WARNING FROM MOTHER NATURE
رسول اللہ ﷺ قال: کأن رأسہ غصن شجرۃ۔ البدایہ والنھایہ
رسول اللہ ﷺ نے کہا: الدجّال کا راس ہو گا جیسے درخت کی شاخ۔
راس کہتے ہیں کسی بھی شئے کی چوٹی یا بلند ترین مقام کوجیسے آپ کے جسم کا بلند ترین مقام سر ہے جب یہ لفظ کسی بشر کے لیے استعمال ہو گا تو اس کے معنی بشر یعنی
آپ کا سر کے ہوں گے۔
الدجّال کا راس یعنی الدجّال کا بلند ترین مقام کیا ہے جب آپ غور کریں تو بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ الدجّال جو کہ ٹیکنالوجی ہے صنعتی انقلاب ہے موجودہ جدیدیت ہے تمام کی تمام سائنسی ایجادات یہ مشینیںجنہیں انسان ترقی و خوشحالی کا نام دیتے ہیں ان کا بلند ترین مقام یعنی ٹیکنالوجی کا بلند ترین مقام خلا میں
تیرتی ہوئی سیٹلائٹس ہیں اور لمبے لمبے کھمبے یعنی ٹاورز ہیں ۔
الدجّال جو کہ آج کا میڈیا ہے ، ٹی وی ہے، ریڈیو ہے، ٹیلی فون وغیرہ ہیں ان سب کا بلند ترین مقام ان کا انٹینا ہوتا ہے اور وہ بالکل ایسے ہے جیسے درخت کی
شاخ ہو۔ انٹیناز کے بارے میں آج سے چودہ صدیاں قبل بات کرنا مقصود ہوتا جب کہ اس کاکوئی وجود اور تصور تک بھی نہیں تھا تو اس سے بہتر کوئی الفاظ ہو سکتے ہیں جو محمد علیہ السلام نے اس وقت استعمال کیے؟ انٹیناز یعنی الدجّال کے راس جتنے بھی ہیں وہ کسی نہ کسی درخت کی شاخ سے ضرور مماثلت رکھتے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment