Wednesday, August 31, 2022

                               WARNING FROM MATURE KRISHNA


قسط نمبر#32

اس کے علاوہ ستر سے اسی فیصد انتہائی زہریلے کیمیکلز والا محلول جو زمین میں جذب ہو چکا ہوتا ہے وہ زمین میں موجود پانی میں شامل ہو کر اسے زہریلا اور نقصان دہ بنا دیتا ہے اسی پانی کو جب انسان استعمال کرتے ہیں اور پودوں اور فصلوں کو اس سے سیراب کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ، زمین ناقابل کاشت ہو کر بنجر بن جاتی ہے اور اگر نباتات نکالتی بھی ہے تو وہ زہر ہی نکالے گی جس کو کھانے والے نقصانات کا ہی سامنا کریں گے، یوں زمین کی تمام مخلوقات میں فساد کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی بالکل ایسے ہی جیسے ٹائم بم کا بٹن ایک بار دبا دیا تو وہ پھٹنے کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے جب اس کا ٹائم پورا ہو جاتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے ایسے ہی زمین کے ساتھ کیا جا چکا ہے اس فساد کی وجہ سے یہ دن بہ بدن ایک آخری بڑی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے بالآخر یہ زمین النار یعنی وہی جہنم بن جائے گی جس کا وعدہ کیا گیا۔
فریکنگ کے لیے زمین میں داخل کیے جانے والے زہریلے کیمیکلز کیسے زمین میں موجود پانی میں شامل ہوتے ہیں ذیل میں دی گئی تصویر میں دیکھیں۔
امریکہ کے صوبے ٹیکساس میں صرف ۲۴ گھنٹوں کے دوران یعنی محض دن میں ایک اعشاریہ سات سے تین اعشاریہ چھ شدت کے گیارہ زلزلے آئے سائنسدانوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیموں نے جب ان زلزلوں کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ ان زلزلوں کی وجہ زمین سے فریکنگ کے ذریعے
خام تیل کا نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے صوبے اوہیو میں ۴ اگست ۲۰۱۴ سے لیکر ۱۲ اگست ۲۰۱۴ تک یعنی صرف ۸ دنوں میں ۷۷ زلزلے آئے۔
تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ان تمام زلزلوں کی وجوہات بھی فریکنگ کے ذریعے زمین سے خام تیل کا نکالنا ہے۔
آج دنیا میں جتنے بھی زلزلے آ رہے ہیں ان کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ زمین سے خام تیل اور گیس کا نکالا جانا ہے۔ آپ پر پیچھے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا کہ اللہ نے کہا کہ جیسے تمہیں خلق کیا اسی طرح باقی تمام مخلوقات کی مثال ہے اسی طرح آسمانوں اور زمین کو خلق کیا ان کی مثال تم ہی کی طرح ہے ،تو اگر آپ
کے جسم سے خون نکالا جائے تو کیا آپ کا جسم کانپ نہیں اٹھے گا؟
جب آپ کا جسم خون نکالنے کی وجہ سے کانپتا ہے تو پھر اگر زمین کا خون نکالا جائے اور وہ کانپے نہیں یہ اللہ کے قانون اور اس کی سنت کے ہی خلاف ہے۔ ہم نے پیچھے بہت تفصیل کیساتھ آپ پر واضح کر دیا کہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر کہا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کچھ حق کیساتھ خلق کیا ہے۔ آج اگر آپ اپنی خواہشات کو اپنا الٰہ بنائے رکھیں اپنی خواہشات کی اتباع کرتے رہیں اور یہ بھی چاہیں کہ زمین پر کچھ ہو نہ سب کچھ ٹھیک
رہے یہ کیسے ممکن ہے؟
اللہ نے قرآن میں واضح کھول کر بیان کر دیا۔
جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ وَ اَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ۔ المومنون ۷۰
ان میں انہی سے آ گیا اللہ کا بھیجا ہوا حق کیساتھ اور اس وقت جو موجود ہیں جن میں جن کے لیے اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہے ان کی اکثریت کے لیے حق ایسا ہے جو انہیں
ناگوار گزر رہا ہے ان کو کراہت ہو رہی ہے تکلیف ہو رہی ہے۔
وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآئَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ۔ المومنون ۷۱

اور اگر اس کی اتباع کی گئی جسے یہ اپنی خواہشات کے بل پر حق کہہ رہے ہیں یعنی حق ہے نہیں مگر اپنی خواہشات کو حق کا نام دیکر ان کی اتباع کر رہے ہیں تو
آسمانوں اور زمین اور جو بھی ان میں ہے سب کچھ درہم برہم ہو گا سب میں بگاڑ پیدا ہو گا۔
اس آیت میں اللہ کا کہنا ہے کہ حق وہ ہے جس کی اتباع کرنے سے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا سب ٹھیک رہے کہیں پر بھی کسی میں بھی کوئی بگاڑ نہ ہو اور اگر جسے یہ حق کہتے ہیں اس کی اتباع کی جاتی ہے اس کے پیچھے چلا جاتا ہے اور اس کے باوجود آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کے سب میں بگاڑ پیدا ہو جاتاہے تو پھر یہ حق نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی خواہشات ہیں جنہیں انہوں نے آج تک حق کا نام دیئے رکھا اور آج بھی حق کا نا م
دے رہے ہیں۔
یہ آیت حق و باطل کی پہچان کے لیے دہلا دہنے والی آیت ہے ذر اغور کریں جو خود کو مسلمان کہلواتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا دین ہی دین حق ہے یہ خواہشات کی اتباع نہیں کر رہے، اگر واقعتاً ایسا ہوتا یہ اپنے قول میں سچے ہوتے جسے یہ آج تک حق کا نام دیکر آباؤاجداد سے لیکر آج تک کرتے چلے آ رہے ہیں تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے کہیں بھی کسی ایک بھی خلق میں فساد نہیں ہونا چاہیے تھا، آسمانوں اور زمین اور جو بھی ان میں ہے کسی مخلوق میں بگاڑ نہیں ہو نا چاہیے تھا اور اگر ایسا ہو جاتا ہے یعنی آسمانوں و زمین میں فساد ہو جاتا ہے تو پھر جسے یہ آج تک حق کہتے آئے اور آج بھی حق کہہ رہے ہیں یہ حق نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی خواہشات ہیں جنہیں یہ حق کہہ کر ان کی اتباع کر رہے ہیں۔ اور جب آج آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے یعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہوں اور جو بھی ان میں ہے ان میں غور کیا جائے تو سب کے سب میں فساد ہو چکا اور فساد ظاہر بھی ہو چکا کچھ بھی سلامت نہیں رہا توجب لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ہو چکا تو پھر جسے یہ دین حق کا نام دے رہے ہیں یہ دین حق نہیں بلکہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ان کے پاس علم بالکل نہیں ہے یہ بہت بڑے جاہل ہیں جو اپنی خواہشات کو حق کا نام دیکر ان کی اتباع کر رہے ہیں اگر ان سے بات کی جائے گی کوئی دلیل طلب کی جائے گی تو یہ آپ کو آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے بلکہ یہ آپ کو گالیاں دیں گے تشدد پر اتر آئیں گے آپ کیساتھ جھگڑیں گے جو کہ باطل کی علامت
ہے۔ ان کے علاوہ بھی جتنے بھی ادیان ہیں دور جدید کا سب سے بڑا اور پر کشش دین سائنس اس کی بھی حقیقت یہی ہے کہ یہ حق نہیں بلکہ یہ بھی اپنی خواہشات
کو ہی حق کا نام دے کر ان کی اتباع کر رہے ہیں ۔
اس بات کو آپ بہت ہی آسانی سے جان سکتے ہیں آج سائنسدان کہلانے والوں کا خود ہی کہنا یہ ہے کہ ان کے علم کے مطابق آسمان اور زمین کھرب ہا سال سے موجود ہیں اور اتنے عرصے میں کبھی کوئی رائی برابر بھی خرابی نہیں ہوئی لیکن انسان نے آج صرف چند ہی صدیوں میں آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کے سب کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
آج پوری زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہیں جو کہ سات آ سمان ہیں ان سائنسدانون کے لیے ایک لیبارٹری یعنی تجربہ گاہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے پہل یہ اپنے بند کمروں میں بہت ہی چھوٹی سطح پر تجربات کرتے تھے لیکن آج یہ آسمانوں اور زمین میں ہر جگہ بڑی بڑی سطح پر تجربات کر رہے ہیں اوراس
وقت تقریباً دنیا کا ہر انسان ہی نہ صرف ان کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے بلکہ بڑھ چڑھ کر اس فساد میں حصہ لیکر اللہ کا شریک بنا ہوا ہے۔
یہ حق ہے لیکن اکثریت کے لیے یہ سب تسلیم کرنا آسان نہیں ہے اکثریت کو حق ناگوار ہی گزرے گا اس لیے کیونکہ انہوں نے اپنی خواہشات کو حق کا نام دیا ہوا ہے جس کا انجام بھی یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے باوجود یہ اللہ سے رجوع نہیں کریں گے اور یہ حق سے ان کو کراہت ہی ہو گی کیوں کہ یہ اندھے
ہیں۔
(جاری ہے)۔۔ 


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Tuesday, August 30, 2022

                                  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#31

فریکنگ یا ہائیڈرولک فریکنگ

فریکنگ یا ہائیڈرولک فریکنگ کیا ہے؟
یہ زمین سے خام تیل نکالنے کے جدید اور کار آمد ترین طریقے کا نام ہے دنیا میں زمین سے نکالے جانے والے مجموعی خام تیل کا ۶۰ فیصد سے زیادہ اسی طریقے
سے نکالا جا رہا ہے یعنی دنیا میں ۶۰ فیصد سے زیادہ خام تیل اور قدرتی گیس فریکنگ کے ذریعے نکالے جا رہے ہیں۔
فریکنگ کو جاننے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ زیر زمین خام تیل اور قدرتی گیس کس صورت میں موجود ہے۔ دنیا کی اکثر آبادی یہ سمجھتی ہے کہ خام تیل کے زیر زمین ذخائر سمندروں یا دریاؤں کی صورت میں موجود ہیں جنہیں زمین سے بالکل اسی طرح نکالا جاتا ہے جیسے عام طور پر زمین سے پانی نکالا جاتا ہے یعنی زمین میں سوراخ کر کے پمپ کے ذریعے باہر نکال لیا جاتا ہے حالانکہ اس میں کسی حد تک حقیقت موجود ہے لیکن یہ بات سو فیصد درست نہیں ہے۔
زیر زمین خام تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر سمندوں یا دریاؤں کی صورت میں نہیں بلکہ زمین کی چند ہزار میٹر گہرائی میں سخت چٹان کی ایک تہہ ہے جسے شیل بیڈ کا نام دیا جاتا ہے اور یہ وہی چٹان کی تہہ ہے جس سے دنیا میں زیادہ تر چٹان کے پہاڑ وجود میں آئے۔ اس چٹان میں جگہ جگہ خالی جگہیں ہیں جیسے مثلاً اگر آپ کیک ، ڈبل روٹی جسے بند بھی کہا جاتا ہے یا بریڈبنائیں اور جب اسے کاٹیں تو اس میں سوراخ ہی سوراخ نظر آئیں گے جیسے فوم میں ہوتے ہیں بالکل اسی طرح
کی زیر زمین سخت چٹان ہے جس میں موجود خالی جگہوں میں خام تیل اور قدرتی گیس موجود ہے۔
انہیں نکالنے کے لیے سب سے پہلے زمین میں سیدھا نیچے کی جانب سوراخ کیا جاتا ہے اور جب یہ سوراخ اس چٹان کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے جس میں تیل اور
گیس موجود ہوتی ہے تو پھر اس سوراخ کو دائیں یا بائیں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے اس طرح یہ انگلش کے حرف ایل کی طرح کا سوراخ بن جاتا ہے۔
ذیل میں دی گئی تصاویر کی مدد سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔
پھر اس سوراخ میں جدید ترین اور طاقت ور ترین پمپ مشینوں کے ذریعے ایک محلول ڈالا جاتا ہے جس میں کم از کم ۸۰ لاکھ لیٹر پانی، جتنا پانی ایک دن میں تقریباً پینسٹھ ہزار سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہیں ، چندہزار ٹن مٹی اور دو ہزار لیٹر کیمیکلز جس میں سات ہزار قسم کے دھماکہ خیز ، تباہ کن اور زہریلے کیمیکلز شامل ہوتے ہیں ان سے بنے محلول کو اس سوراخ میں ڈالا جاتا ہے جو زمین میں چٹان کی تہہ میں اس طرح دراڑیں ڈال دیتا ہے کہ چٹان کی تہہ جگہ جگہ سے
پھٹ کر کتاب کے صفحات کی طرح الگ الگ ہو جاتی ہے جو کھجور کی شاخ کی طرح نظر آتی ہے۔
اس کے بعد اس محلول کو باہر نکال لیا جاتا ہے لیکن مکمل طور پر محلول کو باہر نکالنا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ اس محلول کا ستر سے اسی فیصد زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور صرف بیس سے تیس فیصد ہی باہرنکل پاتا ہے۔ اس کے بعد اس سوراخ میں پانی بھر کر اسے ایسے دبایا جاتا ہے جیسے جسم میں ٹیکا یعنی انجکشن لگا یا جاتا ہے کہ اس میں موجود ساری دوا جسم میں داخل ہو جاتی ہے اس طرح پانی کو ہائی پریشر سے داخل کرنے سے چٹان کی دراڑیں ۲ سینٹی میٹر سے زیادہ وسیع ہو جاتی ہیں جس سے دور دور تک موجود خام تیل اس سوراخ میں جمع ہوتا رہتا ہے اورپھر تقریباً کم سے کم بیس سے چالیس سال اور سو سال سے زائد عرصہ تک اس سوراخ پر پمپ
یا مشین لگا کرتیل نکالا جاتا ہے۔
جیسے جیسے زمین کی اس تہہ سے تیل اور گیس نکلتا جاتا ہے وہ فوم کی شکل اختیار کرتی جاتی ہے ۔ جیسے فوم نے پانی وغیرہ چوسا ہو تو اس میں موجود تمام سوراخ بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن جب اس سے پانی وغیرہ نکال لیا جائے تو پھر وہ کھوکھلا اور نرم ہو جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کھوکھلی جگہ تباہ ہوتی چلی جاتی ہے اور اسی سے زلزلہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے علاوہ جگہ جگہ سے زمین اندر دھنس جاتی ہے یعنی جب اس کھوکھلی جگہ جو کہ بہت وسیع ہوتی ہے، پر وزن کا دباؤ بڑھتا ہے تو وہ فوم کی طرح دب جاتی ہے یوں زمین کی اوپر والی تہہ جس پر ہم رہائش پذیر ہیں وہ بھی اسی سے دھنستی ہے۔ موجودہ وقت میں یہ سلسلہ قدرے سست ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا زمین کا دھنسنا ناقابل یقین حد تک بڑھ جائے گا یہاں تک کہ پوری کی پوری بستیاں ہی دھنس جائیں گی اور

یوں جیسے جیسے وقت گزرتا چلا جائے گا زلزلوں میں بھی حیران کن اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
اس کے علاوہ زمین کی زرخیزی بھی شدید متاثر ہو کر زمین بنجر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ زمین آہستہ آہستہ صحرا میں بدل جاتی ہے۔
زمین سے خام تیل اور گیس نکالنے کی وجہ سے دھنسنے والی زمین کو آپ درج ذیل تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

(جاری ہے)۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Monday, August 29, 2022

                               WARNING FROM MOTHER NATURE

END OF TIME | Episode #5 | Documentary By NABA7 TV on Fitna Dajjal | Ahmed Isa Documentary

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7




                               WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#30

صُمّ’‘ بُکْم’‘ عُمْی’‘ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ۔ البقرۃ ۱۸
بہر ے ہیں ان کو نہیں سنایا جا سکتا نہ یہ سن سکتے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں پس یہ خود ہی نہیں رجوع کر رہے یعنی جب تک کہ ان کے سر پر نہیں پڑے گی تب
تک یہ نہیں سننے ، بولنے اور دیکھنے والے واپس پلٹنے والے کہ انہیں جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا اسے پہچان کر اسے پورا کریں۔
شکر کرنا یہ ہے کہ اللہ نے جو کان، آنکھیںاور دل سمیت جو کچھ بھی دیا ان سب کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا جس مقصد کے لیے اللہ نے سب یا ان میں سے کچھ بھی دیا۔ آپ کو بھی کان، آنکھیں اور دل دیئے اور جانوروں کو بھی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کو ان کا استعمال جانوروں سے بڑھ کر کرنا ہے آپ کو اللہ کی آیات میں جو کہ آپ بذات خود اللہ کی آیت ہیں آپ کے جسم کے تمام اعضاء حتیٰ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اللہ کی آیات ہیں اور وہ سب بھی جن میں غورو فکر کرنے سے یا کسی بھی طرح انسان اللہ کو پہچان سکے ، شئے کی حقیقت تک پہنچ سکے ، دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھ سکے اور پورا کیسے کرنا ہے جان سکے وہ سب اللہ کی آیات ہیں ان میں غورو فکر کرنے کے لیے سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دیں تا کہ جب آپ انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کریں تو آپ پر آپ کی اس دنیا میں موجودگی کا راز کھل جائے ، آپ پر حق بالکل کھل کر واضح ہو جائے اور آپ اس مقصد کو جان اور پہچان کر اسے پورا کر سکیں۔
ورنہ آپ چاہتے ہوئے بھی وہ مقصد پورا نہیں کر سکتے، پورا کرنا تو دور کی بات آپ اسے جان تک نہیں سکتے اور آپ کا شمار بھی جانوروں میں ہو گا کہ آپ محض ان کا استعمال اپنا پیٹ پالنے اور اپنی خواہشات کو پورا کرنیکی غرض سے کریں گے اور اللہ کے عظیم کار خانے میں صرف اور صرف فساد کا ہی موجب بنیں گے۔
جانور تو پہلے ہی اللہ کی غلامی میں ہیں یہ جن و انس یعنی انسان ہیں جن کو مرضی کا اختیار ان کے مطالبے پر انہیں دیا گیا۔ اس لیے ان پر فرض ہے کہ یہ ان کا اسی مقصد کے لیے استعمال کریں جس مقصد کے لیے انہیں یہ سب دیا گیا یعنی انہیں سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے کہ یہ سنیں دیکھیں اور جو سن اور دیکھ رہے ہیں اسے سمجھیں پھر ان کے سینوں میں جو دل ہیں دل کو ایسا خلق کیا گیا کہ دل کو وہ سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی جو دماغ کانوں سے نہیں سن سکتا آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا یعنی انسان کو ظاہر و باطن سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دی گئیں تو اسی لیے کہ یہ ظاہر و باطن کو سنیں دیکھیں اور اسے سمجھیں اس کے بعد ہی کوئی بھی عمل کریں جب تک کسی بھی کام کو کسی بھی بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں لیتے تب تک عمل کے قریب بھی مت جائیں ورنہ آسمانوں و زمین میں فساد
ہو گا۔
جب آپ ان صلاحیتوں کا اسی مقصد کے لیے استعمال کریں گے تو آپ پر بالکل کھل کر واضح ہو جائے گاکہ آپ کیا کر رہے ہیں نہ کہ آپ اندھوں کی طرح اور بندر کی طرح بغیر علم کے دوسروں کے پیچھے چلتے رہیں اور فساد در فساد کرتے رہیں ، آپ کو یہ سب اس لیے دیا گیا تا کہ آپ غوروفکر کریں حق کو پہچانیں اور اللہ کی غلامی کر سکیں، آسمانوں اور زمین میں فساد کا موجب نہ بنیںاور اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں بلکہ جانور تو اس کے مکلف ہی
نہیں اور آپ تو مکلف ہیں اس لیے آپ سے بڑھ کر ایسے لوگوں سے بڑھ کر گمراہ ترین اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح اگر آپ غورو فکر کریں کہ آپ کا گوشت کہاں سے وجود میں آیا کیسے بنا؟
زمین پر انسانوں کے مختلف رنگ ہیں انسانوں کے یہ مختلف رنگ کہاں سے آئے؟
زمین پر رنگ برنگے جانور، پھل، پھول، فصلیں، چرند، پرند اور جانور وغیرہ ہیں ان سب کے رنگ کہاں سے آئے؟
جسم میں طرح طرح کے تیزاب اور لا تعداد کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں وہ کہاں سے آئے؟
اسی طرح جیسے جیسے غورو فکر کرتے چلے جائیں گے لا تعداد سوالات پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور ان سب سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب اللہ نے
زمین میں رکھ دیا جسے آج آپ خام تیل کا نام دیتے ہیں۔
اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ اللہ نے خام تیل کو کیوں خلق کیا اور خلق کر کے اسے اس کے مقام زمین کی گہرائی میں کیوں رکھ دیا اور پھر یہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ
انسان سے چھپا کر کیوں رکھا۔
اللہ نے اسے خلق کر کے اس کے مقام پر رکھ دیا ۔ اب کون ہیں جو اللہ کی ان مخلوقات جو کہ انسان کے لیے اللہ کا غیب تھا کے مقامات میں تبدیلی کر کے فساد کر رہے ہیں؟ جو فساد کر رہے ہیں آیا وہ دو طرح کے انسان ہیں ایک وہ جو قیادت کر رہے ہیں جو کہ جن ہیںاور دوسرے وہ جو اندھوں کی طرح بغیر علم کے اپنی
خواہشات کی اتباع میں یہ سب کر رہے ہیں وہ انس ہیں؟ اگر تو یہ دونوں طرح کے انسان موجود ہیں تو پھر یہی ہیں جنہیں یاجوج اور ماجوج کہا گیا۔
(جاری ہے۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


                                      WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#29

خام تیل سے جو کچھ بھی حاصل کیا جا رہا ہے اور اسے اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جارہا ہے وہ سب آپ کو اللہ کی تمام مخلوقات میں ضرور ملے گا اور یہ جاننے کے لیے آپ کو اللہ کا شکر کرنا ہو گا یعنی جو کچھ بھی آپ کو عطا کیا جو کچھ بھی آپ کو دیا گیا خواہ وہ مال ہو، اولاد ہو، کوئی عہدہ یا مقام ہو، ذہانت ہو یا کچھ بھی کرنے کی صلاحیتیں ہوں ، آپ کے جسم کے اعضاء ہوں یا کچھ بھی دیا گیاان سب کے سب کا اس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے جس مقصد کے لیے
آپ کو یہ سب عطا کیا گیا۔
وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ النحل ۷۸
اور اللہ ہے نکالا تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نہیں علم سکھایا گیاتھا تمہیں کسی شئے کا اور کر دیا تمہارے لیے سننا یعنی سننے کی صلاحیت دی اور دیکھنے کی صلاحیت دیکھنا کر دیا اور جو سنتے اور دیکھتے ہیں اس کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کر دی اور یہ سب اس لیے کیا تاکہ تم ان سب کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرو جس مقصد کے لیے تمہیں یہ سب دیا گیا جس مقصد کے لیے تمہارے لیے یہ سب کیا گیا یعنی تمہیں اگر سننے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے کہ بہت سی آوازیں اپنا وجود رکھتی ہیں ان کا سننا تمہارے لیے لازم تھا اس لیے تمہیں سننے کی صلاحیت دی گئی کہ تم ان آوازوں کو سنو ایسے ہی تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے کہ جو اپنا وجود رکھتا ہے اسے دیکھنا تمہارے لیے لازم تھا اسے دیکھو اور پھر جو سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھنا تمہارے لیے لازم تھا اس لیے تمہیں سمجھنے کی صلاحیت دی اب اگر ان صلاحیتوں کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہو تو ہی تم اس مقصد کو پورا کر سکتے ہو جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے تمہیں وجود میں لایا گیا۔
وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ۔ المومنون ۷۸
اورھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو وجودسامنے آئے گا نہ صرف ایک ہی وجود سامنے آئے گا کہ اس کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں بلکہ وہی وجود ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں خلق کیا اگر قانون میں کیا کہ تم سن رہے ہو تو ظاہر ہے اسی لیے تمہارا سننا قانون میں کیا تا کہ تم سن سکو تمہارے لیے سننا ناگزیر ہے اور اگر قانون میں کیا تم کو کہ تم دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ظاہر ہے اسی لیے کہ تم اسے دیکھو جو اپنا وجود رکھتا ہے اور پھر جو سن اور دیکھ رہے ہو اس کو سمجھنے کی صلاحیت تمہارے لیے قانون میں کی تو ظاہر ہے اسی لیے کہ تم جو سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھو۔ اس لیے تمہیں سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دیں تا کہ تم سنو دیکھو اور جو سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھو انتہائی تھوڑے ہیں جو ان صلاحیتوں کا اسی مقصدکے لیے استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے یہی صلاحیتیں تمہارے لیے قانون میں کی تھیں۔
ثُمَّ سَوّٰئہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ السجدہ ۹
پھر اسے مکمل کیا اور پھونکا اس میں اپنی روح سے اور کر دیا تمہارے لیے سننے والا اور دیکھنے والا اور جو سنتے اور دیکھتے ہو اس کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والا۔ بہت
ہی کم ہیں جو ہماری ان دی ہوئی صلاحیتوں کو اسی مقصد کے لیے استعمال کررہے ہیں جس مقصد کے لیے دیں۔
قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ٓ اَنْشَاَ کُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ الملک ۲۳
تمہیں یہ کہنا پڑے گا ھُوَ ہی وہ ذات ہے ھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو دجود سامنے آئے گا وہی وجود ہی وہ ذات ہے کہ جس نے تمہارا سننا دیکھنا اور سمجھنا قانون میں کیا اور ظاہر ہے اگر اس نے تم کو سننے اور دیکھنے اورجو سنتے اور دیکھتے ہو اس کو سمجھنا قانون میں کیا تو اسی لیے کہ تم سنو دیکھو اور جو کچھ بھی سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھو ، بہت ہی کم ہیں جو ہماری ان دی ہوئی صلاحیتوں کو ہماری دی ہوئی ان اشیاء کو اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے ہم نے یہ صلاحیتیں و اشیاء دیں جس مقصد کے لیے
تمہارے لیے یہ سب کیا بہت ہی کم ہیں جو ان سب کا اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے یہ سب کیا گیا ،تم کو ایسا کیا۔
وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْب’‘ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُن’‘ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَان’‘ لَّایَسْمَعُوْنَ بِھَا
اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ الاعراف ۱۷۹
انسان کہتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے بنایا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ نے پہلے ہی اکثریت کو جہنم کے لیے بنایا تو پھر جسے بنایا ہی جہنم کے لیے ہے وہ کیسے جنت میں جا سکتا ہے؟ کل کو جب اس سے حساب لیا جائے گا تو کیا ا سکے پاس یہ عذر یہ بہانہ نہیں ہو گاکہ اے اللہ تُو نے مجھے بنایا ہی جہنمی تھا اس میں میرا کیا قصور تھا میں کیا کر سکتا تھا اس لیے آج حساب کس بات کا؟ اس آیت میں اس بات کی بالکل نفی کی گئی ہے کہ اللہ نے انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے نہیں بنایا بلکہ اللہ الٹا انسان کو کہہ رہاہے وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اور تحقیق کہ یعنی تم اپنے گھوڑے دوڑا لو تم اپنی تحقیق کر لو جو بات ہم کہہ رہے ہیں یہی حق ہے اور بالآخر یہی تمہارے سامنے آئے گاکہ جب تم غوروفکر کرو گے تم تحقیق کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا کہ اللہ نے نہیں بلکہ ہم نے ذرات کی کثرت کو جہنم کے لیے کر دیا جس سے الجن و الانس یعنی انسان خلق ہو رہے ہیں مطلب یہ کہ اللہ نے ایسا نہیںکیا بلکہ اللہ نے تو زمین کو جنت بنایا تھا زمین کا ایک ذرا بھی جہنم کے لیے نہیں بنایا تھا یہ تم لوگ خود ہی ہو جو اپنے ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال سے زمین میں فساد کر کے ان ذرات کی کثرت کو جہنم کے لیے بنا رہے ہو جس سے انسان خلق ہو رہے ہیں اب ظاہر ہے جب جہنمی مواد سے اپنا وجود بنایا جائے گا تو انجام بھی تو جہنم ہی ہو گا نا اور اسی کے بارے میں آگے کہا گیا جوآج تک اللہ پر بہتان باندھا جاتا رہا کہ لَھُمْ قُلُوْب’‘ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا اس وقت جو دنیامیں موجود ہیں ان کو دل دیئے گئے اور دل میں وہ سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھی جو آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا کانوں سے سنا نہیں جا سکتا اور دماغ سے سمجھا نہیں جا سکتا اس کے باوجود یہ سمجھ ہی نہیں رہے اس کیساتھ یعنی جو دل انہیں دیئے اس کیساتھ یہ سمجھ ہی نہیں رہے اس کااس مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں کر رہے جس مقصد کے لیے انہیں دل دیا وَلَھُمْ اَعْیُن’‘ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا اور ان کو آنکھیں دیں یہ لوگ ان آنکھوں کے ساتھ بھی نہیں دیکھ رہے یعنی خود ان کی آنکھوں کے سامنے انسان زمین کے ذرات کو جہنمی ذرات میں بدل رہے ہیں فساد کر کے اور یہ ہیں کہ خود اپنے ہی کرتوتوں کو ان آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے انہیں نظر ہی نہیں آ رہا وَلَھُمْ اٰذَان’‘ لَّایَسْمَعُوْنَ بِھَا اوران کو سننے کی صلاحیت رکھنے والے کان دیئے یہ لوگ ان کانوں کیساتھ سن بھی نہیں رہے یعنی چلو مان لیا کہ تمہارے دل اندھے مردہ ہو چکے ہیں فتنوں کا شکار ہونے کی وجہ سے لیکن آنکھیں تو ہیں کان تو ہیں کیا تمہیں تمہی میں سے ایک بشر کے ذریعے کھول کھول کر سنایا اور دکھایا نہیں جا رہا؟ اس کے باوجود بھی تم سن اور دیکھ نہیں رہے تو ایسے لوگ کون سے ہیں کیا ہیں؟ اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ یہی لوگ ہیں جو بالکل جانوروں کی طرح ہیں جیسے جانوروں کے سینے میں دل کا کام خون کو پمپ کرنا ہے ان کے سینوں میں بھی دل کا وہی کام ہے یہ دل سے وہی کام لے رہے ہیں جیسے جانور جو سنتے اور دیکھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جب تک کہ وہ اس کا شکار نہیں ہو جاتے بالکل اسی طرح یہ بھی جو سنتے اور دیکھتے ہیں اس کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسے وہ صرف کھانے پینے اور زندگی گزارنے کے لیے سنتے اور دیکھتے ہیں ان کا بھی بالکل یہی معاملہ ہے تو ان میں اور جانوروں میں فرق کیا ہوا؟ جس مواد سے یہ وجود میں آئے ہیں یہ مواد پہلے ان چار پائیوں جانوروں کی شکل میں موجود تھا اب اس چار پائے کی صورت میں موجود ہے اس لیے ان میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں بَلْ ھُمْ اَضَلُّ بلکہ یعنی نہیں یہ جانوروں کی طرح بھی نہیں ہیں بلکہ ان سے جانور بہتر ہیں کیونکہ جانوروں کو جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا وہ اس کو پورا کر رہے ہیں یہ لوگ تو ایسے گمراہ ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْن ایسے اس وقت جو دنیا میں موجود ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں انہیں کوئی فکر ہے ہی نہیں ان میں سنجیدگی نام کی کوئی شئے ہے ہی نہیں یعنی یہی ہیں وہ اس وقت جو موجود ہیں جوغوروفکر نہیں کر رہے جو کھول کھول کر سنانے کے باوجود سن نہیں رہے، جو کھول کھول کر ہر لحاظ سے واضح کر دیئے جانے کھول کھول کر سامنے رکھ دیئے جانے کے باوجود دیکھ نہیں رہے سمجھ نہیں رہے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں یعنی انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں کوئی فکر ہی نہیں کہ انہیں کس مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا اگر یہ اسے پورا
نہیںکرتے تو ان کا انجام کیا ہونے والا؟ وہ بھی بالکل کھول کھول کر واضح کر دیا۔
(جاری ہے)۔۔۔


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


Friday, August 26, 2022

                                WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#28

خام تیل اللہ کے غیب میں سے ہے جس کیساتھ اللہ نے مومن بننے کا حکم دیا لیکن انسان ہے کہ ایمان لانے کی بجائے الٹا کفر کر رہا ہے آج اکثریت کفر کر رہی ہے اور اللہ کی ان متشابہات کو اپنی مرضی کی تاویلات پہنا رہے ہیں۔ اس طرح جب آپ غورو فکر کریں گے تو آپ کوسورۃ آل عمران کی اس آیت کی بھی سمجھ آ
جائے گی۔
ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰت’‘ مُّحْکَمٰت’‘ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُمُتَشٰبِھٰت’‘ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغ’‘ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلّ’‘ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا ٓ اُولُوا
الْاَلْبَابِ۔ آل عمران ۷
ھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو وجود سامنے آئے گا وہی وجود ہی وہ ذات ہے جس نے تم پرالکتاب اتاری جو وجود موجود ہے اس سے آیات ہیں محکمات یعنی فیصلہ کن کہ ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ان کا استعمال کیا ہے ایسی جو آیات ہیں ام الکتاب ہیں یعنی الکتاب کی بنیاد جن کے پیچھے پڑنا ہے جن کے پیچھے پڑنے سے حق کھل کر واضح ہو جائے گا اللہ کیا ہے سامنے آ جائے گا جنہیں استعمال کرنے کی محدود اجازت دی گئی اور دوسری جو ہیں متشابہات ہیں یعنی وہ ہیں تو سامنے، سب کو نظر تو آ رہی ہیں لیکن ان کا مقصد کیا ہے اصل علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ان کے بارے میں علم چھپا دیا ۔ پس ایسے لوگ جن کے دلوں میں زنگ ہے یعنی حیات الدنیا کا لالچ ہے پس وہ اتباع کرتے ہیں ان کی جو شبے والی ہیں یعنی جیسے ہی ان کی متشابہات تک رسائی ہوتی ہے تو جو انہیں کرتا دیکھتے ہیں ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اس سے چاہتے ہیں فتنہ اور چاہتے ہیں اپنی مرضی کی تاویل یعنی اپنی مرضی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اور نہیں علم کسی کو کہ ان کا کیا مقصد ہے یعنی متشابہات آیات کس مقصد کے لیے خلق کی گئیں سوائے اللہ کے اور ان کے جو علم میں راسخ ہیں، انہیں جب متشابہات کو اپنی مرضی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کے ساتھ یہ تمام کی تمام ہمارے ربّ کے ہاں سے ہیں یعنی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ہر ایک کو اللہ نے کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی اس مقصد کو پورا نہیں کرے گی یا اسے جس مقصد کے لیے خلق کر کے اس مقصد کو پورا کرنے پر لگایا گیا اس کے برعکس استعمال کیا تو فساد ہو گا اور تباہی آئے گی اللہ کے قائم کیے ہوئے میزان میں خسارہ ہو گا آسمانوں و زمین کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اگر ہم نے چھیڑ چھاڑ کی یا اپنی مرضی کیمطابق استعمال کیا تو فساد ہو گا اس لیے ہم ایسا نہیں کرتے یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اللہ کو علم ہے کہ اللہ نے انہیں کس کس مقصد کے لیے خلق کیایہ ہمارے استعمال کی نہیں ہیں ہمارے لیے یہ اللہ کا غیب تھے اگر آج ہم پر اللہ کے غیب میں سے یہ واضح ہو گئیں یا ہمیں ان کی موجودگی اور یہ کیا کر رہی ہیں یہ علم ہو گیا تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ان کے استعمال کی اجازت ہے ہرگز
نہیںاور نہیں ہے یاد دہانی مگر اولوالالباب کے لیے۔
اس آیت میں پہلے لفظ آیات کے معنی واضح ہونا ضروری ہیں آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن میں اللہ نے کئی مقامات پر کہا ہے کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ
ان میں ہے سب کی سب اللہ کی آیات ہیں اور الکتاب سے مراد آسمان و زمین ہیں ۔
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی مثال ایک بشر کی سی ہے اور الحمد للہ پیچھے تفصیل کیساتھ یہ بات واضح کی جا چکی کہ اللہ نے آپ کو کس طرح خلق کیا؟ بالکل اسی طرح اللہ نے باقی تمام مخلوقات کو خلق کیا۔ آسمانوں اور زمین میں بہت کم مخلوقات ایسی ہیں جن کے بارے میں اللہ نے انسان کو واضح فیصلہ کن علم دیا جیسے کھانے پینے کی اشیاء ، ہم نے دنیا میں کیا کرنا ہے ، کیا ہمارے استعمال کا ہے کیا نہیں یہی الکتاب کی جڑ ہے جسے ہم نے پکڑنا ہے ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے خواہ وہ مکمل چھپا ہوا ہو جو کہ واضح غیب میں سے ہے یا وہ جو دیکھنے سننے اور محسوس کرنے میں تو واضح ہے لیکن اس کے بارے میں مکمل علم نہیں دیا گیا وہ سب متشابہات ہیں۔ متشابہ کہتے ہیں وہ شئے وہ بات جو بالکل سامنے تو ہو ہر کوئی دیکھ اور سن رہا ہو لیکن اس کے بارے میں علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں اس کا علم نہیں دیا گیا اس کے بارے میں علم چھپا دیا گیا۔ ایسی آیات میں سے اگر انسان پر واضح ہوتی ہیں ان کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے تو بہت سے ایسے انسان ہیں جو ان کی اتباع کرتے ہیں جیسے کہ جن لہروں کو آج ریڈیولہروں کا نام دیکر پورے کا پورا ٹیلی کمیونیکیشن یعنی مواصلاتی نظام چلایا جا رہا ہے یہ لہریں اللہ کا غیب تھیں اور آج جب یہ غیب ظاہر ہو گیا تویہ متشابہات میں سے ہیں جب انسان کی ان تک رسائی ہوئی اس نے دیکھا کہ یہ لہریں ڈیٹا کو ادھر سے ادھر بغیر وقت کے منتقل کرتی ہیں تو انسان نے انہیں اپنی مرضی کے مطابق تاویل پہنا دی اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا حالانکہ ان کی اصل تاویل یعنی ان کی موجودگی کا اصل مقصد کیاہے اس کا انہیں علم ہی نہیں۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ اسی نے ان کو رکھا اور پھر ان کے پاس علم ہے جو علم میں راسخ ہیں جنہوں نے غورو فکر کیا اور اللہ نے ان پر ان کا علم واضح کر دیا کہ کائنات میں یہ قوتیں اللہ کے ملائکہ ہیں جو آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی ریکارڈنگ کر رہے ہیں ، پیغامات کو مخلوقات تک پہنچا رہے ہیں یہ وہی ملائکہ ہیں جو اس وجود میں پیغام رسانی کر رہے ہیں وغیرہ اور جب ان
متشابہات کو اپنی مرضی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو فتنہ کھڑا ہوتا ہے۔
فتنہ کہتے ہیں ایک شئے اصل ہو اس کے مقابلے پر ایک یا ایک سے زیادہ ایسی نقالوں کا آ جانا کہ ان میں سے اصل کو پہچاننے کے لیے انسان امتحان میں پڑ جائے کہ آیا ان میں سے کون سی اصل ہے یعنی اصل کے مقابلے پر ایسی نقل کا آ جانا کہ اصل و نقل کی پہچان مٹ جائے یوں نقل اصل کی جگہ لے لے اور کسی کو اس
کا شعور تک نہ ہو ہر کوئی اس کا شکار ہو جائے۔
بالکل اسی طرح اللہ نے انسان کو دنیا میں جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے بھیجا اس کے مقابلے پر نئے مقاصد کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ایک کی بجائے کئی ادیان یعنی دنیا میں کس مقصد کے لیے بھیجے گئے اور اسے پورا کیسے کرنا ہے اس طریقے کے مقابلے پر اور طریقے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں کہ انسانوں کے لیے دنیا میں آنے کا اصل مقصد پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ ان متشابہات کی تاویل سے کھڑے کیے ہوئے فتنوں کا شکار ہو کر دنیا میں انہی فتنوں کو اپنے مقاصد سمجھ اوربنا کر ان کے حصول کے لیے پیچھے لگ جاتے ہیں انہی کی عبادۃ کرنا شروع ہو جاتے ہیں یعنی جو کچھ بھی انہیں عطا کیا گیا انہی کے حصول کے لیے ان کے
پیچھے ان کا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
لفظ فتنہ کی یہ بہت ہی مختصر وضاحت تھی۔ آج آپ قرآن کی اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کو بہت ہی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جسے انسان ترقی و خوشحالی کا نام دیتا ہے یوں وہ اللہ کے غیب کا نہ صرف کفر کر رہا ہے بلکہ اتنے فتنے کھڑے کر دیئے کہ اصل دین بالکل ناپید ہو چکا ہے ۔ ہر طرف اور ہر سطح پر فتنے ہی فتنے ہیں گویا کہ کالی سیاہ رات کی طرح فتنے ہیں اور کوئی بھی انہیں فتنہ کہنے کو تیار ہی نہیں ہر کوئی انہیں آسائشیں، ترقی، خوشحالی، ٹیکنالوجی، انسان کے عروج وغیرہ کے نام دے کر اللہ کے ساتھ کھلم کھلا کفر و شرک کر رہا ہے اللہ کا کھلم کھلا شریک بنا ہوا ہے اور ساتھ میں الٹا اللہ کی غلامی و مومن
ہونے کا دعویدار بھی ہے۔
اسی طرح زیر زمین اللہ کے غیب میں سے جسے آپ خام تیل کانام دیتے ہیں اس کی مثال ہے کہ کیسے آج اللہ کے غیب کا کفر کرتے ہوئے اسے اپنی مرضی کی تاویلات پہنائی جا رہی ہیں یعنی اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ اللہ نے قرآن میں بار بار کہا کہ غورو فکر کرو۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ پہلے تم اموات تھے تمہیں کیسے حیا ت دی یعنی پہلے تم چھوٹے چھوٹے ذرات کی صورت میں پوری دنیامیں بکھرے پڑے تھے پھر کیسے ان ذرات کو
اکٹھا کر کے تمہیں وجود میں لایا۔
کیا تمہیں زمین سے نہیں اگایا؟ بہر حال غورو فکر کرنے والوں پر اولوالالباب پر تو اللہ نے واضح کر دیا کہ یہ خام تیل اللہ کا زمین میں رکھا ہوا وہ خام مال ہے جس سے اللہ زمین میں نباتات اگاتا ہے ان سے جاندار اور انہی سے اس بشر کو یعنی آپ کو خلق کیا جا رہا ہے۔ خام تیل کا مقصد کیا ہے زیر زمین خام تیل کی تاویل کیا ہے لیکن آج انسانوں کی اکثریت اپنی مرضی کی تاویلات پہنانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور ساتھ مومن و مسلمان ہونے کے دعویدار بھی ہیں یعنی کہ ہمارا ہر عمل اللہ کی مرضی و حکم کے مطابق ہے علی الاعلان یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے ہی اس کا حکم دیا حالانکہ اگر اللہ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا تو کوئی دلیل کیوں نہیں لاتے؟ جو ذات غیب کیساتھ مومن بننے کا حکم دے رہی ہے اور غیب سے کفر کرنے سے سختی سے منع کر رہی ہے بھلا وہ کیوں خود ہی
اپنے حکم کے خلاف کرنے کا حکم دے گی؟
(جاری ہے)۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...