Thursday, September 15, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE 



قسط نمبر#45

اب آپ غور کریں کہ کیا آج دنیامیں انسان اللہ کی غلامی کر رہے ہیں؟ جس ذات نے انہیں وجود دیا اور جو کچھ بھی انہیں عطا کیا جو صلاحیتیں دیں، کیا ان سب کا استعمال اسی ذات یعنی فطرت کے لیے کر رہے ہیں ؟ یا پھر الٹا ان کا استعمال اللہ کی دشمنی میں کر رہے ہیں فطرت سے بغاوت کر رہے ہیں؟ جب آپ غور کریں گے تو غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں آپ پوری دنیا میں یہی دیکھیں گے کہ ہر طرف ہر انسان اللہ کا دشمن بنا ہوا ہے، ہر انسان اللہ کی آیات کی تکذیب
کرنے میں مصروف نظر آئے گا۔
آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ سب کی سب اللہ کی آیات ہیں یعنی اگر ان میں سے کسی میں بھی غور کیا جائے گا ان کی گہرائی میں جایا جائے گا تو اللہ سامنے آئے گا آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی آیات ہیں یہ اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے لیکن آج کوئی بھی انہیں اللہ کی آیات ماننے کو تیار نہیں۔ ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ آسمانو ں و زمین میںجو کچھ بھی ہے یہ مخلوقات ہیں اور یہ ہمارے ہی لیے ہیں اس لیے ہم ان کیساتھ جو جی چاہے کریں اور کر رہے ہیں۔ کسی کو نہیں
علم کہ یہ اللہ ہی کا وجود ہے یہ اللہ کی آیات ہیں یہ اللہ کیساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں یہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔
جو اللہ ہے اسے یہ اللہ ماننے کو تیار ہی نہیں اور جو ان کے دماغوں کی اختراع ہے جس کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں اسے اللہ قرار دے رہے ہیں اور پھر نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ جب اللہ کو اللہ ماننا ہی نہیں اللہ کی آیات کو اللہ کی آیات مانا ہی نہیں تو ظاہر ہے یہ لوگ جو چاہیں گے کریں گے اپنی خواہشات کو ہی حق کا نام دے کر ان کی اتباع کریں گے اور بالکل بے فکر ہو کر کریں گے کیونکہ یہ تو یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم کونسا اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں اللہ کیساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ہم تو مخلوقات میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں لیکن حقیقت کیا ہے اس کا انہیں علم ہی نہیں اور اگر بتا بھی دیا جاتا ہے ہر لحاظ سے کھول کھول کر حق واضح بھی کر دیاجاتا ہے تو ماننے کو تیار ہی نہیں کیونکہ اپنے آباؤ اجداد کو چھوڑنے کو تیار ہی نہیں یہی سب گزشتہ ہلاک شدہ اقوام نے کیا اور آج دنیا کے انسان جس مقام پر پہنچ چکے ہیں بالکل ایسے ہی اور اسی مقام پر وہ قومیں بھی پہنچی تھیں جو ان سے پہلے اس زمین پر آبا دتھیں۔ جن پر اب تفصیل کیساتھ بات کرتے ہیں اور بالکل کھول کھول کر واضح
کرتے ہیں کہ اللہ نے کس طرح مثلوںسے آج کی تاریخ اتار دی تھی قرآن میں یاجوج اور ماجوج پر ہر پہلو سے بات کی تھی۔
کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔ آل عمران۱۱
کَدَاْبِ کدابِ دو الفاظ کا مجموعہ ہے پہلا لفظ ’’ک ‘‘ جس کے معنی ہیں جیسے یعنی اسی طرح، ایسے ہی ، ویسے ہی وغیرہ اور دوسرالفظ ’’داب ‘‘ ہے جس کے معنی ہیں آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ سٹیپ بائی سٹپ آگے بڑھنا۔ اللہ اس وقت موجودہ انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہا ہے جیسے کہ اس کا قانون ہے یعنی اللہ اپنے رسول کے ذریعے آج اس وقت دنیا میں موجود لوگوں سے کہہ رہا ہے کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ اے وہ لوگو جو اس وقت دنیا میں آباد ہو جیسے تم آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ سٹیپ بائی سٹیپ آگے بڑھتے بڑھتے یعنی ارتقاء کرتے ہوئے آج اس مقام پر پہنچے ہو جسے تم ترقی کا نام دیتے ہو جسے تم جدیدیت کا نام دیتے ہو اپنے لیے دنیا کو جنت قرار دے رہے ہو آسائشوں سہولتوںا ور آسانیوں کا نام دیتے ہو بالکل ایسے ہی آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ سٹیپ بائی سٹیپ آگے بڑھتے
بڑھتے اسی مقام پر پہنچے تھے آل فرعون اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے یعنی قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب یعنی قوم مدین وغیرہ۔
یعنی غور کریں آج جسے سائنسی ترقی کا نام دیا جاتا ہے اور آج دنیا جس مقام پر پہنچ چکی ہے ان ایجادات میں، کیا یہ سب راتوں رات ہوا؟ کیا یہ سب اچانک ہی وجود میں آ گیا؟ کیا یہ محض دنوں مہینوں یا سالوں میں ہوا یا پھر یہ صدیوں کا سفر ہے؟ ایک وقت تھا جب اس کی ابتداء ہوئی جیسے درخت کا پہلا مرحلہ اس کا بیج ہوتا ہے بالکل ایسے ہی اس ترقی کے نام پر آج دنیا جس مقام پر پہنچ چکی ہے اس کی بھی ایک وقت ابتداء ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ سٹیپ بائی سٹیپ آگے بڑھتے بڑھتے کئی مراحل طے کرنے کے بعد آج انسان اس مقام پر پہنچے ہیں تو جیسے آج انسان اس مقام پرپہنچے بالکل ایسے ہی آل فرعون اور جو ان
سے پہلے تھے وہ بھی اسی مقا م پر پہنچے تھے۔
جیسے تم آج ان ایجادات کوترقی کا نام دے رہے ہو، آسائشوں، سہولتوں اور آسانیوں کا نام دے رہے ہو بالکل ایسے ہی وہ بھی اسے ترقی و خوشحالی کا نام دیتے تھے وہ بھی اپنے ہاتھوں سے خلق کردہ ایجادات و اسباب کو اپنے لیے سہولتیں آسائشیں و آسانیاں قرار دے رہے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت یہی ہے کہ یہ سب ترقی ہو خوشحالی ہی ہے یا پھر حقیقت اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے؟ تو جواب بالکل واضح ہے کہ نہیں یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور حقیقت تو یہ ہے کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کذب کر رہے ہو ہماری آیات سے ایسے ہی انہوں نے بھی کذب کیا تھا ہماری آیات سے یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے تمام کی تمام مخلوقات اللہ کی آیات ہیں آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کے سب کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے ان میں سے کچھ بھی بغیر مقصد کے خلق نہیں کیا گیا اور ہر مخلوق کو جو اس کا مقام ہے اس اس کے مقام پر قائم کر دیا گیا جس سے آسمانوں و زمین میں بہترین میزان یعنی توازن قائم ہو گیا اور یہ توازن تب تک قائم رہے گا جب تک کہ ہر مخلوق اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کرے گی یعنی جس مقصد کے لیے اسے خلق کیا گیا اپنے مقام پر رہتے ہوئے اس مقصد کو پورا کرے گی اور اگر آسمانوں و زمین میں کسی ایک بھی مخلوق میں چھیڑ چھاڑ کی گئی کسی ایک کو بھی اس کے مقام سے ہٹا دیا گیا اس کے پیچھے پڑے اس میں پنگے لیے تو آسمانوں و زمین میں اللہ کا وضع کردہ میزان یعنی توازن بگڑ جائے گا اور نتیجتاً آسمانوں و زمین میں یعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہوں میں سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا سب کچھ تباہیوں کا شکار ہو گا زلزلے آئیں گے، طوفان آئیں گے، آندھیاں آئیں گی، سیلاب و سونامی آئیں گے، زمین کے پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جائے گی، موسم بگڑ جائیں گے، درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا چلا جائے گا ، گلیشیئر پگھل کر سطح سمندر بڑھتی جائے گی، بیماریاں اور اموات ناقابل یقین حد تک بڑھتی ہی چلی جائیں گی، فضا انتہائی زہریلی گیسوں سے بھر جائے گی جس میں سانس لینے سے تکلیف اور طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا اموات کا سامنا کرنا پڑے گا ، انسان زمین پر بد ترین مخلوق کا منظر پیش کریں گے، رشتوں ناطوں کی قدر ختم ہو جائے گی، اختلافات و دشمنیاں بڑھ جائیں گی، جنگ و جدل ، قتل و غارت کا بازار گرم ہو جائے گا، دھوکہ دہی عام ہو جائے گی یعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی تہوں میں جو کچھ بھی ہے سب تباہ و برباد ہو جائے گا، انسانوں کے ان اعمال کے ایسے ایسے رد اعمال ظاہر ہوں گے کہ قوموں کی قومیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی یہاں تک کہ انسانوں کے انہی اعمال کے سبب الساعت وہ عظیم زلزلہ بھی آئے گا جس میں کوئی ایک بھی انسان نہیں بچے گا اور انسانوں کے انہی اعمال کے رد اعمال کا حتمی نتیجہ بالآخر اس زمین کے جہنم بن جانے کی صورت میں نکلے گا لیکن اے دنیا میں آباد جن و انس یعنی دو گروہوں پر مشتمل انسانو ایک وہ جو خود کو عقل مند اور محسنین قرار دے کر اس فساد عظیم کی قیادت کر رہے ہو دشمنی کر رہے ہو اور دوسرے وہ جو ایسے لوگوں کے دھوکے کا شکار ہو کر پوری ایمانداری سے دن رات فساد کرنے میں مگن ہو تم اس حق کا انکار کرتے ہوئے اس کے بالکل برعکس وہی کر رہے ہو جس سے تمہیں منع کیا تم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ آسمانوں و زمین میں ترقی کے نام پر فساد کرنے سے آسمانوں و زمین میں سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا اور الٹا رات دن آسمانوں و زمین میں فساد کر رہے ہو فطرت میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا رہے ہو بالکل یہی سب تو انہوں نے بھی کیا تھا جو تم سے پہلے اس زمین پر آباد تھے وہ بھی بالکل یہی کہتے اور سمجھتے رہے جو کچھ آج تم کہہ اور سمجھ رہے ہو۔ جیسے تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ترقی دن بہ دن بڑھتی ہی جائے گی دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی ہمیں کوئی زوال نہیں بالکل یہی ظن ان کا بھی تھا لیکن کیا وہ سچے ثابت ہوئے؟ اور کیا آج تم سچے ثابت ہوئے ؟ آنکھیں کھولو اور دیکھو تمہیں کائنات کے ذرے ذرے میں یہ قانون نظر آئے گا کہ وقت تھمتا نہیں اور نہ ہی کوئی شئے ہمیشہ آگے کو ہی بڑھتی رہتی ہے کہ اسے کوئی زوال نہ آئے بلکہ جب بیج بوتے ہو تو ننھا سا پودا نکلتا ہے جو دن بہ دن ارتقاء کرتا ہے یعنی آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ آگے بڑھتا ہے ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد اس کا
زوال شروع ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔
تم اپنی ہی ذات میں غور کرو جب تمہاری پیدائش ہوتی ہے تو تم ہر لحاظ سے کمزور ہوتے ہو پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے تم ارتقاء کرتے ہوئے آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ قوت میں ذہانت میں شعور میں آگے بڑھتے ہو لیکن بالآخر ایک وقت آتا ہے جب بلندی پر مزید آگے بڑھنا ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ وہ بلندی کی انتہاء ہوتی ہے جسے تم جوانی کا نام دیتے ہو پھر زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ تمہارا نام و نشان ہی مٹ جاتا ہے۔ تو کیا تم اپنے ظن کے مطابق آگے ہی بڑھتے رہو گے اس فساد عظیم میں جسے تم ترقی کا نام دے رہے ہو؟ تم سمجھ رہے ہو کہ دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی جیسے چل رہی ہے تو کیا حقیقت میں ایسا ہی ہو گا ؟ حقیقت میں
دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی؟
نہیں بالکل نہیں بلکہ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ عقل کے اندھو ذرا اپنی آنکھیں کھول کر دیکھو آج تمہیں جن زلزلوں کا سامنا ہے آج پوری دنیا زلزلوں کی لپیٹ میں ہے تو کس وجہ سے؟ تمہارے انہی اعمال کے سبب جنہیں تم ترقی و خوشحالی کا نام دے رہے ہو ، تمہارے زمین کی مائننگ کرنے سے، پہاڑوں کو کاٹنے، ان کی مائننگ کرنے انہیں ان کے مقامات سے ہٹانے سے، زمین سے خام تیل و گیسوں سمیت قدرتی وسائل کے نام پر فساد عظیم کرنے سے آج پوری زمین زلزلوں کی لپیٹ میں ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے باوجود، انجام آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود بھی اندھے کے اندھے ہو تمہیں کچھ نظر ہی
نہیں آ رہا؟
آج پوری دنیا سیلابوں اور طوفانوں کی زد میں ہے تو یہ سیلاب و طوفان تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کا انجام ہے،
پوری دنیا کے موسم درہم برہم ہو چکے تو تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کے سبب، طرح طرح کی بیماریوں کے سیلاب نے تمہیں گھیرا ہوا
ہے تو تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے انہی مفسد اعمال کے سبب۔
آج تمہیں ہر طرف سے انہیں مخلوقات نے گھیر رکھا ہے جو اللہ کی آیات ہیں جنہیں تم اللہ کی آیات تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں۔ اے دل کے اندھو بالکل یہی سب ان قوموں نے بھی کیا تھا جو تم سے پہلے زمین پر آباد تھیں اور ان کا انجام بھی ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کے سبب انتہائی برا ہوا کہ انہیں نشان عبرت بنا دیا گیا لیکن اس کے باوجود تم نے ان سے عبرت حاصل نہ کی بلکہ تم تو اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کے بھیانک رد اعمال اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی عبرت حاصل نہیں کر رہے تو جان لو تمہارا انجام ان قوموں سے بھی بھیانک ہونے والا ہے۔ عظیم عذاب القارعہ یعنی تباہ کن عالمی ایٹمی جنگ جس میں دنیا کی اسی فیصد سے زیادہ آبادی ماری جائے گی اس کی ہولناکی کا عالم یہ ہو گا کہ پہاڑ بھی دھول کی طرح اڑیں گے اس میں، وہ بالکل تمہارے سر پر آ چکی ہے اور اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد الساعت ایک ایسا عظیم زلزلہ کہ کوئی ایک انسان بھی نہیں بچ پائے گا وہ بھی تمہارے سر پر آ چکی ہے یہ جو آج تمہیں مختلف ہلاکتوں تباہیوں کی صورت میں پکڑا جا رہا ہے یہ اللہ ہے جو تمہیں تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کے سبب پکڑ رہا ہے وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ اور اللہ ہے اس کے نافرمانی میں اس سے بغاوت میں اس سے دشمنی میں آگے کو بھاگتے ہوؤں کو پیچھے سے انتہائی سخت پکڑ پکڑنے والا۔ وَاللّٰہُ اور اللہ ہے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہے اللہ تو اس کی وضاحت تو پیچھے ہی ہو چکی جب یہ کہا گیا کہ تم جن میں پنگے لے رہے ہو جن میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو وہ اللہ کی آیات ہیں یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ سب کا سب اللہ کی آیات ہیں جب یہ سب اللہ کی آیات ہیں تو پھر اللہ کیا ہے؟ ظاہر ہے جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے اس حد تک جہاں تک انسان کی پہنچ ہے کوئی اور نہیں بلکہ اللہ ہی ہے اسی کا وجود نظر آ رہا ہے اور پھر ذرا غور کریں وہ قومیں جو اس سے پہلے زمین پر آباد تھیں قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اخوان لوط، قوم مدین اور آل فرعون سمیت جتنی بھی قومیں تھیں ان کو کس نے انتہائی سخت پکڑ پکڑا اس حال میں کہ وہ ترقی کے نام پر اللہ سے بغاوت و دشمنی میں تیزی کیساتھ آگے کو بڑھ رہے تھے ۔ کیا آسمانوں و زمین میں جو کچھ ہے انہی نے نہیں پکڑا تھا؟ فطرت نے ہی نہیں انہیں پکڑا تھا؟ کیا فطرت نے ہی ان کا نام و نشان نہیں مٹایا تھا؟ جب فطرت ہی ان کے لیے شدید العقاب تھی تو پھر اللہ کیا ہوا؟ ظاہر ہے جنہیں تم مخلوقات کا نام دیتے ہو یہ اللہ کا ہی تو وجود ہے یہ اللہ کی ہی تو آیات ہیں اور جب آیات اسی کی ہیں تو پھر اللہ کیا
ہوا؟ جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے اسی اللہ کا ہی تو وجود نظر آ رہا ہے۔
تو آج جو تم ترقی کے نام پر سائنسی ترقی و خوشحالی کے نام پر صنعتی انقلاب اور جدیدیت کے نام پر تیزی کے ساتھ آگے کو دوڑ رہے ہو جان لو اللہ تمہیں پیچھے سے انتہائی سخت پکڑ پکڑنے والا ہے ۔ آج اگر تمہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی آج اگر تمہیں ہمارا یہ متنبہ کرنا ناگوار گزرتا ہے تو جان لو ہم تمہیں پیچھے سے انتہائی سخت پکڑ پکڑنے ہی والے ہیں اور تب تم مانو گے لیکن تب تمہارا ماننا تمہیں کوئی نفع نہیں دے گا۔ تب تم چیخو گے، چلاؤ گے لیکن تمہارا چیخنا چلانا تمہیں کوئی نفع نہیں دے گا
اور یہ جو کچھ بھی تم نے خلق کیا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی شئے تمہیں ہماری پکڑ سے نہیں بچا سکے گی۔
یہی بات اللہ نے ایسی ہی باقی دو آیات سورۃ الانفال کی آیت نمبر ۵۲ اور ۵۴ میں کہی۔
کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیّ’‘ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔ الانفال ۵۲
جس طرح آہستہ آہستہ مرحلہ بہ مرحلہ سٹیپ بائی سٹیپ آگے بڑھتے بڑھتے آج تم اس مقام پر پہنچے ہو جسے تم ترقی و خوشحالی کا نام دیتے ہو بالکل ایسے ہی آل فرعون اور وہ لوگ جو ان سے پہلے اس زمین پر آباد تھے اس مقام پر پہنچے تھے، یہ جو کچھ بھی تم ترقی کے نام پر کر رہے ہو یہ تم اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہو یعنی تم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی آیات ہیں جیسے تمہارے جسم میں خلیے ہیں ہر خلیہ اور ہر خلیے پر ہر مخلوق تمہاری آیت ہے تمہارے اعضاء تمہاری آیات ہیں بالکل ایسے ہی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ سب کا سب اللہ کی آیات ہیں تم اللہ کی ذات میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو اللہ کے ساتھ پنگے لے رہے ہو اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہو اور تم اسے ماننے کو تیار ہی نہیں تو جان لو پس یہ جو تمہیں آج پکڑا جا رہا ہے بیماریوں، مصیبتوں، تکالیف، زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں، رزق کی کمیوں سمیت طرح طرح کی ہلاکتوں کی صورت میں یہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کے سبب پکڑ رہا ہے اس میں کچھ شک نہیں اللہ قوی ہے یہ جو تم مشینوں، اسلحے و بارود وغیرہ کے نام پر قوت میں سب سے بڑھ کر ہونے کے دعویدار بنے ہوئے ہو اور سمجھتے ہو کہ تمہیں کوئی زوال نہیں تمہیں اب دنیا سے کوئی ہلا نہیں سکتا مٹا نہیں سکتا تو جان لو اللہ قوی ہے جب اللہ تمہیں پکڑتا ہے زلزلے کی صورت میں، طوفان کی صورت میں، بیماریوں کی صورت میں طرح طرح کی ہلاکتوں و تباہیوں کی صورت میں تمہیں فرقہ در فرقہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑوانے کی صورت میں تو تب تمہاری قوت کہاں جاتی ہے؟ تب تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے ترقی کے نام پر خلق کردہ اسباب کہاں جاتے ہیں؟
(جاری ہے)۔۔۔۔ 


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...