WARNING FROM MOTHER NATURE
اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَاَرْسَلْنَا السَّمَآئَ عَلَیْھِمْ مِّدْرَارًا وَّجَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِیْ مِنْ
تَحْتِھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ۔ الانعام ۶
اَلَمْ یَرَوْا کیا نہیں دیکھ رہے؟ کیا یہ آج اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے؟ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ قَرْنٍ جس طرح آج ان پر ہلاکتیں آ رہی ہیں ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کے سبب بالکل ایسے ہی ہم نے انہیں ہلاک کیا جو ان سے پہلے تھے ان کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا زمانوں سے مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُم ہم نے انہیں مکن دیا تھا زمین میں ایسا مکن کہ جو تمہارے لیے زمین میں مکن نہیں ہے یعنی اے دنیا میں آباد لوگو آج تم سمجھتے ہو کہ تم نے بہت ترقی کر لی تمہیں دنیا سے کوئی نہیں مٹا سکتا تم نے بڑے بڑے قوت والے اسباب خلق کر لیے تمہیں کوئی زوال نہیں تمہاری زمین میں بنیادیں بہت مضبوط ہو چکیں اب تم ایسے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ گے تو جان لو وہ قومیں جو تم سے پہلے تھیں قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمو،د قوم لوط، قوم مدین اور آل فرعون وغیرہ انہیں جو کچھ دیا گیا تھا ان کو زمین میں جو اختیار و اقتدار دیا گیا تھا تم اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تم اسے حاصل کر ہی نہیں سکتے وہ تم سے اس قدر بڑھ کر تھے اس کے باوجود ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا ان کو زمین میںدیا گیا مکن انہیں بچا سکا؟ ان کے خلق کر دہ اسباب انہیں بچا سکے؟ نہیں نا، تو پھر
جب وہ جو تم سے ان سب میں کئی گنا بڑھ کر ہونے کے باوجود زمین پر نہ ٹھہر سکے ان کو ہلاک کر دیا گیا تو تم کس کھیت کی مولی ہو؟
وَاَرْسَلْنَا السَّمَآئَ عَلَیْھِمْ مِّدْرَارًا انہوں نے آسمانوں میں یعنی زمین کے گرد گیسوں کی تہوں میں چھیڑ چھاڑ کی موسموں میں پنگے لیے تو ان کے ان اعمال کے سبب زمین کے گرد گیسوں کی تہوں میں وضع کردہ توازن بگڑ گیا جس سے ہم نے ان پر آسمان سے بھیجا مِّدْرَارًا یعنی درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا چلا گیا موسموں کا نظام درہم برہم ہو گیا گلیشیئر پگھلنے لگے بارشوں کی کثرت ہو گئی اور وہ اسی چکر میں پھنس کر رہ گئے وَّجَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ اور کر دیں ہم نے انہار جو ان کے تحت سے بہہ رہی تھیں پس کیا کیا ہم نے؟ ہم نے انہیں ہلاک کیا ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کے سبب اور آج ایسے ہی تمہیں ہلاک کیا جا رہا ہے وَاَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ اور کیا کر دیا ہم نے؟ ہم نے قانون بنا دیا جو آخرین ہیں یعنی جو فساد میں ملوث نہیں ہوتے جو مجرم نہیں ہوتے انہیں بچا لیتے ہیں اور بعد میں ان کو زمین کا وارث بنا دیتے ہیں جو ان کے بعد زمانوں میں
آئے یعنی اے دنیا کے لوگو اے انسانوذرا غور کرو آج تم پر جو ہلاکتیں آ رہی ہیں کیسے آ رہی ہیں؟
یہ زلزلے ، سیلاب، طوفان، آندھیاں، زمین کا دھنسنا، پہاڑوں کا ٹل جانا، بیماریوں کا سیلاب، اور ایسے ہی طرح طرح کی جو ہلاکتیں تم پر مسلط ہیں یہ سب کیسے آ رہی ہیں؟ کیا یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے ترقی کے نام پر مفسد اعمال کے رد اعمال نہیںہیں؟ جیسے آج تم پر یہ ہلاکتیں مسلط ہو چکیں ہیں جو عنقریب بڑھتے بڑھتے تمہارا نام و نشان مٹا دیں گی بالکل ایسے ہی وہ جو تم سے پہلے تھے قوم نوح ،قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین، قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ انہیں
بھی بالکل ایسے ہی ہلاک کیا گیا تھا۔
اب آپ خود غور کریں کہ یاجوج اور ماجوج کون تھے اور کون ہیں؟
جب ماضی میں زمین پر آباد لوگوں پر ایک وقت آیا کہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے ترقی کے نام پر فساد کرتے رہے اور بالآخر وہ اپنے ہاتھوں سے کیے ہوئے مفسد اعمال کے سبب ہلاک ہوئے تو کیا یاجوج ماجوج کوئی اور تھے؟ وہی تو یاجوج اور ماجوج تھے جو زمین میں فساد کرتے رہے اور آج جو زمین میں فساد کر رہے ہیں
یہ ہیں یاجوج اور ماجوج، آج یاجوج اور ماجوج سے پوری زمین بھر چکی ہے ہر وہ شخص یاجوج اور ماجوج میں سے ہے جو زمین میں فساد کر رہا ہے۔
ذر اغور کریں جب آپ اپنی گاڑی پر جسے آپ اپنے لیے آرام دہ سواری کا ذریعہ اور نعمت سمجھتے ہیں اس پر سفر کرتے ہیں اسے استعمال کرتے ہیں تواس سے خارج ہونے والی انتہائی زہریلی گیسوں سے کس قدر فساد ہو رہا ہے کتنی ہی مخلوقات اس سے ہلاک ہو رہی ہیں آسمانوں و زمین میں ان سے کس قدر فساد ہو رہا ہے بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور پھر اس سے پہلے تو اس کی تخلیق میں غور کریں کہ اس کی تخلیق کیسے کی گئی زمین کو پھاڑ کر اللہ کے غیب سے نکالا گیا اللہ کے غیب کا کفر کیا گیا اللہ کی آیات سے کذب کیا گیا اس کے بعد مزید زمین میں فساد در فساد کے بعد وہ گاڑی وجود میں آئی اب جب آپ ایک گاڑی خریدتے ہیں یا اس میں سفر کرتے ہیں تو آپ اس سارے فساد میں حصے دار بن گئے جب آپ براہ راست زمین میں فسادمیں ملوث ہیں تو پھر کیا یاجوج اور ماجوج کوئی اور ہوں گے؟ یہ آپ کو کس نے کہہ دیا؟ جب یاجوج اور ماجوج وہ ہیں جو زمین میں فساد کررہے ہیں تو پھر آپ زمین میں فساد کرنے کے باوجود یاجوج اور ماجوج میں سے کیوں نہیں؟ آپ کا شمار یاجوج اور ماجوج میں ہے وہی یاجوج اور ماجوج جن کا آپ انتظار کر رہے ہیں۔ آج بے شک آپ اس بات کو تسلیم نہ کریں اس سے کسی کا کوئی نقصان نہیں لیکن جان لیں یہ آپ اپناہی نقصان کریں گے آپ اکثریت کو دیکھتے ہیں اور اکثریت کے پیچھے ہیں تو جان لیں کہ آپ کا انجام بھی اکثریت کیساتھ ہی ہو گا اور کل کو عنقریب جو کہ وقت آپ کے سر پرآ چکا ہے آپ چیخ چیخ کر سب کچھ تسلیم کریں گے آپ کی حالت قابل رحم ہو گی لیکن اس کے
باوجود کوئی رحم نہیں کیا جائے گا آپ کا ماننا آپ کو کوئی نفع نہیں دے گا تب آپ کا ماننا بالکل فرعون کے ماننے کی مثل ہو گا۔
اگر آپ بھی وہی کرتے ہیں جو قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم مدین اور آل فرعون نے کیا تو آپ کا انجام بھی بالکل وہی ہونے والا ہے۔ ان پر جب عذاب ان کے سر پر آ گیا تو اللہ کا قانون ہے کہ وہ رسول بعث کر کے متنبہ کیے بغیر عذاب نہیں دیتا تا کہ ان پر حجت کی جا سکے اس لیے اللہ نے ہلاک شدہ ہر قوم میں انہی سے رسول بعث کیا جس نے انہیں کھول کھول کر متنبہ کیا مگر انہوں نے اسے نہ ہی رسول تسلیم کیا اور نہ ہی اس کی کسی ایک بھی بات کو سنجیدگی سے لیا الٹا اس سے دشمنی کی بالکل اسی طرح اللہ نے آج بھی اپنا رسول بھیج دیا جو کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے اگر آج موجودہ قوم بھی وہی کرتی ہے جو گزشتہ اقوام نے کیا تو ان کا انجام بھی بالکل انہی کی مثل ہونے والا ہے جو کہ سر پر آ کھڑا ہے۔ انہوں نے بھی اکثریت کو ہی معیار حق بنا کر اکثریت کی اتباع کی اور رسول کی دعوت کو
نظر انداز کر دیا کہ یہ تو ہمارے ہی جیسا بشر ہے اور اگر آج بھی وہی کیا جاتا ہے تو نقصان کسی کا نہیں بلکہ نقصان آپ کا اپنا ہی ہو گا۔
ایسی ہی قرآن میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں آیات ہیں یوں کہیں کہ پورے کا پورا قرآن اسی ایک ہی موضوع پر ہر لحاظ سے بات کرتا ہے قرآن میں پوجا پاٹ نامی کوئی شئے نہیں ہے جسے آج تک پوری دنیا کے انسان ہی دین سمجھ کر کر رہے ہیں آگے مزید ان آیات پر بات کرتے ہیں اور حق کھول کھول کر اس قدر واضح کرتے ہیں کہ کوئی چاہ کر بھی کل کو یہ نہ کہہ سکے کہ اس پر حق واضح نہیں کیا گیا تھا یا حق واضح نہیں ہوا تھا کوئی چاہ کر بھی کل کو یوم القیامہ کوئی عذر پیش نہ کر سکے
اس پر حجت ہو جائے۔
سورۃ الکہف میں اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اس میں کچھ شک نہیں یاجوج تھے اور ماجوج تھے جو زمین میں فساد کر رہے تھے یاجوج ہیں اور ماجوج ہیں جو اس وقت زمین میں فساد کر رہے ہیں یعنی یاجوج اور ماجوج وہ ہیں جو زمین میں فساد کر رہے ہیں زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا رہے ہیں زمین میں تبدیلیاں کر رہے ہیں زمین کی مخلوقات میں تبدیلیاں کر رہے ہیں ان میں
پنگے لے رہے ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں انہیں اپنی مرضی کی تاویلیں پہنا رہے ہیں ۔
ہم نے پیچھے بالکل کھول کھول کر یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ یاجوج اور ماجوج کوئی دیومالائی تصوراتی کہانیوں کے کرداروں کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں بالکل واضح کر دیا کہ یاجوج اور ماجوج وہ ہیں جو زمین میں فساد کررہے ہیں۔ اللہ نے اس قرآن میں کئی مقامات پر یہ بھی واضح کر دیا کہ اللہ نے اس قرآن میں نہ صرف ہر اس شئے ،ہر اس واقعہ کا ذکر کیا جو اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک وقوع پذیر ہونا تھا بلکہ ایک سے زائد مقامات پر اس کا ہر پہلو سے ذکر کیا یعنی اگر کسی بھی شئے کا ذکر کیا تو نہ ہی ایک مقام پر اس کا ذکر کیا اور نہ ہی ایک ہی پہلو سے بلکہ ایک سے زائد مقامات پر ہر پہلو سے بات کی جیسا کہ ان میں سے دو آیات درج ذیل ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment