WARNING FROM MOTHER NATURE
اللہ نے مخلوقات کو خلق کیا تو کیسے؟ اور ان کی ضروریات کو کیسے خلق کیا؟ جب غورو فکر کریں تو ہر بات کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان سب کے سب کو پورے علم اور حکمت یعنی حساب کتاب کے ساتھ ایک پیچیدہ ترین مشین کی مانند خلق کیا۔ مخلوقات کی ضروریات بھی اسی نظام سے ہی خلق ہوتی ہیں جسے ہم فطرت کہتے ہیں۔ فطرت پر قائم ہونا تھا یہ اصل شئے تھی اصل دین تھا دنیا میں آنے کا اصل مقصد و امتحان تھا توکیا آج آپ اپنی ضروریات فطرت سے حاصل کر رہے ہیں فطرت پر قائم ہیں؟ یا پھر آج فطرت کے مقابلے پر مصنوعی اشیاء کی بھرمار ہے۔ مصنوعی جو کہ اصل کے مقابلے پر نقل ہیں اور یہ فتنہ ہے انسانوں کو اصل کا علم ہی نہیں اور وہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس فتنے کا شکار ہیں، اپنا ربّ الدجّال کو بنائے ہوئے ہیں؟ اور جب کسی پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے یہ دجل چاک ہو جاتا ہے اس کے نزدیک اس الدجّال کا قتل ہو جاتا ہے یعنی اس پر یہ دھوکا واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب مصنوعی اشیاء جو فطرت کی ضد ہیں یہ انسان کے لیے ، یہ میرے لیے مسیحا نہیں فائدہ مند نہیں بلکہ دنیا و آخرت میں تباہی کا سبب ہیں تو ایسے شخص کے بارے میں محمد علیہ السلام نے کہا تھا و من قال کذبت، ربی اللہ، علیہ توکلت والیہ انیب، فلا یضرہ اور جو الدجّال کے راس کی اس دعوت کہ میں تمہارا ربّ ہوں کے مقابلے پر یہ کہے گا کہ کذبت یعنی تو میرا ربّ نہیں تو اللہ کی مخلوقات اللہ کے کاموں میں مداخلت کر رہا ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان سب کے سب کو فساد زدہ کر رہا ہے تیری وجہ سے آسمانوں اور زمین میں طرح طرح کی تباہیاں آ رہی ہیں تیری وجہ سے بیماریاں و آزمائشیں آ رہی ہیں تیری
وجہ سے دنیا کے حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لیے تُو میرا ربّ نہیں بلکہ میرا ربّ اللہ ہے۔
یعنی میں اپنی ضروریات انسان کی خلق کردہ ان مصنوعی اشیاء سے پوری نہیں کروں گا میں خود کو فطرت کی بجائے مصنوعی اشیاء کا محتاج نہیں بناؤں گا بلکہ میرا ربّ اللہ ہے یعنی میں اپنی تمام تر ضروریات فطرت سے پوری کروں گا خود کو فطرت پر قائم کروں گا اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فطرت پرہی انحصار کروں گا ۔ پہلے میں تجھے اپنا ربّ بنائے ہوئے تھا وہ اس لیے کہ میں بھی باقی انسانوں کی طرح تجھے اپنے لیے مسیحا سمجھتا تھا اس ٹیکنالوجی کو صنعتی انقلاب کو انسان کے لیے ترقی سمجھتا تھا لیکن اب مجھ پر یہ دجل واضح ہو چکا ہے میرے نزدیک اس الدجّال کا قتل ہو چکا ہے یعنی ان اشیاء پر پڑادجل کا پردہ چاک ہو چکا
ہے اس لیے اب میں بغیر کسی حیلے بہانے کے اپنے ربّ کی طرف پلٹتا ہوں۔
تو محمد علیہ السلام نے کہا کہ پس الدجّال اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا یعنی پہلے وہ الدجّال کو ربّ بنانے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں ، تکالیف، مصائب ، الجھنوں، پریشانیوں وغیرہ کا شکار تھا انسانوں کی غلامی کا شکار تھا رات دن الدجّال کی غلامی میں دھنسا ہوا تھا آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں تھا تو اب اس کے
لیے یہ سب نہیں ہو گا وہ ہر لحاظ سے آزاد شخص ہو گا۔
آپ سب پر فرض ہے کہ غوروفکر کریں اور دیکھیں کہ کیا آپ الدجّال کو اپنا ربّ نہیں بنائے ہوئے؟ کیا آپ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فطرت پر انحصار کرتے ہیںیا پھر اللہ کے مقابلے پر یعنی فطرت کے مقابلے پر انسان کی اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ طرح طرح کی اشیاء پر انحصار کر رہے ہیں جو کہ فطرت نہیں بلکہ فطرت کی ضد ہیں؟ کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جس شئے پر آپ انحصار کر رہے ہیں جسے اختیار کر رہے ہیں وہ کیسے وجود میں آئی؟ اس کی تخلیق سے آسمانوں اور زمین میں کس قدر فساد ہوا ؟ کتنی مخلوقات کا قتل ہوا؟ اور آسمانوں و زمین میں اللہ کے قائم کردہ میزان
میں کتنا خسارہ ہوا؟ اور یہ سلسلہ مسلسل لگاتار آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے؟
غور کیجیے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے آج آپ کے پاس وقت ہے جب یہ وقت ختم ہوجائے گا تو پھر سوائے پچھتاوے کے کچھ نہ رہے گا۔ الدجّال کے راس کو
پہچانیں یہ رات دن کیا دعوت دے رہاہے؟ کسے اپنا ربّ بنانے کی طرف دعوت دے رہا ہے؟
بہت سے لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ کیا ہم اس سائنسی اور ترقی یافتہ دور کو چھوڑ کر پتھر کے دور میں چلے جائیں؟ کچھ انسان تو ایسا سوال بے بسی کے عالم میں ضرورت کے تحت کرتے ہیں لیکن اکثریت بطور طنز ایسا سوال کرتی ہے ایسی اکثریت خود کو عقل مند اور سامنے والے کو بے وقوف سمجھتی ہے لیکن حقیقت میں بے وقوف کون
ہے یہ جاننا بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔
پتھر کے دور سے ان لوگوں کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آج اس مشینی دور کے برعکس آج سے چند صدیاں پہلے کا دور جسے یہ لوگ پتھر کا دور کہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ سمندر، درخت، چرند پرند، پھل ، پھول، پودے سر سبز باغات سمیت طرح طرح کی مخلوقات یعنی جنت کا منظر پیش کرتی دنیا ان لوگوں کو پتھر کا دور نظر آتی ہے جس میں نہ زلزلے ، نہ طوفان، جس میں نہ بیماریاں نہ انسان انسان کا غلام، جس میں رشتے ناطوں کی قدر اور اپنی جان سے زیادہ دوسرے کی جان کی فکر ،کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں ہر کوئی آزاد اور مشقت سے آزاد، کوئی دشمنی نہیں، کوئی حسد، بغض نہیں، کوئی فرقہ بندی و گروہ بندی نہیں، کسی کو کسی سے کوئی ڈر اور خوف نہیں، کوئی سرحدوں کے نام پر قید خانے نہیں اس طرح اگر بات کی جائے تو خصوصیات کے انبار لگتے جائیں الفاظ ختم ہو جائیں مگر خصوصیات و صفات ختم نہ ہوں اسے یہ لوگ پتھر کا دور کہتے ہیں۔ بات کرتے ہیں سائنس کی اور رات دن سائنس سائنس کے رٹے لگاتے ہیں سائنس کے ورد کرتے ہیں، سائنس تو کہتے ہیں علم کو تو اے عقل کے اندھو تمہاری سائنس تمہارا علم جسے تم ترقی کہتے ہو وہ تو خود پتھر کے دور کا محتاج ہے۔ کبھی غور تو کرو یہ زمین کا اگانا کیا یہ سائنس کی انتہاء نہیں؟ ایک درخت میں کتنی سائنس ہے اس کو جاننے کے لیے تمہاری سائنس بے بس ہے تمہارے بنائے ہوئے جدید ترین آلات ایک پتے کی گہرائیوں میں دیکھنے کے باوجود اندھے ہیں ان کی دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے مگر پتے کی گہرائی نہیں۔ دیکھو یہ طرح طرح کے رنگ برنگے پھول یہ چہچہاتے ہوئے پرندے کیا یہ سائنس کی انتہاء نہیں؟ سمندروں میں تیرتی ہوئی مچھلیاں ہوں یا پھولوں پر اڑتی تتلیاں یہ سائنس کی انتہاء نہیں؟ دیکھو زمین کی گہرائیوں کو اس کی پیچیدگیوں کو اتنے بڑے ترقی کے دعویدار ہونے کے باوجود تمہاری ترقی تمہاری مشینیں اندھی اور بے بس کیوں ہو جاتی ہیں کیا یہ سائنس کی انتہاء نہیں؟ میرے ربّ کی خلق کو پتھر اور جہالت کا دور کہتے ہو اور اس کا شریک بنے ہوئے یعنی اس کے کاموں میں مداخلت کرتے ہوئے دنیا کو جہنم بنا کر اسے ترقی کا نام
دیتے ہو؟
جسے تم پتھر کا دور کہتے ہو عقل کے اندھو دنیا کی تخلیق اور اس کے نظام کو چلتے ہوئے کھرب ہا سال گزرے لیکن ایک رائی برابر بھی خامی یا خرابی نہیں ہوئی لیکن جسے تم ترقی و خوشحالی کا نام دیتے ہو تم جیسے انسانوں نے زمین پر جیسے ہی قدم رکھا جیسے ہی تم جیسے انسان زمین پر پدھارے تو زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم کر دیا۔
میرے ربّ نے زمین کا توازن قائم کر نے کے لیے پہاڑوں کو وجود دیا وہ سائنس نہیں پتھر کا دور اور تم نے انہی پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر زمین کا توازن بگاڑ دیا
جس سے زمین زلزلوں و تباہیوں کی لپیٹ میں چلی گئی یہ دور ترقی کا دور ٹھہرا؟ واہ کیا سائنس و ترقی ہے تمہاری۔
میرے ربّ نے انسانوں کی ضروریات خلق کیں ان کے استعمال سے کبھی کوئی بیماری لاحق نہ ہوئی انسان کو، کوئی خرابی نہ ہوئی یہاں تک کہ پیٹ تک نہ پھولا اور یہ حضرت انسان ہے کہ اسی ربّ کے کاموں میں مداخلت کر کے اسی کی مخلوقات کو فساد زدہ کرتا ہے اور پھر الٹا الزام اسی پر عائد کرتا ہوا خود کو ترقی و خوشحالی پسند
قرار دیتے ہوئے مزید فساد کے لیے اپنی راہ ہموار کرتا اور اپنے ہمنوا تیار کرتا ہے۔
آج جو تم مصنوعی طریقوں سے خلق کر کے ترقی کے دعوے کر رہے ہو اس ترقی کی پول تو ہم ہر لحاظ سے کھولیں گے لیکن یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اے حضرت مفسد انسان جس علم کی بنیاد پر تو ترقی کا دعویدار بنا پھرتا ہے اس علم کے حصول کے لیے بھی تو اسی پتھر کے دور کی مخلوقات کا ہی محتاج ہے۔ انہی کی چیر پھاڑ کر کے
جو قوانین فطرت دریافت کرتا ہے اسی کی بنیاد پر تیرا دعویٰ کھڑا ہے ذرا اپنے نیچے اپنی بنیاد کی طرف تو جھانک؟
اے حضرت مفسد انسان پہلے اپنی اوقات تو بتا تیرا اپنا وجود ہی اسی دور سے مشروط ہے جسے تو پتھر و جہالت کا دور کہتا ہے؟
اے حضرت مفسد انسان تجھے جو وقت دیا تھا جو مدت تیرے لیے معین کی تھی جان لے وہ مدت آج پوری ہو چکی اب تو صرف اتنا ہی وقت ہے جتنا خواب کے
دوران بیدار ہونے میں ہوتا ہے۔
اے حضرت مفسدترقی کا دعویدار انسان تو کتنا عقل مند ہے اس کا اندازہ کیا لگانا تیرے اعمال خود چیخ چیخ کر تیری عقل مندی کی پول کھول رہے ہیں۔ ترقی کے نام پرایک دعویٰ کرتا ہے ایک منصوبہ بندی کرتا ہے جب اس پر عمل کرتا ہے تو وہی منصوبہ بندی الٹا تیرے گلے پڑ جاتی ہے اور پھر بہانہ یہ بناتا ہے کہ جو پہلو آج عمل کے ذریعے سامنے آیا جس وجہ سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ پہلو تھیوری کے وقت سامنے نہیں آ سکا اس لیے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اے حضرت مفسد ترقی کے دعویدار انسان چل تیرا یہ بہانہ قبول کیا لیکن یہ کیا جب تو آئندہ غلطی نہ کرنے اور اپنی تھیوری کے پرفیکٹ ہونے کے دعوے کیساتھ جب عمل کے میدان میں اترتا ہے تو پھر وہی ہوتا ہے اور یہی کرتے کرتے تُو نے آج اس دنیا کی کسی ایک مخلوق کو بھی سلامت نہیں چھوڑا۔ پوری دنیا، آسمانوں و زمین کو فساد زدہ کر دیا
ان میں خرابیاں کر دیں زمین کی ایسی حالت کر دی کہ عنقریب اس کا انجام وہی جہنم ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment