Saturday, July 30, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE




 DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA


قسط نمبر#13

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کو یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کے لیے اتارا گیا ؟
کیا محمد رسول اللہ کی بعثت کا مقصد یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کرنا تھی؟
کیونکہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر اپنا یہ قانون واضح کر دیا کہ اللہ رسول کو صرف اور صرف اسی وقت بعث کرتا ہے جب دنیا میں سو فیصد ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیاں ہوتی ہیں جب انسان سو فیصد ہی گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی حق کی ایک رائی بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود ہر کوئی حق کا
دعویدار ہوتا ہے حالانکہ کسی ایک کو بھی حق کا علم نہیں ہوتا۔
جیسا کہ ذیل میں آپ کوسورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۶۴ نظر آ رہی ہے
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْامِنْ
قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ آل عمران ۱۶۴
تحقیق کہ یہ بات طے شدہ ہے یعنی تمہیں سننے کے لیے کان دیئے گئے دیکھنے کے لیے آنکھیں اور جو سنائی اور دکھائی دے رہا ہے اسے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے دی گئی جو کہ تمہیں کہا جا رہا ہے اسے سنو اور سمجھو جب تم اسے سمجھو گے تو تمہارے سامنے وہی آئے گا جو کہ طے شدہ ہے جو قدر میں کر دیا گیاجو اللہ ہے مومنین پر تب بعث کرتا ہے رسول ان میں انہی میں سے جو تلاوہ کر رہا ہے ان پر اس کی آیات کی اور تزکیہ کر رہا ہے ان کا اور سکھا رہا ہے الکتاب اور الحکمہ اور اگر ہو رہے ہوں اس سے پہلے جو قدر میں کر دیا گیا ضلالٍ مبینٍ میں یعنی ہر لحاظ سے سو فیصد گمراہیوں میںہو رہے ہو جب نور کی ایک کرن بھی نہ ہو۔
اس آیت میں اللہ کا کہنا ہے کہ مومنین کے حوالے اسے اللہ پر جو ذمہ داری ہے وہ یہ ہے کہ جب دنیا سو فیصد گمراہیوں میں ہونور کی ایک کرن بھی نہ ہو تمام کے تمام انسان سو فیصد ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں ہوں بالخصوص جن میں یعنی امیّن میں رسول بعث کیا جاتا ہے تو امیّن سو فیصد کھلم کھلا گمراہیوں میں ہوں تب ہی اللہ ان میں انہی سے رسول بعث کرتا ہے جو آ کر ان پر اللہ کی آیات کی تلاوہ کرتا ہے یعنی وہ انتہائی ترتیب کیساتھ حق کھول کھول کر واضح کر تا ہے اللہ کی آیات کو حکمہ کیساتھ کھول کھول کر واضح کرتا ہے جس سے ان کاتزکیہ کرتا ہے ان میں جو ملاوٹیں ہوتی ہیں انہیں ہر لحاظ سے پاک صاف کر کے خالص اللہ کا غلام بناتا
ہے اور الکتاب سکھاتا ہے یعنی زمین و آسمانوں کا علم سکھاتا ہے اور اس علم کا صحیح استعمال بھی سکھاتا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا قانون واضح کر دیا کہ اللہ صرف اور صرف اسی وقت رسول بعث کرتا ہے جب انسان سو فیصد کھلم کھلا ہر لحاظ سے گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی حالانکہ اس کے باوجود ہر کوئی خود کو اہل حق اور ہدایت یافتہ سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ کسی
ایک کو بھی حق کا علم نہیں ہوتا سب کے سب سو فیصد گمراہیوں میں ہوتے ہیں۔
یعنی اگر دنیا میں نور کی ایک کرن بھی ہو رائی برابر بھی ہدایت موجود ہو تو اللہ رسول کو بعث نہیں کرتا اور یہی بات اللہ نے سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر دو میں بھی کہی جیسا کہ ذیل میں آیت آپ کے سامنے ہے۔
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ۔ الجمعہ ۲
وہی ہے ذات امیّن میں بعثت کیا رسول انہی میں سے، تلاوہ کررہاہے ان پر اس کی آیات کی اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور علم سکھاتا ہے الکتاب کا اور حکمت ،اور
اگر ہو رہے ہیں اس سے پہلے جو کہ قدر میں کر دیا گیا ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں کہ نور کی ہدایت کی ایک کرن بھی نہیں۔
حسب سابق اللہ نے آیت کے آخری حصے میں یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ اگر تھے اس سے پہلے کھلم کھلا ہر لحاظ سے سو فیصدگمراہیوں میں یعنی اگر وہ ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہیوں میں نہ ہوتے تو اللہ رسول بعث نہ کرتا جس سے یہ بات کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ جب اللہ نے اپنے رسول محمد کو بعث کیا تب پوری دنیا ہر لحاظ سے کھلم کھلا گمراہی میں تھی ان کے عقائد و نظریات جاہلانہ ، بے بنیاد اور محض ظن پر مبنی تھے نہ کہ علم پر مبنی اور قرآن میں جس موضوع کو بھی زیر بحث لایا گیا تو اس موضوع پر قرآن سے پہلے جو بھی عقائد و نظریات عام تھے وہ سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ تھے۔ یوں قرآن نے اس حوالے سے اس کے نزول سے پہلے پائے جانے والے تمام کے تمام عقائد ونظریات کا رد کرتے ہوئے ان کے برعکس حق بیان کیااس لیے اب آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جانی چاہیے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق جو یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں ان کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں
وہ محض بے بنیاد قصے و کہانیاں ہیں اور اس کے برعکس حق اللہ نے قرآن میں بیان کر دیا۔
آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات قرآن سے اخذ کردہ نہیں بلکہ بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے ہی عقائد و نظریات ہیں۔ یاجوج اور ماجوج سے متعلق مسلمانوں میں پائے جانے والے عقائد ونظریات قرآن کے پیش کردہ نہیں بلکہ بائبل سے اخذ کیے گئے۔ اب اگر اس کے باوجود کوئی اپنے سابقہ بائبلی یہودی و عیسائی عقائد ونظریات پر ڈٹا رہتا
ہے تو ایسا شخص اپنے عمل سے یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ نہ تو محمد اللہ کا رسول تھا اور نہ ہی قرآن اللہ کی طرف سے اتارا ہوا۔
کیونکہ اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ رسول کو صرف اور صرف تب بعث کرتا ہے جب دنیا سو فیصد ہر لحاظ سے گمراہیوں میں ہوتی ہے نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی لیکن ایسے شخص کا کہنا ہے کہ جب محمد کو بعث کیا گیا تب ہدایت موجود تھی لوگ حق پر تھے نور موجود تھا اب اگر حق تھا ہدایت تھی لوگ ضلالٍ مبینٍ میں نہیں تھے تو اس کا مطلب کہ محمد اللہ کا رسول نہیں تھا کیونکہ رسول کی بعثت ہوتی ہی تب ہے جب انسان سو فیصد گمراہیوں میں ہوں نور کی ایک کرن بھی نہ ہو اور جو ایسی حالت میں آئے کہ نور موجود ہو لوگ ہدایت یافتہ ہوں یا ان کے پاس کچھ نہ کچھ حق موجود ہو تو وہ رسول کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا شخص یاجوج اور ماجوج کے متعلق بائبلی عقیدے پر بھی ڈٹا رہے اور یہ بھی کہے کہ محمد اللہ کا رسول تھا تو اس کا مطلب کہ وہ اپنے عمل سے دعویٰ کر رہا ہے کہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ اللہ نے دو
ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں اختلافاً کثیراً پاتے جیسا کہ آپ آیت دیکھ رہے ہیں۔
اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ النساء ۸۲
کیا پس نہیں تدبر کررہے القرآن یعنی جو بھی تم پر قرا کیا جا رہا ہے تمہاری ہدایت کے لیے تم پر پڑھا جا رہا ہے تمہیں سنایا جا رہا اور اگر تھا کسی اور کے ہاں سے
اللہ کے علاوہ کہ تم پارہے ہو اس میں کثیر اختلاف یعنی ایک مقام پر کچھ کہا جا رہا ہے اور دوسرے مقام پر کچھ اور کہا جا رہا ہے۔
اب قرآن ایک طرف یہ کہے کہ رسول تب بعث کیا جاتا ہے جب انسان سو فیصد گمراہیوں میں چلے جائیں اور دوسری طرف اللہ اپنے دعوے کے بالکل برعکس تب رسول بعث کر دے جب حق موجود ہو نور موجود ہو ہدایت موجود ہو انسان ہدایت پر ہوں تو ظاہر ہے قرآن میں اختلاف ثابت ہو کر غیر اللہ کے ہاںسے
ثابت ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی دل سے نہ صرف محمد کو اللہ کا رسول بلکہ قرآن کو اللہ کی طرف سے اتارا ہوا تسلیم کرتا ہے تو اسے اپنے عمل سے بھی ثابت کرنا ہو گا اسے یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے بائبلی عقیدے کا انکار کرتے ہوئے اسے دماغ سے نکالتے ہوئے اس کے برعکس اللہ نے جو قرآن میں اس حوالے سے راہنمائی کی اسے تسلیم کرنا ہو گا ورنہ وہ نہ صرف اپنے عمل سے محمد کے اللہ کا رسول ہونے کا کفر کررہا ہے بلکہ اس کا عملاً دعویٰ ہے قرآن میں اختلافات پائے جاتے ہیں
یوں قرآن اللہ کے ہاں سے نہیں بلکہ غیر اللہ کے ہاں سے ہے۔
ویسے بھی اگر تو اللہ اس قرآن کے برعکس غیر قرآن سے راہنمائی لینے کی اجازت دے تو بلا شک و شبہ غیر قرآن سے نہ صرف ہدایت لی جا سکتی ہے بلکہ ہدایت مل بھی سکتی ہے لیکن جب اللہ اس کی اجازت ہی نہیں دیتا الٹا انتہائی سختی کے ساتھ غیر قرآن کی طرف رجوع کرنے سے منع کرتا ہے تو پھر غیر قرآن کی بات کیسے حق
ہو سکتی ہے؟ غیر قرآن آپ کی راہنمائی کیسے کر سکتا ہے؟ ایسا ممکن ہی نہیں کہ غیر قرآن آپ کی راہنمائی کر سکے۔

(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Friday, July 29, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE





 DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA

قسط نمبر#12

جب احسن الحدیث قرآن کو ترک کر کے اوروں سے راہنمائی لی جائے گی غیر قرآن سے راہنمائی کے لیے رجوع کیا جائے گا تو کیا غیر قرآن آپ کی راہنمائی کر سکتا ہے؟ نہیںممکن ہی نہیں۔ اور جو بات بھی یا جس سوال کا جواب آپ غیر قرآن سے حاصل کریں گے وہ کبھی بھی درست اور احسن جواب ہو ہی نہیں سکتا وہ
صرف اور صرف صرف گمراہی ہی ہو گی۔
جیسا کہ آپ پر بالکل کھول کر واضح کر دیتے ہیں کہ محمد نے کبھی بھی کسی ایک موقع پر بھی یہ نہیں کہا کہ یاجوج اور ماجوج نوح کے بیٹے یافت کے دو بیٹوں کے نام
تھے اور انہی کی نسلوں سے وجود میں آنے والے دو قبائل یاجوج اور ماجوج ہیں یا ان کی نسلیں یاجوج اور ماجوج ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یاجوج اور ماجوج کا انتظار صرف اور صرف مسلمان ہی نہیں کر رہے بلکہ ان سے پہلے سے ہی یہود ی اور عیسائی بھی یاجوج اور ماجوج کے انتظار میں ہیں ، یہودیوں اور عیسائیوں میں یاجوج اور ماجوج کے متعلق بالکل وہی عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں جو عقائد و نظریات مسلمان قوم میں پائے جاتے
ہیں۔
یاجوج اور ماجوج یافت کے دو بیٹوں کے نام تھے یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی مواد عہد نامہ قدیم یعنی اولڈ ٹیسٹا منٹ جسے خود کو مسلمان کہلوانے والے تورائت قرار دیتے ہیں وہاں سے اخذ کیے گئے اور حیران کن بات یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں کا دعویٰ تو یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائی کے مذہبی مواد عہد نامہ قدیم میں یافت کے دو بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج مذکور ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور حقیت جان کر آپ چونک جائیں گے کہ
کس طرح آج تک یہ بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے طور پر معروف خود کو اور اکثریت کو دھوکا دیتے رہے۔
مثال کے طور پر ایسی ہی دو مشہور و معروف شخصیات کا اس بارے میں کیا کہنا ہے اس کو آپ کے سامنے رکھتے ہوئے اس دھوکے کو واضح کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ یہ بات جان لیجیے کہ نوح اور ان کے بعد کی تاریخ بالخصوص نوح اور اس کے بیٹوں اور نوح کے بیٹوں کی نسلوں کی تاریخ کا دنیا میں ایک ہی ماخذ ہے اور وہ ہے بائبل۔ بائبل بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے جو مختلف انبیاء سے منسوب کی جاتی ہیں۔ بائبل دو حصوں میں تقسیم ہے پہلا حصہ پرانا عہد نامہ یعنی اولڈ ٹیسٹا منٹ کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ نیا عہد نامہ یعنی نیو ٹیسٹا منٹ کہلاتا ہے۔ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کو یہودی اور عیسائی تورائت قرار دیتے ہیں اور نئے عہد نامے کو چونکہ یہودی تسلیم نہیں کرتے اس لیے عیسائی اسے انجیل قرار دیتے ہیں یوں خود کو مسلمان کہلوانے والے یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں بائبل کے پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کو تورائت قرار دیتے اور نئے عہد نامے کو عیسائیوں کی اتباع میں انجیل قرار دیتے ہیںحالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ
تو بائبل کے پہلے مجموعے کی پہلی کتابیں توارئت ہیں اور نہ ہی بائبل کا نیا عہد نامہ انجیل۔
بہر حال یہ بات جان لیجیے کہ نوح، اس کے بیٹوں اور نوح کے بیٹوں کی نسلوں کی تاریخ کا اول ماخذ صرف اور صرف بائبل کا عہد نامہ قدیم ہے اس کے علاوہ آپ
کو جہاں بھی اس بارے میں تاریخ ملے گی وہ بائبل عہد نامہ قدیم یعنی اولڈ ٹیسٹامنٹ سے ہی نقل کی گئی ہو گی۔
ڈاکٹر اسرار کا دعویٰ ہے کہ نوح کے بیٹے یافت کے کئی بیٹے تھے ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے اور جاوید غامدی نے بھی وہی بات کی لیکن جاوید غامدی نے کہا کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے ان میں سے دو یاجوج اور ماجوج تھے لیکن حیران کن اور دہلا کر رکھ دینے والی بات تو یہ ہے کہ جہاں سے یہ اپنی بات اخذ کرنے کے دعویدار ہیں وہاں یعنی عہد نامہ قدیم جسے مسلمان تورائت قرار دیتے ہیں اس میں نہ تو یافت کے بیٹوں کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ یافت کے کئی بیٹے تھے اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے اور پھر اس سے بھی بڑھ کر چونکا دینے والی بات تو یہ ہے کہ یہ بھی نہیں لکھا ہوا کہ یافت کے دو
بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج تھے۔
حقیقت کیا ہے؟ عہد نامہ قدیم جسے مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں تورائت قرار دینے پر بضد ہیں اس میں جو لکھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یہ فیصلہ کر سکیں کہ جن کو بڑے بڑے علماء اور قرآن کے ترجمان کے طور پر جانا جاتا ہے جو دنیا میں اللہ کے نمائندے بنے
پھرتے ہیں ان کی حقیقت کیا جب بڑوں کی حقیقت یہ ہے تو پھر چھوٹے ملّاں جو انہی کی اتباع کرتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا۔
بائبل عہد نامہ قدیم کی پہلی کتاب پیدائش ۱۹،۱۸ :۹ میں لکھا ہے۔
نوح کے بیٹے جو کشتی سے باہر آئے تھے سم، حام اور یافث تھے۔۱۸
نوح کے یہی تین بیٹے تھے اور ان کی نسل ساری زمین پر پھیل گئی۔ ۱۹
پھر آگے ۲ :۱۰ میں لکھا ہے
یافت کے یہ بیٹے ہیں۔
جُمر، ماجوج، مادی، یاوان، توبل، مسک اور تیراس۔
اسی بائبل کا ہی حوالے دیتے ہوئے ڈاکٹر اسرار کا کہنا تھا کہ یافت کے کئی بیٹے تھے اور ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے اور جاوید غامدی کابھی اسی بائبل کا ہی حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے جن میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے لیکن حقیقت دونوں کے ہی بالکل برعکس
ہے۔
نہ تو یافت کے کئی بیٹے تھے جو کہ گنتی میں نہیں آ رہے تھے اور نہ ہی بقول جاوید غامدی دس گیارہ بیٹے تھے بلکہ بائبل میں تو واضح الفاظ میں یافت کے سات بیٹوں کا ذکر کیا گیا اور ان ساتوں کے نام بھی درج ہیں۔ اور پھر ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی کے بقول ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے یہ بات بھی سو فیصد
غلط ہے دو نہیں بلکہ ایک ہی بیٹے کا نام ماجوج تھا۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جن کو آج تک آپ اتنے بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے نام پر جانتے اور پہچانتے رہے ان کی حقیقت کیا ہے جب اتنے بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے دعویداروں کایہ حال ہے کہ جو بات وہ کر رہے ہیں وہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اس کے باوجود وہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بے بنیاد اور
باطل بات بغیر کسی خوف کے پیش کر رہے ہیں تو ان کی اتباع کرنے والوں کی حالت کیا ہو گی۔
اور یہ بات بھی جان لیں کہ یہ صرف ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی کی بات نہیں ہو رہی بلکہ سو فیصد ملّاؤں کی بات ہو رہی ہے ان دو کو تو بطور مثال سامنے رکھا گیا ہے کیونکہ ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی نے کوئی نئی بات پیش نہیں کی بلکہ انہوں نے بھی اسی کو نقل کیا جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا نقل
کرنے کا اپنا انداز ہے۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ یاجوج اور ماجوج کے اکثریت کے عقائد و نظریات کی جب بنیاد ہی غلط ہے من گھڑت ہے تو پورے عقیدے کی کیا اہمیت و حیثیت رہ
جاتی ہے اس میں کس قدر صداقت ہو گی یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل نہیں رہا۔
مسلمانوں میںیاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات وہی ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Thursday, July 28, 2022

   WARNING FROM MOTHER NATURE





 DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA



قسط نمبر#11

یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر دنیا کی مختلف زبانوں میں لا تعداد کتابیں مرتب کی گئیں وسیع پیمانے پر اس موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے تقاریر کی گئیں اور یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے طرح طرح کے عقائد و نظریات کو نہ صرف گھڑ کر اخذ کیا گیا بلکہ ان کی خوب تشہیر کی گئی لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک سامنے آنے والے تمام تر مواد میں حقیقت کے برعکس اپنے اپنے تراشیدہ بے بنیاد و باطل عقائد ونظریات کی بنیاد پر من پسند کہانیوں کو ہی پروان چڑھایا گیا جن سے حق کو پہچاننا تو بہت دور کی بات انسان الٹا گمراہی کا شکار ہوگئے اور اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہی الکتاب سے دوری ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی اللہ سے سوال کرے اور اللہ نے الکتاب میں یا قرآن میں اس سوال کا جواب نہ رکھا ہو۔ اس لیے ہم الکتاب کو معیار اور محور بناتے ہوئے اس موضوع کا
احاطہ کریں گے اور کوشش کریںگے کہ کسی بھی لحاظ سے کوئی بھی ایسی بات نہ کی جائے جس کی اجازت الکتاب یا قرآن نہ دیتا ہو۔
یاجوج اور ماجوج کو سمجھے بغیر فتنہ الدجّال کو سمجھنا بالکل ناممکن ہے اس لیے اس لحاظ سے بھی یاجوج اور ماجوج کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔ قرآن میں صرف دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کیساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ دونوں مقامات انتہائی غور طلب ہیں اور چونکا دینے والے ہیں۔ جب ہم ان دونوں مقامات کا احاطہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج کو ان کے اس صفاتی ناموں سے یعنی اسماء سے تو قرآن میں صرف دو ہی بار ذکر کیا گیا لیکن اس کے
علاوہ یاجوج اور ماجوج کا کثرت کیساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم یاجوج اور ماجوج کو ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھول کھول کر واضح کریں پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں ان عقائد و نظریات پر جو آج تک یاجوج اور
ماجوج کے حوالے سے پائے جاتے ہیں پھر اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کو بالکل کھول کر واضح کریں گے۔
یاجوج اور ماجوج اور ان کے خروج سے متعلق آج تک نہ صرف ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جا چکیں بلکہ لا تعداد اس موضوع پر خطابات کیے گئے
لیکن ان سب کے باوجود آج تک یہ سوال کا سوال ہی رہا کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں۔ اتنا لکھے اور بولے جانے کے باوجود بھی آج تک اکثریت اس موضوع پر ایک دوسرے سے اختلاف ہی کر رہی ہے یوں یہ موضوع مزید پیچیدگیوں اور الجھنوں کا شکار ہو گیا۔ سب سے پہلے یاجوج اور ماجوج کے بارے
میں پائے جانے والے عقائد و نظریات کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں اس کے بعد اس کے برعکس حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر آپ پر واضح کریں گے۔
خود کو قرآن کے ترجمان کہلوانے والوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ نوح کے تین بیٹے تھے جن کے نام سام، حام اور یافت تھے ان میں سے یافت کے دو بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج تھے ان دونوں کی نسلوںسے وجود میں آنے والے دو قبائل کے نام یاجوج اور ماجوج ہیں اور پھر مزید کہا جاتا ہے کہ ذی القرنین نے انہیں ایک دیوار کے پیچھے بند کر دیا تھا جو قیامت کے قریب آزاد ہوں گے ہر بلندی سے اتریں گے ہر شئے کھا پی جائیں گے سب چشموں کا پانی اس طرح پی جائیں گے کہ پانی کا نام و نشان تک مٹ جائے گا وہ اہل زمین کا قتل عام کریں گے اس کے بعد وہ کہیں گے کہ اہل زمین کو تو قتل کیا جا چکا اب آسمان والوں کو قتل کرتے ہیں یوں وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے اور اللہ اوپر آسمانوں سے ان کے تیر خون آلود کر کے واپس زمین کی طرف بھیجے گا جس سے وہ سمجھیں گے کہ ہم
آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے پھر عیسیٰ رسول اللہ کی دعا سے ایک کیڑے یا ایک آگ سے ان کو ہلاک کر دیا جائے گا۔
خود کو مسلمان کہلوانے والوںکی اکثریت انہی عقائد و نظریات کی حامل ہے اکثریت کے نزدیک یاجوج اور ماجوج کسی فلمی کردار سے بڑھ کر کوئی اہمیت نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اچانک پہاڑوں سے سیلاب کی مانند اتریں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی حق ہے؟ حقیقت یہی ہے یا پھر حقیقت اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے اور آج تک حقیقت کے برعکس یاجوج اور ماجوج کو دیو مالائی کہانی بنا کر اس کی
خوب تشہیر کی گئی جو زبان زد عام ہو گئی حالانکہ اس کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہیں؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ہو گا کہ یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے پایا جانے والا یہ عقیدہ و نظریہ آیا کہاں سے؟ کیا یہ عقیدہ
و نظریہ قرآن سے اخذ کیا گیا یا پھر غیر قرآن سے اخذ کیا گیا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس عقیدہ کی حامل اکثریت کا کہنا ہے کہ قرآن یاجوج اور ماجوج پر کھل کر بات نہیں کرتا پورے قرآن میں صرف دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کا ذکر آیا ہے اور دونوں مقامات پر ہی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں اور ان سے متعلق باقی کسی بھی سوال کا جواب ان دونوں مقامات پر نہیں ملتا یعنی ان عقائد و نظریات کے حامل اکثریت کا کہنا ہے نہ صرف کہنا ہے بلکہ دعویٰ ہے کہ پورا قرآن یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کرنے سے قاصر ہے اس لیے یاجوج اور ماجوج سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے ہم نے احادیث کے نام پر روایات سے رجوع کیا اور احادیث کے نام پر روایات نے ہمیں یاجوج اور ماجوج سے متعلق ہمارے ہر سوال کا جواب دیا یوں روایات سے یاجوج اور ماجوج کے بارے میں پایا جانے والا عقیدہ اخذ کیایعنی اس عقیدے کے حاملین کا اپنی زبان سے یہ کہنا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ قرآن سے نہیں بلکہ غیر قرآن سے اخذ کیا جو کہ روایات ہیں اور انہیں یہ
احادیث کا نام دیتے ہیں کہ محمد نے یاجوج اور ماجوج پر جو راہنمائی کی ہمارے وہی عقائد و نظریا ت ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعتاً اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ قرآن یاجوج اور ماجوج پر راہنمائی نہیں کرتا جو انہیں یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کے لیے غیر قرآن سے رجوع کرنا پڑا؟ اور یاجوج اور ماجوج کے بارے میں ان کے جو عقائد و نظریات ہیں کیا واقعتاً محمد علیہ السلام نے بھی وہی سب
کہا؟
جیسے جیسے آگے بڑھیں گے تو آپ جان جائیں گے کہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر یہ بات واضح کر دی کہ کوئی ایک بھی سوال ایسا نہیں کوئی ایک بھی معاملہ یا مسئلہ ایسا نہیں جس کا جواب جس کا حل اس قرآن میں نہ ہو اور آپ پر آگے چل کر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن تو اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی تاریخ ہے۔ قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک جو کچھ بھی ہونا تھا اللہ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی قرآن کی صورت میں اس کی مکمل اور احسن تاریخ اتار دی تھی اب اگر اس کے باوجود کوئی یہ کہتا ہے کہ قرآن میں اہم ترین موضوع یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے راہنمائی نہیں کی گئی تو اس کا مطلب کہ وہ نہ صرف اس قرآن کے احسن الحدیثِ ہونے کا کفر کر رہا ہے بلکہ اس کا عملاً یہ دعویٰ ہے کہ وہ سچا اور اللہ جھوٹا ہے وہ سچا اور قرآن جھوٹا ہے، قرآن میں مکمل راہنمائی موجود نہیں ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Wednesday, July 27, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature Kalki Avatar Krishna The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں Part 1 https://archive.org/details/AlKitabAh... Part 2 https://archive.org/details/AlKitabAh... Part 3 https://archive.org/details/AlKitabAh... Part 4 https://archive.org/details/AlKitabAh... Part 5 https://archive.org/details/AlKitabAh... Part 6 https://archive.org/details/AlKitabAh... Part 7 https://archive.org/details/AlKitabAh...

WARNING FROM MOTHER NATURE



 DOWNLOAD WARNING FROM MOTHER NATURE

قسط نمبر#10

محمد علیہ السلام نے جب فتنہ الدجّال سے حفاظت کے لیے سورت الکہف کی تلاوت کا حکم دیا تو اس کا مطلب ہے کہ سورت الکہف میں فتنہ الدجّال اور اس فتنے سے بچنے کا مکمل علم موجود ہے یعنی کہ ایسا قطعاً نہیں ہو سکتا کہ محمد علیہ السلام فتنہ الدجّال سے حفاظت کے لیے سورت الکہف کی تلاوت کا حکم دیں اور کوئی یہ کہے کہ سورت الکہف تو دور کی بات پورے قرآن میں ہی فتنہ الدجّال کا کوئی ذکر موجود ہی نہیں۔ اگر کوئی ایسا کہتا ہے یا آپ کہتے یا مانتے ہیں، ایسا عقیدہ یا نظریہ اخذ
کریں گے تو گویا کہ آپ نے محمد علیہ السلام پر افتراء کیا، بہتان عظیم باندھا۔
یہ بالکل ایسا ہی ہو گا کہ آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں کہ آپ کو دانتوں کا مرض ہو لیکن ڈاکٹر آپ کو پاؤں درد کی دوا تھما دے یعنی کہ نہ اس میں بیماری کی تشخیص کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کی دوا تجویز کرنے کی۔ محمد علیہ السلام پر کسی قسم کا بہتان باندھنے کی بجائے سورت الکہف کے ذریعے مرض یعنی فتنہ
الدجّال کی تشخیص بھی کریں گے اور اس کے علاج کے لیے اس کی دوا بھی اسی سے اخذ کریں گے ۔
موضو ع لمبا ہونے کی وجہ سے ہم پوری سورت الکہف پر بات تو نہیں کریں گے لیکن ہم موضوع کے اعتبار سے سورۃ الکہف میں ان بنیادی نکات کو سامنے رکھتے
ہوئے بات کریں گے جن سے ایک تو پوری سورت کا احاطہ ہو جائے اور دوسرا ہمارے موضوع کی صراحت کیساتھ وضاحت ہو جائے۔
سورت الکہف میں سب سے پہلے بنی اسرائیل میں سے ان کا ذکر آتا ہے جو عیسٰی ابن مریم کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں یعنی کہ عیسائی اور ان کے فوراً بعد اصحاب الکہف کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اس معاشرے کو چھوڑنا پڑا اور جن وجوہات کی بنا پر اس معاشرے کو چھوڑنا پڑا ان کی سختی کو ان کی اللہ سے کی گئی دعا سے با آسانی سمجھا
جا سکتاہے اور اسی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی حفاظت کی اس کی صراحت کے ساتھ وضاحت آگے اپنے مقام پر آئے گی۔
عیسیٰ ابن مریم کے گزر جانے کے کچھ عرصے بعدبنی اسرائیل جو کہ یہود میں سے تھے ان کی حکومت قائم تھی اور دینی حالات ایسے تھے جیسے کہ آج موجودہ دنیا میں حالات ہیں اس دوران سات نوجوان عیسیٰ ابن مریم پر ایمان لائے اور اس معاشرے میں دین پر قائم رہنا ناممکن حد تک مشکل تھا جس کی وجہ سے انہیں ہجرت کرنا پڑی اور دنیا کے حالات ایسے تھے کہ جیسے اللہ کی زمین پر کوئی ایک بھی ایسا خطہ ان کی پہنچ میں نہیں تھا جہاں پر رہ کر وہ ایمان لانے کا حق ادا کر سکیں۔
بیلے میں یعنی ایسے علاقے میں جہاں انسان آباد نہیں تھے وہاںایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے وہ ذات جس نے ہمیں خلق کیا اور کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا اور جس مقصد کے لیے خلق کیا اگر ہم وہ مقصد پورا نہ کریں گے تو نہ صرف ہم خود خسارے میں رہیں گے بلکہ تیرے وضع کردہ المیزان میں بھی خسارے کا باعث بنیں گے اس لیے اگر ہم نے وہ مقصد پورا نہ کیا تو ہم خسارے میں رہیں گے چونکہ اب ہم اس مقصد کو جان چکے ہیں ہم پر حق واضح ہو چکا ہے اور تُو جانتا ہے کہ اس وقت دنیا کے ایسے حالات ہو چکے ہیں کہ وہ مقصد پورا کرنا ممکن نہیں اس لیے صرف تو ہی ایک ایسی ذات ہے جو ہماری حفاظت کر سکتی ہے اس لیے خالص اپنی ہی طرف سے ہماری حفاظت کر جس کے جواب میں اللہ نے یعنی فطرت نے انہیں تب تک ایسی حالت میں کر دیا کہ ان پر وقت اثر انداز نہ ہو اور وہ ایسی کیفیت میں رہے کہ جیسے انسان آنکھیں کھول کرسویا ہوا ہواور کروٹیں بدلتا رہے لیکن دیکھنے والے اسے جاگتا ہوا محض لیٹا ہوا
تصور کریں جب تک کہ اس خطے میں دین قائم نہ ہو گیا۔
سورۃ الکہف کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کے دونوں گروہوں کا ذکر ملتا ہے یہود یوںکا بھی اورعیسائیوں کا بھی اور عیسائی وہی تھے جو پہلے یہود تھے عیسیٰ ابن مریم پر ایمان نہیں لائے تھے لیکن جیسے جیسے عیسیٰ ابن مریم پر ایمان لانے والوں کی کثرت ہوتی گئی اور علاقے فتح ہوتے گئے تو یہ یہود بھی عیسیٰ پرایمان لا چکے
تھے جن کی پہلے حکومت تھی جن کی وجہ سے اصحاب الکہف یعنی کہ خالص اللہ پر ایمان لانے والے آزمائش کا شکار ہوئے۔
اس سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ فتنہ الدجّال کی ابتداء کرنے والوں میں پیچھے یہودی ہوں گے لیکن بظاہر پوری دنیا پر عیسائی غالب آ جائیں گے۔ دنیا پر ان کا غلبہ یا غلبے کے لیے جب جدوجہد شروع ہو جائے گی تو فتنہ الدجّال کی راہ ہموار ہو نا شروع ہو جائے گی اگر ان کا رستہ نہ روکا گیا انہیں مغلوب نہ کیا گیا تو پھر مومنوں کے لیے یہ دنیا کے حالات بالکل ویسے ہی کر دیں گے جیسے اصحاب الکہف کے لیے ہو گئے تھے دنیا کے حالات ایسے تھے کہ وہ جس مقصد کے لیے دنیا
میں بھیجے گئے اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔
پھر تیسرا واقعہ موسیٰ اور اللہ کے ایک غلام کا ہے اورپھر چوتھا واقعہ ذی القرنین کا ہے جس میں یاجوج اور ماجوج کا واضح ذکر موجود ہے۔ یاجوج اور ماجوج کا فتنہ الدجّال سے بہت گہرا تعلق ہے اس لیے فتنہ الدجّال کو سمجھنے کے لیے یاجوج اور ماجوج کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور پھر یاجوج اور ماجوج کا ذی القرنین کے واقعے میں ذکر کیا جانا یہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ذی القرنین کے بارے میں بھی جاننا اشد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جب مجموعی طور پر سورت الکہف میں نظر دوڑائیں تو اللہ نے دنیا وی مال و متاع، دنیا کی زینت یعنی وہ اشیاء جو آخرت سے غافل اور دنیا کی طرف رغبت
دلاتی ہیں سے بچنے کے لیے بہت زور دیا ہے۔
ہم ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کتاب میں سب سے پہلے الکتاب اورقرآن کی روشنی میں یاجوج اور ماجوج کو کھول کھول کر واضح کریں گے اس کے بعد ذی القرنین کے بارے میں حق کھول کھول کر واضح کریں گے تا کہ آپ پر مزید حقائق کھل کر واضح ہو جائیں پھر انہی سے متعلقہ وہ تمام معاملات جو سامنے آتے جائیں گے ان کو بھی ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کریں گے اس طرح جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے تو ہر شئے کی حقیقت کھل کر واضح ہو جائے گی اورآپ فتنہ الدجّال کو بالکل کھل کر پہچان جائیں گے اس میں کسی بھی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہے گا۔ اب سب سے پہلے یاجوج اور ماجوج کو کھول کر

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Tuesday, July 26, 2022

 

WARNING FROM MOTHER NARURE





DOWNLOAD MOTHER NATURE 


END OF TIME | Episode #1 | Documentary By NABA7 TV on Fitna Dajjal | Ahmed Isa Documentary
QATAL E DAJJAL (NABA7 TV Documentary)

END OF TIME Documentary By NABA7 TV on Fitna Dajjal, AntiChrist Yajooj Majooj, Dajjal Arrival, Advanced Technology Mentioned in Quran, Imam Mahdi, Hazrat Essa, Dabbatul Ardh, Al Qariah, Al Haqqah, Signs of Qayamat, End of Times, Judgement Day, World War 3, Qayamat Ka Azab, Qabar Ka Azab, Deen E Islam, Deen E Fitrat.
Part 1
Part 2
Part 3
Part 4
Part 5
Part 6
Part 7
This cannot change the fact

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...