ہوئے فطرت کیمطابق زمین میں ہل چلا کراس
میں بیج بونا ہے فصل کی دیکھ بھال اور جب تیار ہو جائے تو کاٹ کر محفوظ کر لینا ہے اور اسے استعمال کرنا ۔
بالکل اسی طرح اللہ نے زمین پر انسان کوالصلاۃ کے قیام کا حکم دیایعنی انسانوں کو ان کے مقام پر رکھا جائے۔ اللہ نے انسانوں کو قبیلوں میں تقسیم کیا ان کی پہچان کے لیے یعنی انسانوں میں مختلف قبیلے اپنے معاش کے ذریعے پہچانے جائیں گے۔ ایک قبیلہ کاشتکاری کرے گا جس کی پہچان کسان کے نام سے ہو گی تو دوسرا برتن بنائے گا جس کی پہچان کمہار کے نام سے ہو گی وہیں تیسرا تعمیراتی کام کرے گا جسے راج کہا جائے گا ، چوتھا لکڑی کا کام کرے گا اسے ترکھان کہا جائے گا، پانچواں کپڑا بنے گا اسے جولاہا کہا جائے گا۔ اسی طرح اللہ نے انسان کی جن ضروریات کا تعین کر دیا ان ضروریات کو پیدا کرنے کا کام کسی نہ کسی قبیلے کا ہو گا۔ پھر تمام کے تمام قبائل آپس میں انہی اشیاء کے ذریعے لین دین کریں۔ اللہ نے اسطرح انسانوں کو ایک دوسرے کا محتاج بنا دیا اس سے انہیں ایک دوسرے کا احساس بھی ہو گاکہ اگر کوئی بیمار ہو گا کوئی پریشانی یا مشکل میں ہو گا تو سب کو اس کی فکر لاحق ہو جائے گی کیونکہ انہیں علم ہو گا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پائے گا اور یوں معاشرے میں اس ضروری شئے کی قلت ہو جائے گی جس پر وہ معمور ہے جو اس کا ذریعہ معاش اور دوسروں کی
ضرورت ہے۔
یہ انسانوں کے وہ معاش کے ذرائع ہیں جن کا تعین اور طریقہ اللہ نے وضع کر دیااور اسی طرح سب کچھ فطرت پر ہو گا، اسی طرح انسان اس مقصد کو باآسانی پورا کر سکتے تھے جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہیں زمین پر ایک محدود مدت تک کا موقع دیا گیا۔ انسان کے لیے اللہ کے وضع کردہ ذریعہ معاش میں ہر انسان کے لیے کام کرنا لازم تھا یعنی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر انسان کا کوئی نہ کوئی کام کرنا لازم تھا اگر کوئی انسان کام کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کے ذمے کا کام نہیں ہو گا تو معاشرے میں خامی پیدا ہو جائے گی اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب کسی انسان کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے یعنی وہ دوسروں کا محتاج ہی نہ
رہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اللہ نے ربا جسے سود کہا جاتا ہے کو حرام قرار دیا۔
کہ اگر ایک کسان جس نے فصل بو دی لیکن ابھی تیار نہیں ہوئی اور اسے ضروریات حاصل کرنی ہیں جن کے لیے اس کے پاس سرمایہ نہیں ہے تو کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ اسے اس شرط پر مہیا کرے کہ جب اس کی فصل تیار ہو جائے تو اسے سود کے ساتھ واپس کر دے یعنی قیمت سے زیادہ فراہم کرے۔ اس سے ہو گا یہ کہ کسان جو سود میں ادا کرے گا وہ اتنا ہی پیچھے چلا جائے گا اور آئندہ اسے محنت بھی زائد کرنا پڑے گی اور جس کو سود حاصل ہوا اس کے پاس اتنا مال بغیر کسی محنت کے اضافی آجائے گا جس وجہ سے اسے اتنی مدت کام کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور جب وہ اتنی مدت کے لیے کام چھوڑ دے گا تو جو کام اس نے کرنا تھا
معاشرے میںوہ نہیں ہو گا یوں معاشرے میں فساد کا آغاز ہو جائے گا۔
جب جن کے پاس مال ہے وہ دوسرے کو سود پر دیں گے تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا کہ سود دینے والے دن بہ دن غریب سے غریب تر اور لینے والے دن بہ دن امیر تر ہوتے چلے جائیں گے۔ جو غریب تر ہو جائیں گے ان کے لیے اپنی وسعت سے زیادہ کام کرنا مجبوری بن جائے گا اور جو امیر تر ہوتے جائیں گے انہیں کام کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی اس طرح انسان دو طبقات میں تقسیم ہو جائیں گے ایک طبقہ غریب جو کہ غلام بن جائے گا اور دوسرا امیر جو مالک بن جائے گا اسے اپنے ہاتھوں سے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یوں الصلاۃ اللہ کا انسان کو دیا ہوا نظام درہم برہم ہو جائیگا۔ غریب انسان
دنیا میں آنے کے مقصد کو بھول کر مجبوراً انسانوں کی ہی غلامی میں دھنس جائیں گے اور امیر مالک بن کر عیاش بن کر دنیا میں آنے کے مقصد کو بھول جائیں گے۔
اسے ایک مثال سے سمجھ لیں۔ ایک فرد کی مجموعی طور پردس ضروریات ہیں اور دس افراد ہیں۔ سب الگ الگ صلاحیت کے حامل ہیں سب اپنی اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کرتے ہیں اور اس سے انہیں جو حاصل ہوتا ہے وہ ان کی ضرورت سے نو گنا زائد ہے۔ سب کو ااپنی اپنی الگ صلاحیت کی وجہ سے الگ الگ شئے حاصل ہوتی ہے اب سب کو سارا دن کام کر کے ایک ایک ضرورت تو حاصل ہو گئی لیکن سب باقی نو ضروریات سے محروم ہیں۔ اب انہیں یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے پاس جو ان کی ضرورت سے نوگنا زائد ہے اسے نو حصوں میں تقسیم کریں۔ ہر شخص ان نو حصوں کو باقی نو افراد کو دے کر ان سے اپنی ضرورت کی شئے جو ان کے پاس ان کی ضرورت سے زائد ہے وہ حاصل کر لے یوں سب کو دس دس ضروریات حاصل ہو جائیں گی اور وہ ضروریات کے نہ حاصل ہونے کی وجہ سے پیش آنے والے نقصان، تکلیف یا مصیبت وغیرہ سے محفوظ ہو جائیں گے۔ اب سب کو علم ہے کہ ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں جب تک ان میں یہ احساس موجود رہے گا کہ وہ ایک دوسرے کے محتاج ہیں تو وہ ایک دوسرے کی نہ صرف قدر کریں گے بلکہ ہر دکھ سکھ میں اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے بالکل یہی مثال دنیا میں تمام لوگوں کی ہے اللہ نے الرحمٰن ہونے کے ناطے قدر میں ایسا کر دیا کہ ہر شخص اگر اپنی ذمہ د اری ادا کرے گا تو تمام لوگ بالکل اسی طرح
رہیں گے جیسے ان دس افراد کی مثال ہے ۔
جب تمام افراد اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنے اپنے ذریعہ معاش کیساتھ جڑے رہیں گے تو سب ایک دوسرے کے محتاج بھی رہیں گے اور ایک متوازن نظام قائم رہے گا یہی اللہ کی غلامی تھی اور ہے جسے عربوں کی زبان میں عبادۃ کہتے ہیں۔ اب اگر ایک کسان کی فصل تیار نہیں اور اسے اوزار وں کی ضرورت ہے ، کپڑے کی یا کسی بھی شئے کی تو متعلقہ قبیلے کے افراد پر فرض ہے کہ وہ اسے اس کی ضرورت مہیا کریں اور جب کسان کی فصل تیار ہو جائے تو کسان یا تو فصل سے انہیں معاوضہ دے دے یا فصل بیچ کر اس کی قیمت انہیں لوٹا دے جیسا ان کے درمیان طے ہو اس طرح کریں۔ بالکل اسی طرح تمام انسان آپس میں لین دین کریں گے یہ تھا اللہ کا وضع کردہ انسانوں کا ذریعہ معاش جب وہ جنت سے نکل چکے تب۔ اس میں فساد کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ کسی کو اس کی ضرورت قیمت سے زائد واپس کرنے کی شرط پر دی جائے یا کسی بھی شخص کے پاس اس کی محنت سے زائد مال آ جائے جس کی وجہ سے اسے محنت کرنے کی
حاجت نہ رہے اور یوں اس کے کام نہ کرنے سے معاشرے میں خلا آجائے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے۔
کسی کے پاس اس کی محنت سے زائد یا بغیر محنت کیے بغیر ضرورت کی حاجت کے مال کا آ جاناربا کہلاتا ہے جسے سود کا نام دے دیا گیا یعنی جب اس کو ضروریات کی حاجت نہ ہو اسے اس کی ضروریات مہیا ہوں اور ایسی صورت میں بغیر محنت کے اس کے پاس مال آجائے جس پر اس کوخرچ کرنے کا اختیار حاصل ہو وہ مال ربا کہلائے گا۔ اگر دنیا میں اللہ کا دین قائم ہویعنی الصلاۃ قائم ہو تو مذکورہ معاشرہ ہو گا اور اس کو تباہ کرنے کے لیے یہی صورت پیش آسکتی ہے اور اسی تباہی سے
بچانے کے لیے اللہ نے انسان کو اس کی محنت سے زائد وصول کرنے یا دینے سے سختی سے منع کر دیا جو کہ ربا کہلاتا ہے۔
آج یاجوج اور ماجوج نے بینکنگ نظام کے ذریعے دنیا کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا جس میں ایک گروہ چند خاندانوں پر مشتمل پوری دنیا کی دولت کا مالک اور باقی انسان ان کی غلامی پر مجبور ہیں۔ اسی طرح انسان کو انسان کا غلام بنانے کے لیے یہی بینک قرضے جاری کرتے ہیں کہ ایک انسان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتاکہ وہ فیکٹری لگا کر لوگوں کو اپنا غلام بنائے اگر وہ فیکٹری لگانے کا خواب پال بھی لے تو ساری زندگی بھی اگر محنت کرتا رہے تو اس قابل نہیں ہو گا کہ فیکٹری لگا
سکے لیکن یہی بینک اسے راتوں رات اتنا سرمایہ فراہم کرتے ہیں کہ وہ مالک بن کر کئی انسانوں کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔
اگر کوئی شخص تجارت کے نام پر دوسروں سے محنت کرواتا ہے اور ان کی محنت کا مال کھاتا ہے تو وہ ربا کھا رہا ہوتا ہے مثلاً آپ ایک کام کاٹھیکہ لیتے ہیں جس کی مالیت ایک کروڑ ہے وہ کام آپ کچھ لوگوں سے کرواتے ہیں جب کام مکمل ہوتا ہے تو اس میں سے پچاس لاکھ انہیں فراہم کرتے ہیں جن سے کام لیا اور پچاس لاکھ کو منافع کا نام دے کر اپنی جیب میں بھرتے ہیں تو یہ ربا ہے اور اس کی نوبت تو تب آئے گی جب آپ موجودہ دنیا کے نظام میں تجارت کریں گے اور قرآن
تو اسے آسمانوں و زمین میں فساد قرار دے رہا ہے نہ صرف قرار دے رہا ہے بلکہ لاتعداد ناقابل تردید دلائل بھی دے رہا ہے۔
اس لیے جو بھی ذریعہ معاش ہو اگر تو وہ فطرت پر ہو گا اور اس میں صرف اپنی محنت کا بدل ہی حاصل کیا جائے گا تو ایسا رزق حلال ہو گا ورنہ دین الاسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اور یہ بات کسی بھی مادہ پرست کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی نہ ہی وہ تسلیم کرے گا لیکن عنقریب وہ حقیقت کو جان لے گا جب محشر کے
میدان میں کھڑا ہو گا اس کے لیے صرف اس دنیا میں آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے جو کہ کسی بھی وقت ہو سکتی ہیں۔
آج آپ دیکھیں تو پوری دنیا میں لوگوںکے معاش میں یاجوج اور ماجوج نے فساد کر دیا۔ بینکوں، تجارت، فیکٹریوں، انڈسٹریوں ، جدت، آسانی ، تیزرفتاری وغیرہ کے نام پر۔ لوگوں کی جگہ الدجّال یعنی ٹیکنالوجی مشینوں نے لے لی اور انسان بے کار ہو گیا اس کو سمجھ ہی نہیں آ رہاکہ وہ کیا کرے اور کہاں سے پیٹ پالے جس سے پوری دنیا میں بے چینی، افراتفری اور انتشار کی کیفیت ہے۔ لاکھوں لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں اور طرح طرح کے جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آخر ت سے بالکل غافل اور دنیا میں صرف اپنا پیٹ پالنے کی تگ و دو میں ساری زندگی غلاموں سے بد تر گزارنے پر مجبور ہیںجو کہ آج آپ
کے سامنے ہے کسی کو کسی کا احساس تک نہیں رہا۔
پیچھے جو دس افراد کی مثال بیان کی تھی اسے دوبارہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کو دیکھیں۔
لیکن اگر یہ کیا جائے کہ ان میں سے کسی ایک ، ایک سے زائد یا سب کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ وہ ایسا کام کرے جس سے جو اس کے پاس ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ جائے اور باقیوں کا بھی اس کے ہاتھ آ جائے تو وہ دس دن کی تھکا دینے والی محنت سے بچ جائے گا اور ان دس دنوں یا نو دنوں میں وہ آئندہ ایک ماہ کا سامان اکٹھا کر سکتا ہے اسی طرح وہ بہت جلد اپنی نسلوں تک کے لیے مال جمع کر سکتا ہے تو ان میں فساد ہو جائے گا یہاں تک کہ اسی لالچ میں وہ ایک دوسرے کے قتل پر بھی اتر آئیں گے اور اسی طرح کے خیالات اور آئیڈیاز کو انسانوں میں داخل کرنے کے لیے کھیلوں کے نام پر ایسے ذرائع عام کیے جاتے ہیں جس سے انسان کے اندر ایسی باتیں ایسے خیالات پیدا ہوں ایسی باتوں کو سیکھے جیسے مثلاً شطرنج ہو یا تاش وغیرہ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اللہ نے جوئے کو بھی قرآن میں حرام قرار دیا۔ تاش اور شطرنج یااسطرح کا جو کچھ بھی ہے یہ سب اسی لیے ہے کہ انسان کے دماغ میں ان کے ذریعے ایسے خیالات پیدا ہوں انسان کے اند ر ایسے ارادے پنپنا شروع کریں کہ اس میں مقابلہ پرستی پروان چڑھے کیونکہ انسان کے سیکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہی ایسے حادثات و واقعات ہوتے ہیں جو اس کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو انسان کے دماغ میں مستقل ٹھکانہ کر لیتی ہے اور انسان میں منفی یا مثبت تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اسی وجہ سے اللہ نے بار بار اپنی آیات میںجو کہ آسمانوں ، زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کی سب اللہ کی
آیات ہیں میں غوروفکر کرنے کاحکم دیا ہے۔
یوں آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یاجوج اور ماجوج نے لوگوں کے معاش میں فسادکر دیا ، افراد کی جگہ مشینوں نے لے لی اور لوگ ایک دوسرے
کی بجائے اکثریت چند سرمایہ داروں کی محتاج بن گئی جس کی وجہ سے دنیا میں بد ترین حالات پیدا ہو چکے ہیں۔
قال رسول اللہ ﷺ: ھؤلاء الذین لا یقوم لھم جبل ولا حدید۔ ابن ابی حاتم، ابن النجار، ابن عدی، ابن مردویہ، ابن عساکر
رسول اللہ ﷺ نے کہا: یاجوج اور ماجوج وہ لوگ ہوں گے جن کے لیے پہاڑ قائم نہیں رہیں گے اور نہ ہی لوہا۔
آج یاجوج اور ماجوج کو جدید ٹیکنالوجی کے نام پر اتنی قوت حاصل ہو چکی ہے کہ ان کے سامنے پہاڑ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور نہ رہے یہ ان مشینوں کے ذریعے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر رہے ہیں جو کچھ پہاڑوں میں موجود ہے اسے نکالنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور لوہا جو ایک ایسی دھات تھی جس کی سختی کا قرآن میں اللہ نے ذکر کیا ہے آج ان کے سامنے لوہا بھی قائم نہیں رہا جو ٹیکنالوجی اور بارود یہ حاصل کر چکے ہیں۔ جیسا کہ آپ درج ذیل تصاویر میں دیکھ سکتے
ہیں کہ کیسے کئی کئی کلو میٹر لمبے پتھریلے پہاڑوں میں سرنگیں نکال لی گئیں پہاڑوں کو کاٹ کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اور یہ سب آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام کے کہے ہوئے الفاظ کے مطابق یاجوج اور ماجوج نے کرنا تھا۔
جب پہاڑوں کو کاٹا جا رہا ہے ان میں چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے تو کیا زمین کا توازن برقرار رہے گا؟ اللہ قرآن میں بار بار کہہ رہا ہے کہ پہاڑوں کو زمین میں ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ زمین ڈول نہ جائے کہ زمین کا بیلنس کر دیا اور جب آپ پہاڑوں کو تباہ کریں گے، انہیں کاٹیں گے، انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو پھر زمین ہلے گی نہیں یہ کہاں لکھا ہے؟ جب کہ اللہ قرآن میں واضح کہہ رہا ہے تو پھر زلزلے کیوں نہ آئیں؟ زلزلے تو آئیں گے جو کہ آ رہے ہیں اور یہ دن بہ دن بڑھتے ہی چلے جائیں گے یہاں تک کہ ایک ایک دن میں کئی کئی زلزلے آئیں گے اور بالآخر ایک بہت بڑا زلزلہ زمین کو اپنی لپیٹ
میں لے لے گا جو کہ دور نہیں۔
یوں آپ نے دیکھ لیا کہ آج سے چودہ صدیاں قبل کہے گئے محمد علیہ السلام کے الفاظ کے عین مطابق یاجوج اور ماجوج نہ صرف کب کے کھل چکے بلکہ یاجوج اورماجوج نے آسمانوں و زمین میں ہر سطح پر فساد کر دیا۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔

                                   WARNING FROM MOTHER NATURE


END OF TIME | Episode #6 | Documentary By NABA7 TV on Fitna Dajjal | Ahmed Isa Documentary

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

                                     WARNING FROM MOTHER NATURE

قسط نمبر#52

پھر آگے اللہ کا کہنا ہے
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْٓ اَوْلِیَآئَ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا۔ الکہف ۱۰۲
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا کیا پس حساب کرتے ہیں وہ لوگ جو کفر کر رہے ہیں جو ہماری دعوت کو تسلیم نہیں کر رہے یعنی یہ جو حق بالکل کھول کھول کر واضح کیا جا رہا ہے اور اس کے باوجود بھی حق کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں حق سے انکار ہی کر رہے ہیں یہ جب اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں اپنے اعمال کو دیکھتے ہیں جو کچھ انہیں حاصل ہو چکا یہ جب اسے دیکھتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں ہونے والا ان کے پاس بڑے جدید اسباب و وسائل ہیں یہ جو کچھ بھی کر
رہے ہیں ٹھیک ہی کر رہے ہیں یہ تو کچھ غلط کرہی نہیں رہے۔
اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْٓ اَوْلِیَآئَ کہ انہوں نے اخذ کیا ہوا ہے میرے عباد کو اپنے مشن میں اپنے مقصد میں معاونت کار مجھے یعنی اللہ کو ہٹا کر۔
اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے تمام کی تمام مخلوقات اللہ کی عباد ہیں۔ اللہ کے عباد کو من دون اللہ اولیاء بنانا یہ ہے کہ آج اگر آپ کو یہ سب حاصل ہوا تھا تو آپ کو چاہیے تھا کہ ان سب مخلوقات سے یا جو کچھ بھی آج آپ کو حاصل ہوا تو اللہ کو اپنا مقصد بنا کر اس کے لیے ان سب کا استعمال کرتے بالکل ایسے ہی جیسے سلیمان علیہ السلام نے کیا سلیمان علیہ السلام کا مقصد و مشن انسانیت کی خدمت یا ترقی و خوشحالی کے نام پر آسمانوں و زمین میں فساد کرنا نہیں تھا اور نہ ہی سلیمان نے اس مقصد و مشن میں ان اسباب سے معاونت حاصل کی بلکہ سلیمان نے اللہ کو یاد کیا سلیمان پر واضح ہو گیا کہ اللہ کیا ہے اور اگر اسے یہ اسباب حاصل ہوئے ہیں تو کس مقصد کے لیے دیئے گئے ہیں اور پھر سلیمان نے اللہ کو اپنا مقصد و مشن بناتے ہوئے آسمانوں و زمین کو فساد سے پاک کرنے کے لیے ان اشیاء سے معاونت اخذ کی بالکل ایسے ہی اپنا مقصد و مشن اللہ کو بنانا ہے اور اللہ کو مقصد و مشن بناتے ہوئے آسمانوں و زمین میں فساد کو روکنے اور اصلاح کے لیے ان اسباب سے معاونت حاصل کرنی ہے ورنہ اگر ان اسباب کا استعمال من اللہ کی بجائے من دون اللہ کیا تو دنیا و آخرت میں ہلاکت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اب آپ خود غور کریں کہ کیا آج وہی کیا جا رہا ہے جو سلیمان نے کیا یا پھر آج اس کے بالکل برعکس کیا
جا رہا ہے؟
آج آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اپنے ہی گریبان میں جھانک لیںجس جس کو جو کچھ بھی دیا گیا وہ من دون اللہ استعمال کر رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ اسے کوئی زوال نہیں، نہ تو دنیامیں اسے کوئی عذاب مل سکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر شخص اپنی ذات میں غور کرے
کہ اللہ نے اسے کیا کیا دیا اور وہ اس کا کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے کس سے بچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے؟
آپ کو جو بھی صلاحیتیں دی گئیں جو اسباب و وسائل دیئے گئے جو مال و دولت دی گئی جو عقل و ذہانت دی گئی جو بولنے کی صلاحیت دی گئی جو اولاد دی گئی خواہ کچھ ہی کیوں نہ دیا گیا ذرا غور کریں ان کا استعمال کس کے لیے کر رہے ہیں؟ آپ کا مقصد و مشن کیا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے جسے پانے کے لیے ان سب سے معاونت حاصل کر رہے ہیں؟ حق آپ پر بالکل واضح ہو جائے گا اور آپ کا انجام کیا ہے وہ بھی بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا۔ اگر تو آپ کا مقصد اللہ ہے اور من اللہ ان سب کا استعمال کر رہے ہیں تو الحمد للہ ورنہ جو آپ کر رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لیے جہنم تیار کر رہے ہیں جس کا اللہ نے آگے ذکر کر دیا اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا یعنی اب اپنا محاسبہ کرو جب تم پر حق بالکل کھول کھول کر واضح کر دیا یہ کافرین کے لیے اترا ہے اب جب تم اپنا احتساب کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا کہ تم خود اپنے لیے جہنم تیار کر رہے ہو۔ اب جب حق تمہارے لیے اتارا گیا ہے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا ہے تو اب اپنا احتساب کرو اب تم پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی تم خود یہ کہنے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ اس میں کچھ شک نہیں ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں جو جہنم تھی جس کا
وعدہ کیا گیا تھا اسے تیار کر رہے ہیں۔
پیچھے آپ پر واضح کر دیا گیا کہ جو کچھ بھی آپ کو دیا گیا اگر آپ انسانیت کی خدمت کے نام پر جدیدیت و ترقی کے نام پر دنیاوی مال و متاع کے حصول کے لیے اپنی خواہشات کی اتباع میںاس سب کا استعمال کر رہے ہیں تو آپ اپنے ہی ہاتھوں سے زمین کو جہنم بنا رہے ہیں آپ کے ان مفسد اعمال کے رد اعمال میں یہ زمین جہنم بن رہی ہے جو عنقریب مکمل تیار ہو جائے گی اور آپ کو اسی میں ڈالا جائے گا یہی اللہ نے اس آیت میں بھی واضح کر دیا کہ اے کافرین اور جان لیں کافرین سے مراد وہ نہیں جو دائرہ اسلام نامی مذہبی طبقے کی حدود و قیود سے باہر ہیں اللہ کے ہاں ایسا کوئی دائرہ نہیں اور نہ ہی اسلام کے نام پر جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ دین الاسلام ہے۔ کافرین کون ہیں پیچھے بار بار واضح کر دیا جو اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہیں جو حق بالکل کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں جو کچھ بھی آسمانوں و زمین میں ہے انہیں اللہ کی آیات ماننے سے انکار کر رہے ہیں اور الٹا ان میں پنگے لے رہے ہیں فطرت میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اب اپنا محاسبہ کرو اور دیکھو کہ تم کیا کر رہے ہو؟ تم اپنے لیے خود اپنے ہی ہاتھوں سے جہنم تیار کر رہے ہو یہ تھی وہ جہنم
جو آج تم اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہے ہو۔
پھر اگلی آیت میں اللہ کا کہنا ہے
قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ۔ الکہف ۱۰۳
اس وقت اللہ اپنے رسول کو یعنی اپنے بھیجے ہوئے کو کہہ رہا ہے جس کے ذریعے اللہ اس وقت انسانوں کو کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے حق کھول کھول کر واضح کر رہا ہے کہ تُو ان سے کہہ کیا ہم تمہیں وہ علم دیں جو ہمارے یعنی اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ؟ جو یہ کر رہے ہیں اس سے ان کے لیے خسارہ ہے ان کا ایک ایک
عمل انہیں خسارے میں لے جا رہا ہے۔
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔ الکہف ۱۰۴
ایسے لوگ جو ضل ہیں رستے سے ہٹ کر ہیں ان کی تمام تر سعی یعنی جو کچھ بھی یہ لوگ دنیاوی زندگی میں کر رہے ہیں وہ سوائے گمراہی کے کچھ بھی نہیں وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا اور یہ لوگ جو کچھ بھی کر رہے ہیں جو اعمال بھی کر رہے ہیں تو اپنی سعی کو دیکھ کر اپنے اعمال کو دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں یہی نتیجہ طے کیے ہوئے ہیں کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ جو کچھ بھی کر رہے ہیں احسان ہی کر رہے ہیں خود کو محسن سمجھ رہے ہیں۔
یعنی آج کسی انجینئر کو لے لیں، کسی سائنسدان کو، کسی پروفیسر کو، کسی ٹیچر کو، کسی مولوی کو، کسی ڈاکٹر کو، کسی بینکر کو، کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص کو لے لیں تو حقیقت میں کیا کر رہا ہے حقیقت میں وہ آسمانوں و زمین میں فساد کر رہا ہے وہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہا ہے اور جب وہ اپنے اعمال کو دیکھتا ہے تو وہ یہی سمجھ کر بیٹھا ہوا ہے کہ وہ تو جو کچھ بھی کر رہا ہے احسان ہی کر رہا ہے وہ تو مسیحا ہے بہت اچھا شخص ہے مومن ہے وہ انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔ اللہ نے تو بالکل واضح کر دیا کہ اے عقل کے اندھوں تمہیں بے شک کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے لیکن جان لو یہ حق ہے کہ تم اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہو تمہارا ایک ایک عمل تمہیں خسارے میں لے جا رہا ہے تم لوگ یاجوج اور ماجوج ہو تم لوگ جو بھی کر رہے ہو زمین میں فساد کر رہے ہو۔
ایک شخص ایمبولینسں بنا کر بیماروں کو ہسپتالوں میں لے جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ تو بہت بڑا محسن ہے انسانیت کی خدمت کر رہا ہے احسان کر رہا ہے لیکن حقیقت کیا ہے کبھی کسی نے غور ہی نہیں کیا کہ وہ گاڑی جسے تُو ایمبو لینس بنا کر انسانیت کی خدمت کا دعویدار بنا ہوا ہے اور اپنی نظروں میں بہت بڑا مومن و محسن بنا ہوا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ وہ گاڑی دابۃ الارض ہے جس کی تخلیق آسمانوں و زمین میں فساد عظیم سے ہوئی اس کے بعد اس میں جو ایندھن ڈال رہا ہے وہ زمین کا خون اللہ کے غیب کا کفر اللہ کی آیات کا کذب پھر وہ دابۃ الارض جو زہریلی گیسیں خارج کر رہا ہے آسمانوں و زمین میں فساد کر رہا ہے اس سے زمین جہنم بن رہی
ہے لا تعداد مخلوقات کا قتل ہو رہا ہے فساد عظیم ہو رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ بہت بڑا احسان کر رہا ہے بہت اچھے اعمال کر رہا ہے۔
اسی طرح کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا انسان اس میں غور کر لے تو اس پر حق بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا کہ وہ محسن نہیں بلکہ مجرم ہے اللہ کا مجرم ، وہ اپنی نظروں میں مومن و محسن بنا بیٹھا رہے لیکن عنقریب اس کے پاس سوائے پچھتاوے اور چیخنے چلانے کے کچھ نہیں ہو گا۔ تب چیخے گا چلائے گا لیکن تب کچھ نفع
نہیں ہو گا۔
اللہ کے سب سے بڑے دشمن یہ ملّاں سمجھتے ہیں کہ یہ دین کی خدمت کر رہے ہیں اللہ کے نمائندے ہیں لیکن حقیقت میں کسی ایک کو بھی دین کا علم نہیں یہ اللہ کے نمائندے نہیں بلکہ اللہ کے مجرم ہیں ، جس کا دین کیساتھ کوئی تعلق ہی نہیں جو ہے ہی جہالت جو کہ پوجا پاٹ ہے یہ پوجا پاٹ کو دین کا نام دیکر اور جو دین ہے اسے دنیا کا نام دیکر انسانوں کے لیے اللہ کیساتھ دشمنی کی راہ ہموار کرتے ہیں آج آسمانوںو زمین کی حالت کے اصل اور بنیادی ذمہ دار یہی لوگ ہیں جو پہرا دار تھے۔ یہ خود کو بہت بڑے محسن سمجھتے ہیں خود کو اللہ کے چہیتے سمجھتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں اللہ کا ہی علم نہیں کہ اللہ کیا ہے یہ اپنے بے بنیاد باطل عقائد و نظریات کو ہی اللہ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور جو اللہ ہے اس کا انہیں علم ہی نہیں الٹا اللہ کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں اور انسانوں کو بھی اللہ کیساتھ دشمنی پر ابھار رہے
ہیں ان کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں ۔ اگلی آیت میںاللہ کا کہنا ہے
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَلِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلاَ نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ الکہف ۱۰۵
یہی ہیں وہ ، وہ لوگ جو کفر کر رہے ہیں ان کے ربّ کی آیات سے اوراپنے ربّ میں واپس ڈلنے سے ، پس ناکام کروا دیا ان کے اعمال نے انہیں جو بھی اعمال انہوں نے کیے وہ رستے سے ہٹ کر کرتے رہے جن کا نہ کرنا کرنے سے زیادہ بہتر تھا پس نہیں ہم قائم کر رہے ان کے لیے یوم القیامہ وزن۔ یعنی ان کے حسن
اعمال کے پلڑے بالکل خالی ہوں گے اس پلڑے میں کچھ بھی نہیں ہو گا کوئی وزن نہیں ہو گا۔
آج دنیا میں یہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہ بہت بڑے بڑے احسن اعمال کر رہے ہیں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی ایک بھی عمل ان کو کوئی نفع نہیں دینے والا بلکہ الٹا یہ اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے جہنم تیار کر رہے ہیں ۔ اصل وجہ ہی یہی ہے کہ ان کو علم ہی نہیں ہے یہ لوگ ہیں ہی گمراہ، جب ان کو آخرت کا علم ہی نہیں کہ آخرت ہے کیا، جنت کا علم ہی نہیں کہ جنت ہے کیا، جہنم کا علم ہی نہیں کہ جہنم ہے کیا، یہ آخرت کو جنت و جہنم کو دیومالائی کہانیاں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں جب آخرت جنت و جہنم ان کے نزدیک ہیں ہی دیو مالائی کہانیاںتو ظاہر ہے پھر یہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں بہت اچھے اعمال کر رہے ہیں یہ بہت بڑے محسن ہیں حالانکہ خود اپنے ہاتھوں سے زمین کو وہی جہنم بنا رہے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حق اس قدر کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی یہ جو کچھ بھی آسمانوں و زمین میں ہے انہیں اللہ کی آیات ماننے کو تیار ہی نہیں یہ اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہیں جو ان کا ربّ ہے اس سے
کفر کر رہے ہیں ۔
کیا غور نہیں کیا کہ کون ہے ربّ تمہارا؟ ذراغور کرو! کیا یہی وہ ذات نہیں جس نے تمہیں وجود دیا جنہیں تم مخلوقات کا نام دیتے ہو،؟
ذرا غور کرو ! تم کیسے وجود میں آئے کیسے خلق ہوئے ؟ ذرا غور تو کرو! تمہاری ضروریات کیا کیا ہیں اور انہیں کون خلق کر رہا ہے؟ کیا یہی جو کچھ بھی آسمانوںو زمین میں ہے یہی سب سامنے نہیں آئے گا خالق کی صورت میں؟ جب یہی ربّ سامنے آتا ہے تو پھر ربّ سے ہی کفر کر رہے ہو۔ کیا اسی سے تم وجود میں نہیں آئے اور موت کے بعد دوبارہ اسی میں نہیں جا ملو گے؟ کیادوبارہ یہی ذات تمہیں وجود میں نہیں لائے گی؟ پھر بھی اسی سے کفر کر رہے ہو اس کی ایک بھی
ماننے کو تیار نہیں، اپنے ربّ کو مخلوقات کا نام دیکر اس کیساتھ دشمنی کر رہے ہو عقل کے اندھو غور تو کرو۔
اب جب اپنے ربّ ہی کی آیات سے کفر کر رہے ہو اور دن رات اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کو احسانات سمجھ رہے ہو تو تمہارا انجام کیا ہے جان لو تمہارا انجا م تم پر ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا خواہ مانو یا نہ مانو اور خواہ تمہیں کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ پھر آگے اللہ کا کہنا ہے
ذٰلِکَ جَزَآؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰیٰتِیْ وَرُسُلِیْ ھُزُوًا۔ الکہف ۱۰۶
وہ بدلہ ان کا جہنم اس کے سبب جو کفر کر رہے ہیں اور اخذ کر رہے ہیں میری آیات اور میرے رسولوں سے ھزوا یعنی اس وجہ سے ان کا انجام جہنم ہے ان کا بدلہ جہنم ہے جو یہ کر رہے ہیں اور جو یہ کر رہے ہیں یہ اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں انہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ان کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں ان کے خلاف ہی ہر عمل کر رہے ہیں اور بالکل یہی یہ ہر اس کیساتھ بھی کر رہے ہیں جو میرا رسول ہے یعنی جو میرا بھیجا ہوا ہے جو میری آیات کو ان پر کھول کھول کر واضح کر رہا ہے ان پر حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر رہا ہے یہ اس کے احسان مند ہونے کی بجائے الٹا اس کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اسکی تحقیر و تذلیل کر رہے ہیں، اسے نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں، اس کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں جس سے وہ متنبہ کر رہا ہے اس سے باز آ کر عذاب سے بچنے کی بجائے الٹا ڈنکے کی چوٹ پر وہی کر رہے ہیں۔ اپنے آباؤ اجداد کو ترک کر کے میرے رسول کی طرف سے کھول کھول کر واضح کردہ حق کو اخذ کرنے کی بجائے الٹا رسول کیساتھ دشمنی کر رہے ہیںاور آباؤ اجدادکو کسی بھی صورت چھوڑنے کو تیار ہی نہیں، اللہ کے بھیجے ہوئے سے دشمنی تو اللہ سے دشمنی ہے یہ اللہ کے رسول سے دشمنی نہیں بلکہ اللہ سے دشمنی کر رہے ہیں کیونکہ اگر یہ اللہ کا رسول نہ ہوتا تو کیایہ پھر بھی اس کیساتھ ایسا ہی کرتے؟ نہیں بلکہ اس کیساتھ صرف اور صرف اسی وجہ سے تو ایسا کر رہے ہیںکیوں کہ یہ اللہ کا رسول ہے جب اللہ کا رسول ہونے کی وجہ سے اس کیساتھ ایسا سب کر رہے ہیں تو پھر ظاہر ہے اصل میں یہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ رسول کا اپنا تو کوئی وجود ہوتا ہی نہیں رسول تو اللہ کی زبان ہوتا ہے زبان کا مقصد و ذمہ داری ہوتی ہے وجود کی ترجمانی کرنا پیغام پہنچانا سو رسول احسن طریقے سے پہنچا رہا ہے اب یہ اپنی منصوبہ بندیاں کریں اللہ کی اپنی منصوبہ بندی ہے جلد ہی
جان لیں گے کہ ان کیساتھ کیا ہوتا ہے جلد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
جب زبان اپنا کام کرتی ہے اور زبان سے کوئی نہ مانے باز نہ آئے تو زبان کے فوراً بعد ہاتھ حرکت میں آتے ہیں لاتیں حرکت میں آتی ہیں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اس لیے زبان کو اپنا کام کر لینے دو رسول کو حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر پہنچا لینے دو جیسے ہی رسول اپنا کام مکمل کر چکے گا تواس کے فوراً بعد
ہاتھ اور لاتیں حرکت میں آئیں گی تب تم مانو گے لیکن تب تمہارا ماننا تمہیں کوئی نفع نہیں دے گا۔
سو ائے اس وقت دنیا میں آباد لوگو جان لو حق تم پر کھول کھول کر واضح کر دیا گیا ابھی وقت ہے اپنی آنکھیں کھول لو ورنہ تمہارے ساتھ بالکل وہی ہونے والا ہے جو تمہارے آباؤاجداد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم شعیب، قوم لوط و آل فرعون کیساتھ ہوا۔ عذاب عظیم القارعہ اور اس کے بعد الساعت تمہارے سر پر آ چکی
ہے تم کس کے انتظار میں ہو؟
جس جس کا بھی انتظار کر رہے ہو وہ سب کا سب تو ہو چکا اب سوائے صیحۃً واحدۃً القارعہ یعنی عالمی ایٹمی جنگ کے جس میں دنیا کی اسی فیصد آبادی اور تمہاری خلق
کردہ جنتیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی اور اس کے بعد سوائے الساعت کے کچھ نہیں رہا۔
نہ صرف یاجوج اور ماجوج کھل کر واضح ہو گئے بلکہ آپ پر یہ واضح ہو چکا کہ آج پوری دنیا یاجوج اور ماجوج سے بھری ہوئی ہے اور مزید دہلا دینے والے حقائق
کھل کھل کر واضح ہو چکے جن کا دنیا کی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی۔

(جاری ہے)۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


Tuesday, September 27, 2022

                 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#51

اب آئیے دوسرے پہلو کی طرف۔
مثال کے طور پر آپ ایک مشین بناتے ہیں اس میں ایک پرزہ خراب ہو جاتا ہے یا ٹھیک سے کام نہیں کرتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کیا کریں گے؟ کیا اس پرزے کو وہیں رہنے دیں گے یا نکال دیں گے؟ اگر نکال دیں گے تو کیا ہمیشہ کے لیے نکال دیں گے یا پھر عارضی طور پر نکالیں گے ؟ تو اس کا جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ اس پرزے کو نکال دیں گے اور اسے مرمت کر کے دوبارہ واپس لایا جائے گا نہ کہ اسے ہمیشہ کے لیے نکالا جائے گا یعنی اسے عارضی طور پر نکالا جائے گاکیونکہ اگر ہمیشہ کے لیے نکالنا ہوتا یا نکالا جا سکتا تھا تو پھر اسے وجود میں لایا ہی کیوں گیا تھا اس لیے پہلی بات کہ ایسے پرزے کو نکال دیں گے دوسری بات کہ اسے ہمیشہ کے لیے نہیں نکالیں گے بلکہ دوبارہ واپس لائیں گے اگر ہمیشہ کے لیے نکالنا ہوتا یا نکالا جا سکتا تھا تو اسے وجود میں ہی نہ لایا جاتا جب
وجود میں لائے تو ظاہر ہے بغیر مقصد کے تو وجود میں نہیں لائے۔
بالکل اسی طرح ذرا غور کریں فطرت آپ کو وجود میں لائی کیا بغیر کسی مقصد کے فطرت آپ کو وجودمیں لائی؟
دوسری بات اگر آپ اس مقصد کو پورا نہیں کرتے جس مقصدکے لیے فطرت آپ کو وجود میں لائی یعنی آپ فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے تو کیا فطرت آپ کو
رہنے دے گی؟ آپ کا وجود برداشت کرے گی یا پھر نکال باہر کرے گی آپ کو دوبارہ کالعدم کر دیا جائے گا؟
تیسری بات کیا دوبارہ واپس نہیں لایا جائے گا؟ کیونکہ اگر دوبارہ واپس نہیں لایا جانا تھا تو پہلی بار وجود میں ہی کیوں لایا گیا؟
جب تک وہ مشین موجود ہے تب تک آپ کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا یہ بشر یعنی آپ اس زمین کا ایک پرزہ ہو اور مشین پرزے کے بغیر مکمل نہیںاس لیے خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے آپ کو دوبارہ لایا جانا نا گزیر ہے۔ اس پہلو سے بھی سائنس تو کیا دنیاکی کوئی طاقت دوبارہ اٹھائے جانے کا رد نہیں کر سکتی ہاں البتہ انکار کیا جا سکتا ہے لیکن جان لیں تب تک جب تک کہ وقت نہیں آجاتا جب وقت آ جائے گا تب کہا جائے گا کہ اب انکار کرو مگر تب مانیں گے تب ماننے کی ضد کریں گے
اور تب ماننا کوئی نفع نہیں دے گا۔

آتے ہیں تیسرے پہلو کی طرف۔
آپ ایک محاورہ سنتے ہیں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
اس کائنات میں یہ نہ صرف قانون ہے بلکہ اٹل حقیقت ہے جس کا رد سائنس بھی نہیں کر سکتی کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔
ایک چھوٹی سی مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں مثلاً آپ کا کوئی ناقابل برداشت نقصان کرتا ہے تو کیا آپ اسے ایسے ہی چھوڑ دیں گے؟
نہیں بالکل نہیں بلکہ آپ اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیں گے اسے اس کے کیے کی سزا دیں گے۔ تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ فطرت اپنے ہی بنیادی اصول و قوانین کے خلاف کرے؟ آپ فطرت کیساتھ دشمنی کریں زمین اور اس کے گرد گیسوں کی تہوں میں سب کچھ تباہ و برباد کر دیں اور آپ کو فطرت کوئی سزا ہی نہ دے؟
یہ ممکن ہی نہیں کہ فطرت آپ کو ایسے ہی چھوڑ دے۔
ذر اغور کریں جب آپ اس زمین کو خود اپنے ہاتھوں سے جہنم بنا رہے ہیں تو فطرت اس جہنم میں کسی اور کو لا کر رکھے گی ؟ سزا کسی اور کو دے گی؟ ایسا ہو ہی نہیں
سکتا۔ اس لیے آپ کو دوبارہ وجود میں لایا جانا نا گزیر ہے یہ ہو کر رہے گا دنیا کی کوئی طاقت اس کا رد نہیں کر سکتی۔
یاجوج اور ماجوج ہوں، نفخ فی الصور ہو، انسانوں کا جمع کیا جانا ہو، آخرت ہو ، جنت اور جہنم ہو یا پھر موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا یہ حقائق آپ پر بالکل کھول کر واضح کر دیئے گئے یہ کوئی دیومالائی کہانیاں نہیں ہیں جن کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہ ہو بلکہ یہ وہ حق ہے جس کا دنیاکی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی اور اگر انکار کرتے ہیں تو جان لیں کہ عنقریب وہ وقت بھی آ جائے گا بلکہ ایسے ہی جیسے آپ صبح سوچتے ہیں کہ رات ابھی بہت دور ہے اور وہ بھی آ جاتی ہے آپ اسی وقت میں موجود
ہوتے ہیں ایسے ہی وہ وقت بھی آ جانا ہے تب آپ کیسے انکار کریں گے؟
اسی طرح آپ سوچتے ہیںکہ موت بہت دور ہے اتنی دور کہ جیسے آنی ہی نہیں لیکن بلآخر وہ وقت بھی آ جاتا ہے جب آپ موت کو اپنے سب سے قریب دیکھتے ہیں اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی بالکل ایسے ہی ابھی واضح کردہ آخرہ نے بھی آ جانا ہے آج آپ نہیں مانتے اورانکار ہی کرتے ہیں آنکھیں بند کر کے اپنے آباؤ اجداد کے پیچھے ہی چلتے ہیں تو پھر جان لیں منوانا رسول کا کام نہیں بلکہ رسول پر صرف اور صرف کھول کھول کر پہنچا دینا ہے جب وقت آ ئے گا تب میرا ربّ خود ہی منوا لے گا اور ایسا منوائے گا کہ تب آپ کو کہا جائے گا کہ اب انکار کرو مگر تب آپ ماننے کی ضد کرو گے جیسے آج انکار کرنے کی ضد کر رہے ہو۔
سورۃ الکہف کی اگلی آیات میں یہی اللہ نے واضح کیا کہ کس طرح جہنم سامنے لائی جا رہی ہے اور کون ہیں کافرین جن کے لیے جہنم سامنے لائی جا رہی ہے اور وہ
کیا کر رہے ہیں کیوں کر رہے ہیں جو کر رہے ہیں وہ کیا ہے اور انہیں کیا کرنا چاہیے تھا۔
الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَکَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۔ الکہف ۱۰۱
اس آیت میں اللہ نے ان کافرین کا ذکر کیا یعنی جو حق کو مان ہی نہیں رہے اور الٹا حق کی تکذیب کر رہے ہیں آسمانوں و زمین میں فساد کر رہے ہیں جو یاجوج اور ماجوج ہیں الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآئٍ عَنْ ذِکْرِی ایسے لوگ تھے ان کی آنکھیں غطائٍ میں میرے ذکر بارے۔ غطاء کہتے ہیں اس شئے کو یا اسے
جسے دیکھنے سے اصل نظر آنا بند ہو جائے اصل پردے میں چلا جائے وہ شئے اصل پر پردہ بن جائے۔
مثلاً اسے ایک مثال سے سمجھ لیں آج آپ کسی سے بھی پوچھتے ہیں کہ یہ خام تیل کیا ہے تو وہ جب خام تیل کو دیکھے گا تو اسے آج جو کچھ بھی خام تیل سے بن رہا ہے وہ سب نظر آئے گا وہ خام تیل کو آج اس دور کا سب سے قیمتی ترین خزانے کہے گا اسے خام تیل سب سے قیمتی خزانہ نظر آئے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ خام تیل
تو اللہ کے غیب میں سے اللہ کی آیت ہے۔
خام تیل کو دیکھ کر اس میں غور کرنے سے تو جو بھلا دیا گیا تھا یعنی اللہ، اللہ یاد آ جانا چاہیے تھا لیکن کسی کو بھی خام تیل کو دیکھ کر اللہ نظر نہیں آتا اللہ یاد نہیں آتابلکہ دنیا
جنت نظر آتی ہے خام تیل سے بننے والی سہولتیں نظر آتی ہیں۔
اسی طرح آپ گاڑیوں کے بارے میں سوال کر لیں تو کسی کو بھی یہ الدابۃ الارض نظر نہیں آئے گا بلکہ ہر کسی کو یہ ترقی و جدیدیت نظر آئے گی حالانکہ اگر غور کیا جائے تو اللہ یا د آ جاتا ہے کہ کیسے الدابۃ الارض وجودمیں آیا۔ اللہ کی آیات ہیں جن میں پنگے لیکر اللہ کی آیات کا کذب کر کے الدابۃ الارض وجود میں لایا گیا لیکن کسی کو بھی اللہ کی آیات نظر نہیں آ رہیں بلکہ وہی نظر آ رہا ہے جو ان کی آنکھوں کے سامنے ہے جسے یہ ترقی کا نام دیتے ہیں اور جسے یہ ترقی کا نام دیتے ہیں اس
سب نے ان کے لیے اللہ پر پردہ ڈال دیا ۔ تو آج جو کچھ بھی آنکھیں دیکھ رہی ہیں، ہے کوئی جو غوروفکر کرے اور اللہ کو یاد کر لے؟
آج یہ حق آپ کے سامنے ہے اللہ نے ان آیات کی صورت میں آج کی تاریخ اتاری تھی پھر آگے اللہ کا کہنا ہے وَکَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا اور تھے نہیں استطاعت رکھ رہے جو سنایا جا رہا ہے اسے سن کر اس کی اطاعت کریں یعنی یہ اس قدر عقل کے اندھے ہیں چلو مان لیا کہ یہ فتنہ الدجّال اتنا سخت اور عظیم فتنہ ہے کہ اسے خود سے سمجھنا بہت مشکل ہے ناممکن کے قریب تر ہے لیکن اب تو تمہیں تمہاری ہی آواز میں تمہاری ہی زبان میں کھول کھول کر سنایا جا رہا ہے تم میں سننے کی بھی استطاعت نہیں ؟ اب جب سنایا جا رہا ہے تو سن کر ہی اطاعت کر لو جو کہا جا رہا ہے وہ کرو لیکن اے عقل کے اندھو تمہارا معاملہ تو یہ ہے کہ تمہیں کھول کھول کر سب کچھ سنایا جا رہا ہے اس کے باوجود تم میں سننے تک کی بھی استطاعت نہیں۔ سن کر عمل بھی نہیں کر سکتے اس سے بڑی بد بختی کوئی اور ہو سکتی ہے اور ہو گی؟
آپ خود غور کریں کیا آج سب کچھ کھول کھول کر نہیں واضح کیا جا رہا ہے؟ کیا آج سب کچھ کھول کھول کر نہیں سنایا جا رہا ہے لیکن ہے کوئی جو سن کر ماننے کی
استطاعت رکھنے والا ہو؟ کیا اس سے بھی بڑھ کر حق کھولا جا سکتا ہے؟
اب تو ایک ایک بات ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھول کھول کر واضح کی جا رہی ہے کھول کھول کر سنایا جا رہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ انسانیت کی راہنمائی کے دعویدار جنت و جہنم کے ٹھیکیدار ملّاں بھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر بیٹھے ہوئے ہیں آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور گونگے ہو چکے ہیں ۔ زبان سے اللہ کی غلامی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کے دشمن ہیں یہ خواہشات کے پجاری ہیں۔ ان پر فرض تھا کہ اب جب ان پر حق بالکل کھول کھو ل کر واضح کیا جا رہا ہے تو یہ لوگ حق کی تائید و تصدیق کرتے لوگوں کو دنیا و آخرت میں ہلاکت سے بچاتے لیکن نہ یہ خود جہنم سے بچنا چاہتے ہیں اور نہ
ہی یہ چاہتے ہیں کہ یہ اکیلے جہنم میں جائیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلنے والی اکثریت کو بھی اپنے پیچھے جہنم میں لیکر جائیں ۔
(جاری ہے)۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Monday, September 26, 2022

               WARNING FROM MOTHER NATURE



قسط نمبر#50

اگلی آیت میں اللہ نے کہا۔
وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضَا۔ الکہف ۱۰۰
وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ آج سے چودہ صدیاں قبل اللہ نے کہا تھا کہ جب وہ مدت آئے گی اور انسان نفخ فی الصور کر رہے ہوں گے تو وہ اصل میں کیا ہو رہا ہو گا؟ وہ جو ہو رہا ہو گا وہ جہنم تھی جسے ہم سامنے لا ئیں گے وہ جہنم سامنے لائی جا رہی ہو گی ۔ آگے اس سوال کا جواب ہے کہ کن کے لیے جہنم سامنے لائی جائے گی لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضَا کافرین کے لیے سامنے لائی گئی یعنی ان کے لیے جنہوں نے اس بات کو تسلیم ہی نہ کیا کہ آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی آیات ہیں اللہ نے ان سب کے سب کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا ہے جو نظر آ رہی ہیں صرف یہی نہیں ہیں بلکہ ان سے کئی گنا زیادہ تو ایسی ہیں جنہیں انسان سے چھپا دیا گیا جو کہ غیب ہے ۔ جو کچھ بھی ظاہر ہے اور جو کچھ بھی غیب ہے سب کے سب کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور جس جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا اسے پورا کرنے کے لیے ہر ایک کو اس کے مقام پر قائم کر دیا گیا یوں بہترین المیزان وضع کر دیا اور المیزان تب تک قائم رہے گا جب تک کہ تمام کی تمام مخلوقات اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی ورنہ اگر ان میں رائی برابر بھی تبدیلی کی گئی تو المیزان میں خسارہ ہو جائے گا فساد ہو جائے گا جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آسمانوں و زمین میں سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا یہ زمین جہنم بن جائے گی۔ جنہوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا اور الٹا یہی
کیا تو ان کے لیے جہنم سامنے لا رکھی گئی کہ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
ذرا غور کریں کہ جہنم کیا ہے اور کیسے سامنے لائی جا رہی ہے؟
آپ کو اس زمین پر وجود دیا گیا اس زمین کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا پہلا مرحلہ دنیا آج جس میں آپ موجود ہیں آپ کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے محدود مدت کے لیے لایا گیا یہ جو مدت آپ کو دی گئی اس میں جو آپ کریں گے اسی کا بدلہ آپ کو دوسرے مرحلے میں ملے گا دوسرا مرحلہ جسے اس قرآن میں الآخرۃ کہا
گیا۔
کل کائنات میں زمین پہلا ایسا سیارہ ہے جو سب سے پہلے مکمل ہوا، جیسے کسی بھی عمارت کی سب سے پہلی اینٹ ہوتی ہے اسی طرح یہ زمین کائنات کی پہلی اینٹ سمجھ لیں یہ زمین سب سے پہلے اپنی تکمیل کو پہنچی۔ کائنات میں اس زمین کے علاوہ جتنے بھی سیارے آپ کو نظر آ رہے ہیں اور ابھی نامکمل ہیں تکمیلی کے
مراحل سے گزر رہے ہیں۔
ایک وقت آئے گا جب وہ مکمل ہو کرجنتوں میں یعنی سر سبز و شاداب باغات میں بدل جائیں گے جیسے زمین جب مکمل کی گئی تھی تو یہ جنت تھی سر سبز و شاداب باغ تھی۔ آپ کو اس دنیا میں جو مدت بطور امتحان دی گئی اگر آپ زمین کی اصلاح یعنی اسے جنت بنانے والے اعمال کرتے ہیں تو آپ کو آخرہ میں یعنی اگلے مرحلے میں آج جو سیارے نامکمل نظر آ رہے ہیں تب جنتیں بن چکی ہوں گی ان میں سے آپ کے درجے کے مطابق جنت دی جائے گی اور اگر آپ آج اپنی خواہشات کی اتباع میں اندھوں کی طرح زمین میں فساد کرتے ہیں تو نتیجہ کیا نکلے گا اسے سمجھنا اب کوئی مشکل نہیں رہا اس کا انجام آپ سمیت پوری دنیا اپنی
آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
ترقی و جدیدیت کے نام پر انسانیت کی فلاح و احسان کے نام پر آج ہر کوئی زمین میں فساد کر رہا ہے زمین کو چیر پھاڑ رہا ہے، پہاڑوں کو پھاڑ رہا ہے، فضا میں طرح طرح کی زہریلی گیسیں بھر رہا ہے تو آج جو بھی ترقی و جدیدیت کے نام پر انسانیت کی خدمت کے نام پر فساد عظیم کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے آسمان پھٹ چکا، اس میں الدخانٍ یعنی گیسیں بھرنے سے گدلا ہو چکا،، موسم درہم برہم ہو گئے، زمین سے قدرتی وسائل کے نام پر زمین کا خون اورزمین کے جودل گردے نکالے جا رہے ہیں پہاڑوں کو کاٹا جا رہا ہے اس سے زلزلے آ رہے ہیں، سونامی آ رہے ہیں طوفان آ رہے ہیں درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا چلا جا رہا ہے، فضا
گیسوں کی وجہ سے دن بہ دن زہریلی ہوتی جا رہی ہے تو انسانوں کے ان اعمال کے یہ رد اعمال دن بہ دن بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔
درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا چلا جائے گا جس سے گلیشیئرز پگھل جائیں گے پانی بخارات بن کر اڑتا جائے گا، زلزلے بڑھتے جائیں گے، لاوے پھٹنا بڑھتے جائیں گے، فضا میں گیسیں کیمیائی عوامل سے گزر کر فضا تباہ ہوتی جائے گی ۔ درجہ حرات اتنا بڑھ جائے گا یہاں تک کہ زمین پر پانی کا ایک قطر ہ بھی نہیں رہے گا زمین کے اندر سے بھی پانی ختم ہو جائے گا پانی ختم تو تمام جاندار ختم، نباتات ختم۔ زلزوں، زمین کے دھنسنے ، لاوے پھٹنے اور فضا میں خارج کی ہوئی طرح طرح کی زہریلی گیسوں کے رد اعمال جب آنا تھم جائیں گے تو جو نتیجہ سامنے آئے گا جو اینڈ پروڈکٹ سامنے آئے گی یہ ہے وہ ہے جہنم جو آج آپ دیکھ رہے ہیں آپ
کے بالکل سامنے لائی جا رہی ہے۔
جب انسانوں کے ترقی کے نام پر انسانیت کی خدمت کے نام پر مفسد اعمال کے رد اعمال تھم جائیں گے تب یہ زمین مکمل جہنم میں بدل چکی ہو گی اس میں سوائے
آگ اور پتھروں کے کچھ نظر نہیں آئے گا اور کائنات میں باقی سیارے جنتوں میں یعنی سر سبز و شاداب باغات میں بدل چکے ہوں گے۔
جس ذات نے آپ کو پہلی بار وجود دیا وہی ذات آپ کو دوبارہ وجود میں لائے گی اور جس جس نے دنیامیں یعنی پہلے مرحلے میں جو جو جتنا جتنا کیا تھا اس کو آخرہ میں پورا پورا بدلہ دیا جائے۔ جس جس نے جتنا زمین کے جہنم بننے میں حصہ ڈالا ہو گا اسے اتنا ہی اس جہنم کو بھگتنا ہو گا، خود کو علماء کہلوانے والے انسانیت کے
دشمن اور ان کے اندھے مقلد آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلنے والے کبھی بھی اس جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔ وہ جو خود کو انسانیت کے محسن قرار دیتے ہیں سائنسدان، انجنیئرز، پروفیسرز، ڈاکٹرز،بینکرز، لیڈران اور ایسے باقی تمام کے تمام لوگ جو زمین کو جہنم بنا رہے ہیں اور الٹا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ تو بہت اچھے
اعمال کر رہے ہیں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں وہ کبھی بھی نہیں نکل پائیں گے اس جہنم سے۔
رہی بات دوبارہ زندہ کرنے کی جو اکثریت کے لیے تسلیم کرنا بہت مشکل ہے تو ان سے سوال ہے کہ ذرا غور کرو اس سوال کا جواب دو کہ جب تمہیں پہلی بار وجود میں لایا گیا تو کیا تم سے پوچھ کر تم سے اجازت لے کر وجود میں لایا گیا؟ اگر تو تمہاری مرضی تمہاری اجازت سے اور تمہیں پوچھ کر یا تمہیں بتا کر دنیا میں لایا گیا تب تو ٹھیک ہے ورنہ اگر ایسا نہیںہوا تو عقل کے اندھو جس ذات نے تمہیں پہلی بار وجود میں لایا کیا وہ دوبارہ وجود میں نہیں لا سکتی؟
مذہبی طبقہ آخرت جنت و جہنم کو زبان سے تو تسلیم کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن آخرت جنت و جہنم کے بارے میں جو دیومالائی کہانیاں مذہبی طبقے نے گھڑ رکھی ہیں خود ان کو بھی اس کا یقین نہیں ہے اور ظاہر ہے یقین کیا بھی کیسے جا سکتا ہے جب جنت و جہنم سے منسوب کر کے ایسی خود ساختہ دیومالائی کہانیاں گھڑ رکھی ہیں جن کا
کوئی وجود ہی نہیں تو پھر یقین کیسے ہو گا۔
دوسری طرف خود کو ملحد، لبرل و پڑھے لکھے کہلوانے والے مذہبی طبقے کی آخرت جنت و جہنم کے بارے میں خود ساختہ گھڑ رکھی ہوئی دیومالائی کہانیوں کا انکار کرنے کی بجائے الٹا آخرت کا ہی انکار کر دیتے ہیں جنت و جہنم کا ہی انکار کر دیتے ہیں خود کو بہت بڑے عاقل سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے
بڑے بے وقوف اور جاہل ہیں۔ یہ مذاہب اور مذہبی طبقے کی دشمنی میں حق کا ہی انکار کر ریتے ہیں ۔
بات کی جائے ان کے علم کی ان کی سائنس کی جس کا آج ہر کسی کو بخار چڑھا ہوا ہے کہ جس کی تصدیق سائنس کرے اسے تسلیم کریں گے جس کی تصدیق سائنس نہیں کرتی یا جسے سائنس رد کرتی ہے اسے تسلیم نہیں کریں گے ۔ ہم آخرت ان کے سامنے رکھ رہے ہیں کہ آخرت کیا ہے جنت و جہنم کیا ہے اور ہم انہیں اور ان
کی سائنس کو چیلنج کرتے ہیں کہ یہ اس حق کا رد کر کے دکھائیں اسے غلط ثابت کر کے دکھائیں۔
رہی بات دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کی تو اس کا بھی دنیا کی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی نہ ہی ان کی سائنس اس کا رد کر سکتی ہے بلکہ الٹا تصدیق ہی کرے گی۔
سائنس جن بنیادوں پر کھڑی ہے وہ ہیں قوانین فطرت۔ جن قوانین فطرت کو جس حد تک دریافت کر لیا جاتا ہے وہ سائنس کی بنیاد ہے۔
سائنس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے جس کا رد یا انکار پوری کی پوری سائنس کا ردیا انکار تسلیم کیا جاتاہے وہ یہ ہے کہ اگر ممکنات ثابت ہو جائیں تو ان کاانکار نہیں کیا جا سکتا انہیں رد نہیں کیا جا سکتایعنی اگر آپ اس کائنات میں ایک کام ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ ممکنات میں سے ہے اب اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ دو مختلف مخلوقات کے اختلاط سے ایک نئی تیسری مخلوق وجود میں آ جاتی ہے تو یہ ممکنات میں شامل ہو گیا اب اس کا انکار نہیں کیا جا
سکتا ۔
اسی طرح اگر آپ کچھ ہوتا ہوا اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھتے یعنی مشاہدہ نہیں کرتے لیکن آپ کے پاس اس کے بارے میں اتنا علم آ جاتا ہے کہ اس کا انکار نہیں
کیا جا سکتا تو وہ ممکنات میں شامل ہو جائے گا جس کا نہ تو رد اور نہ ہی انکار کیا جا سکتا ہے۔
اب ذرا غور کریں سائنس کے اسی بنیادی اصول و قانون کے تحت کیا اس بشر کو دوبارہ وجود میں لائے جانے کا انکار کیا جا سکتا ہے؟
اس بشر کو جب وجود میں لایا گیا تو اسے وجود میں لانے سے پہلے نہ تو اس سے پوچھا گیا نہ اس سے اجازت لی گئی اور نہ ہی بتایا گیا اور اسی طرح اس کو مٹانے یعنی
اسے موت دینے کے حوالے سے بھی نہ تو اسے بتایا گیا نہ پوچھا گیا اور نہ ہی اس سے اجازت لی گئی۔
اب یہ بات سائنس کے بنیادی اصول و قانون کے تحت ممکنات میں شمار ہو گئی اس کا انکار گویا کہ سائنس کا ہی انکار ہے۔ اب جب یہ ممکنات میں سے ہے تو پھر دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کا انکار یا رد کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟ ایسا کیسے ممکن ہے کہ دوبارہ وجود میں نہ لایا جائے؟ اور اگر دوبارہ وجود میں لانے کا کہاجاتا ہے تو
اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
حالانکہ سائنس یہاں تک جا چکی ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی وجود میں آ رہا ہے اس کے پیچھے ساونڈ ویوز ہیں یعنی آواز کی لہریں۔ آواز کی ہر فریکوینسی ایک مخلوق کو وجود میں لاتی ہے یعنی آپ اگر اپنی تخلیق میں غور کرتے ہیں تو یہ ایک لمبا پراسس ہے آپ بہت سے مراحل اور ایک لمبی مدت طے کرنے کے بعد وجود میں آتے ہیں لیکن آپ کو وجود میں لانے کا صرف یہی ایک طریقہ نہیں ہے بلکہ اس سے کئی گنا تیز اور آسانی کیساتھ بھی آپ کو وجود میں لایا جا سکتا اور وہ ہے آواز
کی لہروں سے۔
ایک طرف آواز کی لہریں اپنی فریکوینسی پر موجود ذرات کو ایک خاص مقام پر زبردستی دھکیلتی ہوئی لائیں اور دوسری طرف حرارت سے ان ذرات میں کیمیائی عوامل کے ذریعے جڑنے کی کیفیت پیدا کی جائے تو آپ کو بہت جلد اور انتہائی آسانی سے وجود میں لایا جا سکتا جس کے لیے نہ تو پانی کی ضرورت نہ ہی لمبے چوڑے مراحل کی ضرورت ہے اس کے لیے صرف اور صرف ذرات کی صورت میں زمین میں بکھرے ہوئے اس مواد کی ضرورت ہے جو پہلے ایک بار وجود بن
چکا ہو یعنی وجود بن کر تحلیل ہو چکا ہو جس وجہ سے اس میں وہ تمام اجزاء موجود ہوں گے جن کی وجود میں لانے کے لیے ضرورت ہے۔
اب جب کہ آپ کو وجود میں لایا گیا اور موت دی جائے گی دوبارہ ذرات میں تحلیل کر دیا جائے گا تو اس کے بعد کبھی بھی کسی بھی وقت آپ کو بہت جلد اور انتہائی
آسانی سے وجود میں لایا جا سکتا ہے اس حوالے سے سائنس تو کیا دنیا کی کوئی طاقت دوبارہ وجود میں لانے کا رد نہیں کر سکتی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...