Friday, September 16, 2022

                                   WARNING FROM MOTHER NATURE




قسط نمبر#46

اور اگر اس سب کے باوجود بھی تمہیں سمجھ نہیں آتی تم واپس اللہ سے رجوع کرنے یعنی فساد کو ترک کرتے ہوئے فطرت پر انحصار کرنے کی بجائے فطرت سے بغاوت میں آگے ہی بڑھتے ہو تو جان لو اللہ قوی ہے وہ آگے بھاگنے والوں کو پیچھے سے انتہائی سخت پکڑنا جانتا ہے اور جیسے تم سے پہلی قوموں کو پکڑا ایسے ہی تمہیں
بھی پکڑا جانے والا ہے۔
کَدَاْبِ اٰلِ فَرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَکُلّ’‘ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ۔ الانفال ۵۴
اس آیت میں بھی اللہ کا وہی کہنا ہے جو پیچھے کہا گیا اس میں مزید یہ بات واضح کر دی گئی کہ اللہ نے اگر انہیں ہلاک کیا اور آل فرعون کو غرق کیا تو ایسا نہیں کہ اللہ ظالم ہے یہ ظلم اللہ نے کیا ظالم اللہ نہیں بلکہ ظالم وہ تمام کے تمام خود تھے وہ خود ظلم کرتے رہے اپنے مفسد اعمال کے سبب آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے اس میں ظلم یعنی کمیاں کرتے رہے جب ظلم کیا جائے گا تو ظاہر ہے ظلم کا بدلہ بھی تو ظلم ہی ظاہر ہو گا جو اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے ظلم کا ہی رد عمل ہو گا جیسے آج
انسان ظلم کر رہے ہیں اور ان کے ظلم کا بدلہ بھی ظلم ہی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
جب آپ آسمانوں و زمین میں اللہ کے وضع کردہ میزان یعنی توازن میں خسارہ کریں گے تو ظاہر ہے ہلاکتیں تو آئیں گی اب اگر اس سب کے باوجود بھی کوئی ظلم ہی کرتا ہے اللہ کی آیات سے کفر ہی کرتا ہے اللہ کی آیات سے کذب ہی کرتا ہے اور وہ فساد میں آگے ہی بڑھتا ہے تو وہ جان لے عذاب عظیم بالکل سر پر آ چکا
ہے۔
اب یہاں تک یہ جان لیں کہ جیسے آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا کے انسان ایک ایسے منظم ترین گروہ کی صورت اختیار کر چکے ہیں جن کا مقصد و مشن ایک ہی ہے اور ایک تنظیم کی صورت میں پورے منظم طریقے سے اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے اس مقصد و مشن کو پورا کر رہے ہیں پوری دنیا کے انسانوں کااصل میں ایک ہی مقصد و مشن ہے ایک ہی محور ہے جس کے گرد گھوم رہے ہیں طواف کر رہے ہیں ایک ایک عمل اسی کے لیے کر رہے ہیں
اور وہ ہے آسمانوں و زمین میں ترقی کے نام پر فساد، بالکل ایسے ہی آل فرعون اور ان سے پہلے والوں نے کیا۔
پوری دنیا کے انسان اس مقصد و مشن کو پورا کرنے کے لیے دو گروہوں میں تقسیم ہیں ایک وہ جو اس مقصد و مشن میں راہنما کا کردار ادا کر رہے ہیں جیسے کہ حکومتیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں ،سیاست دان ،سرمایہ دار طبقہ، سائنسدان، پروفیسرز، ڈاکٹرز، انجینئرز سمیت ایسے ہی باقی انسان اور دوسرے وہ جو ان کی ماتحتی میں یا
ان کے چنگل کا شکار ہو کر خواہ اپنی رضا مندی سے یا کسی بھی مجبوری کے نام پر ان کی غلامی کر رہے ہیں۔
جیسے ایک کمپنی ہوتی ہے تو اس میں ایک طبقہ کمپنی کے کرتا دھرتاؤں پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرا طبقہ پیٹ یا اپنی خواہشات کو اپنی مجبوری کا نام دے کر ان کی غلامی کر رہا ہوتاہے۔ ان میں پہلا طبقہ یعنی وہ انسان جو آسمانوں و زمین میں کیے جانے والے فسادکی قیادت کر رہے ہیں وہ یاجوج اور جو ان کی قیادت میں پیٹ
بھرنے کے نام پر یااپنی خواہشات کی اتباع میں یا مجبوریوں کا نام دے کر فساد کر رہے ہیں یہ ماجوج ہیں۔
یہ یاجوج اور ماجوج ہی ہیں جو ماضی میں زمین میں فساد کرتے رہے اور آج بھی زمین میں فساد کر رہے ہیں یاجوج اور ماجوج دیومالائی تصوراتی کہانیوں کے
کرداروں کا نام نہیں ہے اور نہ ہی یاجوج اور ماجوج کوئی تصوراتی مخلوق ہے۔
وَھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ۔ وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ۔ فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبٰٓؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ۔ اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَاَرْسَلْنَا السَّمَآئَ عَلَیْھِمْ مِّدْرَارًا وَّجَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَنْشَاْنَا
مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ۔ الانعام ۳ تا ۶
وَھُوَ اللّٰہُ اور ھُوَ اللہ ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ھُوَ کیا ہے؟ ھُوَ دو الفاظ کا مجموعہ ہے گول والی ’’ہ‘‘ اور ’’و‘‘ ۔ ہ کسی بھی شئے کی طرف اشارے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس پر پیش کے استعمال سے یہ حال کا صیغہ بن جاتا ہے جس کے معنی بنتے ہیں وہ جو موجود ہے اب ذرا غور کریں اس وقت کیا ہے جو موجود ہے؟ اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو آپ کو بہت کچھ نظر آئے گا مثلا ًآپ کو درخت نظر آئے گا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ درخت اللہ ہے تو اس کا جواب آگے موجود ہے ’’و‘‘ جس کے معنی ہیں اور یعنی کیا صرف درخت ہی موجود ہے یا اور بھی کچھ موجود ہے تو صرف درخت نہیں بلکہ درخت کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہے مثلاً پہاڑ، سمندر وغیرہ ’’و‘‘ پر زبر کے آنے سے یہ ماضی کا صیغہ بن جاتا ہے جس کے معنی بنتے ہیں اس وقت تک اور جب تک کہ اور ماضی کا صیغہ نہیں بن جاتا یعنی دیکھو کہ کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی وہ ذات
اللہ ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے مثلاً آپ کا نام نذیرہے تو آپ کے جسم میں موجود کسی بھی عضوکونذیر نہیں کہا جائے گا آپ کے جسم میں جو کچھ بھی موجود ہے تمام کے تمام اعضاء کے الگ الگ نام ہیں جیسے کہ ہاتھ، پاؤں، ناک ، کان، آنکھیں، زبان، سر، دماغ، دل، گردے، پھیپھڑے اور خون وغیرہ ان میں سے کسی ایک بھی عضو کو نذیر نہیں کہا جائے گا بلکہ آپ اعضاء کو اور اور کرتے جائیں جب تک کہ اور ماضی کا صیغہ نہیں بن جاتا مثلاً ہاتھ اور پاؤںاور ناک اور کان اورٹانگ اور پیٹ اور گردن اور آنکھیں اور منہ اور سر اور بال اس وقت تک اور اور کرتے جائیں جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ نہیں بن جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے گا تو جو ذات سامنے آئے گی اسے نذیر کہا جائے گا۔ جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے گا تو تمام کے تمام اعضاء بطور ایک وجود سامنے آ جائیں گے جسے نذیر کہا جائے گا۔ کسی بھی عضوکو نذیر نہیں کہا جائے گا بلکہ ہر عضوکو الگ الگ نام سے پکارا جائے گا لیکن تمام کے تمام اعضاء کو جب بطور ایک
وجود پکارا جائے گا تو اسے نذیر کہا جائے گا۔
بالکل ایسے ہی غور کریں دیکھیں کیا موجود ہے جو کچھ بھی موجود ہے اور اور کرتے جائیں جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ نہیں بن جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے گا تو جو ذات سامنے آئے گی وہ اللہ کی ذات ہے وہ اللہ ہے۔ اگر آپ کے پورے جسم کو چھپا دیا جائے اور جسم کا کچھ حصہ ، کوئی عضو یا ایک سے زائد اعضاء سامنے رہنے دیئے جائیں تو جو کچھ بھی سامنے ہو گا وہ اصل وجود نہیں بلکہ اصل وجود کی آیات کہلائیں گی اگر ان میں سے کسی میں بھی غور کیا جاتا ہے تو بالآخر نذیر ہی سامنے آئے گا بالکل ایسے ہی آسمانوں و زمین میں اس کائنات میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ تمام کی تمام مخلوقات ایسے ہی ہیں جیسے آپ کے جسم میں اعضاء ہیں اور جیسے پورا وجود چھپا دیا جائے سوائے کچھ اعضاء کے توجو اعضاء سامنے ہیں وہ آپ کی آیات کہلائیں گی بالکل ایسے ہی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ سب کا سب اللہ کی آیات ہیں ، آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ ہی کا وجود ہے اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے اور یہی اس آیت کے شروع میں کہا گیا وَھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ اور جو کچھ بھی موجود ہے آسمانوں اور زمین میں یہ اللہ ہے ۔ اب جب کہ یہ بالکل واضح ہو چکا یہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ ہی کی ذات ہے اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے اللہ ہی کا وجود ہے تو پھر ظاہر ہے اگر کوئی رائی برابر بھی عمل کرتا ہے خواہ چھپ کر کرے یا اسے کتنا ہی چھپائے یا ظاہراً کوئی بھی عمل کرتا ہے آہستہ بولتا ہے خواہ دل ہی دل میں یا دماغ میں کوئی ارادہ کرتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کو اس کا علم نہ ہو یا اعلاناً کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ کے علم میں ہے اور جو کچھ بھی انسان کر رہے ہیں جو اعمال جو کرتوت بھی کر رہے ہیں اللہ کو علم
ہے اسی کا ذکر آیت کے اگلے حصے میں کر دیا گیا جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ۔
پیچھے تفصیل کیساتھ کھول کھول کر یہ بات واضح کر دی گئی کہ آسمانوں و زمین کی مثال ایک جسم کی سی ہے جب ایک ہی ذات کا وجود ہے جو کہ اللہ ہے اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ہے ہی نہیں تو پھر ظاہر ہے جو کچھ بھی ہے ایک ہی وجود ہے آسمانوں و زمین میں اور کل کائنات میں جو کچھ بھی ہے ان سب کا آپس میں انتہائی گہرا ربط قائم ہے اور بہترین میزان یعنی توازن قائم ہے اور یہ ربط یہ تسلسل ، نظم یہ توازن اس وقت تک قائم رہے گا جب تک تمام کی تمام مخلوقات اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی اگر کوئی ایک بھی مخلوق ظلم کرتی ہے یعنی کمی کرتی ہے اپنے مقام سے ہٹ جاتی ہے ایک رائی برابر عمل بھی ہدایات کے خلاف کرتی ہے یا اپنی مرضی سے عمل کرتی ہے تو میزان میں خسارہ ہوجائے گا توازن بگڑ جائے گا جس سے فساد ہو گا جو بالآخر تباہیوں کی صورت میں
ظاہر ہوگا۔
اب آپ ذرا غور کریں پوری دنیا کے انسان جو کچھ بھی کر رہے ہیں جو اعمال کر رہے ہیں کیا وہ فطرت سے مطابقت رکھتے ہیں؟ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں خواہ وہ آپ کتنا ہی چھپ چھپا کر کیوں نہ کریں یا جو کچھ بھی ظاہراً کر رہے ہیں جو اعمال بھی کر رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں سے ، آپ کو جو کچھ بھی دیا گیا جو صلاحیتیں دی گئیں ان کا استعمال جن مقاصد کے لیے کر رہے ہیں کیا تمام کے تمام اعمال فطرت سے مطابقت رکھتے ہیں یا پھر فطرت کی ضد ہیں فطرت کے خلاف ہیں؟
جب تمام کے تمام اعمال ہی فطرت کے خلاف ہیں اللہ سے دشمنی ہیں اللہ میں یعنی اللہ کی آیات میں آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی آیات ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ان میں پنگے لے رہے ہیں ان میں تبدیلیاں کر رہے ہیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا میزان میں خسارہ نہیں ہو گا؟ کیا مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹانے سے ان میں تبدیلیاں کرنے سے ان میں چھیڑ چھاڑ کرنے سے ان میں پنگے لینے سے آسمانوں و زمین میں موجود تمام مخلوقات میںقائم ربط
برقرار رہے گا؟ کیا توازن میں بگاڑ نہیں ہو گا؟ کیا پھر یہ فساد تباہیاں و ہلاکتوں کی صورت میں ظاہر نہیں ہو گا؟
ذرا غور کریں آج جب انسانوں نے ترقی و صنعتی انقلاب کے نام پر فساد کیا اور کر رہے ہیں ، آسمانوں و زمین میں تمام مخلوقات کیساتھ پنگے لے رہے ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں فطرت میں مداخلت کر رہے ہیں ہر مخلوق کو اس کے مقام سے ہٹا رہے ہیں تو کیا ان اعمال کے رد اعمال ہلاکتوں اور تباہیوں کی صورت میں ظاہر نہیں ہو رہے؟ کیا زلزلے، سیلاب، طوفان، آندھیاںنہیں آ رہے؟ کیا زمین جگہ جگہ سے پھٹ نہیں رہی؟ زمین جگہ جگہ سے دھنس نہیں رہی؟ پہاڑ ٹل نہیں رہے؟ زمین ٹل نہیں رہی؟ موسموں کا نظام درہم برہم نہیں ہو چکا؟ زمین کے پیدا کرنے کی صلاحیت غیر معمولی حد تک متاثر نہیں ہو چکی؟ درجہ حرارت دن بہ دن غیر معمولی حد تک نہیں بڑھ رہا؟ طرح طرح کی بیماریوں کا سیلاب نہیں امڈ آیا؟ قتل و غارت کی کثرت نہیں ہو چکی؟ طرح طرح کی ہلاکتوں و تباہیوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہوا؟ تو کون ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے اعمال کے سبب ظاہر ہونے والے اس فساد سے
عبرت حاصل کر رہا ہے؟
جیسے آپ کے جسم میں کسی بھی عضو کو چھیڑا جائے تو ایک حد تک تو برداشت کیا جائے گا لیکن جب کوئی چھیڑ چھاڑ کرنے میں حد سے تجاوز کرتا ہے اوربرداشت کی حد پار ہو جاتی ہے تو جسم کے وہی اعضاء رد عمل کا اظہار کرتے ہیں جس سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو اپنی حرکتوں کا مزہ چکھنا پڑتا ہے بالکل ایسے ہی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی آیات ہیں جب ان میں چھیڑ چھاڑ کی جائے گی تو کیا اللہ کی آیات واپس پلٹ کر نہیں آئیں گی؟ ظاہر ہے جب اللہ کی آیات میں چھیڑ چھاڑ کی جائے گی تو برداشت کی ایک حد ہوتی ہے جب وہ حد پار ہو جائے تو آیات آتی ہیں اور آئیں گی اور آج پوری دنیا کے انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کی آیات آ رہی ہیں اللہ کی آیات نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا ہوا ہے اب جب کہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تو انہیں چاہیے تھا کہ یہ باز آ جاتے فساد کرنے سے رک جاتے اللہ کی آیات سے کذب کرنے سے رک جاتے عبرت حاصل کرتے لیکن آج پوری دنیا کے انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ آج اللہ کی آیات آ رہی ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود آیات کا شکار ہونے کے باوجود بھی اللہ کی آیات سے اعراض ہی کر رہے ہیں حق اپنی آنکھوں
سے دیکھ لینے کے باوجود بھی اعراض ہی کر رہے ہیں اور اسی کا ذکر اللہ نے اگلی آیت میں کیا۔
وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْن۔الانعام ۴
وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اور نہیں اخذ کرتیں انہیں آیات سے کوئی بھی آیت ان کے ربّ کی آیات سے اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْن مگر جب بھی ان کے ربّ کی آیات سے کوئی بھی آیت انہیں آ پکڑتی ہے تو یہ تھے ہی اس سے اعراض کرنے والے، اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے مفسد اعمال سے باز آنے کی بجائے اسے بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اپنی اسی روش پر قائم رہنے والے۔ یعنی انسانوں پر حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا اس کے باوجود انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا انہوںنے اس بات کو تسلیم ہی نہ کیا کہ آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی آیات ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی ان میں پنگے نہیں لینے ان کو ان کے مقامات سے نہیں ہٹانا ان میں تبدیلیاں نہیں کرنی فطرت سے دشمنی نہیں کرنی ورنہ میزان میں خسارہ ہو کر تباہیاں آئیں گی اور پھر جب انہوں نے اللہ کی آیات سے کذب کیا تو انہوں نے وہی سب اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا آج ان کے ربّ کی آیات آ رہی ہیں زلزلوں کی صورت میں، سیلابوں کی صورت میں، طوفانوں کی صورت میں، بیماریوں کی صورت میں طرح طرح کی ہلاکتوں و تباہیوں کی صورت میں تو ان میں سے جب بھی کوئی آیت انہیں آ پکڑتی ہے توبجائے اس کے یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد مان جاتے حق کو تسلیم کر لیتے بلکہ یہ الٹا اعراض ہی کر رہے ہیں یہ کوئی توجہ ہی نہیں
دے رہے یہ بالکل اندھے بنے ہوئے ہیں ایسے کہ جیسا کچھ ہو ا ہی نہیں جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا۔
فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبٰٓؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ۔ الانعام ۵
فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ پس تحقیق کے کذب ہی کر رہے ہیں حق سے جب کہ اب تو ان کے پاس حق آ چکا ہے ان میں انہی سے اللہ کا رسول آ چکا ہے جو حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر رہا ہے اس کے باوجود بھی یہ حق سے کذب ہی کر رہے ہیں حق کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ، یعنی چلو مان لیا کہ تم اندھے ہو تمہیں نظر نہیں آ رہا جس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں بتایا گیا کہ یہ دین نہیں ہے بلکہ دین تو وہ ہے جو نسل در نسل آباؤ اجداد سے منتقل ہوا یہ جو تباہیاں آ رہی ہیں یہ سب تو عام سی بات ہے ان کا دین کیساتھ کوئی تعلق نہیں جس وجہ سے تم حق کو نہیں پہچان پا رہے لیکن اب تو تمہی میں سے تم میں اللہ کا رسول موجود ہے جو تم پر حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر رکھ رہا ہے اور تم اپنی تحقیق کر لو اپنے گھوڑے دوڑا لو اگر رد کر سکتے ہو اس کی بات کو غلط ثابت کر سکتے ہو تو کر کے دکھاؤ کہ یہ حق نہیں ہے ؟ یہ اللہ کا رسول یعنی تم پر جو حق کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کیا یہ اللہ کا بھیجا ہوا نہیں ہے؟ جو کچھ بھی یہ کھول کھول کر واضح کر رہا ہے کیا یہ حق نہیں ہے تم اس کی کسی ایک بھی بات کا رد کر کے دکھاؤ۔ جان لو نہیں کر سکو گے خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے کیونکہ وہ حق ہی کہاں جس کا رد ہو جائے جس کا رد ہو جائے وہ تو بے بنیاد باطل
ہوتا ہے۔
یہ باطل نہیں ہے یہ حق ہے پوری دنیا کے شیاطین کو اپنے اولیاء بنا لو تم اس حق کا رد نہیں کر سکو گے اور حق اس قدر کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی تم جو حق کا انکار کر رہے ہو اور اس کے خلاف ہی کر رہے ہو تو یہ تم حق سے کذب کر رہے ہو فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبٰٓؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْن پس جلد ہی آ رہی ہے ، کیا ہے جو جلد ہی آ رہی ہے؟ وہ نبا ہے یعنی وہ جو ان پر آنے ہی والی ہے جس کا علم صرف اور صرف اللہ ہی کے پاس ہے وہ آنے ہی والی ہے یعنی الساعت ان کے اپنے ہی ہاتھوںسے کیے ہوئے مفسد اعمال کے رد اعمال میں بالآخر انتہائی بھیانک تباہی عظیم زلزلہ جس میں کوئی ایک بھی انسان نہیں بچے گا اور اس سے بھی پہلے ان کے بالکل سر پر ہے القارعہ عظیم عالمی ایٹمی جنگ جس میں دنیا کی اسی فیصد آبادی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا ہے اس سب کا بھی نام و نشان مٹ جائے گا اور یہ عذاب ان پر آنے ہی والے ہیں اس کے سبب جس سے یہ استہزا کر رہے ہیں ایسے ہی جیسے ان سے پہلے جو آباد تھے انہوں نے استہزاء کیا یعنی جیسے ان سے پہلے قوم نوح کیساتھ یہی ہوا انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور اس کے برعکس وہی کیا جو یہ آج کر رہے ہیں ترقی کے نام پر آسمانوں و زمین میں فساد، اور جب وہ فساد ظاہر ہوا اللہ کی آیات نے انہیں آ پکڑنا شروع کیا تو بجائے اس کے کہ وہ عبرت حاصل کرتے اور فساد سے باز آ جاتے بلکہ وہ اللہ کی آیات سے اعراض ہی کرتے رہے انہیں بالکل نظر انداز کرتے ہیں جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو اور پھر جب ان کی طرف رسول بھیج کر ان پر حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر دیا تو انہوں نے رسول کی دعوت کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اسے مجنون کہا اسے پاگل کہا اسے جاہل کہا اسے گالیاں دیں اس کے خلاف محاذ کھولے تو پھر نتیجہ کیا نکلا بالکل یہی ان کیساتھ ہونے والا ہے جو آج اس وقت موجود ہیں جن سے آج کلام کیا جا رہا ہے ۔
یہی قوم عاد نے کیا جب ان پر ھود اللہ کے رسول کے ذریعے حق کھول کھول کر واضح کر دیا تو انہوں نے بھی وہی کیا جو قوم نوح نے کیا وہی ھود کیساتھ کیا تو ان کا انجام کیا ہوا؟ ایسے ہی صالح کیساتھ ہوا، ایسے ہی شعیب کیساتھ، ایسے ہی لوط کیساتھ، ایسے ہی موسیٰ کیساتھ اور آج بھی بالکل وہی ہو رہا ہے آج بھی اللہ نے اپنا رسول بھیج دیا جو حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر رہا ہے اور حق ہر لحاظ سے کھل کھل کر واضح ہو جانے کے باوجود بھی یہ ماننے کو تیارہی نہیں یہ اس سے استہزا ہی کر رہے ہیں یہ حق سے اعراض ہی کر رہے ہیں تو پھر ان کا انجام کیا ان سے کوئی مختلف ہونے والا ہے؟ یعنی ان کا انجام ان کے آباؤ اجداد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین، قوم لوط، اخوان لوط اور آل فرعون وغیرہ سے مختلف ہونے والا ہے؟ نہیں بالکل نہیں یہ آج عنقریب اپنی آنکھوں سے اپنا بھیانک انجام دیکھیں گے جو کہ ان کے بالکل سر پر آ چکا ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔ 


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...