WARNING FROM MOTHER NATURE
اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ۔ الکہف ۹۴
اس میں کچھ شک نہیں یاجوج تھے اور ماجوج تھے وہ جو اس وقت ارض میں فساد کر رہے ہیں وہ ہیں یاجوج اور ماجوج اور جو ماضی میں ارض میں فساد کر رہے تھے وہ
تھے یاجوج اور ماجوج۔
وہ کون سے لوگ ہیں جو ارض میں یعنی زمین میں فساد کر رہے ہیں جو زمین کی مخلوقات میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اللہ کی خلق میں تبدیلیاں کر رہے ہیں یہ بالکل کھل کر واضح ہو چکا اور جب ان سے کہا جائے یا کہا جاتا ہے ان پر واضح کیا جاتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی تم کر رہے ہو یہ فساد فی الارض ہے تم یاجوج اور ماجوج میں سے ہو تم مفسدون فی الارض ہو تو ایسے لوگوں کا آگے سے کیا جواب ہوتا ہے اس کا بھی اللہ نے قرآن میں ذکر کر دیا کہ یہ لوگ اس بات کو جو کہ حق ہے تسلیم کرنے
کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ یہ لوگ زمین میں فساد کر رہے ہیں بلکہ الٹا یہ کہتے ہیں ہم توجو کچھ بھی کر رہے ہیں ہم تو اصلاح ہی کر رہے ہیں۔
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ البقرۃ ۱۱
اور جب ان کو کہا نہ کرو یہ جو بھی اعمال تم کر رہے ہو فساد کر رہے ہو زمین میں زمین کی مخلوقات کے مقامات کو تبدیل کررہے ہو مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا رہے ہو ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو اللہ کی خلق میں تبدیلیاں کر رہے ہو جس سے زمین میں سب کچھ خراب ہو چکا تباہیاں و ہلاکتیں آ رہی ہیں بیماریوں کا سیلاب امڈ آیا طرح طرح کی تباہیوں نے پوری دنیاکو گھیر رکھا ہے تمہارے انہی اعمال کے سبب تو آگے سے رد عمل میں جواب دے رہے ہیں کہہ رہے ہیںاس میں کچھ شک نہیں ہم جو بھی کر رہے ہیں ہم جو بھی اعمال کر رہے ہیں جو بھی کام کر رہے ہیںیہ سب کا سب فساد نہیں ہے بلکہ ہم تو اصلاح کر رہے ہیںیعنی خرابیاں تو پہلے ہی موجود ہیں، مخلوقات پہلے ہی اپنے اپنے مقامات پر موجود نہیں ہیں ہم انہیں ان کے مقامات پر لا رہے ہیں خرابی یہ ہے کہ اگر پہلے کی طرح رہنے دیا جائے تو فصل زیادہ وقت میں کم ہو گی، ہر شئے کی رفتار کم ہو گی یہ ہیں خرابیاں ہم تو اصلاح کر رہے ہیں خرابیوں کو دور کر کے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں
ہم تو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
حقیقت کیا ہے اللہ نے کھول کر واضح کر دی اس لیے کہ کہیں کوئی ان کی چرب زبانی کا شکار نہ ہو جائے ان کے دلائل کا شکار نہ ہو جائے کہ ہاں یہ تو حقیقت میں
اصلاح ہی ہے اور یہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہ اصلاح ہی کر رہے ہیں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اس لیے اللہ نے واضح کر دیاکہ۔
اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ۔ البقرۃ ۱۲
جان لو یعنی آگاہ ہو جاؤ یہ اصلاح نہیں بلکہ فساد کر رہے ہیں یہ مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا کر جوالمیزان وضع کیا ہوا ہے اس میں خسارہ کر رہے ہیں ہر شئے کو تباہ و برباد کر رہے ہیںاور لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے کیونکہ یہ غوروفکر نہیں کر رہے انہیں جو سننے دیکھنے اور جو سن اور دیکھ رہے ہیں اسے سمجھنے کی صلاحیت دی
ان صلاحیتوں کا اس مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں کر رہے اس لیے انہیں شعور نہیں ہے۔
صرف وہی شخص جان سکتا ہے کہ یہ فساد کر رہے ہیں جو علم میں راسخ ہو گا اور جب آپ انہیں اس حقیقت سے آگاہ کریں تو طرح طرح کے دلائل کیساتھ جواب یہی آئے گا کہ ہم فساد نہیں بلکہ اصلاح کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا اس صورت میں ہوتاکہ دیکھو پہلے ایک دوسرے کو پیغام بھیجنے کے لیے خط لکھنا پڑتا تھا جو کئی کئی مہینے بعد پہنچتا تھا اور پھر جواب آنے میں بھی کئی مہینے لگ جاتے تھے لیکن آج ہم نے فون اور انٹر نیٹ بنا دیا اس سے نہ صرف جب جی چاہے بات ہو جاتی ہے
بلکہ بالکل ایسے جیسے دونوں فریق آمنے سامنے ہوں یہ فساد ہے یا اصلاح ہے؟
دیکھو انسان پہلے گدھے ، گھوڑے، خچر اور اونٹ وغیرہ پر سفر کرتا تھا اور کتنی تکالیف، پریشانیوں اور مصیبتو ں کا سامنا کرتے ہوئے مہینوں،سالوں سفر میں گزار دیتا تھا اور ہم نے ان کی جگہ بہترین ،شاندار سفر کے ذرائع جو نہ صرف آرام د ہ ہیں بلکہ اللہ کے خلق کردہ ذرائع سے غیر معمولی تیز رفتار گاڑیاں، ٹرینیںاور جہاز بنا دیئے جن کی بدولت اب وہی سالوں کا سفر انتہائی آسانی اور سہولتوں کیساتھ دنوں میں اور مہینوں کا گھنٹوں ، منٹوں میں طے کرتا ہے گاڑیوں اور جہازوں کے
ذریعے۔ یہ فساد ہے یا اصلاح؟
دیکھو پہلے انسان بیمار ہوتا تھا تو اسے علاج کے لیے کوئی دوا میسر نہیں ہوتی تھی لیکن آج ہم نے نہ صرف طرح طرح کی ادویات ایجاد کر دیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی
سے مزین جگہ جگہ عالیشان ہسپتال بنا دئیے۔ یہ فساد ہے یا اصلاح؟
دیکھو پہلے کسی طوفان، زلزلے یا آفت کے بعد لوگ بے سر و سامان ہوتے اور طرح طرح کی تکالیف و مصیبتوں کا سامنا کرتے تھے لیکن آج ہم نے ان کے بچاؤ کے لیے کیا کچھ نہیں ایجاد کر دیا؟ ہم نے گھروں کی تعمیر کے لیے ایسا مواد ایجاد کیا جس سے عالی شان اور مضبوط گھر تعمیر ہوتے ہیں۔ یہ فساد ہے یا
اصلاح؟
اسی طرح ہر سطح پر ان کے پاس ایسے دلائل موجود ہیں اور ان سے یہ ثابت کرنے کے دعوے کرتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کر رہے ہیںلیکن اللہ قرآن میں واضح کھول کر بتا رہا ہے کہ یہ اصلاح نہیں بلکہ فساد ہے۔ یہ جو بھی دلائل دے رہے ہیں یہ اس کا ایک رخ ہے جب صرف اسی ایک رخ کو ہی سامنے لایا جائے گا لوگوں کو دکھایا جائے گا تو وہ اس دجل کا شکار ہو جائیں گے۔ مگر جب اس کا دوسرا پہلو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ محض دجل اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ان سے انسان کو جو فائدہ حاصل ہو رہا ہے وہ اس نقصان اور تباہی کا صفر فیصد ہے جو ان کی وجہ سے آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے میں فساد ہو رہا ہے جس
کے نتیجے میں سب کچھ آخری اور بڑی تباہی کی طرف تیزی کیساتھ بڑھ رہا ہے۔
یہ ہے اس کا دوسرا پہلو جو کہ سامنے نہیں لایا جاتا اور نہ ہی کوئی اس دوسرے پہلو کو جاننے کی فکر کرتا ہے اس لیے کیونکہ انسان عجلت پسند ہے اسے جو سامنے نظر آتا ہے اسی پر ایمان لاتا ہے اسی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی کے پیچھے پڑتا ہے نہ کہ کسی بھی شئے کے دوسرے پہلو میں غور کرتا ہے جو پوشیدہ ہوتا ہے حالانکہ
درحقیقت اسی میں اس کے لیے خیر ہے۔
انسان جب تک اللہ کا محتاج ہوتا ہے اسے اپنی اوقات ، حیثیت یاد رہتی ہے جب تک وہ اللہ کے سامنے خود کو حقیر سمجھتا ہے تب تک اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ اس کے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہے اگر اپنی پہلی روش کو ترک کر دے تو آئندہ اس سے محفوظ ہو جائے گا اس کے اپنے اندر اس ہلاکت سے نپٹنے کی صلاحیت نہیں ہوتی لیکن جب انسان خود کو غنی تصور کرنا شروع کر دے کہ وہ سمجھے اب سب کچھ اس کے اپنے اختیار میں ہے اسے اللہ کی کوئی حاجت نہیں وہ خودمختار ہو چکا ہے تب اگر کوئی ہلاکت آئے بھی تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے اوثان جیسا کہ آج ٹیکنالوجی کے نام پر اوثان موجود ہیں سے رجوع کرتا ہے۔ یہی پچھلی چھ تباہ شدہ قوموں کے ساتھ ہوا وہ بھی اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے ٹیکنالوجی کے نام پر اوثان کے دجل کا شکار ہو کر دنیا اور آخرت میں تباہی و بربادی کا سودا کر بیٹھے اس کے باوجود کہ ان پر آج کی طرح سب کچھ کھول کھول کر واضح کر دیا گیا۔ جب تباہی آئی تو وہی ٹیکنالوجی جس کی وجہ سے وہ کھلم کھلا اللہ کے شریک بنے ہوئے تھے ان کے کچھ کام نہ آئی انہیں اس تباہی سے نہ بچا سکی
کیونکہ وہ اس ٹیکنالوجی کا صرف ایک ہی رخ دیکھ کر اس کے دجل کا شکار رہے اور آج موجودہ انسان بھی بالکل اسی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اگر زلزلہ آئے تو انسان یہ نہیں سوچتا اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے کہ وہ اس کے اپنے ہاتھوں سے کیے ہوئے فساد کا نتیجہ ہے آئندہ اللہ کی طرف رجوع کر کے یعنی ان مفسد اعمال کو ترک کر کے زلزلوں سے محفوظ ہو جائے بلکہ اس کے بر عکس اپنے وسائل پر فخر کرتا ہے اور اتراتاہے کہ میرے پاس زلزلے سے نپٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کے نام پر تمام وسائل موجود ہیں آئندہ ہم ایسا کریں گے ،ویسا کریں گے تو زلزلہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، تو کیا یہ زلزلے کی صورت میں ہلاکت کے بعد اللہ کی طرف رجوع کیا یااس ٹیکنالوجی کی طرف جو کہ وہ ہتھیار ہیں جن سے زمین و آسمان میں فساد کیا جا رہا ہے جو یاجوج اور ماجوج کی تخلیق
ہیں؟ اس طرح تو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے یاجوج اور ماجوج کی طرف رجوع کیا۔
اسی طرح اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہلاکت کی ہی ایک صورت ہوتی ہے جب یہ ڈاکٹرز، ہسپتال اور یہ دجالی وسائل نہیں تھے تب بیماری کی صورت میں انسان سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کرتا تھا وہ غور کرتا تھا کہ آخر اس کی اس بیماری کی کیا وجہ بنی ؟ ظاہر ہے وہ جو کھاتا ہے اسی سے بنتا ہے تو اس نے کچھ ایسا کھایا جس سے وہ بیمار پڑا جسم میں قائم توازن بگڑا یوں وہ آئندہ اپنی خوراک کو طیب کرتا یہ تھا اللہ سے رجوع کرنالیکن آج جیسے ہی انسان بیمار ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلے کسی اچھے ڈاکٹر یا ہسپتال کا خیال آتا ہے وہ یہ نہیں غورو فکر کرتا کہ یہ بیماری کس وجہ سے لاحق ہوئی اللہ کی طرف رجوع کروں آئندہ ایسا نہ کروں بلکہ وہ ایسا غور کرنے کی بجائے فوراً ڈاکٹر یا ہسپتال کی طرف اس یقین سے رجوع کرتا ہے کہ وہ اسے اس بیماری سے نجات دلا دیں
گے تو یہ ہلاکت کے بعد اللہ سے رجوع کیا یا یاجوج اور ماجوج کی طرف؟
جیسے ہم نے شروع میں مثالوں سے آپ کے سامنے رکھا تھا کہ دوسری ورکشاپ کی طرف لوگ تب ہی رجوع کریں گے جب اس ورکشاپ کا مالک پہلی ورکشاپ سے قیمتیں کم اور اچھا کام کرنے کا دعویٰ کرے۔ اسی طرح جب تک ایک ہی ربّ ہو گا تو ہر ایک اسی کا محتاج ہو گا لیکن جب اللہ کے مقابلے پر کوئی دوسرا ربّ ہونے کا دعویٰ کرے گا اوراپنی طرف ایسے دعوت دے گا کہ لوگوں کی خواہشات پوری ہوں تو لوگ اسی کی طرف رجوع کریں گے۔
یہ ہے یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کی نشانی آج آپ بہت آسانی سے اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور یاجوج اور ماجوج کو پہچان سکتے ہیں یہاں تک کہ آپ خود انہی
میں شمار ہیں۔
ابھی ماضی قریب کی ہی بات ہے کہ جاپان میں انتہائی تباہ کن سونامی طوفان آیا اور اس طوفان کے دوران یا بعد بالکل بھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ سے رجوع کیا گیا ہو یعنی جن کرتوتوں کی وجہ سے ایسا عذاب آیا آئندہ ویسا نہ کریںلیکن اس کے برعکس یہ دعوے کیے گئے کہ اگر آئندہ ایسے کسی بھی طوفان سے سامنا ہو گا تو اس سے بچنے کے لیے ہم اپنے وسائل کا استعمال کریں گے۔ ہم ایسے گھر بنائیں گے جو آئندہ ایسے طوفان میں انسانوں کو ہلاکت سے بچائیں۔ اسی طرح اکتوبر۲۰۰۵ عیسوی میںپاکستان میں آنے والے زلزلے کی مثال لے لیں اس کے بعد اللہ سے رجوع کرنے کی بجائے یہ دعوے کیے گئے کہ آئندہ ہم ایسی تعمیرات کریں گے جو زلزلہ پروف ہوں اور جب اس کے بعد اب تک جتنے بھی زلزلے آئے توان میں نقصان کم ہونے کی وجہ اپنے ان دعوؤں کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں آنے والے کسی بھی عذاب کی مثال لے لیں خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹا ہو یا بڑا کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جو اس ہلاکت کے بعد اللہ سے رجوع کرے بلکہ سب ہی انہی اقوام سے رجوع کرتے ہیں جن کے پاس مشینیں، جدیدسائنسی ایجادات یعنی ٹیکنالوجی ہے حتیٰ کہ انسان جب بیمار ہوتا ہے اسے ذیابطیس ، ٹی بی یا کوئی بھی بیماری لاحق ہو اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ وہ بیماری اس کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے اس کی خبیث خوراک ان بیماریوں کی وجہ بنی جنہیں اللہ نے سختی سے حرام قرار دیا بجائے یہ کہ وہ اللہ سے رجوع کرے یعنی ایسی تمام خبیث خوراک کو ترک کر دے اور صرف اور صرف اللہ کی ہدایات کے مطابق حلال طیب کو اپنائے وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال ہی یاجوج اور ماجوج ڈاکٹروں کا آتا ہے یوں دواؤں کے نام پر الٹا مزید
اپنے جسم میں خبائث انڈیلتا ہے اور پھر اسی روش میں مزید آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
آپ کسی بھی سطح پر غور کر لیں آپ کو یہی نظر آئے گا کہ آج انسان پر جتنی بھی ہلاکتیں مسلط ہیں ان سب ہلاکتوں کے بعد اللہ کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے یا پھر اپنے وسائل و ٹیکنالوجی کے نام پر یاجوج اور ماجوج کی طرف؟ یاجوج اور ماجوج کا اصلاح کے نام پر فساد یہ ایک دجل ہے اورالدجّال یاجوج اور ماجوج کی خلق کی ہوئی اس ٹیکنالوجی کا نام ہے جس سے ہر وہ کام کیا جا رہا ہے جو اللہ کا ہے ۔ اس ٹیکنالوجی کا صرف ایک ہی رخ دیکھا اور دکھا یا جاتا ہے اس سے جو کچھ
بھی خلق کیا جاتا ہے وہ بھی ایک ہی پہلو سے خلق کیا جاتا ہے اور دوسرے سے ہر شئے
نامکمل، عیب دار اور فساد زدہ ہوتی ہے۔
(جاری ہے)،،،،
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment