Tuesday, November 29, 2022

  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#78

ایک طرف اللہ اپنی آیات میں رات ، دن، اٹھے ، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں غورو فکر کرنے کا حکم دے رہا ہے کہ اپنا وقت اللہ کی آیات میں غورو فکر کرنے میں گزارو اور دوسری طرف یہ الدجّال کا راس انٹرنیٹ ، فلموں، ڈراموں اور طرح طرح کے وقت ضائع کرنے والے پروگراموںاور گیموں وغیرہ میں مگن ہو کر اللہ کا دیا ہوا وقت ضائع کرنے کی دعوت دیتا ہے یہاں تک کہ کھاناکیا ہے، پینا کیا ہے، پہننا کیا ہے، اٹھنا، بیٹھنا کیسے ہے، ماحول کیسا ہونا چاہیے، معاشرہ کیسا ہونا چاہیے، کیا فائدے مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے سمیت ہر معاملے میں انسان کی راہنمائی کا دعویدار ہے اور انسانیت نے اس معاملے میں بھی کس کو اپنا ربّ تسلیم کیا حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ آج اس میڈیا کو نبی کا درجہ دے دیا گیا ہے جو یہ کہتا ہے اسی پر آنکھیں بند کر کے نہ صرف اعتماد کیا جاتا ہے بلکہ اسی پر عمل بھی کیا
جاتا ہے۔ یہ الدجّال کا راس یعنی یہی میڈیا انسانوں کے بالکل سامنے سے انہیں یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں یعنی اپنی تمام تر ضروریات مجھ سے ہی حاصل کرو مجھ سے ہی پوری کرو۔ وہ رزق کھاؤ جو مشینوں کا ہی بنایا ہوا ہے جو انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے فطرت میں مداخلت کر کے خلق کیا گیا ہے اپنی سواری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہی مشینوں یعنی الدجّال پر ہی توکل کرو اسی پر انحصار کرو، تمہارے پہننے کے لیے کپڑا ہو یا جوتے، کھانے کی اشیاء ہوں یا پینے کی یہاں تک کہ تمہاری جتنی بھی ضروریات ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے الدجّال یعنی انسان کی اپنے ہی ہاتھوں سے اللہ کے مقابلے پر خلق کردہ اشیاء اور مشینوں پر ہی توکل کرو انہی پر انحصار کرو۔ تومحمد علیہ السلام نے کہا کہ الدجّال کے راس کے جواب میں جس نے یہ کہا کہ تو ہی میرا ربّ ہے یعنی جس نے خود کو فطرت کی بجائے انہی مصنوعی اشیاء سے اپنی ضروریات پوری کیں خود کو انہیں مشینوں کا محتاج بنایا خود کو الدجّال کا محتاج بنایا اسی پر توکل کیا یعنی اپنی ضروریات کو پورا کرنے
کے لیے اسی پر انحصار کیا تو وہ اس فتنے کا شکار ہو گیا۔
فتنہ کسے کہتے ہیں پیچھے آپ جان چکے آپ پر واضح کر دیا گیا کہ فتنہ اصل کے مقابلے پر نقل کا آجانا جس کی وجہ سے اصل اور نقل کی پہچان مٹ جائے اور اصل کی پہچان امتحان بن جائے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا، تمام مخلوقات سمیت اس بشر یعنی آپ کو بھی خلق کیا تو کیا اللہ یہ بھول گیا تھا کہ آپ کی ضروریات کیا ہیں؟ یا پھر اللہ کو یہ ہی علم نہ تھا کہ انسان کے لیے کیا فائدہ مند اور کیا نقصان دہ ہے؟ یا پھر اللہ کو یہ ہی علم نہ تھا کہ انسان کی ضروریات کیا ہیں ؟ یا پھر اللہ نے انسان کے لیے جو ضروریات خلق کیں وہ انسان کے لیے ناکافی تھیں یا اللہ سے غلط خلق ہو گئیں؟
قرآن میں اللہ نے کہا کہ اللہ نے کسی بھی شئے میں فرط نہیں کیا یعنی اللہ نے جو کچھ بھی خلق کیا وہ بالکل پرفیکٹ ہر لحاظ سے مکمل اور ہر طرح کے نقائص ، خامیوں ، کجیوں اور کوتاہیوں سے پاک خلق کیا اور پھر اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ ان کی ضروریات کیا ہیں تو اللہ ان کی ضروریات خلق کرنا بھول نہیں گیا تھا اس نے ہر ایک کی تمام کی تمام ضروریات بھی خلق کیں جو کہ ہر لحاظ سے مکمل اور احسن خلق کیں وہ خالق ہے تو اسے ہی علم ہے کہ کس کے لیے کیا فائدہ مند اور کیا نقصان دہ ہے اس لیے اس نے صرف اور صرف وہی خلق کیا جو احسن ہے جو ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے جیسا کہ آپ سورت الانعام کی درج ذیل آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا ٰطٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَا حَیْہِ اِلَّا اُمَم’‘ اَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ۔
الانعام ۳۸
اور نہیں جتنے بھی دابہ ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی یعنی زمین میں جتنی بھی حرکت کرنے والی مخلوقات ہیں جو تیر کر، رینگ کر، چل کر اور اڑ کر حرکت کرتی ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی حرکت کرنے والی مخلوق ایسی نہیں اور نہ ہی جتنے بھی فضاؤں میں خلاوں میں تیرنے والے ہیں اپنے پروں سے فضا میں تیرتے ہیں مگر وہ امم یعنی دنیا کا نظام چلانے کے لیے کسی نہ کسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے منظم ترین گروہ ہیں بالکل اسی طرح جیسے تم ہو۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ زمین میں تمام کے تمام جاندار حرکت کرنے والے اور اڑنے والے جتنے بھی جاندار ہیں وہ بغیر کسی مقصد کے خلق کر دیئے گئے جو ایسے ہی آوارہ اِدھر اُدھر گھوم رہے ہیں اور ان کی کوئی ضروریات نہیں ہیں یا ان کو کوئی فکریں نہیں یا ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ تمام کے تمام منظم ترین گروہوں کی حیثیت سے اپنی اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کر رہے ہیں اور ان کی بھی بالکل تمہاری ہی طرح کی ضروریات ہیں تو کیا تم نے کبھی ان کو ایسا کرتے دیکھا جیسا تم کر رہے ہو؟ یعنی جیسے تم اللہ کے ہر کام میں مداخلت کر رہے ہو اور عذر یہ پیش کرتے ہو کہ تم اپنی ضروریات خلق کر رہے ہو کیا وہ مخلوقات ایسا کر رہی ہیں؟
وہ ایسا کیوں نہیں کر رہیں؟ کیا ان کی ضروریات نہیں ؟ کیا ان کو حاجات لاحق نہیں جیسے تم کو ہیں؟ جب ان کو بھی ضروریات و حاجات لاحق ہیں تو پھر وہ ایسا کیوں نہیں کر رہیں جیسا تم کر رہے ہو بلکہ وہ تو اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مصروف ہیں تا کہ آسمانوں و زمین میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو ان کی لاپرواہی سے آسمانوں و زمین کے نظام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ان کو کیوں ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی جو تم کر رہے ہو؟ فطرت نے تمہیں جو کچھ بھی مہیا کیا اسے ترک کر کے اس کے شریک بنتے ہوئے ا س میں مداخلت کرتے ہوئے اس میں تبدیلیاں کرتے ہوئے اپنی ضروریات خود اپنی مرضیوں کیمطابق خلق کر رہے ہو آخر تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی کیا صرف تم ہی ہو آسمانوں و زمین میں؟ یا باقی سب کی جو ضروریات تھیں وہ تو ہم نے خلق کر دیں اور تمہاری خلق کرنا بھول گئے جو تم خود کر رہے ہو؟ یا ہم نے تمہاری ضروریات کو خلق کرتے وقت کوئی کوتاہی برتی، کوئی کمی، کجی یا نقص چھوڑ دیا؟ یا نامکمل خلق کیں؟ آخر کیوں تم ایسا کر رہے ہو؟ آگے اللہ اس کا جواب یوں دیتا ہے مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ نہیں فرط کیا ہم نے الکتاب میں کسی ایک بھی شئے سے یعنی آسمانوں اور زمین میں کسی بھی شئے سے۔ مطلب یہ کہ اللہ نے جو کچھ بھی خلق کیا وہ بالکل پرفیکٹ یعنی کامل ہر لحاظ سے مکمل اور ہر طرح کے نقائص ، خامیوں ، کجیوں اور کوتاہیوں سے پاک خلق کیا اور پھر اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ ان کی ضروریات کیا ہیں تو اللہ ان کی ضروریات خلق کرنا بھول نہیں گیا تھا اس نے ہر ایک کی تمام کی تمام ضروریات بھی خلق کیں جو کہ ہر لحاظ سے مکمل اور احس خلق کیں وہ خالق ہے تو اسے ہی علم ہے کہ کس کے لیے کیا فائدہ مند اور کیا نقصان دہ ہے اور اس نے ہر ایک کے لیے نہ صرف اس کی تمام کی تمام ضروریات خلق کیں اور کر رہا ہے بلکہ ایسی ضروریات خلق کر کے فراہم کر رہا ہے جن میں ہر لحاظ سے فائدہ ہی فائدہ ہے تو اس کے باوجود جب تم ایسا کر رہے ہو تو پھر ایسا ہرگز نہیں کہ تم یہ سب کرتے رہو اور کوئی تم سے اس بارے میں پوچھے گا نہیںبلکہ جان لو ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ پھران کے یعنی وہ جو ایسا سب کر رہے ہیں اس وقت دنیا میں موجود ہیں جن کے بارے میں آج سے چودہ صدیاں قبل نبا دے دی گئی تھی یہ موجودہ لوگ ربّ کی طرف ہی اکٹھا کیے جا رہے ہو یعنی تمہیں یہاں جو ایک محدود متعین مدت دی گئی ہے جیسے ہی یہ ختم ہو گی تو تمہیں ان تمام مخلوقات کے ربّ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا تب تم سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ربّ نے تمہاری ضروریات نہیں خلق کی تھیں جو تم کو خود سب کچھ خود خلق کرنا پڑا؟ کیا تمہارے ربّ نے کوئی کوتاہی کر دی تھی؟ کوئی لا پرواہی کر دی تھی، کچھ غلط خلق کر دیا تھا؟ عیب دار خلق کر دیا تھا یا پھر وہ تمہیں خلق کر کے تمہاری ضروریات کو
خلق کرنا ہی بھول گیا تھا؟ تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے آسمانوں اور زمین میں جو فساد ہوا جو خرابیاں اور ان کی وجہ سے جو تباہیاں آئیں جو باقی مخلوقات کو اللہ کے عباد کو قناعت کرنا پڑی
ان کو مصائب و آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا آج تمہیں ایک ایک رائی کا حساب دینا ہو گا اور اس کے نتائج کو بھگتنا ہو گا ۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Wednesday, November 23, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE 



قسط نمبر#77

ان راس الدجال من ورائہ حبک حبک و انہ سیقول انا ربکم، فمن قال انت ربی افتتن، و من قال کذبت، ربی اللہ، علیہ
توکلت والیہ انیب، فلا یضرہ۔ مسند احمد، طبرانی، حاکم
اس میں کچھ شک نہیں الدجّال کا راس یعنی الدجّال کی چوٹی اس کا بلند ترین مقام سامنے سے تجھے اپنی طرف کھینچے گا، اپنے قریب کرے گا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ قریب ہی کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔ پس جس نے کہا تو میرا ربّ ہے وہ اس کے فتنے میں پڑ گیااور جس نے کہا تو کذب کرتا ہے میرا ربّ اللہ
ہے اسی پر توکل کرتا ہوں اور تیری حقیقت کھلنے پر اسی کی طرف پلٹتا ہوں پس الدجّال اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
راس۔ کسی شئے کا بلند ترین مقام، کسی شئے کی چوٹی، انسانی جسم کی چوٹی، بلند ترین مقام سر ہوتا ہے اس لیے سر کو بھی راس کہتے ہیں۔
ورائہ۔ اس کا سامنے والا حصہ
حبک۔ حب جمع ک۔
حب۔ کسی شئے کو اپنے قریب کرنے یا اپنی طرف کھینچنے کو کہتے ہیں، مقنا طیسی کشش کو بھی حب کہتے ہیں۔
ک۔ تجھے
رب۔جس ذات نے خلق کیا اسے ہی علم ہے کہ کس مقصد کے لیے خلق کیا اور جس مقصد کے لیے خلق کیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے خلق پر اس کا مقام اور ذمہ داری واضح کرنے والی ذات اور مخلوق کو اس کی تمام ضروریات خلق کر کے مہیا کرنے والی ذات۔ اسے ہی علم ہے کہ مخلوق کے لیے کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے اس لیے جو حکم وہ ذات دے گی اسی پر عمل کیا جائے گا اور اسی کی خلق کی ہوئی ضروریات اختیار کی جائیں گی اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کی خلق کی ہوئی ضروریات استعمال کیں یا کسی اور کی ہدایات پر عمل کیا تو وہی ذات ربّ کہلائے گی جس کی ہدایات پر عمل کیا اور جس کی خلق کردہ ضروریات استعمال کیں۔
یعنی ذات جو کسی شئے کو جب اس کا وجود نہ ہو وجود میں لائے اس کے بعد اسے جس مقصد کے لیے وجود میں لایا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے اس مقام پر لانا جس مقام پر آکر وہ اس مقصد کو پورا کر سکے اور اس کی تمام تر ضروریات کو خلق کر کے اسے مہیا کرنے والی ذات۔ قرآن میں اللہ نے بچے کے لیے اس
کے والدین کو ربّ کہا ہے جیسا کہ آپ اس آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا۔ بنی اسرائیل ۲۴
سورت بنی اسرائیل کی اس آیت میں اللہ نے والدین کو بچے کے لیے ربّ اس لیے کہا کیوں کہ جب بچے کا وجود نہیں ہوتا تو والدین اسے وجود دیتے ہیں اس کے بعد بچہ ہر لحاظ سے والدین کا محتاج ہوتا ہے والدین اس کی تمام ضروریات اسے مہیا کرتے ہیںاگر والدین اسے کھلائیں گے تو بچہ کھائے گا ورنہ بچہ بھوکا مر جائے گا خود سے کچھ بھی نہیں کر پائے گا بالکل اسی طرح بچے کی جتنی بھی ضروریات ہیں ہر لحاظ سے بچہ والدین کا محتاج ہوتا ہے اس لیے اللہ نے والدین کو بچے
کے لیے اس کے ربّ کہا۔
جب ایک بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو وہ والدین کا محتاج ہوتا ہے یوں ایک شخص جب بچہ تھا تو اللہ اس کے والدین کی صورت میں اس کا ربّ تھا اور جیسے جیسے وہ خودمختار ہوتا جائے تو ویسے ویسے اللہ نے اسے خود کو فطرت کا محتاج بنانے کا حکم دیا کیونکہ باشعور اور بااختیار ہوتے ہیں۔ جیسے وہ پہلے والدین کا محتاج تھا تو اللہ اس کا ربّ تھا بالکل اسی طرح اب وہ اگر خود کو فطرت کا محتاج بنائے گا تو اس کا ربّ اللہ ہو گا ورنہ وہ خود کو جس کا محتاج بنائے گا جس پر انحصار کرے گا وہی اس کا ربّ
کہلائے گا۔ اسی کا حکم اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر دیا کہ ہر طرف سے کٹ کر یک سو ہو کر فطرت پر قائم ہو جاؤ۔
افتتن، فتنہ۔ فتنہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال سے اس کی وضاحت کرتے ہیںمثال کے طور پر ایک ایسی شئے ہو جو مارکیٹ میں بہت مقبول ہو کوئی بھی جائے بچہ ہو ، بڑا ہو یا بوڑھا کوئی بھی جائے وہ قیمت ادا کرے گا اور اس شئے کو لے آئے گا لیکن ایسا ہو اب مارکیٹ میں وہی شئے جعلی یعنی نقلی بھی آجائے اور اتنی زیادہ تعداد میں آ جائے کہ اس کے مقابلے میں اصل بہت کم اور اصل کی پہچان بہت مشکل ہو جائے تو اب جو بھی خریدنے جائے گا ممکنہ طور پر نقلی ہی خرید کر لائے گا جس سے یہ علم ہو گیا کہ مارکیٹ میں اصل کے مقابلے میں نقلی شئے بھی آ چکی ہے ۔ کسی بھی شئے کی جب نقل تیار کی جاتی ہے وہ ایسی نہیں بنائی جاتی کہ وہ خود بول کر کہے کہ میں نقلی ہوں بلکہ نقل ایسی تیار کی جاتی ہے کہ اصل شئے بھی نقل کے مقابلے میں نقل نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی شئے کو خریدنے جائے خواہ وہ کتنے ہی علم والا ہی کیوں نہ ہو اس پر امتحان آ جائے گا کہ آیا ان میں سے کون سی اصلی ہے اور کون سی نقلی۔ اس طرح امتحان میں پڑنے کو فتن کہتے ہیں اور جو شئے اس کا باعث بنے وہ یعنی اصل کی نقل فتنہ کہلاتا ہے اوراس شئے یعنی نقل کو اختیار کر لینے کو فتنے میں پڑ جانا یعنی فتنے کا شکار ہو جانا کہلاتا ہے۔
کذبت۔ اللہ کی آیات ’’تمام مخلوقات سمیت ہر وہ شئے جس سے انسان اللہ کو جان سکے اللہ کو پہچان سکے جن کے پیچھے پڑنے سے اللہ کی ذات سامنے آ جائے‘‘ ان تمام مخلوقات یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے جو کہ اللہ کی آیات ہیںکو تسلیم کرنے کی بجائے ان سے کفر کرنا ان میں چھیڑ چھاڑ کرنا ان میں فساد کرنا، انہیں اپنی مرضی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی بلکہ سختی سے منع کیا ہے جس وجہ سے اللہ کی آیات یعنی مخلوقات میں خرابیاں پیدا
ہوں فساد ہو۔
توکل۔ہر لحاظ سے مکمل طور پر کسی پر انحصار کرنا، ہر معاملے میں یا کسی بھی معاملے میں کسی کا محتاج بننا خواہ آپ کو تکالیف و مصائب کا ہی سامنا کیوں نہ کرنے
پڑے یا خواہ آپ کی ضروریات پوری نہ ہو آپ کو صبر یا قناعت کرنا پڑے۔
انیب۔ فتنے میں پڑنے کے بعد یعنی فتنے کا شکار ہو جانے کے بعد جیسے ہی اصل کا حق کا علم ہو جائے توبغیر کسی حیلے بہانے کے فوراً اس کو ترک کر کے حق کی طرف پلٹنا یعنی آپ اپنی طرف سے حق کی اتباع کر رہے ہوں آپ یہی سمجھ رہے ہوں کہ جو آپ کر رہے ہیں جو سمجھ رہے ہیں وہ حق ہے لیکن حقیقت یہ نہ ہو بلکہ حقیقت یہ ہو کہ آپ فتنے کا شکار ہوں اور جیسے ہی آپ پر حق واضح ہو جائے آپ بغیر کسی چوں چراں کے فوراً اسے ترک کر کے حق کی طرف پلٹیں اسے عربی میں انیب کہا
جاتا ہے۔
محمد علیہ السلام نے کہا کہ الدجّال کا راس تجھے تیرے بالکل سامنے سے اپنی طرف کھینچے گا تو آج آپ پر فرض ہے کہ آپ غوروفکر کریں اور جانیں کہ الدجّال کا راس کیا ہے؟ راس کسے کہتے ہیں ؟ پیچھے یہ واضح کیا جا چکا کہ راس عربی میں کہتے ہیں کسی بھی شئے کے بلند ترین مقام کو اس کی چوٹی کو اس کی پیک کو۔ اور یہ بھی آپ پر کھول کھول کر واضح کیا جا چکا کہ الدجّال انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کر دہ طرح طرح کی مخلوقات ہیں تمام کی تمام اشیاء اور مشینیں جنہیں
انسان اپنے لیے مسیحا سمجھتا ہے یعنی فائدہ مند اور ترقی سمجھتا ہے، موجودہ جدید ٹیکنالوجی ہے صنعتی انقلاب ہے۔
اور آج جب آپ غور وفکر کریںتو الدجّال کا راس بالکل واضح ہے۔ انسان کی خلق کردہ مخلوقات الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کا راس جو کہ اس کا بلند ترین مقام ہے، اس کا بلند ترین مقام اس وقت سیٹلائٹ ہے جو خلا ء میں زمین کے گرد گھوم رہی ہیں اور بلند ترین ٹاورز ہیں اور الدجّال کا یہی راس انسان کے سامنے سے اسے
اپنی طرف کھینچتا ہے۔
الدجّال کا راس جو سب سے بلند ترین مقام ہے جو چوٹی ہے وہ سیٹیلائیٹ ہے جو خلا میں زمین کے گرد تیر رہی ہے اس کے علاوہ ٹاورز ہیں اور الدجّال کا یہ راس آج حیران کن طور پر انسان کے بالکل سامنے سے اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اسے الدجّال کو اپنا ربّ بنانے کی دعوت دیتا ہے ۔ جسے آج آپ ٹیلی ویژن ، انٹرنیٹ اور ریڈیو وغیرہ سمیت ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم یعنی مواصلاتی نظام کا نام دیتے ہیں یہ سارے کا سارے میڈیا یہ مواصلاتی نظام سیٹلائٹس اور اونچے لمبے لمبے
کھمبے جو کہ الدجّال کا راس ہے کا ہی حصہ ہیں اسی سے ہی کام کرتے ہیں۔
پوری دنیا کا مواصلاتی نظام، میڈیا ٹی وی چینلز، انٹرنیٹ، فون وغیرہ انہی سیٹلائٹس اور ٹاورز سے ہی چل رہے ہیں۔ سیٹلائٹ سے بچھائے گئے نیٹ ورک کے ذریعے ٹی وی چینلز چلتے ہیں جو انسان کو طرح طرح کی کمرشلز سے اور پروگراموں کے ذریعے اللہ سے دور اور اس ٹیکنالوجی کے قریب کرتے ہیں اپنی طرف
کھینچتے ہیں۔
ایک طرف الکتاب ہے جو انسان کو فطرت پر قائم ہونے کی دعوت دیتی ہے اللہ کے قریب کرتی ہے اور دوسری طرف یہی میڈیا جو انسان کو اللہ پر توکل کرنے کی بجائے فطرت پر قائم ہونے کی بجائے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سب کچھ کھلم کھلا آج آپ کے سامنے ہے اسے سمجھنا بالکل بھی مشکل نہیں۔
یہی میڈیا انسان کو رزق کے لیے زمین سے اگانے، جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑا بننے، رہنے کے لیے گھر بنانے، روز گا رکے ذرائع کے لیے ،سفر کے ذرائع کے لیے، دانتوں کی صفائی ہو یا جسم کی صفائی، برتن دھونے ہوں یا کھانا پکانا ہو، کسی سے رابطہ کرنا ہو یا کسی چھوٹی سی چھوٹی سطح پر بھی کوئی کام کرنا مقصود ہو تو اللہ پر توکل کرنے یعنی اللہ کے دیئے ہوئے ذرائع پر انحصار کرنے کی بجائے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور انسانوں کی اکثریت اس کی طرف کھینچی چلی
جاتی ہے جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے یہی تو ہے کسی کو ربّ بنانا۔
ٹیکنالوجی جو کہ الدجّال ہے یہ الدجّال ہی تو ہے میڈیا ٹیکنالوجی کی صورت میں جو الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کو ہی ربّ بنانے کی دعوت دے رہا ہے اپنے ربّ
ہونے کا عملاً اعلان کر رہا ہے اور ہر کوئی اس کے واضح ہونے کے باوجود اندھا بنا ہوا ہے۔
یہ میڈیا ہر معاملے میں انسان کو اللہ سے بغاوت اور الدجّال کی غلامی پر ابھارتا ہے اور لوگ اسی کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنی سوچیں، کھانا پینا، رہن سہن، لباس، معاشرہ حتیٰ کہ سب کچھ طے کرتے ہیں اور اسی میڈیا کی دعوت کی حقیقت کھلنے پربندہ سب سے پہلے اسی سے ہی نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تُو کذاب ہے تُو ہر شئے کا صرف ایک ہی رخ دکھاتا ہے۔ مجھ پر ہر شئے کا دوسرا رخ واضح ہو چکا جس سے تیری حقیقت مجھ پر کھل چکی ہے اس لیے میں اب اللہ ہی پر توکل کروں گا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یہ تو بہت ہی مختصر وضاحت ہے باقی غورو فکر کرنے کے دروازے آپ پر کھلے ہیں آپ جتنا جی چاہیں گہرائی
تک غورو فکر کر کے جان سکتے ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔
 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Tuesday, November 22, 2022

                   WARNING FROM MOTHER NATURE

 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#76

رسول اللہ ﷺ قال: ومعہ مثل الجنۃ ومثل النار، وجنتۃ غبراء ذات دخان، ونارہ روضۃ خضرائ۔ ابو یعلی، ابن عساکر
جنت۔ ایسا مقام جہاں سہولتیں و آسائشیں موجود ہوں جہاں بشر کو اس کی خواہشات کے مطابق اشیاء حاصل ہوں، جہاں آسانیاں ہی آسانیاں ہوں، آسائشیں
ہی آسائشیں ہوں جہاں مشقت نہ کرنی پڑے۔
النار۔ مخصوص آگ، تکلیف دہ شئے ، جلاکر تباہ کرنے والی شئے۔
غبرائ۔ گردو غبار سے بھری ہوئی
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اور ساتھ ہو گا اس کے مثل جنت کے اور مثل آگ، اور جنت ہو گی اس کی گردو غبار سے بھری ہوئی جودخان ہوں گی یعنی طرح طرح
کی گیسیں ہوں گی دھواں ہوگا اور آگ اس کی سر سبز باغ۔
الدجّال کیساتھ جنت اور آگ ہو گی اور جنت اس کی گیسوں،دھویں کے غبار والی ہوگی اور آگ اس کی سرسبز باغات ہوں گے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ جو الدجّال کی جنت میں داخل ہو گا حقیقت میں وہ آخرت میں جہنم میں ڈالا جائے گا اور جو الدجّال کی آگ میں کودے گا تو آخرت میں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اس کا ایک پہلو تو یہ ہے لیکن اس کے علاوہ دنیا میں بھی الدجّال کی جنت حقیقت میں جہنم ہو گی۔ آسائشیں ، سہولتیں اور آرام تو بہت ہو گا دل لبھا دینے والی مزین اشیاء ہوں گی لیکن اس کی جنت دخان یعنی گیسوں سے بھری ہوئی ہو گی ، اس میں دھویں کے غبار کی وجہ سے لاتعداد بیماریاں ہوں گی، حادثات، طوفانوں، زلزلوں اور طرح طرح کی مصیبتوں کی وجہ سے الدجّال کی جنت دنیا میں بھی جہنم ہی ہو گی اور جو اس کی آگ ہو گی یعنی الدجّال کی آگ جس کو دنیا جہنم تصور کرے گی یعنی اس آگ کے دجل کا شکار ہو کر لوگ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ جہنم درحقیقت دنیا میں بھی سبز باغات ہوں گے کیونکہ دنیا میں واحد دشوار پہاڑی علاقے ہوں گے جو الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کی پہنچ سے دور ہوں گے جہاں اہل ایمان پناہ لیں گے وہاں ان پر آگ برسائی جائے گی لیکن وہ جگہیں
فطرتی سرسبز باغات ہوں گی۔
’’عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ شہروں میں آلودگی کی سطح زہریلی حد تک پہنچ گئی ہے۔
دو ہزار شہروں سے حاصل کردہ اعدادو شمار کے مطابق بہت سے لوگ عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد سے کہیں زیادہ آلودگی کے ماحول میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سنہ ۲۰۱۲ میں ۷۰ لاکھ افراد ہلاک
ہوئے۔ بی بی سی: ۱۷ جنوری ۲۰۱۶‘‘
’’بیجنگ فضائی آلودگی کی لپیٹ میں، الرٹ جاری۔ بی بی سی : ۲۹ نومبر ۲۰۱۵‘‘
’’نئی دہلی کی ’’قاتل‘‘ فضا سے شہری پریشان۔
پوری دنیا کی طرح نئی دہلی کے لوگ بھی سمجھتے تھے کہ بیجنگ ہی دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے لیکن گزشتہ مئی میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ نئی دہلی کی ہوا اس سے دو گنا زیادہ زہریلی ہے۔ جس کا نتیجہ لوگوں کو پھیپھڑوں کی بیماریاں اور ہر سال ۱۳ لاکھ اموات ہیں۔ فضا میں آلودگی کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ بھارت میں
امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات فضائی آلودگی سے ہوتی ہیں‘‘ بی بی سی: ۱۹ اپریل ۲۰۱۵‘‘
’’چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکام نے ایک بار پھر سے فضائی آلودگی بڑھ جانے کے سبب ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا ہے۔ بی بی سی ، ۱۸ دسمبر ۲۰۱۵‘‘
’’ایران کے دارالحکومت تہران میں فضائی آلودگی کی سطح زہریلی سطح تک پہنچ گئی۔ پریس ٹی وی ایران: ۱۹ دسمبر ۲۰۱۵‘‘
’’تہران کی کلین ائیر کمیٹی کے ڈائریکٹر محمد ہادی حیدر زادے کے مطابق تہران کی فضا میں آلودگی بہت بڑھ چکی ہے اور صرف اکتوبر کے مہینے میں اس سے ۳۶۰۰ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔نئے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں آلودگی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور مارچ سنہ ۲۰۰۵ سے مارچ
سنہ ۲۰۰۶ تک ۹۹۰۰ ایرانی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی: ۹ جنوری ۲۰۰۷‘‘
’’کراچی میں دن رات لاکھوں گاڑیاں اور صنعتیں دھواں اگلتی ہیں اس آلودہ فضامیں رہنے والے ڈیڑھ کروڑ انسانوں میں سے ہر سال سینکڑوں فضائی آلودگی
کے سبب مارے جاتے ہیں۔ بی بی سی: ۲۰ جون ۲۰۰۷‘‘
’’عالمی موسمیاتی تنظیم نے اپنے سالانہ جائزے میں بتایا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے فضا میںکاربن ڈائی اکسائیڈ کی مقدار میں چالیس فیصد اضافہ ہوا
ہے۔ بی بی سی: ۲۴ نومبر ۲۰۱۲‘‘

الدجّال جنت۔ جدید سہولتوں سے مزین شہری معاشرے جو کہ الدجّال جنت ہے لیکن درحقیقت یہ جہنم ہے دھویں سے بھری ہوئی جس دھویں کی وجہ سے لاتعداد بیماریاںہیں، اچانک اموات کی شرح بہت زیادہ، بے چینی ، بے سکونی، بے اطمینانی بہت زیادہ ہے، ہر طرف بھاگم بھاگ ہے، پریشانیاں اور طرح طرح کے مصائب ہیں لیکن اس کے باوجود اکثریت کو یہ سب نظر ہی نہیں آتا وہ انہی معاشروں میں رہنے کے خواب دیکھتے ہیں انہیں یہ معاشرے جنت نظر
آتے ہیں حالانکہ یہ نہ صرف دھوکہ ہے بلکہ اس کی حقیقت دنیا میں بھی جہنم اور آخرت میں بھی جہنم ہے۔
جو آج الدجّال جنت ہے یعنی جدید ٹیکنالوجی سے مزین معاشرے اسی ٹیکنالوجی اسی جدیدیت کی وجہ سے یہ زمین بالآخر جہنم بن جائے گی جس کے حق دار یہی
انسان ہوں گے جو اسے جہنم بنا رہے ہیں جو الدجّال کو اپنا مسیحا بنائے ہوئے ہیں۔
الدجّال جہنم۔ ظاہراً دنیا میں الدجّال جہنم میں بہت سختیاں ہیں، الدجّال کی جہنم ہر وہ جگہ ہے جو فطرت پر ہے جہاں یہ ایجادات موجود نہیں ہیں جو محمد علیہ السلام کے وقت نہیں تھیں اور آج دنیا میں موجود ہیں ایسی جگہ حقیقتاً سرسبز باغات اور خامیوں، نقائص اور بیماریوں سے پاک ہے یوں وہ حقیقتاً دنیا میں بھی جنت یعنی سر سبز باغ ہے جہاں نہ صرف مشقت نہیں بلکہ بالکل آزادی ہے اور آخرت میں بھی جنت ہے اور اس کے علاوہ ہر وہ جگہ جہاں دین قائم ہو وہ الدجّال کی
جہنم ہے۔
دین اللہ نے قرآن میں واضح کر دیا کہ فطرت ہے جہاں دین قائم کیا جائے گا یعنی جس جگہ کو فطرت پر لایا جائے گا تو شیاطین اور اولیاء الشیاطین کو اس سے بہت تکلیف ہو گی یوں وہ علاقہ ہر لحاظ سے جہنم کا منظر پیش کرے گا اس میں سختیاں، آزمائشیں ہوں گی، آگ و بارود کی بارش ہو گی لیکن درحقیقت وہ دنیا میں ایک آزمائش ہو گی جس کے بدلے مومن درجات میں بلند ہوتا جائے گا اور وہی درجہ آخرت میں جنت میں پا لے گا یوں الدجّال کی جہنم کی حقیقت آخرت میں جنت
کے بلند درجات کا حصول ہے نہ کہ حقیقتاً جہنم ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Monday, November 21, 2022

                WARNING FROM MOTHER NATURE 



قسط نمبر#75
رسول اللہ ﷺ قال: وعینیہ الیسری کأنہا کوکب دری۔ ابو یعلی، ابن عساکر
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اور اس کا دیکھنے کا بایاں آلہ بالکل ایسا گویا کہ با اعتماد سیارہ ہو گا۔
عین۔ دیکھنے کا آلہ
یسری۔ بایاں
کوکب۔ سیارہ (Planet)
کائنات میں تمام سیارے کسی نہ کسی کو اپنا محور بنائے ہوئے اس کے گرد اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں جس کو اپنا محور بنایا ہوا ہے اس کے گرد گھوم رہے ہیں بالکل ایسے ہی الدجّال کی عین یعنی دیکھنے کے آلے نے بھی زمین کو اپنا محور بناتے ہوئے اس کے گرد اپنے مدار میں تیرنا تھا جیسے کہ ایک سیارہ ہو جو اپنا کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔
اور آج یہ سب ہوتا ہوا آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیںباقی سیاروں کی طرح الدجّال عین، الدجّال کا دیکھنے کا آلہ بھی زمین کے گرد گھوم رہا ہے گویا کہ سیارہ ہو جسے آج سیٹیلائیٹ کا نام دیا جاتا ہے اور اسی سے زمین کے چپے چپے کو آج دیکھا جا سکتا ہے اور یہی نہیں بلکہ آج الدجّال کی یہ عین سب کے نزدیک با اعتماد ترین ہے اسی عین یعنی دیکھنے کے آلے سے بنایا گیا نقشہ دنیا کا مصدقہ ترین اور بااعتماد ترین نقشہ ہے یوں الدجّال کی یہ عین با اعتماد ترین سیارہ ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Sunday, November 20, 2022

                                  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#74

ذیل میں دی گئی تصاویر قوم لوط کے آثار کی ہیں۔ قوم لوط کی بے حیائی و فحاشی اور مردوں کے مردوں سے جنسی تعلقات کی وجہ سے اس قوم پر جلتی ہوئی گندھک کی بارش ہوئی جو کہ اسی خطے میں پھٹنے والے ایک عظیم لاوے کی وجہ سے ہوئی تھی اور کئی میٹر کی تہہ تلے وہ قوم دب گئی جس کے بعد آج موجودہ دور میں اس قوم کے دو شہر سدوم اور عمورہ دریافت ہوئے۔ آج بھی بحیرہ مردار کے پاس ان جگہوں سے گندھک کے ٹکڑے ملتے ہیں جیسا کہ ذیل میں دی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Friday, November 18, 2022

                WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#73

پیچھے نظر آنے والی تصاویرموہنجو داڑو اور ہڑپہ پاکستان کی ہیں آج اس جگہ پر جب تحقیقات کی گئیں تو اس جگہ پر وہی ریڈی ایشنز پائی گئیں جو ہیرو شیما اور ناگا ساکی جاپان کے شہروں میں جہاں امریکہ نے ایٹمی حملہ کیا تھا وہاں حملے کے بعد پائی جاتی ہیں۔ انہیں شہروں سمیت خطہ ہند کے مختلف علاقوں کے بارے میں سنسکرت میں تاریخی کتاب مہابھارتا اور اس کے علاوہ دریافت ہونے والی تحریروں میں کچھ اس طرح کے الفاظ ملے ہیں کہ اس خطے پر اپنا تسلط جمانے کی غرض سے دنیا کی کچھ طاقتوں جیسے آج امریکہ یا روس وغیرہ ہیں آپس میں لڑ رہے تھے اور اس کی وجہ اس خطے سے زیر زمین قدرتی وسائل تھے ۔ بالکل ایسا ہی نقشہ تھا جو آج شام و عراق ، افغانستان و یمن کا بنا ہوا ہے۔ ان شہروں کے باسیوں کو سات دنوں میں شہروں کو خالی کرنے کی مہلت دی گئی اور سات دن بعد دنیا میں ایک عالمی ایٹمی جنگ کی سی صورت میں یہاں ایسے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جو کہ خود کار اڑنے والے تھے یعنی میزائل جن کے پھٹنے سے یہاں ایسی سفید آگ ظاہر ہوئی جو سورج سے ہزاروں گنا زیادہ گرم اور روشن تھی جہاں وہ ہتھیار پھٹے وہاںسب کچھ حرارت کی وجہ سے پگھل گیا اور یہ شہرزمین تلے دب گئے۔
قرآن میں اللہ نے واضح صراحت کیساتھ بتا دیا کہ یہ قوم عاد تھی جو تباہ ہو گئی ، قوم عاد انڈین قوم تھی جو دنیا میں اسلحے و بارود ، مشینوں اور ٹیکنالوجی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی تھی اور اس قوم کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ان سے قوت میں بڑھ کر نہیں یہ قوم دنیا پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے تھی بالکل ایسے ہی جیسے آج امریکہ ہے۔ یہ دنیا میں اپنے انہی قدرتی وسائل سے بنائی جانے والی ٹیکنالوجی کی وجہ سے قوت میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتی تھی اور اس قوم کا یہ دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ان سے قوت میں بڑھ کر نہیں لیکن آپس کی ایٹمی جنگ کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جیسے آج دنیا میں قدرتی وسائل یعنی اللہ کے غیب کی تکذیب کی خاطر لڑائی جاری ہیں اس وقت بھی ویسا ہی تھا۔ جیسے آج امریکہ کے مد مقابل کوئی نہیں اسی طرح اس وقت قوم عاد میں ان کاکوئی مد مقابل نہیں تھا اور جیسے آج روس نے امریکہ کے مقابلے پر سر اٹھایا اسی طرح اس وقت قوم عاد میں سے ہی ایک قوم نے سر اٹھایا آپس کے اختلافات نے جنم لیا جو دن بہ دن بڑھتے رہے در پردہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولتے رہے اور بالآخر ایک بڑی ایٹمی جنگ کی صورت میں نتیجہ سامنے آیا جس نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا اور پیچھے کمزور قوم کی حیثیت
رکھنے والوں کو جو بچ گئے بعد میں زمین کا وارث بنا دیا گیا اور پھر اس قوم نے بھی اپنے آباؤاجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی کیا جسے قوم ثمود کہا گیا۔
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَاد’‘ بِالْقَارِعَۃِ۔ الحاقہ ۴
کذب کیا تھا انہوں نے جو ثمود تھے جیسے آج اس وقت موجودہ لوگ ان میں انہی سے رسول بعث کیا گیا جو کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے اور ہمارے رسول کا کذب کیا جا رہا ہے اور جو عاد تھے انہوں نے بھی کذب کیا جب ہمارا رسول آیا ان میں انہی سے بالکل اسی طرح آج جو موجودہ لوگ دنیا میں آباد ہیں یہ بھی عاد ہیں یہ بھی بالکل وہی کر رہے ہیں ان میں انہی سے ہم نے اپنا رسول بعث کیا جو انہیں متنبہ کر رہا ہے لیکن یہ ہیں کہ اپنے آباؤاجداد کی مثل کذب کیے جا رہے ہیں القارعہ سے ۔ یعنی قوم عاد اور قوم ثمود کو اللہ کے رسولوں نے ان کے اعمال کے سبب ایٹمی جنگ القارعہ سے متنبہ کیا انہوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو جب
تسلیم نہ کیا اور اپنے انہی اعمال کو جاری رکھا تو ان کو القارعہ نے آ لیا۔
القارعہ تباہ کن عالمی جنگ کو کہا گیا ہے ایسی تباہ کن ایٹمی و ہائیڈروجن بموں سے ہونے والی جنگ کہ جو چند دنوں کے اندر اندر پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر دے
لاتعداد مخلوقات کا صفحہ ہستی سے صفایا کر دے۔
تصاویر میں نظر آنے والے آثار قوم عاد کے ہیں جو موجودہ انسانوں کے لیے نشان عبرت ہیں۔قوم عاد کے پیرو میں آثار یہ غیر معمولی اور عجیب و غریب عمارتیں ایٹمی حملوں کی وجہ سے تباہ ہوئیں جو آج بھی عبرت کا نشان بنی گزشتہ قوموں کی یاد دلاتی ہیں۔
اس کے علاوہ مزید دنیا بھر میں پھیلے قوم عاد کے آثار جو بنیادی طور پر ہندی قوم تھی۔ (جاری ہے)۔۔
۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...