WARNING FROM MATURE KRISHNA
قسط نمبر#32
اس کے علاوہ ستر سے اسی فیصد انتہائی زہریلے کیمیکلز والا محلول جو زمین میں جذب ہو چکا ہوتا ہے وہ زمین میں موجود پانی میں شامل ہو کر اسے زہریلا اور نقصان دہ بنا دیتا ہے اسی پانی کو جب انسان استعمال کرتے ہیں اور پودوں اور فصلوں کو اس سے سیراب کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ، زمین ناقابل کاشت ہو کر بنجر بن جاتی ہے اور اگر نباتات نکالتی بھی ہے تو وہ زہر ہی نکالے گی جس کو کھانے والے نقصانات کا ہی سامنا کریں گے، یوں زمین کی تمام مخلوقات میں فساد کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی بالکل ایسے ہی جیسے ٹائم بم کا بٹن ایک بار دبا دیا تو وہ پھٹنے کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے جب اس کا ٹائم پورا ہو جاتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے ایسے ہی زمین کے ساتھ کیا جا چکا ہے اس فساد کی وجہ سے یہ دن بہ بدن ایک آخری بڑی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے بالآخر یہ زمین النار یعنی وہی جہنم بن جائے گی جس کا وعدہ کیا گیا۔
فریکنگ کے لیے زمین میں داخل کیے جانے والے زہریلے کیمیکلز کیسے زمین میں موجود پانی میں شامل ہوتے ہیں ذیل میں دی گئی تصویر میں دیکھیں۔
امریکہ کے صوبے ٹیکساس میں صرف ۲۴ گھنٹوں کے دوران یعنی محض دن میں ایک اعشاریہ سات سے تین اعشاریہ چھ شدت کے گیارہ زلزلے آئے سائنسدانوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیموں نے جب ان زلزلوں کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ ان زلزلوں کی وجہ زمین سے فریکنگ کے ذریعے
خام تیل کا نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے صوبے اوہیو میں ۴ اگست ۲۰۱۴ سے لیکر ۱۲ اگست ۲۰۱۴ تک یعنی صرف ۸ دنوں میں ۷۷ زلزلے آئے۔
تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ان تمام زلزلوں کی وجوہات بھی فریکنگ کے ذریعے زمین سے خام تیل کا نکالنا ہے۔
آج دنیا میں جتنے بھی زلزلے آ رہے ہیں ان کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ زمین سے خام تیل اور گیس کا نکالا جانا ہے۔ آپ پر پیچھے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا کہ اللہ نے کہا کہ جیسے تمہیں خلق کیا اسی طرح باقی تمام مخلوقات کی مثال ہے اسی طرح آسمانوں اور زمین کو خلق کیا ان کی مثال تم ہی کی طرح ہے ،تو اگر آپ
کے جسم سے خون نکالا جائے تو کیا آپ کا جسم کانپ نہیں اٹھے گا؟
جب آپ کا جسم خون نکالنے کی وجہ سے کانپتا ہے تو پھر اگر زمین کا خون نکالا جائے اور وہ کانپے نہیں یہ اللہ کے قانون اور اس کی سنت کے ہی خلاف ہے۔ ہم نے پیچھے بہت تفصیل کیساتھ آپ پر واضح کر دیا کہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر کہا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کچھ حق کیساتھ خلق کیا ہے۔ آج اگر آپ اپنی خواہشات کو اپنا الٰہ بنائے رکھیں اپنی خواہشات کی اتباع کرتے رہیں اور یہ بھی چاہیں کہ زمین پر کچھ ہو نہ سب کچھ ٹھیک
رہے یہ کیسے ممکن ہے؟
اللہ نے قرآن میں واضح کھول کر بیان کر دیا۔
جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ وَ اَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ۔ المومنون ۷۰
ان میں انہی سے آ گیا اللہ کا بھیجا ہوا حق کیساتھ اور اس وقت جو موجود ہیں جن میں جن کے لیے اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہے ان کی اکثریت کے لیے حق ایسا ہے جو انہیں
ناگوار گزر رہا ہے ان کو کراہت ہو رہی ہے تکلیف ہو رہی ہے۔
وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآئَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ۔ المومنون ۷۱
اور اگر اس کی اتباع کی گئی جسے یہ اپنی خواہشات کے بل پر حق کہہ رہے ہیں یعنی حق ہے نہیں مگر اپنی خواہشات کو حق کا نام دیکر ان کی اتباع کر رہے ہیں تو
آسمانوں اور زمین اور جو بھی ان میں ہے سب کچھ درہم برہم ہو گا سب میں بگاڑ پیدا ہو گا۔
اس آیت میں اللہ کا کہنا ہے کہ حق وہ ہے جس کی اتباع کرنے سے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا سب ٹھیک رہے کہیں پر بھی کسی میں بھی کوئی بگاڑ نہ ہو اور اگر جسے یہ حق کہتے ہیں اس کی اتباع کی جاتی ہے اس کے پیچھے چلا جاتا ہے اور اس کے باوجود آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کے سب میں بگاڑ پیدا ہو جاتاہے تو پھر یہ حق نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی خواہشات ہیں جنہیں انہوں نے آج تک حق کا نام دیئے رکھا اور آج بھی حق کا نا م
دے رہے ہیں۔
یہ آیت حق و باطل کی پہچان کے لیے دہلا دہنے والی آیت ہے ذر اغور کریں جو خود کو مسلمان کہلواتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا دین ہی دین حق ہے یہ خواہشات کی اتباع نہیں کر رہے، اگر واقعتاً ایسا ہوتا یہ اپنے قول میں سچے ہوتے جسے یہ آج تک حق کا نام دیکر آباؤاجداد سے لیکر آج تک کرتے چلے آ رہے ہیں تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے کہیں بھی کسی ایک بھی خلق میں فساد نہیں ہونا چاہیے تھا، آسمانوں اور زمین اور جو بھی ان میں ہے کسی مخلوق میں بگاڑ نہیں ہو نا چاہیے تھا اور اگر ایسا ہو جاتا ہے یعنی آسمانوں و زمین میں فساد ہو جاتا ہے تو پھر جسے یہ آج تک حق کہتے آئے اور آج بھی حق کہہ رہے ہیں یہ حق نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی خواہشات ہیں جنہیں یہ حق کہہ کر ان کی اتباع کر رہے ہیں۔ اور جب آج آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے یعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہوں اور جو بھی ان میں ہے ان میں غور کیا جائے تو سب کے سب میں فساد ہو چکا اور فساد ظاہر بھی ہو چکا کچھ بھی سلامت نہیں رہا توجب لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ہو چکا تو پھر جسے یہ دین حق کا نام دے رہے ہیں یہ دین حق نہیں بلکہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ان کے پاس علم بالکل نہیں ہے یہ بہت بڑے جاہل ہیں جو اپنی خواہشات کو حق کا نام دیکر ان کی اتباع کر رہے ہیں اگر ان سے بات کی جائے گی کوئی دلیل طلب کی جائے گی تو یہ آپ کو آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے بلکہ یہ آپ کو گالیاں دیں گے تشدد پر اتر آئیں گے آپ کیساتھ جھگڑیں گے جو کہ باطل کی علامت
ہے۔ ان کے علاوہ بھی جتنے بھی ادیان ہیں دور جدید کا سب سے بڑا اور پر کشش دین سائنس اس کی بھی حقیقت یہی ہے کہ یہ حق نہیں بلکہ یہ بھی اپنی خواہشات
کو ہی حق کا نام دے کر ان کی اتباع کر رہے ہیں ۔
اس بات کو آپ بہت ہی آسانی سے جان سکتے ہیں آج سائنسدان کہلانے والوں کا خود ہی کہنا یہ ہے کہ ان کے علم کے مطابق آسمان اور زمین کھرب ہا سال سے موجود ہیں اور اتنے عرصے میں کبھی کوئی رائی برابر بھی خرابی نہیں ہوئی لیکن انسان نے آج صرف چند ہی صدیوں میں آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کے سب کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
آج پوری زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہیں جو کہ سات آ سمان ہیں ان سائنسدانون کے لیے ایک لیبارٹری یعنی تجربہ گاہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے پہل یہ اپنے بند کمروں میں بہت ہی چھوٹی سطح پر تجربات کرتے تھے لیکن آج یہ آسمانوں اور زمین میں ہر جگہ بڑی بڑی سطح پر تجربات کر رہے ہیں اوراس
وقت تقریباً دنیا کا ہر انسان ہی نہ صرف ان کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے بلکہ بڑھ چڑھ کر اس فساد میں حصہ لیکر اللہ کا شریک بنا ہوا ہے۔
یہ حق ہے لیکن اکثریت کے لیے یہ سب تسلیم کرنا آسان نہیں ہے اکثریت کو حق ناگوار ہی گزرے گا اس لیے کیونکہ انہوں نے اپنی خواہشات کو حق کا نام دیا ہوا ہے جس کا انجام بھی یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے باوجود یہ اللہ سے رجوع نہیں کریں گے اور یہ حق سے ان کو کراہت ہی ہو گی کیوں کہ یہ اندھے
ہیں۔
(جاری ہے)۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7




